سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/9/17 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

آپ کی علمی زندگی کا اجمالی خاکہ

آپ کی علمی زندگی کااجمالی خاکہ۔

خداوند عالم قرآن مجیدمیں ارشادفرماتاہے۔"یرفع اللہ الذین آمنوامنکم والذین اوتوالعلم درجات" جولوگ تم میں سے ایماندارہیں اورجن کوعلم عطاہواہے خداان کے درجے بلندکرےگا۔

استاد علام نجف اشرف میں پیداہوئے جوتقریباً ایک ہزارسال سے علم وادب اوراجہادوفقاہت کا،رکز رہاہےآپ نے وہاں لکھنے پڑھنے کی ابتدائی تعلیم حاصل کی اس کےبعدیہ محنت کش طالب علم علم اوراس پرعمل کرنے کی طرف متوجہ ہواآپ اس راہ میں سختی ومشقت کوپہچانتے ہی نہ تھے بلکہ تحصیل علم کی طرف پوری طرح سے لگ گئے اگرچہ آپ کے بعض اقرباء نے مخالفت بھی کی علوم عربیہ میں آپ نحوصرف وبلاغت کی تعلیم حاصل کی علوم نقلیہ سے فقہ اصول اورعلوم عقلیہ سے منطق وفلسفہ کی تعلیمات نجف اشرف اورکاظمین میں بزرگان علم سے حاصل کیں اورآیۃ اللہ شیخ ضیاء الدین عراقی کے ممتاز شاگردبن کرآسمان علم پر درخشان ہوئے جن کےبارے میں یہ مشہورتھاوہ اپنے شاگردوں کے ساتھ سخت مزاج اورتندخوتھے۔

استادعلام نے مجھ سے ایک دن بیان کیامیں درس کےبعدان کے ہمراہ ان کے گھرکی طرف بحث کرتے ہوئے جایاکرتاتھاایک دن بحث کےدوران وہ غضب ناک ہوگئے اورپوری قوت سے میرے سینے پرایک ضرب لگادی میں ان کے ہاتھوں کوبوسے دینے لگااستادکی آنکھوں سے آنسوجاری ہوئے اورفرمایااے شہاب تونے مجھے ادب سکھایا۔

ایسےہی اخلاق حسنہ اورتعظیم اساتذہ کےمثل کہاجاتاہے علم کی برکت استاد کی تعظیم میں مضمراوریہ سب کچھ ایسے ہی پاک اخلاق اوراساتذہ کرام کی تعظیم کاثمرہ ہے۔

یہ محنت کش طالب علم ایسے صاف وشفاف چشموں سے اپنی علمی تشنگی بجھاتارہاجوحضرت علی ؑ کی قبرکےپاس جاری رہاکرتے تھے جواپنے الٰہی علوم قدسیہ سے لوگوں کورزق پہنچانتے اورمومنین کوکھاناکھلاتے تھےاسی وجہ سے وہ مومنوں کےامیرہیں۔

لہذااستاد علام نے ان کےعلوم کےانوار سے فیض حاصل کیااورمختلف علوم وفنون میں اپنی معلومات میں مزیداضافہ کرنے کیلئے علمی اورادبی محفلوں میں حاضرہوکرتے تھے۔

اساتذہ سے سنداجتہادحاصل کرنے کےبعدآپ نے نجف اشرف سے ہجرت اختیار کی اورطہران میں قیام کیااس کے بعدشہرمقدس قم تشریف لائے جہاں آپ عالم شباب ہی سے مجتہدمسلم کی حیثیت سے پہچانے گئے اس وقت آپ کی عمر25 سال تھی۔

ائمہ اطہار خصؤصا سیدالشہداء سے توسلات کےبعد آپ سے کرامات بھی ظاہرہوئے جس کی طرف ہم آگے اشارہ کریں گے۔

ابتداء ہی سے اساتذہ نے پہچاناکہ آپ عنقریب ایک ایسی درخشاں علمی شخصیت کی حیثیت سے ظاہرہوں گے جس کی شان علمائے اعلام اورتمام لوگوں کےدرمیان نمایاں ہوگی۔

آپ اپنے علم واجتہاد کے ساتھ ساتھ زندگی کی ابتداء ہی سے زہدوورع اورتقویٰ میں خاص شہرت کےمالک تھے یہ شہرت روز بروز بڑھتی گئی آپ نے حوزات علمیہ میں زندگی بسرکی آپ سے اہل علم اساتزہ طلاب اورعوام فیض یاب ہواکرتے تھے۔

