سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/11/16 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

استادعلام کے قلم سے

استادعلام کے قلم سے"

استادعلام کی کتاب "الاجازہ الکبیرہ" کی تصحیح وتہذیب کے آخری مرحلے میں مجھے ان کے اس زندگی نامہ پراطلاع ملی جسے انھوں نے خوداپنے قلم سے تحریر کیاتھامیں نے اسے اپنی کتاب خورشیدفقاہت میں شامل کرلیاہے تاکہ اس خاتمہ خوشبوکے ہم مثل ہو۔

استادعلام نے کتاب کی نویں فصل میں تحریرکیاہے کہ میرے بعض دوستوں اوربھائیوں نے مجھ سے میرے حالات زندگی لکھنے کی درخواست قبول کی لہذابطوراختصاراپنے حالات تحریرکررہاہوں ۔

میرانام  شہاب الدین محمد الحسین ابوالمعالی ہے نجفی خادم علوم ائمہ اطہاراورنساب عترت طاہرہ سے مشہورہوں 20 صفر1315 ہجری صبح پنجشنبہ نجف اشرف میں میں نے ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولی یہی وہ پہلی زمین تھی جس کی مبارک خاک سے میراجسم مس ہوا۔

الحاج مرزاحسین خلیلی رازی ،الحاج مرزاحسین نوری،الحاج سیداسماعیل الصدرموسوی اصفہانی اورسیدمرتضی ٰ رضوی کشمیری ھندی قدس اللہ انفسہم الزکیہ جیسے آیات عظام اوربزرگان علم وفضل نے میرے کانوں میں اذان واقامت کہی۔

میرے والدعلام مجھے غسل وطہارت کے بعدحرم حضرت امیرالمومنین علیہ السلام لے گئے اورمجھے ان کے مزارمقدس کاطواف کرایا۔

اپنی 5سال کی عمرسے میں اپنی جدہ ماجدہ فاضلہ طباطبائیہ کے نزدیک قرآن پڑھنے میں مشغول ہوگیااوران سے بعض ادبی کتابوں کادرس بھی لیا۔

شیخ شمس الدین عشق آبادی ،سیدمحمودمعلم حسنی مرعشی اوردیگراساتذہ سے میزان ونحواوردوسرے علوم کے دروس حاصل کئے۔

علامہ ادیب سیدکاظم خرم آبادی نحوی،شیخ مرتضیٰ طالقانی ،شیخ محمدحسین اصفہانی سدہی ،مرزامحمدشیرازی،مرزاآقااصطہباناتی، شیخ حسن رشتی ،شیخ عبدالحسین رشتی،مرزاعلی آقاایروانی، مرزاابوالحسن مشکینی اورشیخ محمدحسین طہرانی جیسے آیات عظام سے فقہ واصول کے سطحی دروس حاصل کئے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ عبدالکریم حائری ،آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ آقاضیاء الدین عراقی اور آیۃ اللہ العظمیٰ آقارضااصفہانی سے فقہ واصول کادرس خارج حاصل کیا۔

استادشیخ مرزامحموداہری ،شیخ حیدرعلی رقاع نائینی (مولف حواشی برشرح الچغمینی) آقاحسین نجم آبادی ،مرزاباقرایروانی،یاسین علی شاہ ہندی اورسیدہبۃ الدین شہرستانی جیسے سرمایئہ افتخار افراد سے میں نے بعض ریاضی اوردوسرے علوم کی تکمیل کی۔

شیخ عبدالکریم بوشہری (مولف کتاب شش ہزار مسئلہ)جوشیرازمیں مدرسہ سعادت کے موسس بھی ہیں ،آقامحمدمحلاتی (مولف کتاب گفتارخوش یارقلی)اورشیخ محمدمنجم جیسے حضرات سے میں نے حساب،ہندسہ اوردوسرے علوم حاصل کئے۔

شیخ محمدحسین بن خلیل شیرازی،والدعلام اورجن لوگوں نے مجھے اپنی آغوش تربیت میں پروان چڑھایاان سے علم تفسیرکے رموزواسرارحاصل کئے۔

