سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/9/17 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

محبت حسین علیہ السلام

محبت حضرت امام حسین علیہ السلام

استادعلام اپنے ہم عصر مراجع کرام اورفقہائے عظام کے درمیان کچھ خصوصیات میں ممتاز اورمشہورتھے خداوندعالم ان کی قدرومنزلت اورشاسن وشوکت میں مزید اضافہ فرمائے،چندامتیازی خصوصیات۔۔۔۔

1۔ علمی آثار اورمخطوطہ کتابوں کی حفظ ونگہداشت میں آپ کوبے پایاں محبت تھی اوریہ محبت ایک عظیم کتب خانہ کی شکل میں ظاہر ہوئی جواس وقت حوزہ علمیہ قم کاسب سے بڑاکتب خانہ ہے۔

2۔ مختلف علوم وفنون کی تحصیل کاآپ کوبے حدشوق تھا جس کی بناء پر مختلف علوم وفنون میں سیکڑوں کتابیں اورہزاروں صفحات تحریرکئے۔

3۔ مسانید واساتید کی حفاظتر میں آپ کو عشق کی حدتک شوش تھا جس کے نتیجے میں علماء امامیہ ،زیدیہ ،اسماعیلیہ ،اورعامہ کےتقریباً دوسو اجازہ روایت محفوظ تھے۔

4۔ اہل بیت عصمت وطہارت سے آپ کوانتہائی محبت اورکمال کی حد تک عشق تھا آپ کا کوئی ایسا مکتوب ومرقوم نہیں ہےجسے اہل بیت علیہم االسلام کے ذکر پرختم نہ کیاہوا۔

آپ اہل بیت اطہارعلیہم السلام کے سچے شیدائی تھے خصوصاً سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہم السلام واقعہ عاشوراکے ذکر اورعزاداران پردل وجان سے قربان تھی انھوں نے ایک دن مجھ سے فرمایا۔عالم شباب میں ہم طلبہ کی جماعت جن میں روح اللہ الموسوی الخمینی رضوان اللہ علیہ بھی شامل تھے محرم کی راتوں میں سحر تک سیدالشہداء علیہ السلام کی مظلومیت پر آنسوبہاتی رخساروں پرطمانچے مارتی اورگریہ وزاری کرتی تھی۔

آپ نے نصیحت آمیز انداز میں فرمایا اگر خداوند کریم تمہیں علمی اورعملی زندگی میں توفیق عنایت کرے تویہ تین چیزیں اپناشعاربنالو۔

1۔ ہمیشہ باطہارت رہو۔

2۔ کسی بھی جنازے کودیکھو اس کی مشایعت کرو خواہ چندہی قدم کیوں نہ ہو۔

3۔ عزائے حسین ؑ  میں کسی بھی عنوان سے شرکت کرو۔

مجھے یاد ہے استاد علام اپنی زندگی کے آخری ایام میں عاشورہ لے دن غروب آفتاب کے وقت صحن حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیہا میں نمازجماعت کیلئے تشریف لائے اس وقت حسینی دستے اورانجمنیں ماتم میں مشغول تھیں لوگ رخساروں پرطمانچے ماررہے تھے سروسینہ پیٹ رہے تھے زنجیروں کاماتم ہورہاتھا نوحہ وبکا کی صدائیں بلند تھیں جب مکبر نے نماز جماعت کی مقدار بھر توقف کی درخواست کی میں ان کے پاس ہی تھا جیسے ہی استادعلام نے یہ جملہ سنا ان چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا  اورمکبرسے ڈانتے ہوئے کہا (ساکت باش اگراین عزاداری نبودنمازجماعت نبود)خاموش ہوجاؤ اگر یہ عزادری نہ ہوتی تونمازجماعت نہ ہوتی انہیں سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی مظلومی پرگریہ وزاری اورنوحہ وبکا کرنے دو اگر یہ عزاداری اورماتمی انجمنیں نہ ہوتیں توہمارے دشمن واقعہ خونین کربلا نیز یزید اوراس کے ساتھیوں کے ظلم سے انکارکردیتے جس طرح بعض لوگوں نے غدیرکے واقعہ کاانکار کردیاہے۔

ہاں واقعہ سیدالشہداء کااعتقادرکھنے اوراس کاتذکر ہ کرنے سے انسان باوقار ہوتاہے۔اپنی زندگی کے آخری ایام میں جب آپ آپریشن کیلئے ہاسپٹل جانے لگے تو اپنے گھر سے ملے ہوئے امامباڑے میں خداسے شفاحاصل کرنے کیلئے آپریشن کی جگہ کومنبر حسین علیہ السلام سے تبرکاًوتیمناًمس کیا۔

استادعلام نے اپنی وفات سے چند مہینہ قبل مجھ سے فرمایاتھا میں نے اپنی اولاد کووصیتیں کی ہیں تم انھیں میری شب وفات یاددلادینا کہ میرے امامبسڑۓ میں منبر سے قریب رکھیں میرے عمامے کایاک سرامنبر اوردوسرا میرے جنازے سے باندھ دیں۔

آپ کے انتقال کے بعد میں نے یہ وصیتیں آپ کی اولاد کویاد دلائیں اورانھوں نے اس پر عمل کیا خداانھیں اس کابہترین صلہ دے۔

استاد استادعلام مادی اورمعنوی اعتبار سے ماتمی انجمنیں اورحسینی دستوں کی مدد بھی کیا کرتے تھے۔