مختلف علوم میں آپ کےاساتذہ۔

ہم اس فصل میں استادعلام کی حیات کےبارے میں سالہاسال جومحسوس کیاہے ذکرکریں گے آپ ہمیشہ استادومعلم کاشکریہ ادا کرتے اوران کےنام بڑے ہی ادب واحترام سے لیاکرتے تھے کیونکہ اسی نے اپ کوعلم کی دولت سے مالامال کیاوہ اپنے اساتذہ کوہمیشہ اپنے دروس ومحافل میں نیکی کے ساتھ یادفرماتے تھےمیں بھی اس روش میں اپنے استاد کی پیروی کرتاہوں ان کےمزارپرخوشی کے ساتھ جاتاہوں یہی وہ چیزیں ہیں جومیری توفیقات میں زیادتی اورتقرب الٰہی کاسبب بنیں۔

1۔ علوم عربیہ  

علوم عربیہ سے زبان عربی میں نحو،صرف، بلاغت ،عروض اورلغت مرادہے آپ نے مقدماتی مرحلہ میں علوم آلیہ کادرس حاصل کیایہ وہ پہلامرحلہ ہےجوحوزات علمیہ امامیہ کےدروس میں مراحل ثلاثہ[1] کےنام سے جاناجاتاہے۔

سب سے پہلے آپ نے درس مقدمات  اپنے والدمرحوم سیدمحمودشمس الدین سے حاصل کیاجوتمام علوم میں آپ کےسب سے پہلے استاد ہیں آپ نے اپنی دادی بی بی شمس شرف بیگم سے جواپنے زمانے کی عالمہ اورفاضلہ تھیں درس حاصل کیاجن کی وفات سنہ 1238ہجری میں ہوئی جوعلامہ زاہدحاج سیدمحمدمعروف بہ حاج آقاابن علامہ سیدعبدالفتاح ابن علامہ سیدمرزایوسف طباطبائی تبریزی متوفی 1242ہجری کی صاحب زادی تھیں جوعلامہ وحیدبہبہانی کےشاگرد اورمحقق قمی صاحب قوانین کےمعاصرتھےآپ نے ایران اورروس کےقبضہ قفقازکی جنگ میں فعالانہ طورپرشرکت کی تھی۔

آپ نے علامہ زاہدسلمان زمانہ آیۃ شیخ مرتضیٰ طالقانی نجفی سے علم بلاغت مقامات حریری، مقامات بدیعی ھمدانی کےچنداجزاء نہج البلاغہ ،دیوان قیس عامری اورسبع معلقات اس کی شرح کےساتھ پڑھیں۔

 شیخ طالقانی کےکچھ اہم تالیفات ہیں جیسے حاشیہ مطول،شرح  منظومہ سبزواری،شرح روضات الجنات خوانساری ،شرح جوہرنضید علامہ حلی وغیرہم جس اختتام پرتحریرکیاہے "رب نج مرتضیٰ من النار"۔

آپ نےمرزامحمودحسینی مرعشی جوصاحب شرح سیوطی بھی ہیں سے شرح سیوطی ،ابن عقیل شرح نظام شرح رضی برکافیہ شرح شافیہ اوردوسری کتابوں کےدروس حاصل کئے۔آپ نے حجۃ الاسلام شیخ شمس الدین شکوئی قفقازی ،شیخ محمدحسین سدھی اصفہانی اورسیدمحمدکاظم خرم آبادی نجفی جوامام النجاۃ کےنام سے جانے جاتے ہیں سےبھی علمی فیض حاصل کیا۔

2۔ سطح فقہ واصول

آپ نے اصول وفقہ کے سطحی دروس شیخ مرتضیٰ طالقانی سیدمرزاحبیب اللہ اشتہاردی سیداحمدمعروف بہ سیدآقاشوستری مرزامحمدطہرانی عسکری مرزامحمدعلی کاظمی (صاحب تقریرات الاصول)اورمرزاابوالحسن مشکینی (صاحب الحاشیہ والتعلیق علیٰ کفایۃ الاصول )جومرزاآخوندکےشاگردوں میں تھے سے حاصل کئے۔