علامہ سیدابراہیم راوی،شیخ نورالدین شافعی،علامہ سیداحمدآقاشوستری اورعلامہ الحاج مرزافرج اللہ تبریزی سے علم تجویدوقرائت کے گہرے مفہوم سیکھے،والدعلام،سیدمہدی اورسیدرضاسے علم نسب سیکھا۔

ڈاکٹرعلیخان عندلیب زادہ سے مسالک ،ممالک ،اورجغرافیہ پڑھا۔

مرزاطاہرتنکابنی ،اورالحاج ملاعلی محمدنجف آبادی سے ،علم کلام وفلسفہ پڑھا۔

خداان سب کوجزائے خیردے اورمجھے ان کے حق کے پرداخت کی توفیق عنایت کرے۔

بعض علماء اہل سنت اورعلماء زیدیہ سے میں نے ان کی فقہ کی تعلیم میں شرف تلمذحاصل کیا۔جن میں شیخ نورالدین شافعی سے علم تجویداورتلاوت قرآن کریم کے اسرارسیکھے ،سیدعلی خطیب نجف اشرف سے صحیح بخاری کاایک ثلث شیخ عبدالسلام کردستانی سے صحیح مسلم اورسیدعبدالوہاب نجفی مفتی کربلاء سے شمائل ترمذی پڑھی۔

ائمہ زیدیہ سے صحیفہ علی بن موسیٰ الرضااورامالی ابوالحسن ہارونی پڑھی۔

علامہ سیدجمال الدین احمدحسینی زیدی سے النفخہ العنبریۃ فی سلالۃ خیرالبریۃ پڑھی جواصل کےاعتبار سے یمنی ہیں ،یہ عراق سیروسیاحت کی غرض سے تشریف لائے تھے مشہدکاظمیہ میں ان کاانتقال ہوااوروہیں دفن ہوئے۔

نجف اشرف ،میں اپنے قیام کے دوران حرم امیرالمومنین علیہ السلام سے توسل کرتے ہوئے میں نے مختلف صاحبان علوم وفنون سے بہت کچھ استفادہ کیا۔

1339 ہجری میں سامراگیا اوروہیں سکونت اختیارکرلی،وہاں میں باہمی میل جول اوراپنوں سے روگرداں رہتے ہوئے پروردگارسے لولگاکرایک مدت تک علوم کی تحصیل میں مشغول رہا، اس بلندوبالامقام اورمقدس روضے کی برکتوں سے میں نے بہت کچھ استفادہ کیا،جسے زبان قلم بیان کرنے سے عاجز ہے اس کے بعدمیں کاظمین گیااوروہاں توسل کیا،کاظمین میں اپنے قیام کے دوران میں نے آیۃ اللہ سیدحسن صدرسے علم رجال ،درایہ اورفقہ کے دروس حاصل کئے۔

آیۃ اللہ شیخ مہدی خالصی سے اصول اورسیدابراہیم راوی شافعی بغدادی (جوبغدادمیں سیدسلطان علی کے مدرس ہیں)سے تفسیراورحدیث عامہ کے دروس حاصل کئے۔

پھرمیں 1342ہجری میں زیارت امام رضاؑ کے ارادے سے ایران تہران میں تقریباً ایک سال تک آیۃ اللہ شیخ عبدالنبی آیۃ اللہ شیخ آقاحسین آبادی جیسے آفتاب علم سے کسب فیض کیا پھر میں نجف اشرف لوٹ آیااپنے وظائف میں مستقل طورپرمصروف ہوگیا۔

1343ہجری میں حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہابنت موسیٰ بن جعفرؑ کی زیارت کیلئے قم آیااوریہیں مقیم ہوگیااس کے باب سے میں نے پناہ طلب کی ۔اس کے حضورتوسل کیا،ان کے کرم کے ذریعہ پناہ مانگی ۔

