سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/9/17 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

آپ کی سماجی زندگی

آپ کی سماجی زندگی

اہم دینی شخصیتوں اورامت کے مصلح قائد نیزدینی مراجع کی اہم ذمہ داریاں سماج میں اصلاح سے ترقی کی راہ پرگامزن کرنااورسماج میں علم وثقافت کوفروغ دینارہی ہیں جواس عالم میں صبح کرے اورمسلمانوں کے اموراوران کے حالات کے بارےمیں غوروفکر نہ کریں وہ مسلمان نہیں ہےاسلام میں کوئی رہبانیت نہیں ہے اوربلاشبہ میری امت کی رہبانیت جہاداورتمام لوگوں کے ساتھ باہم سلوک کرناہے مجھے لوگوں کےساتھ حسن سلوک کاحکم دیاگیاجیساکہ احادیث شریف میں واردہواہے۔

اسی طرح استاد علام نے بھی امت کےدرمیان ایک نیک فرزند،شفیق بھائی مہربان باپ ،رحیم استاد،اورہمدردقائدکےعنوان سے زندگی بسرکی ،کبھی آپ سے کوئی ایساکلام صادرنہیں ہواجوخوشگواراورپاکیزہ سماج کے عادات واخلاق سے منافاۃ رکھتاہوآپ انتہائی اخلاص سے لوگوں کی مدارات کرتے تھے اوراگربعض اوقات سخت کلامی اورتندروئی سے کام لیتے توان کےاحساسات وجذبات کی رعایت کرتے تھے۔

مجھے یاد ہے جب صدام لعین شہرمقدس قم اورایران کےبیشتر شہروں کومیزائلوں اوربموں کانشانہ بنائے ہوئے تھا۔ عوام خوف ودہشت سے اپنی جان بچانے کیلئے قم سے باہر بھاگ رہے تھے لیکن استادعلام اپنی جگہ پرموجودرہے آپ اس سے پہلے حرم مطہرمیں نمازجماعت پڑھانے کیلئے ٹیکسی سے جایاکرتے تھے۔ لیکن ان مصیبت زدہ دنوں میں اپنی کبرسنی اورضعیفی کے باوجودنمازپڑھانے کیلئےپیدل تشریف لیجاتےتھےجب آپ سے اس سلسلے میں پوچھاگیاتوفرمایامیں چاہتاہوں کہ لوگ مجھے دیکھیں تاکہ ان کےدلوں کواطمینان ہوجائے ۔

ایک دفعہ میں آپ کے پاس آپ کے حجرہ میں بیٹھاہواتھاکہ ایک ضعیف آدمی آیااورسلام کے بعدفرمایااے سیدمیں آپ کوذاتی طورپرجانتاہوں میں ایک دلاک ہوں آپ کوآپ کی زندگی کاایک واقعہ یاددلاناچاہتاہوں اوروہ یہ ہے کہ میں عمومی حمام میں دلاک تھاآپ جوانی کےایام میں اپنے چھوٹے بچوں کےساتھ اس حمام میں تشریف لائے اوروہاں کچھ بچوں کودیکھ کرمجھ سے ان کےبارے میں پوچھاتومیں نے کہایہ یتیم بچے ہیں اس وقت آپ اپنے بچوں سے سے مخاطب ہوکرفرمانے لگے ان یتیم بچوں کے سامنے ان کے احساسات کی رعایت کرتے ہوئے تم مجھے باباکہہ کرنہ پکارناپھرآپ نے مجھے کچھ روپئے دئیے تاکہ میں ان بچوں کےپڑھنے لکھنے کی ضروری چیزیں خریدوں۔

جب میں نے یہ واقعہ سنامیرے حواس دنگ رہ گئے میں نے اپنے دل میں کہااللہ اکبریہی لطیف احساسات اورظریف ودقیق سماجی نکات کی رعایتیں ہیں۔

آپ کےاورعوام کےدرمیان کوئی پردہ نہیں تھاآپ کادروازہ آنے والے مردوں اورعورتوں کے لئے ہمیشہ کھلارہتاتھا۔

