سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2018/12/15 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
مقالوں کی ترتیب جدیدترین مقالات اتفاقی مقالات زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں

نبوت ۔ جناب سید عادل علوی صاحب

نبوت

جناب سید عادل علوی صاحب

ترجمہ: علی رضا رضوی الہ آبادی

نبوت اصول دین اور ارکان دین میں سے ہے،نبوت کے سلسلہ میں دوطریقوں سے بحث کی جاتی ہے، پہلانبوت عامہ ،دوسرا نبوت خاصہ

جس میں یہ بحث ہو کہ نبوت کسے کہتے ہیں ،لوگوں کے درمیان اسکی کیاضرورت ہے، نبوت کی شرطیں کیاہیں اوراس کی معرفت اورپہچان کے طریقے کیاہیں اسے نبوت عامہ کہتے ہیں۔اور جس میں خاتم النبیّین کی نبوت کے بارے میں ، انکےمعجزات کے بارے میں خاص طور پر قرآن کی بابت گفتگو ہو اس کو نبوت خاصہ کہتے ہیں۔

پہلا طریقہ:نبی وہ انسان ہے جوکسی انسانی واسطہ کے بغیر اللہ کی طرف سے خبردے۔

بعثت کے بہت سے اغراض ومقاصدہیں جن تک نبوت کے بغیر رسائی ممکن نہیں ہے۔اس کی سب سے بہتر اورمحکم تر دلیل فطرت اور عقل سلیم ہے جو تمام شہوات اور گناہوں سے پاک ہو، کیونکہ جس طرح سے عقل وفطرت یہ گواہی دیتی ہے کہ خداموجود ہے یکتاویگانہ ہے ویسے ہی یہ اپنے رب سے ہدایت کی بھی طلبگار رہتی ہے کہ وہ تمام حقائق معارف جو انسان کو سعادت وبلندی کی راہ دکھاسکیں وہ اسے معلوم ہوں۔

فطرت خداوند کریم کے نزدیک بہت بلند منزلت کی حامل ہے چونکہ یہ فطرت حقیقت توحید میں سے ہے۔انبیاء کامبعوث ہونا فطرت کے مطالبہ کی بناپرتھا،تاکہ اجتماعی عدالت قائم ہوسکےاور انسان ظلم وتشدد کانشانہ بن سکے ۔فطرت یہ آواز دے رہی ہے کہ زمین حجت خدا سے خالی نہیں ہے، اس دنیا میں سب سے پہلے حجت خدا کاوجود آیا اور سب سے آخر میں جو اس دنیا سے جائیگی وہ بھی حجت خداکہلائیگی۔

خداوندعالم کا اپنے بندوں پرلطف کر ناواجب ہے اور جملہ الطاف میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بندوں کی ہدایت کا انتظام کرے کیونکہ خداوندعالم  نے بندوں کو اپنی عبادت کیلئے پیدا کیاہے تاکہ وہ اس عبادت کے ذریعہ رحمت خداوندی حاصل کرسکیں۔ پس انبیاء کامبعوث ہوناواجب ہے چونکہ یہ لطف کی اعلیٰ ترین مصداق ہے جس کے ذریعہ انسان کی تخلیق کاہدف ومقصد پورا ہوتاہے کہ انسان اطاعت  سے قریب اورمعصیت سے دور ہوجاتاہے ۔ یہی نبوت ہے جو احکام الہی میں عقل کی مدد گار ثابت ہوتی ہے جس کے ذریعہ حسن وقبح نفع وضرر کی پہچان ہوتی ہے اور اسی نبوت کے ذریعہ نوع انسانی کی حفاظت ہوتی ہے۔

انسان چونکہ مدنی الطبع (ماحول کے اثرکو قبول کرنے والا)ہوتاہے اجتماعی قوانین وسنن کامحتاج ہوتاہے پس خداوندعالم کیلئے ضروری تھا کہ اپنے بندوں کی ہدایت  کیلئے ایسے کامل انسان کو منصوب کرے جس کے یہاں کمال ہی کمال پایاجاتا ہو نقص کا دور دور تک شائبہ بھی نہ ہوتا کہ وہ بشریت کو کمال کی آخری منزل تک پہنچائے اورنظام حیات کو لوگوں کے درمیان بیان کرے اور عدالت اجتماعی قائم کرے۔

شرائط نبوت:انبیاء کیلئے عصمت واجب ہے اور عصمت انبیاء کیلئے لطف پروردگار ہے چونکہ نفس نبیؐ  (ازحیث نفس)نفس انسانی ہے جو اس بات کی اقتضاء کرتاہے کہ جیسے دوسرے افراد سے معصیت سرزد ہوتی ہے ویسے ہی انبیاء سے بھی گناہ ومعاصی صادر ہوں لیکن ان کے یہاں ایک مانع پایاجاتاہے جو اس اقتضاء کو دفع کرتاہے اوروہ عقل وعقل کامل ہے جس کے ذریعہ تمام چیزوں کا علم حاصل ہوتاہے کہ گناہوں کی ابتداء کہاں سے ہوتی ہے اس کے انجام وآثار کیاہیں وغیرہ۔۔۔۔ یہ لوگ کبھی بھی حضور خدا سے غافل نہیں ہوتے ہیں جسکے نتیجہ میں گناہوں کے ارتکاب سے دور رہتے ہیں لیکن یہ دوری قہری واجباری نہیں بلکہ اختیاری ہے۔

