سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/9/19 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

4- دماغی موت کے حامل افراد کے اعضاء کی پیوند کاری: آیت اللہ محمد مہدی آصفی

 

دماغی موت کے حامل افراد کے اعضاء کی پیوند کاری

آیت اللہ محمد مہدی آصفی  مترجم : سیدحسنین عباس گردیزی

(تیسرا قسط)

دماغی موت سے موت کا وقوع :

 اس پر ایک اور دلیل

فقہ،میڈیکل سائنس اور عرف عام میں واضح ترین امور میں سے ایک یہ ہے کہ بغیر سر والا انسا ن مردہ ہے اس بارے میں فقہ اورمیڈیکل کے نکتہ نظر میں کوئی فرق نہیں ہے ،جیسا کہ میڈیکل اور عرف عام میں بھی اس بات میں کو ئی اختلاف نہیں ہے ،اس بنا پر اگر فرض کیا جا ئے کہ میڈیکل سائنس سر کے بدن سے جدا ہو نے کے بعد بھی دل کی دھڑکن اور گردش خون کو طبیعی طور پر یا میڈیکل کے آلات کے ذریعے سے جا ری رکھ سکے تو اس انسان کی موت میں کوئی شخص بھی اختلاف نہیں کر ے گا اور کو ئی بھی فقیہ اس پر مو ت کے احکام کے مترتب ہو نے میں شک نہیں کر ے گا اگر چہ دل اپنی دھڑکن اور گردش خون کو جاری رکھا ہو ا ہو،یہ بات فقہ، میڈیکل اور عرف ہر لحاظ سے واضح اور روشن ہے ۔
جواز پر قاعدہ تزاحم سے استدلال:

فرض کریں کہ گزشتہ دلا ئل دماغی موت کے ذریعے حرکت قلب کے بند ہو نے سے پہلے حقیقی موت کے وقوع میں شک کو دور کرنے کے لیے کا فی نہ ہوں تو کے مطابق حیات مشکوک کا استصحاب ہو گا اور نیتجہ کے طور پر احکام حیات اس پرلاگو ہوں گے۔تویہاں پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ دماغی موت میں مبتلامریض کے دل ،جگر یا پھپڑوں کو دوسرے مریض کے بدن میں پیوند کاری کرنے کے لیے،جس کی جان بچانا واجب ہے،جدا کرنے کی اجازت دینا نہ صرف مشروع ہے بلکہ واجب ہے ،کیونکہ دماغی موت کے مریض کے دل نکالنے کی حرمت پر سب سے بڑی جودلیل قائم کی جا سکتی ہے وہ اس فرمان الہی''وَلَا تُلْقُوْ بِاَیدِیکُمْ اِلَی التَّھْلُکَةِ''[1] ہے جس کی روشنی میں اپنے آپ کو ہلاک کرناحرام ہے ، دوسری طرف دماغی موت کے مریض کے ورثاء کی جانب سے اس کے دِل یا جگر کونکالنے سے مریض کے ہلاک ہو نے کی حرمت بھی ہے ۔
یہ دو حرمتیں دماغی موت کے حامل شخص کے ان اعضا ء کو کسی دوسرے مریض جس کی جان بچانا واجب ہے ، کے جسم میں پیوند کاری کے لیے نکالنے سے منع کر تی ہیں۔

لیکن یہ حرمت ،دل کی پیو ند کاری کے ضرورت مندمریض کی جان بچانے کے وجوب سے متصادم ہے اور بلاشک دِل کی پیوند کاری کے ضرورت مند مریض کی جان بچانے کے وجوب پر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کی حرمت ترجیح رکھتی ہے ،لیکن یہ ترجیح اور فوقیت فقط اس صورت میں حاصل ہے ،جب اعضاء عطیہ کرنے والا طبیعی طورپراپنی زندگی اور اس کے معمولات کو جاری رکھ سکے اس بارے میں کسی فقیہہ کو کوئی شک و شبہہ نہیں ۔البتہ جب دِل کی پیو ند کاری کے محتاج مریض کی جان بچانے کے واجب ہو نے اور دماغی موت کے حامل مریض (یعنی جس کے حس وادراک اور حرکت کی واپسی کی کوئی امید نہیں)کی ہلاکت کی حرمت میں تصادم ہو تو بلاشک وتردید اس صورت میں جان بچانے کا وجوب،ہلاکت کی حرمت پر ترجیح رکھتا ہے ۔
کس طرح ایسے مریض کی ہلاکت کی حرمت کو ،جس کے دوبارہ طبیعی زندگی میں واپس آنے کی کو ئی امید نہیں ہے اور دوبارہ کبھی بھی احساس و ادراک اور حرکات کو وہ جاری نہیں رکھ سکتا ،اس انسان کی جان بچانے کے وجوب پر مقدم کیا جا ئے جسے دل لگانے کی ضرورت ہے اور ڈاکٹروں نے تاکید کی ہے کہ قوی امید ہے کہ وہ دوبارہ لمبے عرصے تک اپنی طبیعی زندگی گزار سکتا ہے ؟
پس یہا ں پرجان بچانے کا وجوب ہلاک کرنے کی حرمت پر مقدم کیا جائے گااور اس کے نیتجے میں ہلاکت میں ڈالنے کی حرمت کی افادیت ختم اور غیر موثر ہو جائے گی اور جان بچانے کا وجوب بغیر مانع کے باقی رہے گا جیسا کہ تمام متصادم موارد میں جہاں امر اہم اور اہم ترکے درمیان دائر مدار ہو تا ہے ،یہی معنی اور مطلب کا ر فرماہو تا ہے .[2]

