سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/12/14 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
مقالوں کی ترتیب جدیدترین مقالات اتفاقی مقالات زیادہ دیکھے جانے والے مقالیں

ماہ محرم الحرام(۱۴۴۱ہجری) کادوسرابیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم

(دوسرا  بیان)

السلام علیکم ورحمة الله وبركاتہ  اے اہل ایمان عزادارو ں۔

امابعد:

 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرماتا  ہے۔﴿وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ﴾[1].   جوشخص شعائر الٰہی  کا احترام کرتا ہے۔تو یہ دلوں کی پاکیزگی اور تقویٰ کے باعث  ہے ۔

مجھے حیرت ہے کہ داعش کے ساتھ جنگ کے دوران  ہم  نیک اور با تقوی مجتہد کے فتویٰ  پر  اپنی جان کو فدا اور اپنے خون کو بہا لیتے ہیں  ،لیکن بعض شعائر حسینی میں حضرت زینب ؑ کبریٰ  (س)کے فتویٰ  پر عمل کرتے ہیں؟!بیشک حضرت زینب (س)( آپ پر میری جان فدا ہو )اس عمل سے کبھی راضی نہیں ہے۔  وہ ہمارے امام زمان حجۃ ابن الحسن ؑ کی طرح ہے ہمیں غیبت  کبری ٰکے دوران فقھأ عظام اور جا مع الشرائط مجتہد کی طرف رجوع کرنا چاہیے جو روایات ،سیرت اور اخبار سے جب فقیہ حکم اخذ کرنا چاہتا ہے تو حضرت زینب (س)کی طرف رجوع کرتا  ہے۔  تاکہ صحیح السند اور معتبر روایات کو غیر صحیح السند اور غیر معتبر روایات سے تمیز دے ،اور ایک دوسرے سے معارض روایا ت کو بیان کرے تاکہ ان کوروایات کو  جمع دلالی اور تبرعی کے ذریعے آپس میں جمع کر سکے ۔ اور کبھی مجتہد   حضرت زینب (س) سے یا معصومین ؑ سے روایت نقل کرتا ہے  لیکن سند یا دلالت کے اعتبار سے وہ ضعیف ہوتی ہے یا کسی دوسری روایت کے ساتھ ٹکراتی ہے اور اس طرح روایات کے آپس میں جمع ممکن نہیں ہوتاہے  اور یہ دونوں روایات ساقط ہونےکا موجب بنتا ہےیا یہ جمع مخالف عقل ہوتا ہے اس کے علاوہ  دوسری صورتیں۔

مجتہدین عظام نے اس مسٔلے میں فنی اشکالات کی وجہ سے احتیاط پر  توقف کیا ہے۔  (اللہ تعالٰی  تمام علماءکرام پر اپنی رحمت نازل فرمائے)

پس شاعر ، ذاکر اورخطباء میں سے  ، اوروہ  تمام افراد جو ماتم ،مواکب اور مجالس عزأ  کا اہتمام کرتے ہیں خواہ مجالس اور مواکب کا مسئول ہو یا وہ بالغ بچہ  جو مجالس اباعبداللہ ؑ میں خدمت انجام دیتا ہے  اس کا عمل شرعا اور عقلا  صحیح اور جائز ہونا چاہیے ، تاکہ اس کو بدلہ دیا جائے اور سزا نہ دی جائے ، اوراس کے عمل سے  امام حسین ؑ کوتکلیف نہ پہنچے  کیونکہ امام حسین ؑ اپنے والد گرامی کی طرح فرماتے ہیں : قَصم ظهري إثنان: عالم متهتك لا يعمل بعلمه، وجاهل متنّسك يعمل بجهله ويعبد ربه عن جهل ۔ (دو قسم کے لوگوں نےمیری کمرکو  توڑ دیاہے ایک وہ عالم جو گناہ کرنے سے پرواہ نہیں کرتا اور اپنے علم پر عمل بھی  نہیں  کرتا  ۔  دوسرا وہ جاہل جو  اپنے جہل پرعمل کرتے ہوئے عبادت انجام دیتا ہے اور  جہالت کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرتا ہے۔

جوشخص مجالس اور عزاءحسینی کو جہالت اور اپنی خواہشات کے مطابق تشکیل دیتا ہےاس میں کوئی شک نہیں کہ اس نے اپنی جہل کے گھوڑوں کی  ٹاپوں سے  امام حسین علیہ السلام کے پشت مبارک کو روندھ ڈالاہے  ، اور آپ ؑکے لا فانی انقلاب کی کمر توڑ دیا ہے ، اپنی جہل اور گمراہی کی وجہ سے امت مسلمہ اور  بنی نوع بشرکے اصلاح  کی بنیاد کو ختم کردیاہےبیشک امت مسلمہ لوگوں میں سے بہترین قوم ہے  انہیں لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا ہے ، اور یہ کہ خدا نے سید المرسلین اور  خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ  کے ذریعے ختم نبوّت اور رسالت پرمہر ثبت کردی ہے پس خدا نے آپﷺ کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ دین لٰہی سب  تمام ادیان عالم پر غالب آجائے اور عنقریب آل محمّد علیہم السلام میں سےخاتم الاوصیاءاور عصارۃ الانبیاءحضرت  مہدی موعود ارواحنالہ الفداء ظہور کرے گا جو زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ  ظلم اور جور سے بھر چکی ہوگی ۔