میں وہ ساعت کبھی نہیں بھول سکتاجب میں آپ کی وفات کے دودن پہلے آپ کے پاس موجودتھااورایک ضعیفہ اپنے خمس کی ادائیگی کیلئے آپ کے پاس آئی اس نے آپ سے قیامت کے دن اپنی شفاعت کی درخواست کی آپ نے جواب دیااگرشفاعت کی اہل ہوگی تومیں یقیناًتیری شفاعت کروں گا۔

وہ اپنے دشمنوں پربھی مہربان تھے پھربھلااپنے دوستوں اورچاہنے والوں کے ساتھ کیوں نہ حسن سلوک کرتے۔

ایک دن آپ نے مجھ سے اپنے دشمنوں اورحاسدوں کی طرف سے اپنے اوپرہونے والے واقعات کاتذکرہ کرتے ہوئے فرمایاکہ صحن مطہرمیں وہ دسیوں صفوں کی جماعت کی امامت فرمایاکرتے تھے لیکن دشمنوں کی افواہوں اورحاسدوں کی چغلیوں کی وجہ سے نوبت یہاں تک آگئی کہ تھوڑے سے مومنین کی امامت فرمانےلگے۔

استادعلام نے فرمایا۔

میں ان دنوں سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہاکی ضریح کے قریب آیااپنی عبااپنے سرپررکھی عمامے کے تحت الحنک کاایک سراضریح اقدس سے باندھ دیااوراس طرح شہزادی کی خدمت میں حاضر ہواجیسے عوام آتے ہیں۔پھرمیں شدت سے رویااوراپنے مصائب وآلام نیزبعض لوگوں کی ایذاء رسانی کاان سے شکوہ کیااسی اثناء میں مجھ پرغنودگی طاری ہوگئی تومیں نے عالم مکاشفہ میں دیکھاکہ میں ایک وسیع وعریض میدان میں دوڑرہاہوں میرے دشمن مجھےہر طرف سے پتھروں سے ماررہے ہیں اورمیں چیخ رہاہوں اے میرے جدامیرالمومنینؑ مجھے اس مصیبت سے رہائی دیجئے خوف زدہ بھاگتے ہوئے میں نے محسوس کیاکہ کسی نے پیچھے سے مجھ پرہاتھ رکھ دیاہے یقین ہوگیا یہ امیرالمومنین ؑ کاہاتھ ہے انھوں نے مجھے زمین سے اوپر اٹھایااورکہاصبرکروآپ کے جدامیرالمومنین ؑ کے ساتھ بھی ایساہی کیاگیاہے ۔میں بیدارہوگیااوراپنے دل میں انتہائی سکون وقرارمحسوس کیا۔

استادنے فرمایا۔

انھیں مصیبت زدہ دنوں میں ایک دن میں کسی مجلس میں گیا وہاں ایک عمامہ پوش شخص بھی تھامیں اس کےپہلومیں بیٹھ گیا اس نے مجھ سے شدت عداوت کی بناء پرلوگوں سامنے میری طرف پیٹھ کرلی میں نے اپنے دل میں اسے محفوظ کرلیااوراس کاحساب خداکےحوالے کردیاجب میں وہاں سےجانے لگاتواس کے دامن میں کچھ پیسے ڈال دئیے اوراسے احساس تک نہ ہوا۔اس کےبعدوہ لوگوں سے بیان کرتاتھا اس رات میرے پاس کچھ بھی پیسہ نہیں تھا۔

وہ اپنی گودمیں کچھ مال پاکرانتہائی حیرت میں تھااسے یہ احسا سہی نہین ہواکہ میں نے اس کی گودمیں پیسہ ڈال دیاتھا۔