انبیاء کیلئے  عصمت اس لئے ضروری ہے تاکہ انکے کلام پربھروسہ واطمینان کیاجاسکے اورغرض نبوت حاصل ہوسکے اس لئے کہ اگر انبیاء معصیت انجام دیں تو یاانکا اتباع اور انکی پیروی کی جائیگی ۔اور یہ ممکن نہیں، کیونکہ یہ معصیت ہے اور معاصی کی پیروی کاحکم نہیں دیا جاسکتا۔یاانکی پیروی نہیں کی جائیگی یہ مقام نبوت کے منافی ہے لہذا ہمیں ماننا پڑئےگا کہ انبیاء تمام گناہوں سے پاک ہیں خواہ گناہ کبیرہ یاصغیرہ ،وہ لوگ سہو ونسیان سے دور بلکہ وہ تمام چیزیں جو مقام نبوت کے شایان شان نہ ہوں ان سب سے پاک ومنزہ ہیں۔ نبیؐ کیلئے ضروری ہے کہ کمال عقل وذکاوت اور رای قوی پائی جاتی ہو اور جن سے طبیعت نفرت کرتی ہو اس ان سے وہ دور ہوں تاکہ مورد نفرت قرار نہ پائیں جو کہ غرض نبوت کے منافی ہے۔

انبیاء کیلئے ضروری ہے کہ وہ ابتدائی زندگی سے آخری مراحل تک معصوم ہوں کیونکہ اگر ایک زمانہ میں بھی ان سے گناہ سرزد ہوجائے تو لوگوں کے قلوب انکی اطاعت وپیروی کیلئے ہرگز آمادہ نہ ہوں گے۔

انبیاء کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنےزمانہ میں سب سے افضل وبرتر ہوں ،یہ عقلاً قبیح ہے کہ مفضول کو فاضل پر مقدم کیاجائے اس لئے کہ مفضول ہمیشہ تکمیل  کامحتاج رہتاہے پس اسے کیسے فاضل وکامل سے مقدم کیاجاسکتاہے۔ مثلاً یہ کیسے ہوسکتاہے کہ علم منطق کے ابتدائی طالب علم کو ارسطو پر مقدم کیا جائے ایسے دوسرے علوم وفنون میں بھی نہیں ہو سکتا ہے جب ہم خاطی انسان یہ کام نہیں کرتے تو وہ حکیم مطلق وعالم مطلق کیسے یہ کام انجام دے سکتاہے کہ اس قادر مطلق نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:"اَفَمَن يَهْدِي إِلَي الْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لاَّ يَهِدِّي إِلاَّ أَن يُهْدَي فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ"(سورہ یونس آیت/35)

انبیاء کو پہچاننے کے طریقے:

دعوت نبوت کے ساتھ ساتھ معجزہ کا ظاہر ہو نا اور اگر ایسی چیزیں وجود میں آئیں اور متحقق ہوں جو غیر عادی ہوں(جسے معجزہ کہتے ہیں)تو یہ چیزیں اس کی نبوت کی دلیل ہیں لہذا جب کوئی یہ کہے کہ میں اللہ کا نبی ہون ، اور مثلاً مردوں کو زندہ کرنا، چاند کے دوٹکڑے کرنایہ میرے معجزے ہیں اور یہ چیزیں رونماں ہوجائیں تو ماننا پڑےگا کہ یہ شخص اپنے قول میں صادق اور اپنے دعویٰ میں سچا ہے، ایسی صورت میں عقل حکم کرتی ہے کہ ایسے شخص کی اطاعت وپیروی کی جائے اور اس کی تصدیق کی جائے ۔کیوں کہ اگر شخص کاذب ہو ا اور اس سے معجزے رونما ہو ں تو لازم آئیگا کہ خداوند عالم اپنی مخلوقات کو اس جھوٹے شخص  کے ذریعہ دھوکہ دے رہا ہے،اور یہ قبیح عمل حکیم مطلق ہر گز انجام نہیں دے سکتا، کیونکہ ذات واجب تمام قبیح افعال واعمال سے منزہ وپاک ہے۔

یہ بعثت ہر زمانہ اور ہر دور میں ضروری ہے تاکہ اللہ کی طرف سے حجت موجود رہے اور جب تک دنیا قائم ہے حجت خدا بھی اس سرزمین پر موجود ہے کیونکہ اگر حجت خدا موجود نہ ہو تو اس دنیا کا وجود ہی ختم ہوجائے یہی حجت خدا ہے جو انسان کو خدا کی طرف دعوت دیتی ہے، آسمانی شریعت کا نفاذ کرتی ہے اوراس کو منتشر کرتی ہے لوگوں کو سیدھے راستے کی ہدایت کرتی ہے، لوگوں کو علم وحکمت کی تعلیم دیتی ہے اور ان کے درمیان عدل قائم کرتی ہے۔