استاد علام جب مجھے کفایۃ کادرس دیتے تھے توفرماتے تھے محقق آخوندکے شاگردوں کےپیمانے پرتدریس کی صلاحیت رکھتاہوں اورمیں نے ایساہی کیامیں اپنی کمسنی میں اپنے والدمرحوم کےساتھ محقق آخوندکےدرس میں جایاکرتاتھاجن کی پاٹ دار آواز درس کی عظمت  مجھے ہمیشہ یادرہ گئی۔

آپ نے آیۃ اللہ حاج شیخ عبدالحسین دشتی ،مرزاآقااصطہباناتی ،شیخ موسیٰ کرمانشاہی ،شیخ نعمۃ اللہ لاریجانی ،سیدعلی طباطبائی یزدی شیخ محمدحسین بن محمدخلیل شیرازی نجفی مرزامحمود شیرازی نجفی سیدجعفربحرالعلوم سیدکاظم نحوی خرم آبادی اوراستادعباس خلیلی مدیرصحیفہ اقدام سے بھی اپنی علمی تشنگی کوسیراب کیا۔

3۔ فقہ واصول کادرس خارج ۔

آپ نے شیخ العلماء استاذالفقہاء آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ آقاضیاء الدین عراقی سے اصول میں ابتداء سے بحث مطلق ومقیدتک استفادہ کیااستاد نے مجھ سے خودبیان کیاہے انہوں نے آپ کواجازہ اجتہادکتبی طورپرویساہی دیاتھاجیسا موسس حوزہ علمیہ قم آیۃ اللہ العظمیٰ عبدالکریم حائری نے تحریرفرمایاتھا۔

آپ نے محقق سیداحمدبہبہانی (صاحب کتاب معین الوارثین جوکتاب میراث کےفروض وفرائض میں ایک اہم کتاب ہے۔)سے بحث حجیت قطع کادرس حاصل کیا۔

علامہ فقیہ شیخ احمدبن شیخ علی بن شیخ محمدرضابن موسی ٰ بن علامہ اکبرجعفرکاشف الغطاء نجفی سے بحث طہارۃ وصلاۃ کےدروس صحن امیرالمومنین ؑ میں حاصل کئے۔

علامہ  آیۃ اللہ شیخ علی اصغر ختائی تبریزی سے مشتق، اشتراک لفظی ،ترادف ،صحیح واعم اورحقیقت ومجاز کےدروس نجف اشرف میں مسجد شیخ انصاری میں حاصل کئے نیزعلامہ مصلح شیخ محمدحسین کاشف الغطاء نجفی سے بھی کسب فیض کیاجوالمراجعات الریحانیہ اورتحریرالمجلہ جیسی عظیم کتابوں کےمولف ہیں۔

علامہ فقیہ شیخ علی بن شیخ باقر نجفی جوصاحب جواہر کےپوتے تھے مبحث طہارۃ سے انفعال الماء القلیل میں استفادہ فرمایااستاد علام سنہ 1352ہجری میں جب تہران میں مقیم تھے محقق آیۃ اللہ شیخ عبدالنبی نوری سے مدرسہ محمودیہ میں مستفیض ہوئے اس طرح مختلف علوم میں محقق آقاحسین نجم آبادی (صاحب کتاب خلاصۃ الحساب وحاشیہ طہارۃ)سے کسب فیض کیا۔

آپ قم مقدسہ میں موسس حوزہ علمیہ شیخ عبدالکریم حائری کے درس میں بھی اسی شان سے جاتے تھے جس شان سے آیۃ اللہ محقق میرسید علی حسینی یثربی شیخ حسن علامی اورشیخ محمدرضاشاہی اصفہانی قدس سرہ کےدروس میں جاتے تھے۔

4۔ علم کلام ۔۔

وہ علم ہے جس میں ادلہ عقلیہ ونقلیہ کے ذریعہ شریعت اسلامیہ کے مطابق مبداء ومعاد نیزدیگراصول دین سے بحث ہوتی ہے۔

آپ نے علم کلام  کےدروس آیات عظام اورحجج کرام سے حاصل کئےجن میں آپ کے والد مرحوم ،شیخ اسماعیل محلاتی نجفی ،حاج شیخ جوادبلاغی نجفی (صاحب کتاب الھدیٰ الی دین المصطفی)سید ھبۃ الدین شہرستانی (صاحب کتاب الہیہ فی الاسلام)آقامحمدمحلاتی (صاحب کتاب گفتارخوش یارقلی)مرزاعلی یزدی قابل ذکرہیں۔