ایساکیوں نہ ہوفاطمہ معصومہ (س)ایسے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جنہیں عظمت وبزرگی کالباس پہنایاگیاہے آثارامامت جن کی پیشانی پرچمک رہے ہیں جس نے بھی ان سے توسل کیااورپناہ کاخواستگاہ ہوااسے اس دنیا میں کبھی ناکامی نصیب نہیں ہوئی۔

قسمت خداسے مجھے 1350 ہجری میں حضرت شاہ چراغ کی زیارت نصیب ہوئی جواپنے بھائی محمدعابدکے ساتھ شیرازمیں دفن ہیں یہ دونوں حضرات امام موسیٰ کاظم کے فرزنداورامام علی رضاعلیہ السلام کے بھائی ہیں۔

1354ہجری میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی زیارت مشرف ہوااور آستانہ مقدسہ کابوسہ لیا۔بہت سے لوگوں نے اس سفر میں میرے اوپراحسانات بھی کئے۔

قم مقدسہ میں اپنے قیام کے دوران میں اراک ،ہمدان ،بوشہر،زنجان ،تبریز،شاہرود،سبزوار،قزوین،اصفہان،نیشاپور،شیراز،

ابھر،میانج اوردوسرے شہروں کے سفرکئےجہاں میں نے صاحبان علم وفضل سے ملاقات کی جن سے میں نے خودبھی فائدہ حاصل کیااورانہیں بھی میں نے فائدہ پہنچایا۔

میری طبیعت کی جولانی اورروحانی قلم نے فقہ واصول حدیث وکلام ،ادب وتاریخ ،رجال وانساب ،ریاضی اوردوسرے علوم میں نایاب کتابیں تحریرکی ہے جن میں سب سے اہم مشجرات الھاشمین ہے جسے مشجرات آل رسول اللہ الاکرام بھی کہتے ہیں۔

یہ میراوہ قیمتی ذخیرہ ہے جسے میں نے اپنے فقروفاقہ اورتنگدستی کے زمانے میں جمع کیاتھامیں نے اس میں سادات کرام کے نسب بیان کئے ہیں جوکسی اورکتاب میں نہیں ہیں۔

نیزمیں نے اس کتاب میں اپنے والدعلام شیخ محمدمہدی غریفی بحرانی اوران کے برادران کے برادرسیدمحمدرضاکی طرف سے اپنے مسموعات اورمرویات بیان کردئیے ہیں ۔

1۔ مصباح الھدایۃ۔۔۔۔۔ یہ کفایہ پرحاشیہ ہے ۔

2۔ مسارح الافکارفی حل مطارح الانظار۔۔۔۔ یہ شیخ انصاری کی تقریرات پرحاشیہ ہے۔

3۔ سادات طغرودکے نسب کے بارے میں ایک رسالہ۔

4۔ تعلیقہ۔۔۔ یہ کتاب احقاق الحق پرآپ کاتعلیقہ ہے جس میں ہمارے اوردوسروں کے درمیان فقہ واصول کے اختلافی مسائل کے سلسلے میں علماء شیعہ کے مدارک بیان کئے گئے ہیں ۔

یہ تعلیقہ کئی جلدوں میں ہے جس کے مطالعہ سے عقل حیران ہوجاتی ہے۔

5۔ تعلیقہ برعمدۃ الطالب۔۔۔ یہ سادات علوی اورخاص طورسے ان لوگوں کے حالات زندگی پرمشتمل ہے جن کاذکر اسانیدروایت میں ہواہے میں نے اس کی جمع آوری میں کافی مشقتیں برداشت کی ہیں اس کامطالعہ کرنے والے بہت سے ایسے افراد سے آگاہ ہوں گے جن کی طرف اسناد کیاگیاہے اورجن سے روایت کی گئی ہے اوررجال کی کتابوں میں جن کاذکرمدح اورقدح سے نہیں ہواہے ،شنیدہ کے بودماننددیدہ خداوندعالم مجھے اس کے اتمام اورتدوین کی توفیق دے۔

6۔ مزارات العلویین۔۔۔ یہ کتاب میں ساری دنیاکے سادات کرام کی قبروں کاتذکرہ ہے میں نےاس کی تالیف میں بہت مشقتیں برداشت کی ہیں یہ اپنے موضوع کے اعتبارسے نایاب ہے ۔