ہلاکت کی حرمت پرجان بچانے کے وجوب کوترجیح اور فوقیت دونوں صورتوں میں حاصل ہو گی،موت سے پہلے خود عطیہ کرنے والے اور موت کے بعد اس کے وارثان کو ۔
اس بنا پرعطیہ کرنے والا خود سرفاصلہ نہ ہوجن کو اجا زت دے سکتا ہے کہ وہ اس کی موت کے بعد اس کے دِل کو نکالے اور اس مریض کے بدن میں لگا دے جس کی جان بچانا واجب ہے ۔
اگر اس نے خود اس کی وصیت نہ کی ہوتواس کے ولی امراور وراث سرجن کواجازت دے سکتے ہیں کہ دماغی موت کے بعددِل،جگراورپھپھٹروں کے ضرورت مندمسلمان کی جان بچانے کے لیے ان اعضاء کو نکال لیں۔

اعتراض کا جواب:

اس میں کوئی شک نہیں کہ قتل کی حرمت جان بچانے کے وجوب سے زیادہ شدید ہے ،اور یہ مصلحت اورمعیار میں مساوی نہیں ہے ،لیکن تزاحم اور تصادم میں ان دوحکموں میں سے کسی مرجح نہ ہو نے کی صورت میں معیار اورملاک ان دو حکموں میں مساوی اور برابر نہیں ہے ،کیونکہ بعض اوقات شارع کی نظر میں اہمیت کے لحاظ سے ودنوں حکم متفاوت ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود کم اہمیت والی طرف کے قوی مرحج ہو نے کی صورت میں اسے اہم تر پر مقدم کیا جا ئے گا اور اہم تر ساقط ہو جا ئے گا ۔یہاں پرکم اہمیت والی طرف کواہم طرف پر ترجیح دی جائے گی اور نیتجہ بر عکس ہو جا ئے گا ،یعنی کم از کم اہم میں تبدیل ہو جائے گا اور اہم ،کم اہم ہو جائے گا اور ایسا بہت زیادہ دیکھنے میں آیا ہے ،گزشتہ مثال میں بے شک قتل کی حرمت جان بچانے کے وجوب سے کہیں ساقط ہو جا تی ہے اس مثا ل کی طرح کہ بہت سارے مسلمانوں کی جان بچانا ایک مسلمان کے قتل کرنے پر موقوف ہو ،اس صورت حال میں اس ایک مسلمان کا قتل کرنا جائز ہے اور کئی دفعہ بعض مسلمان مسلمانوں کے رہبر اور امام کی جان بچانے کے لیے قربان ہو جاتے ہیں۔

