سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/9/17 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

آپ کی سیاسی زندگی

آپ کی سیاسی زندگی

لوگوں کے امورکی نگرانی ان کیلئے سعادت وخوشگوارزندگی کی فراہم کرنا ۔ان سے شروفساد کودروکرنااسلامی سیاست ہے دوسرے لفظوں میں اس کےمعنی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کے ہیں ۔حدیث مین آیاہے (امرت بمداراۃ الناس)مجھے لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کاحکم دیاگیاہے۔

نیک اورصالح علماء ہی انبیاء اوصیاء کےبعدقائداوررہبرہیں یہی حضرات تمام طبقے کے لوگوں کے ساتھ سلامتی وسعادت اورعلم وبرتری کی طرف سفرکرتے ہیں جب شہنشاہوں اوربادشاہوں کوعلماء کی دہلیزپردیکھوتویقین کرلوکہ یہ علماء اوربادشاہ دونوں بہتر ہیں یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بادشاہ سے لیکررعایاتک اگرتمام لوگ علماء کےدروازوں پرعلم وعمل صالح کے کسب واکتساب اوردینی وانسانی وظائف سیکھنے کیلئے آئیں تویہی بہترین اورنیک زندگی ہے۔

اورجب علماء کوبادشاہوں کے دروازوں پردیکھوتویہ علماء اوربادشاہ دونوں برے ہیں۔اورظالمین کے ساتھ وابستہ زندگی بھی بری ہے کیونکہ علماء اوربادشاہ دونوں نے اپنے نفس پرظلم کیا۔صراط مستقیم سے منحرف ہوگئے ۔اپنے آپ کوصحیح منزل تک نہیں پہنچایااوراب یہی لوگ اللہ کے راستے میں کجی ہی تلاش کرتے ہیں ۔

لہذالوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا،کلمہ حق کابلندکرنا،ظلم وجورسے نبردآزماہونااورانسانی معاشرے میں عدل قائم کرناہی ہماری سیاست ہے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ سیدمحسن الحکیم طاب ثراہ نے کیاجاودانی کلمہ ارشادفرمایاہے۔"اگرسیاست کےمعنی بندگان خداکےامورکی اصلاح اوران کے حالات کی ترقی کیلئے کام کرناہے توہرعالم پر اس کیلئے اپنی پوری قوت وتوانائی کے ساتھ قیام کرناواجب ہے"

ہرفقیہ اورعالم کے وجودمیں صحیح رحمانی سیاست جلوہ گرہے اوراس کےرفتاروکردارمیں دینی واسلامی سیاست روشن ہے۔اس پراستعماری سیاستوں اوراستکباری گروہوں سے مقابلہ کرنااورہرزمانہ میں ہرملک میں کلمہ حق کے بلند کرنے کیلئے برسرپیکارہوناضروری اسے ظلم وجورکے خاتمے ، عدل وانصاف کی حکومت قائم کرنے نیزطاغوتوں اورظالموں سے جنگ کرنے کیلئے اپنے نفس کی قربانی پیش کردیناچاہیے۔

علماء دین ایسی ہی شان کے ہوتے ہیں یہی لوگ بہترین قائداورنمونہ عمل ہیں جوظلم وعناومنکرات حتیٰ درباری ملاؤں اورواعظوں تک سے بھی جنگ کرتے ہیں۔

ایسے ہی نیک افراد میں استاد علام بھی تھے آپ نے ایران کے اسلامی انقلاب کی قیادت میں شرکت فرمائی اورامام راحل اسلامی انقلاب کے عظیم قائدورہبرحضرت امام خمینی ؒ کے ساتھ ایک ہی مورچے پرتھے یہاں تک کہ اس انقلاب کوکامیاب کیااسلامی حکومت کی بنیاد رکھی نبی اکرم ؐ اوراہل بیت اطہارؑ کے دین کومظبوط ومحکم فرمایاحتیٰ اپنی زندگی کے آخری سال تک یہ فریضہ انجام دیاجس کی گواہی وہ اعلانات وبیانات دے دہے ہیں جسے آپ نے اسلامی انقلاب کے دوران ارشادفرمایاتھا۔

آپ نے اس انقلاب کے پس منظرمیں دین محمدی کی ترویج ،قرآن کریم اوراہلبیتؑ کے معارف ومسالک کی نشرواشاعت فرمائی۔

میں نے ایک دن آپ سے ان سیاسی معرکوں ،پارٹیوں کے طنطنوں اورسیاسی شخصیتوں کے ہمہموں کے بارے میں اپنے شرعی فرائض دریافت کئے توآپ نے جواب دیاہمیں مذہب اہل بیتؑ کی رعایت اوراسکی حفاظت کرناچاہیے اوراسے سالم حالت میں اپنی اولادکے سپردکردیناچاہیے جیسے ہمارے آباؤاجداد نے ہمارےسپردکیاتھا۔

انھیں بنیادوں پراستاد علام سیاست کے بارے میں ایک مستقل کتاب لکھی جانی چاہیے اورچونکہ کتاب کی اس فصل میں اتنی گنجائش نہیں ہے لہذامیں نے یہاں اتنے ہی پراختصارکیاہے۔