سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/10/17 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

ولادت اورابتدائی تربیت

ولادت اورابتدائی تربیت

خداوند عالم قرآن مجیدمیں ارشادفرماتاہے۔"وسلام علیہ یوم ولد"اوران پرسلام ہوجس دن پیداہوئے۔

استادعلام 20 صفرسنہ 1315ہجری صبح پنجشنبہ نجف اشرف میں پیداہوئے آپ کانام محمدحسین لقب شہاب الدین اورکنیت ابوالمعالی ہے۔[1]

آپ نے ایسے والدین کی آغوش میں آنکھ کھولی جورفعت وشرف میں کریم اورفضل وادب میں کامل تھے لہذاآپ نے فضیلت وتقویٰ کی دولت اپنے متقی اورپرہیزگاروالدین سے ورثہ میں پائی ۔

آپ نے علم وعمل صالح اورپاکیزہ اخلاق وکردار کومحسوس کرتاہے اوراسے اپنے وجودمیں جذب کرتاہے جسے علم حسی سے تعبیرکیاگیاہے یہ بچہ اپنے ایام طفولیت ہی سے ہمیشہ خیروصلاح کی جانب پیش قدم رہا۔دین حنیف کواپنی شدیدتوجہ کامرکزبنائے رہا۔رسولؐ اوران کے اہل بیت اطہارؑ کی محبت میں شرشار رہااوراعمال صالحہ کے پرچم کےسائے میں قدم بڑھاتارہا۔

کسی نے سچ کہاہے بچے کی پہلی درسگاہ اس کاگھراورپہلامدرس اس کی ماں ہے اگرچہ اساس کے اخلاق وکردارکی اساس وبنیاد باپ کےذریعہ ہوتی ہے پس بچہ پہلی مرتبہ اپنے گھراوراپنے ماحول میں جوکچھ دیکھتااورلمس کرتاہے وہ اس کے ذہن پرنقش ہوجاتاہے اس کے آثار اس کے وجودمیں ہمیشہ درخشاں ہوتے ہیں ۔مثل ہے بچپنے کاعلم پتھرکی لکیرہوجاتاہے کیونکہ طفل اپنے والدین کےگھراورپہلی درسگاہ میں اپنے اساتذہ اورمربی سے جواخلاق وآداب اخذکرتاہے اس سے شاذ ونادرہی منحرف ہوتاہے۔

اس روش اوربلندمفہوم کی روشنی میں ہم اسلام کوایساپاتے ہیں جومسلمانوں اورمومنوں کوصحیح اوربہترین تربیت اولادکی طرف مائل کرتاہے۔اورانعقاد نطفہ سے پہلے ہی بچے کی نشوونمااورصحیح تربیت کی طرف توجہ دیتاہے بہترین افعال ،پسندیدہ اخلاق اوراچھے عادات واطوارکی طرف اسے راغب کرتاہے انحطاط خلقی اورناپسندیدہ امورسے اسے دورکرتاہے۔

استاذعلام ایسے ہی خاندان علم وشرف وسیادت میں پیداہوئے جولوگوں کی نگاہوں کامرکزتھا۔

آپ نے مجھ سے ایک دن بیان فرمایاکہ ان کے والدانھیں محقق آخوندکےدرس  میں لےگئے جب کہ ابھی وہ حدبلوغ[2]  تک بھی  نہ پہنچے تھے۔اورجب بھی آپ کی والدہ گرامی یہ کہتی تھی کہ اپنے والدکوبیدارکرو کوشاق گزارتاتھاکہ اپنے والدکوآواز دیکربیدارکریں لہذاآپ اپناچہرہ اوررخساران کےتلوؤں پررگڑتےتھے جس سے وہ ہلکی سی گدگدی کےبعد بیدارہوجاتے اوراپنے نیک فرزندکی یہ تواضع وانکساری دیکھ کران کی آنکھیں آنسوؤں سےلبریز ہوجاتیں اورآسمان کی طرف اپنے ہاتھوں کوبلندکرکے اپنے اس فرزندکی مزیدتوفیق کی دعاکرتے تھے۔

استاد علام اکثر فرمایاکرتے تھےیہ بلندوبالامقام اوردین کےامورمیں خداکی توفیقات میرے والدین کی دعاؤں ہی کانتیجہ ہے۔