5۔ علوم حدیث ،رجال ،تاریخ ،تراجم

ان علوم کی ابتدائی تعلیم آپ نے اپنےوالد مرحوم سے حاصل کیں اورعلامہ فقیہ سیدابوتراب خوانساری صاحب کتاب (سبل الرشاد فی نجاۃ العباد)علامہ محدث مرزامحمدبن رجب علی طہرانی عسکری صاحب کتاب(مستدرک بحارالانوار، صحیفہ الاما علی النقی) سے بھی کسب فیض کیاآپ استادعلام کے مشائخ روایت میں بھی ہیں۔

نیزعلامہ رجالی آیۃ اللہ محقق سیدابومحمدصدرالدین عاملی متوفیٰ سنہ 1357 ہجری صاحب کتاب (تاسیس الشیعہ الکرام للفنون الاسلامیہ )سے بھی اس وقت اکتساب فیض کیاجب آپ ایام شباب میں ایک سال تک مدینہ کاظمیہ مقدسہ میں مقیم تھے علامہ فقیہ شیخ عبداللہ ابن شیخ محمدحسن مامقانی سے بھی استفادہ کیاجن کی دوکتابیں (منتھی المقاصدفی الفقہ اورکتاب الرجال) کافی اہمیت کی حامل ہیں جوتین بڑی جلدوں میں ہے۔

آپ نے آیۃ اللہ شیخ محمدحرزالدین صاحب کتاب (معارف الرجال)اورعلامہ زاھد شیخ محمدحسین بن حاج شیخ مرزامحمدخلیلی شیرازی نجفی عسکری سے بھی کسب فیض کیا جن کے حاشیے تفسیر بیضاوی ،تفسیر مدارک ،کفایہ، تفسیرکشاف اورنہج البلاغہ پرموجودہیں رضاعت اورشہید اول کے اس قول یحرم الانسان اصولہ وفروعہ واصول  فروع اصولہ پررسالہ بھی لکھے ہیں سامرہ میں آپ کاانتقال ہوااورامامین عسکرین کے مشرقی رواق میں دفن ہوئے ۔

جب استاد علام کاقیام کربلاء معلی میں تھاتوانھوں نے وہاں علامہ حاج مرزاعلی حسینی مرعشی حائری صاحب کتاب (شرح باب الحادی عشر)و(شرح وجیزہ شیخ بہائی دردرایہ)سے بھی اپنی علمی تشنگی کوسیراب کیا۔

نیزآپ نے علامہ فقیہ مرزاابومھدی ابن علامہ مرزاابوالمعالی ابن علامہ حاج ملامحمدابراہیم کرباسی اصفہانی کی خدمت میں کتاب سماء المقال کادرس لیاجواصفہان میں فوت ہوئے اورمقبرہ تحت فولادمیں دفن ہوئے۔

6۔ علم تفسیر۔۔

آپ نے علوم قرآن اورتفسیرقرآن اپنے والد مرحوم ،شیخ محمدحسین شیرازی سیدھبۃ الدین شہرستانی اورسیدابراہیم شافعی رفاعی بغدادی سے حاصل کیا۔

ایک دن استادعلام نے مجھے فرمایاتھامیں نے تفسیربیضاوی کے مکمل پانچ دورے پڑھائے ہیں آپ ہی پہلے وہ شخص ہیں جنھوں نے پہلی بارقم میں گھروں سے نکال کرعامۃ الناس کےمختلف طبقات کے درمیان تفسیرقرآن کے دروس کی بنیادرکھی۔

7۔ علم تجویداورقرائت۔۔

ان علوم کادرس آپ نے اپنے والد مرحوم ،آیۃ اللہ سیدآقاشوستری آیۃ اللہ مرزاابوالحسن مشکینی نجفی علامہ شیخ نورالدین شافعی بکتاشی اورعلامہ شیخ عبدالسلام کردستانی شافعی سےحاصل کیاجیساکہ آپ نے مجھ سے بیان کیاہے آپ نے 10 مرتبہ علم تجویدکادرس دیاآپ کادرس تجویدعموم مردم کیلئے بھی ہواکرتاتھاجس طرح اس کادرس خاص ہوتاتھاآپ نے فرمایاہے میں نے یہ کام اس لئے کیاتاکہ یہ علم لوگوں کی زبانوں پرباقی رہے۔