7۔طبقات النسابین ۔۔۔ یہ دوجلدوں میں ہے جس میں پہلی صدی سے عصرحاضرتک کے علماء کانسب بیان کیاگیاہے ۔یہ کتاب اپنے باب میں یگانہ ہے۔

8۔ رسالہ ۔۔۔۔ ایک رسالہ فقہی اصطلاحات پرمشتمل لغت کے طرزپرلکھاہے۔

9۔جذب القلوب الیٰ دیارالمحبوب۔

10۔ کشکول ۔۔۔ یہ چندجلدوں میں ہے۔

11۔تعلیقہ برفرائدالاصول۔

12۔تعلیقہ برقوانین ۔

13۔تعلیقہ برشرح لمعہ۔

14۔ تعلیقہ برحاشیہ ملاعبداللہ درمنطق۔

15۔تعلیقہ برمطول جس کا نام میں نے المعول فی امر المطول رکھاہے۔

16 ۔تعلیقہ برنخبۃ المقال (علامہ حسین بروجردی کی کتاب ہے یہ تعلیقہ متن کے ساتھ شائع ہواہے)

17۔ سجع البلابل ۔۔۔ یہ کتاب صاحب وسائل کے حالات زندگی پرمشتمل ہے اثبات الھداۃ کے ساتھ طبع ہوچکی ہے۔

18۔ اللیالی الثمنیہ ۔۔۔ یہ کتاب علامہ علی ،سلطان محمدخدابندہ ،علامہ قاضی نوراللہ شرستری اوردوسرے علماء کے حالات زندگی کے بارے میں ہے یہ کاتاب احقاق الحق کی پہلی جلدکے ساتھ شائع ہوئی۔

19۔ ایک رسالہ علامہ ابن فتال نیشابوری صاحب کتاب روضۃ الواعظین کے حالات پرمشتمل ہے جواسی روضۃ الواعظین کے ساتھ طبع ہوا۔

20۔ مغرج الکروب۔۔۔ یہ رسالہ صاحب ارشادالقلوب علامہ شیخ حسن الدیلمی کے حالات زندگی پرلکھاگیاہے جوکتاب کے ترجمے کے ساتھ آخر میں شائع ہوا۔

21۔ رسالہ درسیروسلوک۔

22۔ رسالہ درعلم جفر۔

23۔ صاحب  النفخہ العنبریۃ سیدابوالفضل یمانی کے حالات پرایک رسالہ۔

24 ۔ کتاب درنفی تحریف قرآن۔

اس کے علاوہ اوربھی رسالے،متون ،حواشی تحریرکئے ہیں میں خداکے فضل عمیم سے لولگائے ہوں وہ مجھے یقیناً اس کی بہترین جزادے گا۔

میرے حلقہ درس سے فقہ واصول تفسیروکلام نیزدوسرے علوم میں ہزاروں علماء پیداہوئے ہیں جن میں اکثرحضرات سے میں راضی ہوں کم ہی ایسے ہیں جن پرشیطان نے تسلط اختیارکرکے انھیں ذکرخداسے بھلادیاہے جس کے سبب وہ روحانی لباس سے کنارہ کش ہوگئے۔والسلام

نظم

مختصراس کی سمجھئے عزوشان اجتہاد وہ تھاچرخ دیں پہ مہرضوفشان اجتہاد

ٹوٹ کربرساتھااس پر ابرنیسان نجف      وہ زمین علم پرتھاآسمان اجتہاد

تشنگان علم پڑھتے تھے نمازآگہی     وہ دیاکرتاتھامنبرسے اذان اجتہاد

انفرادی شان رکھتاتھا فن تدریس میں      جس میں جوہرمل گیادیدی زبان اجتہاد

اب کدھرجائیں کہ بڑھتی جارہی ہے تشنگی

قم تھاساحل وہ تھابحرہ بیکران اجتہاد

اصغراعجازقائمی