سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/9/17 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

آپ کے اخلاق کی خوشبو

آپ کےاخلاق کی خوشبو

خداوندتبارک وتعالیٰ قرآن مجیدمیں ارشادفرماتاہے۔"وانک لعلیٰ خلق عظیم"اے رسول بے شک آپ خلق عظیم پرفائزہیں۔

نبی اعظم خاتم المرسلین حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ کواس لئے مبعوث برسالت کیاگیاتاکہ وہ اپنے اقوال واعمال اوررفتاروکردارکےذریعے مکارم اخلاق کی تکیمیل کریں اوریہی انبیاء واوصیاء کی سیرت رہی ہے علماء لوگوں کے درمیان عوام کی سرپرستی اورقیادت نیزفضائل ومحامدکوعام کرنے میں انبیاء کےوارث ہیں یہی علماء انبیاء اوراوصیاء کےبعدانسانی سماج اورمعاشرے کیلئے صالح قائداوربہترین نمونہ عمل ہیں انھیں اخلاق حسنہ،صفات حمیدہ اوربہترین سیرت نیزتقوی وپرہیزگاری میں ضرب المثل ماناجاتاہے ایسے ہی صالح اورمتقی علماء میں استادعلام کابھی شمارتھاجواپنے زھدوورع تقویٰ اورپرہیزگاری وانکساری میں اپنی مثال آپ تھے آپ عالم باعمل تھے لوگوں کوایسی چیزکاحکم دیتے تھے جس پرخودعمل پیراتھے اوراسی چیزسے روکتے تھے جس سے خودپرہیزکرتے تھے۔

میں نے انھیں ضعیفی کے زمانے میں اکثردیکھاہے کہ جب وہ حرم حضرت معصومہ قم میں نمازیادرس کیلئے جاتے تھے تودورہی سے عورتوں کودیکھ کراپنے چہرے پرعباڈال لیاکرتے تھے تاکہ پہلی نظرکسی اجنبی اورنامحرم عورت سے نہ ٹکرائے آپ کواپنے اس مستحسن عمل پرملکہ حاصل تھاآپ صرف خداکی رضاہی کےمطابق باتیں کرتے تھے ایک دن میں نے انھیں تنہائی میں اپنے رب سے مناجات کرتے ہوئے دیکھاایسالگتاتھاجیسے وہ اپنے خداکواپنے بالکل قریب دیکھ رہے ہین ۔یہ وہ کیفیت تھی جسے لفظوں میں نہیں بیان کیاجاسکتا۔

یہ چیزان کےزھدوورع اورتقویٰ وپرہیزگاری کے اوپربہترین گواہ ہے کہ انھوں نے پہلی وصیت میں اپنے فرزندکوخطاب کرتے ہوئے فرمایا۔

میں اسے (اپنے فرزندکو)صلہ رحم کی وصیت کرتاہوں خاص طورسے ان کے بھائیوں اوربہنوں کے سلسلے میں اوریہ وصیت کرتاہوں کہ ان کے ساتھ نیکی کاسلوک کرے اس لئے کہ میں نے اپنے بعددنیاکے ٹھیکروں (مال ودولت کی طرف اشارہ)کی شکل میں کچھ نہیں چھوڑاہےمجھےجوکچھ بھی حاصل ہوااسے حتیٰ وہ رقم بھی جوخاص طورسے مجھے دی جاتی تھی محتاجوں خصوصاً اہل علم پرصرف کردیاہے۔عنقریب میں دنیاسے سفرکرنے والاہوں لیکن اپنے ورثاء  کیلئے دنیاکے مال واسباب اورزروجواہرمیں سے کچھ بھی نہیں چھوڑاہے انھیں اپنے رب کریم کے حوالے کردیاہے اوران کیلئے بہترین یادیں اوراچھی باتیں چھوڑی ہیں اوراگرمیں اپنی اولادکیلئے مال واسباب سمیٹنے کی کوشش کرتالوگ میرے اوپراس قدراعتبارکرتے تھے اپنے وارثوں کیلئے لاکھوں اورکڑوروں کی جائداد اورمال واسباب چھوڑسکتاتھا۔(فاعتبروایااولی الابصار)

وہ اپنی وصیت میں فرماتے ہیں میرے ساتھ میری وہ جانماز بھی دفن کردی جائے جس پر میں نے ستر(70)سال تک نمازشب اداکی ہے وہ تیرہ سال ہی کی عمرسے نمازشب کے پابندتھے پروردگارانھیں مقام محمودپرمبعوث کرے۔

اوردوسرے مقام پر فرماتے ہیں میں اسے وصیت کرتاہوں میرے ساتھ میری وہ تسبیح بھی دفن کی جائے جس کے دانوں پر میں نے ہر صبح خداوندکریم سے مغفرت طلب کی ہے۔