 

8۔ حساب ،ہندسہ ،علم ریاضیہ ،علم افلاک، ہیئت ودیگرنادرعلوم ۔۔

یہ علوم آپ نے علامہ ریاضی شیخ عبدالکریم بوشہری صاحب کتاب(شش ہزارمسئلہ)جوبمبئ سے طبع ہوئی اورعلامہ حاج ابوالقاسم موسوی خوانساری سے نجف اشرف کےمدرسہ آخوندمیں حاصل کئے آپ کی تالیفات میں حاشیہ برخلاصہ حساب شیخ بہائی حاشیہ برکتاب اکرازحکیم ذوایز یلاسوس یونانی اورحاشیہ برتحریراقلیدس قابل ذکر ہیں آپ نے علم رمل اورعلم جفرمیں بھی کتابیں لکھی ہیں دعاء سیفی اوردوسری دعاوں کی شرح بھی کی ہے۔

آپ نے محقق فاضل مرزاعلی خان جوڈاکٹرعندلیب زادہ کےنام سے مشہورہیں جوعندلیب الذاکرین تہرانی نجفی کےصاحبزادے اورآیۃ اللہ مجاہد سیدابوالقاسم کاشانی کےدامادتھے سے بھی کسب فیض کیا۔

علامہ مرزامحموداہری جونجف اشرف  میں ریاضیات کےمدرس تھے نجھوں نے محقق جلال الدین دوانی کےطرز پرایم رسالہ بھی تحریرفرمایاہے آپ کےاستاد رہے ہیں آپ علامہ آقامحمدمحلاتی فرزندآیۃ اللہ حاج شیخ محمداسماعیل محلاتی نجفی صاحب کتاب (گفتارخوش یارقلی)علامہ شیخ عبدالحمید رشتی نجفی فاضل مرزااحمدمنجم شیرازی صاحب کتاب (معرفۃ التقویم )علامہ آیۃ اللہ سیدمحمدکاظم عصارتہرانی جوفقہ واصول وریاضیات میں کثیر تالیفات رکھتے ہیں کے بھی حلقہ تلامذہ میں شامل رہےہیں۔

آپ نے علامہ حاج مرزاجمال الدین فرزند علامہ مرزاابوالمعالی فرزندعلامہ حاج ملامحمدابراہیم کرباسی سے نجف اشرف میں (تشریح الافلاک)اورملاعلی قوشجی کی کتاب (فارسی ہیبت)نیز(شرح جغمینی) جیسی کتابیں پڑھیں ۔علامہ فقیہ مرزامحمودشیرازی نجفی جن کےحاشیے ریاضیات کی کتابوں اورکفایۃ الاصول ومطارح انظارپرموجودہیں سے نجف اشرف میں مسائل ہیئت اوروقت وقبلہ کےمباحث حاصل کئے یہ شہرسامرہ میں مدفون ہیں علم حروف واوقاف کے دروس اس فن کے اساتذہ مرزاباقرایروانی نجفی حاج شیخ محمدحسین شیرازی استاد علام رضاشاہ عراقی معروف بہ مرکب ساز ابوالحسن اخباری ہندی ،سیدیاسین علی شاہ ہندی اور رمزاعلی اکبرحکمی یزدی قمی سےحاصل کئے۔

9۔ علم انساب ۔۔۔

آپ اپنے ہم عصرمراجع عظام کے درمیان علم انساب میں امتیازی شان رکھتے تھے اوراسی وجہ سے آپ کواچھی خاصی شہرت بھی حاصل ہوئی اس علم کےرموزپہلے آپ نے اپنے والدمرحوم سے حاصل کئےاس کےبعدعلامہ نساب سیدرضاموسوی بحرانی غریفی نجفی صاحب کتاب (الشجرۃ الطیبۃ فی الانساب العلویہ)اورعلامہ فقیہ سیدمھری موسوی بحرانبی غریفی نجفی جوبہت سی کتابوں کے مولف ہیں سے اس علم میں کسب فیض فرمایا۔

10۔ علم طب ۔۔

علم طب پہلے آپ نے اپنے والدمرحوم ،اورمرحوم علی خان مویدالاطباء جوکربلامعلی میں مقیم تھے سےحاصل کیا۔