جواز پر قاعدہ ''لاضرر'' سے استدلال :۔

مشہور و معروف قاعدہ ''لاضرر''سے یو ں استدلال کیا جا سکتا ہے:
دماغی موت میں مبتلا مریض کے ہلاک کرنے کی حرمت (حرام ہو نے )سے ،دل کی پیوند کاری کے ضرورت مند مریض کو ضرر پہنچے گا اور ''لاضرر ''والی حدیث ہلاک کرنے کی حرمت جو کہ ایک ضرری حکم ہے ،کو برطرف کردیتی ہے یہ بھی واضح ہے کہ دِل کے ضرورت مند مریض کی جان بچانے کے وجوب کا حکم بھی ضروری ہے ،کیونکہ اس کی جان بچانا دماغی موت کے مریض کی ہلاکت پر موقوف ہے اور اس کے زندہ ہونے کے فرض کی صورت میں اس کے لیے قطعاً ضرر اورنقصان ہے اور قاعدہ کے مطابق زیادہ ضرر والا حکم برطرف ہو جا ئے گا اور کم ضرر والا حکم باقی رہے گا اور جب دماغی موت کے مریض کی ہلاکت کی حرمت کے حکم پر مترتب ہو نے والا ضرر دِل کے مریض کی جان بچانے کے وجوب کے ضرر سے زیادہ ہے تو قاعدہ کے مطابق دماغی موت کے حامل شخص کے ہلاکت کی حرمت کا حکم غیر موثر ہو جائے گا اوردل کے مریض کی جان بچانے کاواجب ہونا بلامانع باقی رہے گا ۔
اس لیے کہ دماغی موت کے مریض کی ہلاکت کی حرمت پر مترتب ہونے والا ضرر دماغی موت کے مریض کی ہلاکت ہے اور دل کے مریض کی جان بچانے کے وجوب پر مترتب ہو نے والاضرردماغی موت کے مریض کی ہلاکت ہے اور بلاشک و شبہہ پہلا ضرر ہرلحاظ سے دوسرے ضرر سے کئی گنا زیادہ اور شدید ہے ،کیونکہ دقیق الفاظ میں دل کا مریض زندہ ہے اور دل کی پیوند کاری سے رونقیں اور کاروبارزندگی پھر سے بحال ہو جائے گا جب کہ دماغی موت کا مریض ہر قسم کے جذبات و احساسات ،ادراک و شعور سے عاری ہے اور اس میں ان چیزوں کے واپس آنے کی بھی کوئی امید نہیں ہے بلکہ وہ تو گوشت کا ایک ٹکرا اورہڈیوں کا ڈھانچہ ہے جو ایک کو نے میں پڑا سانس لے رہا ہے اور اس کا دِل دھڑک رہا ہے اور گردش خون جاری ہے۔
اس بنا پردماغی موت کے حامل انسان کو ہلاک کرنے کی حرمت برطرف ہو جائے گی کیونکہ اس حرمت کا لازمہ دل کے مریض کو بہت بڑا ضرر پہچانا ہے لہذا دل کے مریض کی جان بچانے کا وجوب مقدم ہو گا اگر چہ اس کے نیتجے میں دماغی موت کے مردے کو بھی ضر ر پہنچے گا ،لیکن یہ ضرر کمتر ہے ۔
یہ بیان اور وضاحت محقق نائینی کے مزاج کے مطابق تھی البتہ ہمارے اپنے گزشتہ بیان کے مطابق قاعدہ لاضر ر فقط دماغی مردے کو ہلاک کرنے کی حرمت کے حکم میں بالخصوص جاری ہو گا ۔اور اس کے نیتجے میں حرمت کا حکم ختم ہو جا ئے گا ،کیونکہ ضرر اورامتنان دونوں موجود ہیں اور قاعدہ لاضرر دل کے مریض کو دماغی مردے کے دل کو نکال دل کے مریض کے جسم میں پیوند کاری کے ذریعے بچانے کے واجب ہو نے پر لا گو نہیں ہو تا ،جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بھی کہا ہے کہ اس میں منت واحسان کا کو ئی پہلو موجود نہیں ہے جب کہ قاعدہ لاضرر وہاں لا گو ہو گا ،جہاں ضرر بھی ہو اور منت و احسان بھی ۔
بہرحال ،اگر چہ مذکورہ مطالب میں سے بعض پر اعتراض کی گنجائش ہے لیکن مجموعی طور پر ان دلائل سے فقیہہ کو اطمینان حاصل ہو جاتا ہے کہ موت جسے شارع نے بہت سے احکام کاموضوع قرار دیا ہے،وہ دماغ کی موت ہے نہ کہ دل کی موت ،بالفرض یہ حقیقت یا یہ ثبوت کو نہ بھی پہنچے تو پھر بھی یہ کہاجا سکتا ہے تزاحم یا ضرر کی دلیل کی بنا پر دماغی مردے کے بنیادی اعضاء کو اس کے بدن سے نکا لاجا سکتا ہے ،بنا برایں زندہ انسانوں میں پیوند کاری کے لیے ،دماغی موت میں مبتلا بیماروں کے بنیادی اعضاء مثلاً دل جگر پھپھڑے اور دیگر اندرونی اعضاء کو نکالنا بوقت ضرورت جائز ہے۔

موت میں شک کا حکم :

اب اگر ایک فقیہہ مذکورہ دلا ئل اورمرحجات سے مطمئن نہیں ہو تا کہ موت دماغ کے مرنے سے واقع ہو تی ہے،اور دماغ کی موت اور حرکت قلب کے بند ہونے سے پہلے موت کے وقوع میں شک کرے تو اس حالت میں بغیر شک و شبہہ کے استصحاب جاری ہو گا :کیونکہ دماغی موت سے پہلے زندگی یقینی ہے اب دماغی موت کے بعد مو ت کے حصول میں ہمیں شک ہے لہذ ابلا شک استصحاب جاری ہو گا ،اور احکام حیات اس پر لاگو ہو ں گے ۔[3]

روایات میں بھی انتظار کا حکم دیا گیا ہے تا وقتیکہ موت واضح ہو جائے ،ابو الحسن ـسے مروی صحیحہ ہشام بن حکم میں بے ہو ش اور غرق ہونے والے کے بارے میں بیان ہو ا ہے ،تین دِن تک انتظار کیا جا ئے (تاکہ معلوم ہوجائے کہ زندہ ہے یا مردہ )مگر یہ کہ اس سے پہلے کوئی تبدیلی رونما ہو جائے ۔[4]
امام صادق
ـسے منقول موثقہ عمار میں بیان ہو اہے :غریق (غرق ہو نے والے )کوسنبھال کے رکھا جائے گا ،یہاں تک اس میں تغیرو تبدل رونماہو جائے اور معلوم ہو جا ئے کہ وہ مرچکا ہے ،اس کے بعد غسل و کفن دیا جا ئے. [5]
انتظاراور صبر کرنے کا یہ حکم ہر اس مقام پر لاگو ہے جہاں لوگوں پر زندگی اور موت مشتبہ ہو جا ئے
عضو نکالنے کے لیے اجازت :