جیساکہ احادیث میں موجود ہے کہ خداوند عالم نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء و رسل کو اس دنیا میں بھیجا کہ جن میں پہلی ذات جناب آدم ابوالبشر علیہ السلام کی ہے اور آخری نبی حضرت محمد بن عبداللہﷺ سید البشرہیں کہ ان کو پروردگار عالم نے سب سے افضل قرار دیاہے ۔ ان میں پانچ انبیاء اولوالعزم پیغمبر (صاحب کتاب اور صاحب شریعت)ہیں ، وہ جناب نوحؑ، جناب ابراہیمؑ،جناب موسیٰؑ ، جناب عیسیٰؑ، اور حضرت محمدﷺ ہیں۔"حلال محمدی قیامت حلال اور حرام محمدی قیامت تک حرام رہےگا"جو بھی اسلام کے علاہ کسی اور دین کو اپنائے گا وہ ہر گز بارگاہ رب العزت میں قبول نہیں ہوگا۔(کیونکہ)پروردگار عالم کے نزدیک دین ، صرف اسلام ہے۔

دوسرا طریقہ:

بیشک نبوت کا خاتمہ رسول اعظم ؐ پر ہوا جو عالم بشریت کو نجات دلانے والاہے اور جس نے عالم بشریت کو جہل وشقاوت کی وادیوں سے نکال کر علم وسعادت کی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ ہم ان کی نبوت پر یقین رکھتے ہیں اور بیشک وہی خاتم النبین ہیں کیونکہ انھوں نے نبوت کا دعویٰ کیا جو تواتر کے ساتھ ثابت ہے اور تواتر بدیہیات میں سے ہے ۔پھر اپنے دعویٰ کے مطابق معجزے بھی دکھائے اورجو بھی ایساہو وہ اللہ کی جانب سے نبی برحق ہے۔ آپ کے معجزے بہت زیادہ ہیں جن کی تعداد ہزار سے بھی زیادہ ہے، جیسے چاند کا دوٹکڑے کرنا، آپ کے ہاتھوں پر کنکریاں کا کلام کرنا وغیرہ وغیرہ۔

ان معجزوں میں سے ایک معجزہ قرآن (اللہ کی کتاب)جو قیامت تک باقی رہنے والا اور متقین کی ہدایت کیلئے ہے، جو خود اس بات کا چیلینج کر رہاہے کہ کوئی بھی اس جیسی کتاب نہیں لاسکتا ہے نہ سورہ کی حیثیت سے ، نہ آیت کے عنوان سے، خواہ جن وانس جمع ہو جائیں اورایک دوسرے کی کمک ومدد کریں تب بھی وہ اس بات پر قادر نہیں ہوسکتے۔۔۔۔

اعجاز قرآن صرف فصاحت وبلاغت میں منحصر نہیں ہے بلکہ فصاحت وبلاغت کے ساتھ ساتھ معارف حقہ، صفات الٰہیہ، نیک وپسندیدہ اخلاق ،احکام تشریعیہ ،مدنی وثقافتی سیاست ،غیب کی خبر، مبداو معادکے احوال (ان سب کابیان)،آیات میں اختلاف وتناقص کا نہ پایاجانا یہ وہ چیزیں ہیں جو ظواہر کتاب میں سے ہیں ساتھ ہی ساتھ اس کے باطن میں اسرار وحکمت ، علوم وعجائب پوشیدہ ہیں جو بشر کیلئے ظاہر نہیں ہوسکتے ۔قرآن مجید ہر اس انسان کیلئے معجزہ ہے جو اہل علم ، اہل معرفت واہل فن ہیں ، اس وقت سے آج تک اور آج سے قیامت تک کوئی انسان اس بات پر قادر نہیں کہ اس پر اشکال وارد کرسکے علاوہ اس کے کہ وہ کینہ وجہالت کی بنیاد پر یہ کام کرے۔

ہمارا اعتقاد ہے کہ رسالت اسلامیہ کے صاحب ومالک خاتم النبیین سیدالمرسلین محمدبن عبداللہ ؐ جو سید البشر اوراخلاق کے عظیم مرتبہ پر فائز ہیں۔ ہم پر واجب ہے کہ ان کے دین کی عزت وتوقیرکریں ، قول وعمل کےذریعہ سے قرآن کریم کی تعظیم کریں کیونکہ ہماری عزت وشرافت ، کرامت وسعادت اسی قرآن میں ہے ۔انسان اس بات کی طرف متوجہ رہےکہ سعادت وشرف وکرامت اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک کہ یہ امت علم وعمل ،اخلاق وادب قرآن کے ذریعہ حاصل نہ کرے۔ یہی قرآن ہے جو اس امت کو فضیلت کی بلندی تک پہنچاتا ہے، علم واخلاق کے بلند ترین مراحل پر فائز کرتاہے، یہی قرآن ہے جو بشریت کو تاریکی سے نکال کر نور کی طرف لے جاتاہے اوریہی اللہ کی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک کھینچی ہوئی ہے۔

سوال بھیجیں