سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/9/17 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

استادعلام کے تلامذہ

استادعلام کےتلامذہ

نجف اشرف میں حوزہ علمیہ کی تاسیس بلکہ مدرسہ شیخ مفیداوربغداد میں مدرسہ سیدمرتضیٰ کی تاسیس ہی سے مراجع کرام کی نمایاں خصوصیت یہ رہی ہے کہ وہ ابتدائے حیات علمی سے آخرعمرتک تمام درسی مراحل میں تدریس کی کامل صلاحیت اورمہارت رکھتے تھے بلکہ بعض مراجع کرام ایسے بھی تھے جوشام کوان کتابوں کادرس دیتے تھے جن کے دروس صبح کوحاصل کرتے تھے پوچھاجاتاتھا جسے آپ نے ابھی صبح کوپڑھاہے کیسے شام کوان کادرس دیتے ہیں ہوسکتاہے طالب علم اعتراض کریں اورآپ جواب سے ناواقف ہوں توصبح کے درس کی طرف ہماراذہن متوجہ ہوجاتاہے اوراس سے ہم اس اعتراض کاحل تلاش کرلیاکرتے ہیں مدرسین عظام اورمراجع کرام کی یہی روشن خصوصیات ہیں۔[1] انہیں بزرگوں میں استادعلام بھی تھے۔

آپ نے ایک دن مجھ سے فرمایاتھانجف اشرف میں میں نے مقدمات کادس مرتبہ درس دیاخارج سے پہلے کی سطوح کی کتابیں مکررپڑھائیں اورمحقق آخوندکی کفایۃ الاصول کادرس ابتداء سے انتہاتک 17 مرتبہ دیاتھاطلاب کرام کے بڑے حلقہ میں وسیع شہرت کے مالک تھے اوربہت سے صف اول کے علماء آپ کے تلامذہ میں سے تھے۔

قم مقدسہ میں اصول وفقہ کے درس خارج کی ابتداء اس وقت کی جب آیۃ اللہ العظمیٰ موسس حوزہ علمیہ قم شیخ عبدالکریم حائری کےساتھ تھے۔

آپ نمازصبح سے پہلے تدریس کاآغاز کرتے اورایک درس دینے کے بعد حرم شریف میں نمازصبح کے فرائض انجام دیتے اس کےبعد دوسرادرس پھرناشتے کی غرض سے آتے اورپھرپلٹ کردرس کیلئے جاتے یہ سلسلہ رات تک جاری رہتاہے۔

آپ نے حوزہ علمیہ قم میں 70 سال تک سیدہ معصومہ فاطمہ بنت موسیٰ ابن جعفرعلیہم السلام کے جوار میں درس دئیے اوراپنے انفاس قدسیہ سے سیکڑوں اساتذہ ،علماء خطباء، محققین ،آیات اورحجج کی تربیت کی آپ کےشاگرداپنے ہم عصروں پرفوقیت لےگئے اوراپنے قوم کی طرف لوٹ آئے تاکہ انھیں انذارکریں۔

ان لوگوں نے آپ کے حلقہ درس سے علم حاصل کئے اورتمام اسلامی ممالک میں اس کی روشنی پھیلائی آپ سے کسب فیض کرنے والوں نے علم وعمل سیاست ،ثقافت اورشریعت میں نمایاں اوردرخشان کامیابی حاصل کی۔

قم مقدسہ میں آپ کے اہم تلامذہ۔

سیدباقرطباطبائی ،شیخ مرتضیٰ حائری یزدی،شیخ قوام الدین وشنوی قمی، شیخ محمدعلی توحیدی ،شیخ عباس مستقیم،شیخ صفائی ، شیخ ابوالمجدالاسلامی ،شیخ شہاب الدین اشراقی،سیدحسن نجوی،شہیدسیدمصطفی خمینی ،سیدعلی بن حسین علوی،شیخ مصطفی اعتمادی ،شیخ قدرۃ اللہ وجدانی ،شیخ حسن نوری،شیخ حسین غفاری،شیخ ابوطالب تجلیل تبریزی اوردیگربزرگان علم وفقہ ۔۔۔

تہران میں اہم تلامذہ۔

شہیدشیخ مرتضیٰ مطہری،شہیدشیخ حسین غفاری،آقایحیی عبادی،شیخ امامی کاشانی سیدمحمودطالقانی،شیخ علی اکبرہاشمی رفسنجانی۔

تبریزاورآذربائجان میں اہم تلامذہ۔

شہیدسیدمحمدعلی قاضی طباطبائی، شہیداسداللہ مدنی،شیخ ولی اللہ اشراقی، سیدابوالحسن مولانا،سیدابوالقاسم مولانا،شیخ یوسف علی مامقانی ۔

مشہد،گیلان اورمازندران میں آپ کے تلامذہ۔

مرزاجواد طہرانی،شیخ مروارید،شیخ احسان بخش،شیخ لاکانی،شیخ پیشوائی،شیخ حسن غروی، شیخ کاشفی ،شیخ مجتہدزادہ،سیدحجۃ اللہ موسوی،شیخ عبداللہ نظری ،شیخ ایازی، شیخ داراب کلائی۔

 

یزداوراصفہان میں آپ کےتلامذہ۔

شہیدشیخ محمدصدوقی ،سیدطاہراصفہانی، سیدعلی رضاریحانی، سیدجوادمدرسی،شیخ سالک ۔

ایران کے اطراف بروجردمیں شیخ محمدقوانینی، اراک میں شیخ یحیی ابوطالبی، بیرجندی میں شیخ محمدحسین نابغ، آیتی خوانسارمیں نجم الھدیٰ ،سیدمحمدغضنفری،سیدمحمدعلی ابن رضا،کاشان میں شیخ جعفرصبوری،شیخ اعتماد،شیخ حسین امامی ،ہمدان میں شیخ رضاانصاری ،شیخ باقرمہاجرانی،مرزامہدی مدرس،باختران میں شیخ محمدرضاکاظمی ،آقاعلاؤالدین آل آقا، اردبیل میں مرزاحسن طاہری جیسے شاگردہیں اس کےعلاوہ ایران اوردوسرے ممالک میں بھی استادعلام کےچمکتے ہوئے ستارے پائے جاتے ہیں۔



[1] ۔ آپ نے یہ حکایت مرجع تقلیدآیۃ اللہ العظمیٰ خوئی رحمۃ اللہ سے نقل کیاہے۔