سوال یہ ہے کہ کیا موت کے منہ  میں جانے والے مریض کے بدن میں پیو ند کا ری کے لیے دماغی مردے کے
عضو کو آپر یشن کے ذریعے نکالنے کے لیے ،دماغی مو ت سے پہلے عطیہ دینے والے کی اجازت ضروری ہے ؟
بالفرض عضوعطیہ کرنے والے نے اس قسم کی اجا زت نہیں دی تو کیا اس صورت میں اس کے ورثا کی اجازت کا فی ہے؟
ان سوالا ت کے جواب دینے کے لیے دو نکات پرگفتگو کریں گے ۔پہلے ہم دماغی موت سے قبل عضوعطیہ کرنے والے کی اجازت کی ضرورت کے بارے میں بات کریں گے پھر اجازت کی عدم ضرورت پر تزاحم کی صورت میں بحث کر یں گے ۔
١۔ اسلامی فقہ کی بدیہات میں سے ہے کہ انسان اپنے اعضا ء و جواح کو مشروع طورپراستعمال کرنے کاحق رکھتا ہے لیکن اپنے آپ کو نقصان اور ہلاکت میں ڈالنا جائز نہیں ہے اپنے آپ پر یہ تسلط انسان کے لیے ایک تحفہ الہیٰ ہے ،چنانچہ جدید اعتباری قوانین میں بیان ہو ا ہے کہ انسان اپنے آپ پر ذاتاً تسلط نہیں رکھتا ، اسی لیے یہ تسلط غیر محرمات الہیٰ کی حددو میں ہے لیکن محرمات الہیٰ کے میدان میں انسان نہ اپنے آپ پرتسلط رکھتا ہے نہ اپنے اعضا ء پر اس مشکل سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اس بیمار کے فائدہ کے لیے جس کے دونوں گردے فیل ہو چکے ہیں ، کسی صحت مند انسان کے دو میں سے ایک گردہ نکالنے کے لیے اس سے اجازت لی جائے ورنہ یہ عمل جائز نہیں ہے۔
٢۔ جس طرح انسان اپنی زندگی میں ان حددو کے اندر جہاں اللہ تعالیٰ نے منع نہیں فرمایا ،اپنے اعضا ء سے استفادہ کرنے کی اجازت دینے کا حق رکھتا ہے ،اسی طرح اُسی معیار اور بیان کی بنا پر اپنی موت یا دماغی موت کے بعد اپنےاعضاء کے استعمال اور تصرف کی اجازت دینے کامجاز ہے ،کیونکہ جو آج اپنے اعضاء میں تصر ف کی اجاز ت دینے کااختیار رکھتا ہے وہ کل بھی تصرف اور استعمال کرنے کی اجازت دینے کامالک ہے اور جو اپنی زندگی میں استعمال کی اجازت دے سکتا ہے وہ قاعدہ کے مطابق کل بھی استعمال کی اجازت دینے کا مجاز ہو گا ۔
جس طرح ایک انسان اپنے گھر کو تھوڑی مدت کے لیے کر ایہ پر دے سکتا ہے اسی طرح لمبے عرصے کے لیے جو اس کی زندگی پرمحیط ہو ، یہانتک کہ اس کی موت کے بعد تک کے عرصےکے لیے بھی کر ایہ پر دے سکتا ہے اور اس کا یوں کرایہ پر دینا صحیح ہے اس صورت میں اس کے ورثا خود اس گھر کے وراث تو بنیں گے لیکن اس کی منفعت کے نہیں ۔
اسی طرح یہ قاعدہ ان موارد میں بھی لاگو ہوگا جن میں انسان اپنی موت کے بعداپنے اموال میں تصرف اور استعمال کی اجازت دے اس فرق کے ساتھ کہ شارع نے اس اجا زت کی مشروعیت کو ایک تہا ئی اموال میں مقید کیا ہے۔
ایسی صورت میں اصول کے مطابق اگر انسان اپنی زندگی میں کسی چیز میں تصرف کرنے کا اختیار رکھتا ہے تو اپنی موت کے بعد بھی وہ تصرف کرنے کا مجاز ہے اس فرق کے ساتھ کہ انسان کا اپنی موت کےبعد اپنے ایک تہا ئی سے زیادہ اموال میں تصرف کا حق وارثوں کی اجازت اور رضا مندی پر موقوف ہے ،کیونکہ ہر وہ چیز جس پر انسان اپنی زندگی میں مکمل کنڑول رکھتا ہے اسی مکمل کنٹرول کی بنا پر وہ جب چاہے اسمیں تصرف کرنے کی اجازت دے سکتا ہے خواہ اپنی زندگی میں یا موت کے بعد ،مگر یہ کہ کوئی دلیل آکر اُسے منع کر دے یا اُسے خاص حد تک محدود کر دے جیساکہ وصیت میں ہے ۔
٣۔حق کی دو طرف ہیں :ایک حق دار یعنی انسان اور دوسری وہ چیز ہے جس سے حق نے تعلق لیا ہے یعنی متعلق حق ، جیسے زمین یا معدن میں حد بندی کرنے سے وجود میں آنے والا حق ،اور شریک کاحق اُس حصے میں جسے کسی اور (تیسرے شخص)نے خریدا ہے ،اسے حق شفعہ کہتے ہیں ۔
حق سے مراد طرف اول کا طرف دوم پر کنٹرول اور تسلط ہے ،کبھی دونوں طرفیں ایک ہوتی ہے فرق صرف مصنوعی ہوتا ہے یہ وہاں پر ہو تا ہےجہاں انسان اپنے آپ پرکوئی حق رکھتا ہو اور ان حقوق میں سے ایک انسان کا اپنے اعضاء و جوارح پر حق ہے اور ا س میں کو ئی شک نہیں کہ یہ انسان کے حقوق میں سے ہے۔
٤۔جیسا کہ کہا گیا ہے حق وہ کنٹرول اور تسلط ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کیا ہے پس یہ کنڑول اور تسلط مقرر کرنے کے لحاظ سے حکم ہے اور قرار دیے جانے کے لحاظ سے حق ہے ۔