استادعلام نے ایک روزمجھ سے فرمایاکہ میں نے دوسال میں طب اوراس کے اولیات حاصل کرلئے تھے میں نے اس علم کوفقط اس لئے حاصل کرلئے تھے تاکہ وقت ضرورت اپنامعالجہ خودکرسکوں میں نے اس علم سے بہت زیادہ فائدے اٹھائے ہیں قدیم زمانے میں علم طب حوزوی دروس میں شامل تھااوراس کامکمل طورپردرس بھی دیاجاتاتھانجف اشرف میں اس فن کے بہت سے ماہرین اورحاذقین پائے جاتے تھے۔

مگرآج حوزات علمیہ میں علوم دینیہ کےطلباء کےدرمیان علم طب کے نشانات مفقود ہوچکے ہیں اوراس کیلئے مخصوص یونیورسٹیاں اورکالج کھول دئے گئے ہیں۔

مجھے نہیں معلوم آخریہ سستی اورلاپرواہی کیوں ہے کیادنیوی امورمیں زیادہ مشغولیت اورحوزات علمیہ کے بنیادی علوم فقہ واصول کی وسعت کی وجہ سے ایساہورہاہے یاپھرکوئی اوروجہ ہے۔

تعجب تویہ ہے کہ اس کےعلاوہ اوربھی دیگرعلوم کی کتابیں ہمارے زمانے میں مفقودہوتی جارہی ہیں افسوس ہم کس حال میں ہیں۔

زندگی کے آخری ایام میں جب میں آپ کی خدمت میں شرفیاب ہواتاکہ کناڈاسے کئے جانے والے سوال کاجواب وہاں سناؤں وہاں بعض مومنین کے درمیان قبلہ کی تعیین کے سلسلے میں اختلاف پیداہوگیاتھااوران لوگوں نے استادعلام سے قبلہ کے بارے میں استفسارکیاتھااسی دروان حوزے اوراس کے دروس کی بات چلی تو آپ نےحسرت ناک انداز میں فرمایاپہلے حوزہ میں مطول کادرس دیاجاتاتھاتاکہ طالب علم اپنے اندرعلمی قوت پیداکرےاورعلمی میدان میں بلندبرترمقام پرفائزہوجائے لیکن آج اس کافاتحہ پڑھاجارہاہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے حوزہ علمیہ میں مطول کادرس ختم ہوگیاہے اس بعدآپ نے فرمایاشیخ انصاری ہرنمازصبح کےبعدتعقیب نمازکی طرح ابن مالک کےاشعار اورمطول کے50 صفحات اسے اہمیت دیتے ہوئے پڑھاکرتے تھے۔

اس کےبعد فرمایامجھے حوزہ علمیہ اوراس کے طلاب کے مستقبل کےبارے میں اضطراب وقلق ہے اگرنظام اسی روش پرچلتارہے گاتوخسران ہمارمقدربنے گا۔

 

 



[1] ۔مذہب امامیہ کےدینی مدارس میں قدیم زمانے ہی سے علوم کی تحصیل کےتین مرحلے ہوتے ہیں۔پہلامرحلہ مقدمات کہاجاتاہے اس مرحلے میں نحو،صرف، معانی، بیان، بدیع،منطق،کلام،اولیات فقہاورادبیات اصول فقہ کےدروس دیئے جاتے ہیں اس میں جامع المقدمات کابھی درس دیاجاتاہے جوصرف، نحو،منطق،آداب متعلمین جیسی گیارہ کتابوں پرمشتمل ہےاس کےبعدالبھجۃ المرضیہ فی شرح الفیہ ابن مالک ازجلال الدین سیوطی یاشرح ابن عقیل ابن ناظم پھرمغنی اللبیب عب کتب الاعاریب کادرس دیاجاتاہے علم صرف میں شرح نظام ،منطق مرحوم مظفر،حاشیہ ملاعبداللہ یزدی اورفقہ میں تبصرۃ المتعلمین۔ شرائع الاسلام نیزمرجع تقلیدکےرسالہ عملیہ کےدروس دیئے جاتے ہیں۔