مجھے یادآتاہےکہ ایک دن انھوں نے اخلاق اورعرفان پرگفتگوکرتے ہوئے حسدکے سلسلے میں فرمایاحسدشروع میں حاسدکے دل میں سیاہ نقطے کےمانندہوتاہےاگرحسدکرنے والاعلمائے اخلاق کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق اپنے نفس کاعلاج نہ کرے تویہ خودخداوندعالم سے دعاکرتے تھے کہ وہ اس سے اس مرض کوزائل کردے اوراس بات میں غوروفکرکرتے تھے کیوں اس نے اپنے بھائی سے نعمت چھیننے کاقصدکررکھاہےجب کہ خداہی عطاکرنے والااورنعمت روک لینے والاہے وہی نافع بھی ہے اور ضاربھی اسےچاہیے کہ وہ اپنے پروردگارسے ایسی ہی نعمت کی درخواست کرے جیسی خدانے اس کےمحسودکوعطاکی ہے۔

اس طرح وہ اپناعلاج کرلے گااوراگرحسدکے اس بیج کاعلاج نہ کیاجائے اوراس نقطے کومٹایانہ جائے تووہ پھلنے پھولنے لگتاہے اورایک دن ظلم کادرخت ہوجاتاہے جوانسان کے وجودکوکھاجاتاہے۔

اس کےبعدفرمایامیں اپنے والدعلام کے ہمراہ کفایۃ الاصول کے مصنف محقق آخوندکے درس میں جایاکرتاتھاایک دن انھوں نے ایسے آدمی کودیکھاجوعلماء کالباس پہنے ہوئے تھااسے دیکھتے ہی ولادعلام نے ان الفاظ میں بددعاکرناشروع کردی " اللہم اخذ لہ فی الدنیاوالآخرہ"(باالہیٰ اسے دنیاوآخت میں ذلیل وخوار کردے)میں نے بارہا ان کی زبان سے بددعاکے یہ کلمات سنے ایک روزمیں نے اس کاسبب پوچھ ہی لیاتوانھوں نے فرمایایہ وہ شخص ہے جومحقق آخوندکے درس میں اپنے دوست کے ساتھ حاضرہواکرتاتھااورمحقق اس کےدوست کی ذکاوت وذہانت کی تعریف کیاکرتے تھےجس کی بناپراس کے وجودمیں حسدکی آگ بھڑک اٹھی ایک دن اس کادوست زکام میں گرفتارتھامیں اس کے پاس عیادت اورتیمارداری کیلئے گیاہواتھاکہ وہ شخص آیااوراس سے کہالویہ میرے پاس تمھارے لئے دواموجودہے اس نے کوئی چیزظرف میں ڈال کراسے پلادی تھوڑی دیرکے بعداس کے بیماردوست کارنگ اڑگیااوروہ چندہی گھنٹوں میں انتقال کرگیاہم سمجھ گئے کہ اس نے اپنے دوست کوشددحسدکی بناپرزہر دے دیااوراس کے چاربچوں کوباپ کی شفقت سے محروم کردیاحسدکے یہی اثرات ہوتے ہیں ۔وہ ایمان کواس طرح کھاجاتاہے جیسے آگ لکڑی کوکھاجاتی ہے۔

اس کےبعدفرمایایہ شیخ ہادی نجف کے علماء میں سے تھااس پرلعنت ملامت کی گئی اس کی تکفیرکی گئی اوراسےڈنڈوں سے ماراگیایہ عالم فاضل تھااس نے صحیح اورمسلم الثبوت کتابیں تالیف کی ہیں اس کی تحریروں میں کوئی ایسی چیزنہ مل سکی جواس کے کفراوردہریت پردلالت کرتی۔

اورجوچیزاس کے کفرکاسبب بنی وہ یہ تھی کہ شیخ ہادی نے مرزاحبیب سے ان کی زندگی کے آخری ایام میں ملاقات کی اس وقت دوشخص دروازے پرکھڑے تھےشیخ ہادی کے لئے چائے لائی گئی اس نے چائے پی خادم جب استکان لیکرواپس ہواتودروازے پرکھڑے ان دوشخصیتوں نے (حسدکی بناءپر)خادم سے کہامرزاحبیب کہتے ہیں استکان پاک کرلواس میں ایک کافرنے چائے پی ہے یہ خبرتیزی کے ساتھ پھیل گئی اوراسی درمیان تین دن کے بعدمرزاحبیب کاانتقال ہوگیااورکسی کوان سے حقیقت حال پوچھنے کاموقع نہیں ملا۔البتہ یہ بات ثابت ہے کہ ان دونوں حاسدوں نے شیخ ہادی سے حسدکی بناء پریہ بات اپنی طرف سے کہی تھی لیکن شیخ کی تکفیرعوام کی زبانوں پرباقی رہ گئی ہاں ایک صحن مطہرحضرت امیرالمومنین علیہ السلام میں ایک مجلس تشکیل دی گئی جس میں نجف کےبزرگ علماء حاضرہوئے مشہورخطیب منبرپرگیااورشیخ ہادی کےفضائل ومحامدبیان کئےاوران پرلگائی گئی تہمت کاازالہ کرنے کے بعدایک ظرف میں شیخ کوتھوڑاساپانی پلایاجس سے نجف کے ان بزرگ علماء نے باری باری پیاتاکہ لوگوں پرشیخ کاایمان اوران کی طہارت ثابت ہوجائے لیکن عوام اسے کافرہی گردانتے رہے اوروہ دونوں حاسدوظالم جنھوں نےشیخ ہادی سے حسدکیاتھازندگی کے منحوس ایام بسرکرنے کے بعدفقروفلاکت میں اس دنیاسےگئے اورجہنم ان کاٹھکانابنا۔