٥۔حق ملکیت کی طرح ہے اور دونوں انسان کو متعلقہ چیزوں پر تسلط اور کنٹرول عطا کر تے ہیں ،اس فرق کے ساتھ کہ انسان کا اپنی ملکیت پر تسلط تمام قسم کے مشروع مالی تصرفات کوشامل ہے ،جب انسان کسی چیز کا مالک بن جاتا ہے تو وہ اس کی خرید و فروخت اُسے ہبہ کرنے، مصالحت کرنے، عاریتاً دینے ،رو گردانی کرنے اور اُسے کرایہ پر دینے کا بھی مالک بن جا تا ہے ۔
لیکن حق وہ تسلط اور کنٹرول ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے قرار دیا ہے ،جو تصرف کے خاص انداز میں منحصر ہے بنا برایں اگر کسی کو حق خیار حاصل ہے تو وہ صرف معاملہ کو فسخ کر سکتا ہے،شفیع جسے حق شفعہ حاصل ہے وہ صرف مال کے اس حصے کو خرید سکتا ہے جو اس کے حصہ دار نے گا ہک کو فروخت کیا ہے ،لیکن دیگر قسم کے مالی تصرفات کا وہ حق نہیں رکھتا ۔
مرتھن (جس کے پاس چیز گروی ہے )صرف یہ حق رکھتا ہے کہ اگر مقروض قرض دینے سے امتناع کر ئے تو اس صورت میں اپنے حق کو گروی چیز سے اخذ کر ے لیکن اس کے علاوہ اُسے کو ئی اور حق حاصل نہیں ہے ۔
٦۔حق کی چند اقسام ہیں:۔
الف:حق ،جسے معاف کیا جا سکتا ہے
ب:حق جو عوض اور بغیر عوض کے قابل انتقال ہے
ج:حق،جو ہر صورت میں یعنی جبرا ً اور وراثت کے ذریعے منتقل ہو جا تا ہے
د:حق،جس میں مذکورہ تمام خصوصیات پا ئی جائیں جیسے غیر آباد زمین کی حد بندی کر نے کا حق ،کیونکہ اس سے صرف نظر کر کے اس حق کو چھوڑاجا سکتا ہے،حقدار اسے کسی چیز کے عوض یا بغیر عوض کے ،کسی اور کومنتقل کر سکتا ہے ،اسی طرح اس کی موت کی صورت میں یہ حق خواہ نا خواہ وراثت کے ذریعے اس کے وراثوں میں منتقل ہو جا ئے گا ۔
ھ۔حق ، جسے صرف معاف یا چھوڑا جا سکتا ہے،اختیاری طورپر یاجبری طور پروراثت کے ذریعے منتقل نہیں کیا جا سکتا مثلاً غیبت کا حق،جو معاف کرنے سے ختم ہو جاتا ہے اور مرنے سے حقدارکے وارثوں میں منتقل نہیں ہو تا
و۔حق، جو عوض یا بغیر عوض کے تو قابل انتقال ہے لیکن میراث کے ذریعے جبری طو رپر قابل نقل و انتقال نہیں ہے مثلاً شوہر کے خلاف عورت کا قسم کھانے کا حق ،کیونکہ یہ حق عورت کی طرف سے ھوو کو عوض یا بغیر عوض کے قابل انتقال ہے لیکن اگر ھوو عورت کا وراث ہو تو اس صورت میں یہ حق اس کی طرف منتقل نہیں ہو گا ۔
ز۔حق،جوموت کی صورت میں جبراً قابل انتقال ہے لیکن اختیاراً قابل انتقال نہیں مثلاً حق خیار اور حق شفعہ ،یہ دونوں حق انسان کے مرنے کی صورت میں خواہ نا خواہ حقدار کے وارثوں میں منتقل ہوجائیں گے لیکن انہیں عوض یا بغیر عوض کے کسی اور کی طرف منتقل کرنا ممکن نہیں ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر یہ انتقال ،حصہ دا ر کے حصے کے دوسرے شخص کی طرف انتقال کی وجہ سے ہو تو پھر اس حق میں ،شفعہ کلی طور پر ختم ہو جائے گا کیونکہ اس کاموضوع یعنی شراکت ہی باقی نہیں رہی ،اور اگر انتقال اس معنی میں ہو کہ حقہ دار اپنے شفعہ کو کسی اور شخص کے سپر د کر دے تو اس صورت میں یہ حصہ دار کا حق شفعہ کے حصول میں وکیل کر نا ہے نہ کر حق شفعہ کو منتقل کرنا ۔
اسی طرح حق خیار (معاملے کو ختم کرنے کا حق )بھی کسی اور کو منتقل نہیں کیا جا سکتا ،اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر اس انتقال کا سبب یہ ہو کہ وہ چیز ہی خریدار سے کسی دوسرے شخص کی طرف منتقل ہو چکی ہو ،تو اس صورت میں حق ہی ختم ہو جا ئے کیونکہ خودوہ چیز دوسرے کی ملکیت بن گئی ہے اور اصل چیز کے منتقل ہو نے سے اب غیر شخص کو حق خیار حاصل نہ ہو گا ،اور اگر منتقل ہو نے کا مطلب یہ ہے کہ صاحب حق نے اپنے حق خیار کو کسی اور کے حوالے کر دیا ہے تا کہ وہ خیار کو عملی جامعہ پہنائے تو ہم کہیں گے کہ یہ تو وکیل کرنے کا مسئلہ ہے نہ کہ حق خیار کے منتقل کرنے کا ۔
ح۔ وہ حق جو مذکورہ با لا موارد میں سے کسی سے بھی نہیں ہے اس لیے اس سے دست بردار ہو نا ممکن نہیں ہے اور اُسے عوض کے بدلے یا بغیر عوض کے منتقل نہیں کیا جا سکتا ،موت کی صورت میں وہ جبری طور پر وراثوں کی طرف منتقل بھی نہیں ہو تا ،جیسے باپ کا حق ،اور حاکم کی ولا یت کا حق اور اسی طرح کے دیگر حقوق جن سے دستبردار نہیں ہوا جا سکتا اور دوسرے کو بھی منتقل نہیں کیا جاسکتا اور موت کی صورت میں باپ یا حاکم کے ورثا ء کی طرف بھی منتقل نہیں ہو تے ۔