اوریہ عمل اس عقیدے کے ساتھ بجالاتے تھے کہ ہمارے پاس جوکچھ بھی ہے وہ محرم وصفرکی بدولت ہے۔

اگرسلسلہ گفتگوکے طویل اورکتاب کی ضخامت کاخوف نہ ہوتا تو میں اس عطیم المرتبت سید کی زندگی کے ایسے واقعات تحریرکرتا جس سے شعورواحساسات دنگ رہ رہ جاتے لیکن اتنے ہی پراکتفاکرتاہوں جسے آپ نے اپنی پہلی وصیت میں حضرت امام حسین سے متعلق ذکر فرمایاہے اس سلسلہ میں ہرصاحب عقل وخردپر غوروفکرلازم ہے تاکہ جوہر معانی آشکار ہوں اورحقیقت مقصودتک رسائی ہوسکے۔

استادعلام نے فرمایاہے میں اسے اپنے اس حسینیہ میں جسے میں نے قم میں تاسیس کیاہے شعائرالہیٰ کے قائم کرنے میں جدوجہدکی وصیت کرتاہوں۔

میں اسے وصیت کرتاہوں کہ میرے ساتھ وہ تھیلی جس میں میں نے ائمہ اطہاران کے اولاداصحاب اورعظیم علماء کے قبروں کی خاک تبرک وتیمن کیلئے اکٹھا کی ہے دفن کی جائے۔

میں اسے وصیت کرتاہوں کہ میراسیاہ لباس جسے میں حزن وغم کے عالم میں محرم وصفرکے مہینے میں  پہنتاتھا میرے ساتھ دفن کیاجائے۔

میں اسے وصیت کرتاہوں کہ میرے کفن میں میرے سینے پروہ رومال رکھاجائے جس میں میں نے سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے مصائب پربہنے والے آنسوؤں کوجذب کیاہے۔

میں اسے وصیت کرتاہوں کہ میری جانب سے حج اورزیارت قبررسول ؐ کیلئے ایک صالح آدمی کونائب بناکر بھیجاجائے مجھے ان دونوں سے بے پناہ عشق ہے اورمیں تہی دست ہوں اسی طرح یہ بھی وصیت کرتاہوں کہ میری جانب سے کسی نیک بندے کوعراق کے مقامات مقدسہ کی زیارت کیلئے روانہ کیاجائے کیونکہ میرے پاس فقہ واصول وحدیث کی چندجلدوں کے علاوہ اتناسرمایہ نہیں ہے جوان نیابتوں پرصرف ہوسکے ۔میں اپنی اولاد سے توقع رکھتاہوں کہ  اس سلسلے میں خرچ کرنے سے کوتاہی نہیں کریں گے۔

میراپرورگارجانتاہے میرے پاس نہ ایک بالشت زمین ہے اورنہ کچھ روپیہ پیسہ میں  وصیت کرتاہوں کہ میرے جنازے کوحضرت معصومہ سلام اللہ علیہا قم کی قبرکے سامنے رکھاجائے اورسیدالشہداءحسین مظلوم کی اہل بیت سے رخصت آخر کامصائب پڑھاجائے اوراسی طرح میرے جنازے کومیرے تعمیرکردہ امامباڑے میں رکھاجائے وہاں بھی یہی مصائب پڑھاجائے اوراسی طرح جب مجھے میری قبر میں اتاراجائے جو میں نے کتب خانہ کے دروازے پر اپنے لئے معین کی ہے وہاں بھی اسی مصیبت کاتذکرہ کیاجائے۔

میں اسے اوراپنے تمام فرزندکو وصیت کرتاہوں کہ ہرشب جمعہ میری قبرکے گرد جمع ہوں قرآن پڑھیں اورمصیبت سیدالشہداء پرگریہ وزاری کریں۔

استادعلام نے اپنی وصیت کے آخرمیں فرمایاہے۔

بارالہامیں تجھ سے ان گناہون کے سلسلے میں عفوومغفرت کاخواستگاہ  ہوں جومجھسے اورمیری اولاد نیز میرے باایمان دوستوں سے سرزدہوئے ہیں ہمارانامہ اعمال ہمارے داہنے ہاتھوں میں اورخلدہمارے بائیں ہاتھوں میں عطاکرنااورہمیں محمدوآل محمد کی محبت ومودت کے ساتھ دنیا سے اٹھانا ۔بارالہاہم تجھ سے اہل بیت ؑ کے دشمن اوران کے حقوق غصب کرنے والوں ،ان کی فضائل ومناقب کاانکارکرنے والوں اورانہیں خداکے عطاکردہ مراتب میں شک کرنے والوں سے برائت وبیزاری کے خواہاں ہیں۔

بارالہا!ہمیں ان کی حیات کے صدقےمیں حیات اوران کی موت کے صدقےمیں موت عطاکرناتوجانتاہے ہم نے ان کی محبت ومودت میں اپنے کوفناکردیا ہے ہمیں ان کاصلہ عطاکرناجواہل بیت ؑ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہیدہوگئے ہمیں ان  سے دفاع کرنے والوں کی فہرست میں شمارکرنااورہمیں ان لوگوں میں قراردینا جوان سے ہدایت لیتے ہیں اورانکے نقش قدم پرثابت قدم ہیں ہمیں ان کی محبت سے تمسک کرنے والوں میں قراردینا۔

آمین ثم آمین

والسلام علی من اتبع الھدیٰ

عبدفقیرخادم علوم اہل بیت ابوالمعانی شہاب الدین حسینی مرعشی نجفی عفی عنہ نے اسے تحریرکیاہے۔