اس عظیم اخلاق کودیکھواورسوچولوگوں کے ساتھ کس اعتبارسے رہناچاہیے۔

آپ حرم معصومہ میں تینوں وقت نمازپنجگانہ پڑھانے تشریف لےجاتے تھے آپ نےفرمایاجب میں نے قم مقدسہ کواپناوطن بنایاتھاحرم مطہرمعصومہ میں نمازصبح کی جماعت نہیں ہوتی تھی آپ نے اس خدمت کو60 سال تک انجام دیا۔آپ ہی وہ فردفریدہیں جوطلوع فجرسے ایک گھنٹہ پہلےحرم شریف میں بلاناغہ پہنچ جایاکرتے تھے حتی سردی اوربرف باری کے زمانے میں بھی اپنے اس عمل کوجاری رکھاجبکہ گلیوں میں برف جمی رہتی تھی آپ بڑی مشکل سے گلی میں راستہ بناکرحرم پہنچتے اوربند دروازے کی پشت پربیٹھے دروازہ کھلنے کاانتظارکرتے تھے۔

آپ نے فرمایامیں پہلے تنہائی نمازاداکرتاتھااس کےبعدایک شخص میرے ساتھ نمازپڑھنے لگارفتہ رفتہ جماعت میں اضافہ ہوتاگیا۔استادعلام کی مرجعیت کازمانہ لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے اورفقہ کےدرس خارج سے شروع ہوا۔آپ فقہ کادرس خارج حرم سیدہ معصومہ میں مسجدبالاسر10بجے دن اوراصول کادرس خارج شام کےوقت اپنے گھرمیں دیاکرتے تھے لیکن جب اپنی آخری عمرمیں مختلف قسم کے امراض میں مبتلاہوگئے تویہ سلسلہ بندہوگیا۔

آپ روزانہ سیکڑوں خطوط کےجواب دیاکرتے تھےجوایران اوربیرون ملک سے ان کےمقلدین اوردوسرے افرادکی طرف سے آتےتھے۔

مجھے یادہے آپ کے آخری دورحیات میں افریقہ کے کسی شہرسے ایک تفصیلی خط آیاجس میں 170 سوال پوچھے گئےتھے میں نے تین روزتک اسے آپ کےسامنے پڑھااورآپ روزانہ مجھےایک گھنٹہ اس کاجواب لکھایاکرتےتھے۔

آپ حسب استطاعت لوگوں کی ضروتیں پوری کرتےتھے کبرسنی مختلف بیماریاں رنج وغم کاہجوم اورلوگوں کی قیل وقال اس راہ میں رکاوٹ نہیں بنتے تھے بلکہ پوری صلاحیت اورقوت کےساتھ خداکی نصرت سے ہرمشکلوں اورسختیوں کامقابلہ کرتے تھے۔

آپ سماجی زندگی کی  بہترین مثال تھے۔

"ثم کان من الذین آمنوا وتواصوابالمرحمۃ"(البلد:17)پھرتوان لوگوں میں (شامل)ہوجاناجوایمان لائے اورخیرکی نصیحت اورترس کھانےکی وصیت کرتے ہیں۔

سچ ہےجوانسان ایسے معاشرے اورسماج میں زندگی بسرکرے جہاں مادے کااقتدارہووہ شیطان اورنفس امارہ کی پیروی کرتاہے یقیناً ایسے انسان گھاٹےمیں ہیں۔

مگراستادعلام جیسے بہت سے افراد ایمان لائے اورعمل صالح انجام دئیے۔

"وتواصوابالحق وتواصوابالصبر"(العصر:3)تم اپنے پروردگارکی تعریف کے ساتھ تسبیح کرنااوراسی سے مغفرت کی دعامانگنا۔وہ بے شک بڑامعاف کرنے والاہے۔

آپ کوحرم ائمہ اطہارؑ اورانکی اولادکے حرم مثلاًحضرت امام رضاعلیہ السلام حرم حضرت امام کی نقابت اوردیگرپرافتخارمناصب حاصل تھے۔

نیزحرم حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام شیراز میں احمدبن موسیٰ بن جعفر قم میں سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہا،ری میں حرم حضرت شاہ عبدالعظیم اورامام موسیٰ ؑ کی اولادسیدجلال الدین اشرف کےروضہ نیزکاشان میں حرم علی بن محمدباقرمیں منصب تدریس ،نقابت اورخدمت کاافتخارحاصل تھا۔