اس قسم کے حقوق کو فقہا نے ''احکام '' کا نام دیا ہے ،اور حقوق اور احکام کے درمیان یہ فرق قائم کیا ہے کہ حکم کے بر خلاف حق سے دستبرادری ہوسکتی ہے ،یہ فقہا ء کی اصطلاح ہے اور اس اصطلاح میں جھگڑا یا بحث کرنا بے سو د ہے ۔
٧۔ یوں سمجھ میں آتا ہے کہ آدمی کا اپنے غیر پر ہر قسم کے قبضے اور تسلط یہا نتک کہ اپنے اعضاء پر تسلط پر حق کا اطلاق ہو تا ہے ،طبق قاعدہ اس قبضے اور تسلط سے صاحب حق کی دستبرداری اور اسے دوسرے کی طرف منتقل کیا جا سکتا ہے ۔
جیسا کہ مشہور حدیث نبویﷺ
''ماتر ک المیت من حق فھو لوارثہ''[6]کی رو سے یہ ہے کہ حقدار کے مرنے سے یہ حق اس کے وراثوں میں منتقل ہو جا ئے گا لیکن دلیل (شرعی )دلالت کرتی ہے کہ ان تین چیزوں (دستبردار ہونا ،منتقل کرنا،منتقل ہو نا )میں سے ہر ایک یا سب کی سب منتفی ہیں ، پس یہ کو ئی واجب حق ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے کو ئی مباح چیز نہیں ہے ،بنا برایں صاحب حق کسی صورت میں بھی اس حق کو ختم یا لغو یا منتقل نہیں کر سکتا ،جیسے باپ کا حق اور حکومت کرنے کا حق جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے واجب ہیں،پس باپ اپنے اس حق کولغو نہیں کر سکتا اور اپنے بیٹے سے اس ذمہ داری کو نہیں ہٹا سکتا ،اسی طرح حاکم بھی اپنے حق حاکمیت سے دستبردار ہو کر رعیت سے اس ذمہ داری کو ختم نہیں کر سکتا ۔
کبھی یہ حق اللہ تعالیٰ کی جانب سے جواز اور رخصت کی صورت میں ہو تا ہے نہ کہ ضروری اورواجب ،جیسے حق غیبت ، جسے غیبت کا شکار ہونے والا چاہے تو غیبت کرنے والے کو معاف کر دے اور اس سے یہ بوجھ اٹھالے اسی طرح حق تحجیر ہے کہ یہ حق رکھنے والا اسے ختم اور نظرانداز کر سکتا ہے۔
پہلی قسم کے حقوق (یعنی واجب )سے نہ تو دستبردار ہو جا سکتا ہے اور نہ ہی انہیں نقل وانتقال کیا جا سکتا ہے جب کہ دوسری قسم کے حقوق دلیل شرعی کے حساب سے تینوں باتوں (دستبرداری ،نقل ،انتقال)کو قبول کرتے ہیں ،بعض حقوق مثلا ً حق خیار اور حق شفعہ وغیرہ صرف جبری طور پر منتقل ہو سکتے ہیں ،جیسا کہ پہلے ہم نے اس کی وجہ واضح طور پر بیان کی ہے ۔
اس بنا پر،جو حقوق میں قاعدے کی رو سے دستبرداری اور نقل و انتقال ہو سکتا ہے مگر یہ کہ اس کے بر خلاف ہمارے پاس کو ئی دلیل موجود ہو ۔
٨۔انسان کا اپنے اعضاء پر حق ،شرعی حقوق میں سے ثابت ہے ،اب دیکھنا یہ ہے کہ مذکورہ تین امور (دستبردار ہونا،منتقل کرنا اور انتقال )اس حق پر لا گو ہو تے ہیں یا نہیں؟
صاحب حق کی طرف سے اس حق سے دستبردار ہو نے کی کو ئی معقول وجہ ہمیں سمجھ میں نہیں آتی البتہ یہ ممکن ہے کہ انسان خود اجازت دے کہ اس کا عضو مثلا ًگردہ کا ٹ کر ضرورت مند مریض کے جسم میں لگا دیاجا ئے ،چنانچہ انسان بعض میڈیکل کے اداروں کو اجازت دے سکتا ہے کہ وہ اس کی دماغی موت کے بعد اس کے بعض اعضاء کو ایسے مریض کے جسم میں پیو ند کاری کے لیے کا ٹ سکتے ہیں جس کی جان بچانا شرعی لحاظ سے واجب ہو ،یہ پیو ند کاری قیمت کے بغیر اور قیمت کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے اور چونکہ یہ آخری اجازت ،وصیت کے طور پر ہے اس لیے اس کے تمام حقوق اور اموال کے ایک تہائی سے زیادہ پر لا گو نہیں ہے اور یہ قاعدہ کے عین مطابق ہے۔
ہمارے سامنے اس قاعدہ پر عمل درآمد کے لیے کو ئی مانع اور مشکل نہیں ہے اسی لیے فقہا ء نے اس مریض کے لیے جس کی جان بچانا واجب ہے ،دو گردوں میں ایک گردہ نکالنا ،جایز قرار دیا ہے بشرطیکہ گردے والا اس کی اجازت دے ،اسی معیار اور اصول کے بل بوتے پر انسان اپنی دماغی موت کے بعد ایسے مریض کے لیے جس کی جان بچانا واجب ہے اپنے بنیادی اعضاء مثلا ً دل جگر وغیرہ کو انہی حدود وقیود کے ساتھ اجازت دے سکتا ہے جن کی پہلے وضاحت کی گئی ہے ۔
اس کی مو ت کے بعدیہ حق اس کے وارثوں میں منتقل ہو جا ئے گا اس کی دلیل رسول اکرم ﷺ
کا یہ فرمان ہے
''ماترک المیت من حق فلوارثہ''[7]
پس دماغی موت کے حامل شخص کے اعضا ء کو ایسے مریض کے لیے استعمال کرنے کے لیے،جس کی جان بچانا واجب ہے ،اس کے ورثاء سے اجازت لینا واجب ہے خواہ یہ استعمال قیمت کے بغیر ہو یا اس کی قیمت لی جائے ۔