پس  ہم تمام شیعیان ،موالیان  اور عاشقان امام حسین ؑ کو چاہے کسی بھی طائفہ ،احزاب ،زبان اور رنگ سے تعلق رکھتےہوںمجالس اور شعائر حسینی کو پوری  طاقت ،مال ،جوش ،نشاط اور جلال،جمال ،کمال اور تمام  حزن واندوہ اور گریہ وز اری کے ساتھ قائم کرنے کی دعوت دیتے ہیں ۔

  اسی طرح ہم انہیں جہالت ،سفاہت ،نامناسب حرکات  اور ہر وہ فعل جو مذہب کی بدنامی کا باعث بنتا ہے اس سے دور رہنے کی دعوت دیتے ہیں۔ بیشک اسلام اور رسول اکرم حضرت محمّد ﷺجیسا کہ مبشّراً( بشارت دینے والے) ہیں نذیراً (ڈرانے والے) بھی ہیں آپ سراجاً منيراً اور   رسولاً وشاهداً بھی ہیں اور اللہ تعالٰی لوگوں کی نیّات کو جانتا ہے اوران سے خوب  آگا ہ ہے ۔ اور جو صاحب نعمت ہیں ان کے لئےنعمتیں مبارک ہو ، اوربڑے نیک بخت  ہیں عاشقان حسین ؑ جو نواسہ رسول کا ماتم کرتے ہیں اور آپ پر اپنی جان نثار کرتے ہیں فإنّها من شعائر الله، ومن يعظم شعائر الله فإنها من تقوى القلوب . جوشخص شعائر الٰہی  کا احترام کرتا ہے۔تو یہ دلوں کی پاکیزگی اور تقویٰ کے باعث  ہے ۔

اور یہ چیز مومنین سے پوشیدہ نہیں رہنا چاہیےکہ واقعہ کربلا ، قیام سید الشہداء،یوم عاشورا ء،ارض کربلاءاور  شعائر حسینی ،یہ سب فقد نور حسین ؑ کی تجلیّات اور چراغ الٰہی  ہیں ۔ (إنّ الحسين مصباح الهدى وسفينة النجاة) بیشک امام حسینؑ ہدایت کا چراغ اور  نجات کی کشتی ہیں)۔

اورآپ اللہ کے نور اکبر ہیں آپ کے دشمن وقتاًفوقتا لوگوں کے دلوں میں غلط شبہات  ڈالتے ہیں  اور اس کے ذریعے نور خدا کو بجھانا چاہتے ہیں (یریدون ان یطفٔوا نوراللہ واللہ متمّ نورہ ولو کرہ المشرکون ) یہ لوگ اپنی پھونکوں سے نور خدا کو بجھاناچاہتے ہیں مگر اللہ اپنے نور کو مکمل کرنے کے علاوہ کوئی بات نہیں مانتا اگرچہ کفار کو ناگوار گزرے۔

 پس شعائر حسینی خط احمر(سرخ لکیر)میں سے ہیں جو بھی اس سے نزدیک ہو گا وہ گرجائے گا اور شعائر حسینی سے اس کا رشتہ ختم ہوجائے گا ۔ہاں اس شخص کے لئے جنّت کی بشارت دی جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمان کے برابر ہے جو مجالس اور شعائر اباعبداللہ الحسین کا اہتمام کرنے میں سب سے آگے بڑھ کر حصہ لیتا ہے اور قیام سید الشہدا ءکو اپنے قلم ،قدم ،مال اور خون کے ذریعے زندہ کرتا ہے یقینا ایسا  انسان سراط مستقیم پر ہے  یہ شخص ان لوگوں کے ساتھ ہے جن پر اللہ تعالٰی نے اپنی نعمتیں نازل کیا  ہےنبیین ،صدیقین،شہداء اور صالحین میں سے ،ان کی صحبت بہترین رفاقت ہے۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله الطاهرين.رب العالمين (اللّهم عجّل لوليك الفرج والنصر والعافية آمين يا رب العالمين وصلى الله على محمد وآله۔

                                                                                                

العبد

عادل بن السید علی العلوی

الحوزۃ  العلمیۃ           قم المقدسۃ

11محرم الحرام1441ھجری



[1] الحج: 32.

سوال بھیجیں