ایسی دسیوں حکایتیں استادعلام کی حیات ایام طفولیت اورعنفوان شباب کی سنی جاتی ہیں جواس بات کی طرف نشاندہی کرتی ہیں کہ دین اوراس کےاوامرنیز الٰہی احکام پرعمل کرناان کے وجودمیں ابتدائے حیات ہی سے رچ بس گیاتھاآپ اپنی پوری زندگی شریعت اسلامیہ کےمطابق بسرکرنے میں خاص اہتمام برتتے تھے۔

آپ نے مجھ سے ایک دن بیان کیاجب وہ نجف اشرف میں تھے 25 مرتبہ پاپیادہ ابوعبداللہ الحسین ؑ سیدالشہداء کی زیارت سے مشرف ہوئے وہ طلبہ کی ایک جماعت کیساتھ زیارت کیلئے جایاکرتے تھےجودس افراد پرمشتمل ہوتی تھی جن میں سیدحکیم، سیدشاہرودی، اورسیدخوئی جیسےحضرات شامل رہاکرتے تھےانھوں نے فرمایاہم مراجع تقلید ،فقہاء اورمجتہدین کے ساتھ ہمیشہ سفرکرتے اوراس میں پیش آنے والے کام اپنے درمیان تقسیم کرلیاکرتے تھے میراکام یہ تھاکہ میں ہرمنزل پرلوگوں کیلئے پانی کاانتظام کرتاتھاکوئی کھاناپکاتاکوئی چائے درست کرتاتھاسوائے سیدشاہرودی کے وہ کہتے تھے میرافریضہ یہ ہے کہ میں سفرمیں آپ لوگوں کوخوش رکھوں اورراستے کی صعوبتوں اورمشکلوں کوآسان کروں یقیناًوہ بہت ہی پرمذاق اورزندہ دل آدمی تھے وہ کبھی ہمیں شعروسرود سے مسرور کرتے اورکبھی لطیف وبذلہ سنج حکایتوں سے خوشحال کرتے تھے اس طرح ہمیں سفرکی صعوبتوں اوردشواریوں کااحساس تک بھی نہ ہوتاتھا۔

ایسے خاندان اورعلمی وروحانی ماحول میں پلنے والی ہمارے استاد کی شخصیت بلندوبرترمقام اورمرجعیت کی منزل پرکیوں نہ فائزہوتی۔

آپ نے اپنی ضعیفی کے دوران مجھ سے ایک دن فرمایاہے وہ ابتداء بلوغ ہی سے ایسے کام انجام نہیں دیتے تھے جس کی طرف نفس رغبت دلاتاتھابلکہ آپ نفسانی خواہشات کےمخالف اورحکم خداکے اطاعت گزار تھے۔

آپ فرماتے تھےیہ مرجعت جوتم دیکھ رہے ہو میں نے اس کی طرف ایک قدم بھی نہیں بڑھائے بلکہ یہ صرف پروردگار عالم کےلطف پیغمبراوران کےاہل بیت کی عنایتوں کانتیجہ ہے۔

سچ ہے رب کعبہ کی قسم جوخداکاہوجاتاخدااس کا ہوجاتاہےاورجواللہ کاہوجاتاہے اسے برکتیں نصیب ہوتی ہیں استادعلام کی حیات اس مفہوم کی بہترین مصداق تھی۔



[1] ۔ آپ کے والدمرحوم نےلکھاہے کہ وہ بچے کی تطہیرکےبعدتبرک وتیمن کیلئے اسے اپنے جدامیرالمومنین علی ابن ابی طالبؑ کی قبرمطہرپہ لے گئے اس کے بعداپنے استادآیۃ اللہ الحاج مرزاحسین خلیلی تہرانی کےپاس لے گئے انھوں نے اس کااکرام کیااوراس کانام محمدحسین رکھااوردعاکی اس کےبعدوہ اسے لیکرخاتم المحدثین شیخ نوری کےپاس گئے انھوں نے بچے کااکرام کیااوراس کی کنیت ابوالمعالی رکھی پھروہ اسے لیکراپنےاستادسیداسماعیل صدرالدین کےگھرگئے انھوں نے اس کالقب شہاب الدین رکھا۔

[2] ۔استادعلام کی ولادت 1315ہجری اورمحقق آخوندکی تاریخ وفات 20 ذی الحجہ 1329 ہجری ہے اس حساب سے آپ کی عمراس وقت چودہ سال تھی۔