٩۔دوسرے نکتہ یعنی تزاحم کی صورت میں اجازت کی ضرورت ہو نے یا نہ ہو نے کے بارے میں ہمیں یہ کہنا چاہیے کہ تزاحم اس نہی کو برطرف کر دیتا ہے جو اپنے آپ کو نقصان پہنچانے یا ہلاکت میں ڈالنے کی حرمت کے متعلق آئی ہے ۔ لیکن زندہ انسان کا اجازت دینا کہ اس کے مرنے یا دماغی موت کے بعد اس کے اعضاء کو استعمال کیا جائے یا اس کے مرنے کے بعدیا دماغی موت کے بعد اس کے ورثا ء کی اجازت دینے میں کو ئی رکاوٹ نہیں ہے اور اس کا کسی کے ساتھ کوئی مزاحم نہیں ہے اسی وجہ سے دونوں گردے فیل ہو نے والے مریض کو گردہ دینے کے لیے گردہ دینے والے شخص سے اجازت لینا ضروری ہے کیونکہ دونوں مسئلوں کا تعلق ایک ہی باب سے ہے اور وہ یہ ہے ۔
اپنے آپ کو ضرر پہنچانے کی حرمت اور دونوں گردے فیل ہو نے والے مریض کی جان بچانے کے واجب ہونے کے درمیان تصادم ہے ،اور جان بچانے کے واجب ہو نے کے حکم کو اپنے آپ کو ضرر پہنچانے کی حرمت کے حکم پر ترجیح دی جا ئے گی اور اس تزاحم سے اپنے کو ضرر پہنچانے سے نہی ختم ہو جا ئے گی ۔
اس کے با وجود کسی فقیہہ نے اس بارے میں اجا زت کے لا زمی نہ ہو نے کا فتویٰ نہیں دیا، زیربحث مسئلہ بھی اسی طرح کا ہے ،ہاں اگر دماغی موت کے مریض نے وصیت نہ کی ہو اور اس کے وراث بھی اجا زت نہ دیں اور ادھر اس کا دِل نکالنا انتہائی ضروری ہو تو اب اس کا حق ساقط ہو جا ئے گا اور اسلامی حاکم کی اجا زت کافی ہو گی ۔



