سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/11/16 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

استادکی تصنیفات،تالیفات

آپ کی تصنیفات وتالیفات۔

خداوندعالم قرآن مجیدمیں ارشادفرماتاہے۔"ن والقلم ومایسطرون" قسم ہے نون اورقلم اوراس چیزکی جولکھتے ہیں۔

یہ بات پوشیدہ نہین ہے کہ جس کے پاس قلب سلیم اورپاکیزہ سماعت ہے وہ اس بات کی گواہی دے گاکہ سیدشہداء ابوعبداللہ الحسین علیہ السلام عالم مکاشفہ میں روحانی قلم ([1])کے ذریعہ جس پرلطف ومہربانی کریں پھروہ تصنیف وتالیف میں کثیرتعدادکاکیونکرمالک نہ اوراس کے تحریرکردہ رسالے اورکتابوں کی تعدادسوسے کیوں نہ بڑھ جائے اگرچہ مراجع کرام کی تصنیف وتالیف کازمانہ بہت ہی کم ہواکرتاہےجوعلم کی عالی حدسے مرجعیت تک کے درمیان محدودرہتاہے لیکن استادعلام اس کےباوجودبھی مفیدتصنیف وتالیف میں سرگرم رہے جس سے عام وخاص اورمطالعہ ومباحثہ کرنے والے افرادبے نیازنہیں ہیں۔

ایک دن استادنے مجھ سے فرمایامیرے پاس مخطوطات کابوریوں سرمایہ ہے لیکن میری غربت کی وجہ سے میرے پاس کوئی ایساشخص نہیں ہے جواسے سلیقہ سے مدون کرے۔

ایک دن اورایک دلچسپ حدیث کے بارے میں فرمایاعلماء گرمی کے موسم میں شدت حرارت کی وجہ سے حوزہ علمیہ میں تعطیل کرکے قم سے دورایسے سرسبزوشاداب مقامات پرچلے جاتے ہیں جوگرمی کاموسم بسرکرنے کیلئے بہترین علاقہ شمارکیاجاتاہے لیکن میں اسی شہرمیں تحقیق وتالیف کی وجہ سے گرمی کی شدت برداشت کرتارہاکبھی اس دیوارکے سائے میں پناہ لیتاتھاکبھی اس دیوارکے سائے میں اس طرح سالہاسال گزرگئے اورمیں تصنیف وتالیف میں مصروف رہا۔

اس جیسے عظیم اورصابرانسان کی زندگی کیونکر کتابوں اوررسالوں سے ثمربارنہ ہوتی اورکتاب احقاق الحق پران کی تعلیقات ان کی زندگی کابہترین ثمرہ اورہمیشہ باقی رہنے والاعلمی اثرکیوں نہ قرارپاتیں۔

میں نے سالہاسال انھیں نمازصبح سے پہلے محراب عبادت میں کسی نہ کسی کتاب کامطالعہ کرتے ہوئے دیکھاہے جس دے وہ احقاق الحق کے تعلیقات کیلئے موادفراہم کرتے تھے آپ نے مختلف علوم وفنون میں نایاب کتابیں اورمفیدرسالے بھی تحریرکئے ہیں آپ کے بعض رسالے اورکتابیں ایسی بھی ہیں جوچندصفحات پرمشتمل ہیں۔

استادعلام اپنی پہلی وصیت میں اپنے فرزندسے اپنی تصانیف کے متعلق فرماتے ہیں میں اسے اپنی کتاب (مشجرات آل الرسول الاکرم)عمدۃ الطالب پرتعلیقات اوراپنے تمام آثار اورقلمی رشحات کے تکمیل کی وصیت کرتاہوں جنہیں میں نے سیکڑوں بلکہ ہزاروں کتابوں سے راتوں کی بیداری اوردنوں کی تھکن کوخاطر میں لاتے ہوئے حاصل کیاہے یہ دونوں مذکورہ بالاکتابیں زمانے کے حسنات میں سے ہیں ان میں بہت سے فوائدونوادربھی پوشیدہ ہیں جودوسری کتابوں میں نہیں پائے جاتے خداوندعالم مجھے ان دونوں کتابوں کےذریعے بہترین جزادے۔

وصیت نامے میں ایک جگہ اورفرماتے ہیں میں اسے اپنی تمام ناقص تصنیف وتالیف کی تکمیل اوراس کےنشرواشاعت کی وصیت کرتاہوں جوفقہ ،اصول،انساب،رجال ،درایہ ،تفسیر،حدیث ،تاریخ ،تراجم ،مجامع،علوم غریبہ اورسیروسلوک جیسے علوم پرمشتمل ہے اس کے علاوہ میں اپنے حالات کشفیات ،مجاہدات اورمتاعبات پرمشتمل کتابوں کی بھی وصیت کرتاہوں۔

ایک اورمقام پرفرماتے ہیں میں اسے اپنی تمام تصانیف وتالیف کے نشرکی وصیت کرتاہوں خصوصیت سے ان کتابوں کی جومیں نے عالم شباب میں مختلف علوم ،غرائب عجائب اورانساب کےمتعلق تحریرکی ہے۔

ایک اورمقام پرفرماتے ہیں میں اسے اپنے ان منظومات کی جومختلف حالات میں میرے طبع موزوں سے وجودمیں آئیں کی جمع وتدوین کی وصیت کرتاہوں۔

اب ہم ان تصنیفات وتالیفات کاذکرکرتے ہیں جوان کےسحرالبیان قلم سے وجودمیں آئی ہیں پروردگار سے دعاہے وہ اولاد کواپنے آباء واجداد کےآثارزندہ کرنے اوران کے علوم کے چشمے سے لوگوں کوسیراب کرنے کی توفیق دے۔



[1] ۔ چوتھی کرامت کی طرف مراجع کیجیئے ص۔122