دوسرامرحلہ: جسے مرحلہ سطح یامرحلہ سطوح بھی کہتے ہیں اس مرحلے میں فقہ واصول نیزاس فن کی اکثرمتدوال کتابیں مثلاً۔۔۔۔ معالم الدین ،قوانین الاصول، اصول مرحوم مظفریاحلقات شہیدصدر،شرح لمعہ ،رسائل ومکاسب ازشیخ انصاری،کفایہ الاصول ازمحقق خراسانی علم کلام میں شرح باب حادی عشرشرح تجریداورعلم فلسفہ میں منظومہ محقق سبزواری اوراسفارازملاصدرا۔۔شیرازی کےدورس دیئے جاتے  ہیں یہ مرحلہ پہلے مرحلے سے اپنی عمیق فکرونظر کے ذریعہ ممتاز ہے اس مرحلے میں حواشی وتعلیقات اوراس فن کی دوسری کتابوں کے ذریعے عملی مسائل کوروشن کرنے کیلئے استدلال کیاجاتاہے اورطالب علم پر واجب ہے کہ  وہ استاد کےبتائے ہوئے ہرموضوع میں نظریات وتعلیقات کوقلم بندکرے۔

تیسرامرحلہ۔۔۔ یہ دینی مدارس اورحوزات علمیہ میں درس کاآخری مرحلہ ہے اسے مرحلہ خارج بھی کہاجاتاہے اس مرحلے میں طالب علم مجتہدوفقیہ ہوجاتاہے اوراس میں احکام شرعیہ فرعیہ کواس تفصیلی دلائل کتاب وسنت اجماع اوعقل کےذریعہ استنباط کرنے کاملکہ پیداہوجاتاہے۔اس مرحلے میں درس کی کیفیت اس طرح ہے کہ استادپہلے شاگرد کےسامنے ایک مسئلہ بیان کرتاہے اس کےبعد اس مسئلہ کے موافق دلائل وبراہین پیش کرتا ہےاورجس سے متفق نہیں ہوتاہے اس کورد کرکے اپنی خاص علمی رائے بیان کرتاہے اورپھراس مسئلہ میں جوصحیح  رائے ہوتی ہے اسے بیان کرتاہے اوراس پردلیلیں لاتاہے کبھی کبھی تواستادایک مسئلہ میں کئی کئی روز تک بحث کرتاہے یہاں تک کہ اس کاآخری نظریہ روشن ہوجاتااس مرحلے میں بحث وتدریس کسی خاص کتاب میں منحصر نہیں بلکہ استاد فقہ واصول کےباب کےمتعلق بالترتیب بحث کرتاہے لیکن دورحاضرمیں اکثردرس خارج اصول فقہ میں کفایہ الاصول ،فقہ میں العروۃ الوثقیٰ ازسیدیزدی یاشرائع الاسلام ازمحقق حلی پرمشتمل ہے یہی وجہ ہے کہ ان کتابوں پرشرحیں اورحاشیے زیادہ پائے جاتے ہیں خاص طورسے ہمارے زمانے میں ۔

حوزات علمیہ میں درس عامہ کی بہ نسبت امتیازی شان رکھتے ہیں اس مرحلے میں خصوصاشاگرد استادسے اس کے بیان کئے ہوئے موضوعات پربحث کرتاہے حوزے میں علم فقیہ کوخاص مرتبہ حاصل  ہے کیونکہ دینی مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں فقہ کی تعلیم ہی کادرس اصل ہدف ہے حوزے میں فقط فقہاء ومجتہدین ہی نہیں ہوتے بلکہ متکلمین ،فلاسفہ ،ریاضی دان، مناطقہ ،مفسرین ،ادباء ،شعراء ،مولفین ،خطباءاوراس کے علاوہ دوسرے صاحبان علم وفضل وغیرھم بھی پائے جاتے ہیں اب یہاں درس وتدریس اورمدارس کااصل ہدف دین کی نصیحت خداوندعالم کی طرف رہنمائی کرناہے ۔حوزہ علمیہ سے فارغ ہونے والے افراد خداکےاس قول ۔"فلولانفرمن کل فرقۃ طائفہ" کامصداق بن کراطراف واکناف میں دینی تدریس وتربیت اوراسلامی تبلیغ وارشادمیں مشغول ہوتے ہیں نیزمختلف علوم وفنون میں تصنیف وتالیف کافریضہ بھی اداجسکی اسلامی معاشروں کی ضرورت ہوتی ہے ۔اقتباس ازکتاب امام شاہرودی۔