[1] - سور ہ بقرہ ،آیت195

[2] - پہلے والی دلیل پر یوں اعتراض کیا گیا ہے:اہم پر اہم تر کو ترجیح دینے کے اصول کی بنیاد پر بیمار کی جان بچانے کے وجوب کو دماغی موت کے شخص کو اس کے زندہ ہونے کی صورت میں اس کی ہلاکت کی حرمت پر ترجیح دینا بہت مشکل ہے ، کیونکہ دماغی موت کامریض کسی ایسی چیز کی وجہ سے جس کا دوسرے شخص کی بیماری سے کو ئی تعلق نہیں ہے ،مرنے کے قریب پہنچ جاتا ہے تو اس کے بچانے اور دوسرے مریض کی جان بچانے میں تزاحم ایجاد ہو جا تا ہے (بالکل اس طرح جیسے دو شخص غرق ہو رہے ہوں ایک دماغی موت کا مریض ہو اور دوسرا ایسا نہ ہو )یہاں پر بلاشک و شبہہ غیر مریض کی جان بچانا مریض کی جان بچانے سے افضل ہے کیونکہ مذکورہ صورت میں طبیعی طور پر دونوں ہلاکت کے قریب ہیں اور مکلف ان میں سے صرف ایک کو بچا سکتا ہے ،چنانچہ اگر ان میں سے کسی ایک کو قتل کرنے پرمجبور ہو ،بلا شک دماغی موت کے مریض کو قتل کرنا زیادہ بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی غیر مریض کے قتل کرنے سے کمتر ہے ،لیکن اگر دوسرا شخص دل یا جگر کی بیماری کی وجہ سے مو ت کے دہانے پر ہو
اور دماغی موت کامریض موت کے قریب نہ ہو تو اس صورت میں جان بچانے کے واجب حکم کی اطاعت اور قتل کی حرمت کے حکم کی اطاعت کے درمیان تزاحم پیدا ہو جاتا ہے اور یہ ایک کو بچانے کے وجوب اور دوسرے کی نجات کے وجوب کے درمیان تزاحم کی قطعاً صورت نہیں ہے (جیسا کہ پہلی صورت میں تھا )اسی طرح ایک کے قتل کی حرمت اور دوسرے کے قتل کی حرمت میں بھی تصادم نہیں ہے (جیسا کہ دوسری صورت میں تھا )یہاں پرجان بچانے پرقتل کو ترجیح دینا (اس بہانے سے کہ دماغی موت کا مریض مردہ تصور نہ ہو )واضح نہیں ہے کیونکہ مومن کے قتل کی حرمت اور مومن کو بچانے کا وجوب معیار اورمصلحت کے لحاظ سے مساوی نہیں ہیں ،اور پہلے کا دماغی موت میں مبتلا ہو نا مرجح نہیں ہے ،اسی لیے مشاہدہ میں آیا ہے کہ اگر مکلف کو کسی وجہ سے مجبوراً صحیح و سالم مومن کو قتل کرنا پڑے یا ایک غرق اور ہلاک ہو نے والے مومن کونہ بچا سکے تو بلاشک و شبہہ جان نہ بچانا ،قتل کرنے پر اولویت رکھتا ہے جان نہ بچانا معیار اورمصلحت کے اعتبار سے او ر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے لحاظ سے قتل کرنے کے مترادف اور مساوی نہیں ہے ۔تا انیکہ دماغی موت میں مبتلا ہو نا اس کے لیے دوسرے کی نسبت مرجح بن جا ئے ۔
یا دوسرے انہیں قتل کر دیتے ہیں یہاں پرمطلوب بھی یہی ہو تا ہے کیونکہ ایک مسلمان کو مو ت کے منہ سے بچا لینا اور اس کی زندگی لوٹا دینا تاکہ وہ خوش وخرم اپنی طبیعی زندگی گزارے ،اس بیمار کو قتل کر نے سے کئی درجے زیادہ اہم ہے،جس کادماغ مکمل طور پر مر چکا ہے اور اس کی زندگی کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں ،بلکہ اب وہ ایک کونے میں پڑا ہو گوشت کا لو تھڑا ہے جو سانس لے رہا ہے اور اس کا دل دھڑک رہا ہے جب کہ اس میں کو ئی احساس ،جذبہ اور حرکت نہیں پائی جاتی اور دوبارہ زندگی لوٹنے کی امید بھی نہیں ہے،اگر یہاں پر شارع کیطرف سے ایک پر دوسرے کو ترجیح دینے کا حکم نہ ہو تو ایسی صورت میںعقلا ء کے نزدیک راحج ،مرجح بن جا ئے گا ،اور ہمارے نظریے کے مطابق مذکورہ صورت میں عقلا حرمتِ قتل پر جان بچانے کے وجو ب کو ترجیح دیں گے ۔

[3] - بعض افرا د نے کہا ہے کہ اگر شبہہ مفہومیہ ہو (اس طرح کہ موت کامفہوم دماغی موت اور حرکت قلب کے درمیا ن متردد ہو)تو حیات کا استصحاب جاری کر نا ممکن نہیں ہے ،کیونکہ حیات بھی دو مفہوموں کے درمیان متردد ہے،ایک دماغی موت کا نہ ہونا اور دوسرا حرکت قلب کابند نہ ہونا ،پہلا قطعاً زائل ہو گیا ہے اور دوسرا قطعی طورپر باقی ہے لہذا استصحاب معقول نہیں

[4] - وسائل الشیعہ ،ج٢،ص٦٧٦،باب ٤٨از ابواب الاحتضار ،ح1

[5] - وسائل الشیعہ ،ص٦٧٧،ح4

[6] - جو حق میت چھوڑ جائے وہ اس کے وراثوں کا ہے (مترجم)

[7] - صحیح مسلم ،ج ٥،ص63