سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/11/16 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

11- زہد نہج البلاغہ کی نظرمیں :محمدکاظم روحانی

زہد نہج البلاغہ کی نظرمیں

تحریر:محمدکاظم روحانی

مقدمہ: نہج البلاغہ کے موضوعات  متنوع ہیں کہ جس میں تقوا، زہد ،توکل ،صبر،خواہشات نفس، طویل امیدیں،ظلم اورطبقاتی نظام سے کنارہ کشی ، احسان ،محبت ،مظلوم اورغریبوں کی حمایت ،استقامت ، طاقت ،شجاعت ، اتحاد واتفاق، اورترک اختلاف کی ترغیب دی گئی ہے اسی طرح تاریخ سے عبرت حاصل کرنا ، تفکروتذکراورمحاسبہ ومراقبہ کی طرف دعوت ،تیزی سے عمرگزرنے کویادکرنااورسکرات موت کے بعدکی سختیاں عالم برزخ کے حالات اورقیامت کے ہولناک دن کی یادہانی کی گئی ہے یہ وہ عناصر ہیں کہ جن کی طرف نہج البلاغہ میں توجہ دی گئی ہے۔مواعظ کے عناصر میں سب سے زیادہ تکرار تقواکی ہوئی ہے تقوا کے بعددوسراعنصرزہدہے کہ جس کی تکرارزیادہ ہوئی ہے زہد ترک دنیاکامترادف ہے اس بات کو مدنظررکھتے ہوئے کہ نہج البلاغہ کی تعبیروں میں زہد اورترک دنیا ایک دوسرے کے مترادف ہیں اسی موضوع پر نہج البلاغہ میں دوسرے تمام موضوعات سے زیادہ بحث ہوئی ہیں نہج البلاغہ میں تقواکے بعد جتنی اہمیت زہد کو دی گئی ہےکسی دوسرے موضوع کو اہمیت نہیں دی گئی ہے زہد کی اس اہمیت کوپیش نظر رکھتے ہوئے ہم بھی اپنی بحث کاآغاز کلمہ زہد سے ہی کرتے ہیں۔

زہد کی تعریف:

فارسی میں زہد کے معنی خواہش نہ رکھنے اوربے رغبتی یارغبت کی نفی کے ہیں دوسرے الفاظ میں کسی چیز کو اہمیت نہ دینا،یا کسی چیز کی طرف میل نہ رکھنازہدکہلاتاہے، حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی ان کی نسبت زاہد تھے یعنی راغب نہیں تھے اورانہوں نے جناب یوسف علیہ السلام کو سترہ درہم کے بدلے بھیج ڈالا۔" وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُودَةٍ وَكَانُواْ فِيهِ مِنَ الزَّاهِدِينَ"[1]اور ان لوگوں نے یوسف کو معمولی قیمت پر بھیج ڈالاچند درہم کے عوض اوروہ لوگ تو ان سے بیزار تھے۔

"زھد فی الدنیا"بھی اسی کی مانند ہے ۔یعنی اس نے دنیوی خواہشات کوترک کرکے خود کوعبادت کے لئے فارغ کرلیا انسان فطرتاً زہد کی طرف میلان کی وجہ سے جب وہ دیکھتاہے کہ یہ فطرت اندورونی طور پر کمزور وناتوان ہوئی ہے اورنفس نے اپنا غلام بنالیاہے۔تووہ اس غلامی کے مقابلے میں سرکشی کرتاہے۔اس سرکشی کانام زہد ہے عدم میلان یاعدم رغبت کی دوقسمیں ہیں۔۱۔عدم میلان طبیعی ۲۔عدم میلان عقلی

طبیعی عدم میلان:

طبیعی عدم میلان یہ ہے کہ انسان کی طبیعت کسی خا ص چیز کی طرف مائل نہ ہو جیسے بیمارانسان کی طبیعت ،کھاناپھل فروٹ اورتمام کھانے پینے والی چیزوں کی طرف مائل نہیں ہوتی ہے اس قسم کی بےرغبتی اورعدم میلان کااصطلاحی زہد سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

روحی یاعقلی بے رغبتی :

روحی یا عقلی رغبت یہ ہے کہ وہ چیز یں جوطبیعت کی رغبت کامرکز بنی ہوئی ہے وہ انسان کےراہ سعادت وکمال میں درکار چیزوں میں سےنہ ہوں جوکہ عبارت ہیں یا اخلاقی فضائل سے جیسے: عزت، شرافت ،کرامت آزادی وغیرہ یامعنوی معارف سے خداکاذکر،خداکی محبت، ذات اقدس الٰہی سے قربت وغیرہ پس زاہد وہ شخص ہے جس کی توجہ مادی دنیا سے کمال مطلوب اوربلند ترین آرذو سے گزرکر فضائل اخلاقی اورمعنوی معارف  کی طرف معطوف ہوگئی ہو۔

نہج البلاغہ میں دوجگہ زہد کی تعریف بیان ہوئی ہے دونوں تعریفوں سے وہی معنی سمجھ میں آتےہیں جن کی طرف ہم اشارہ کرچکے ہیں حضرت علی علیہ السلام ارشادفرماتے ہیں ۔"ایھاالناس ،الزھادۃ قصرالامل ،والشکر عندالمنعم والتورع عندالمحارم"[2] اے لوگوزہد امیدوں کے کم کرنے نعمتوں کاشکریہ اداکرنے اورمحرمات سے پرہیز کرنے کانام ہے۔

حضرت دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں"الزھدکلہ بین کلمتین من القرآن :قال اللہ سبحانہ لکیلاتاسواعلیٰ مافاتکم ولاتفرحوبماآتاکم ومن لم یاس علی الماضی ولم یفرح بالآتی فقد اخذالزھدبطرفیہ "[3] تمام زہد قرآن مجید کے دوفقروں کے اندر سمیٹاہواہے جوچیز ہاتھ سے نکل جائے اس کاافسوس نہ کرو اورجومل جائے اس پر مغرورنہ ہو جاولہذاجوشخص ماضی پر افسوس نہ کرے اورآنے والے سے مغرورنہ ہوجائے اس نے سارازہد سمیٹ لیاہے۔

دنیامیں زہد اختیارکرنے والے بہشت میں بلاروک ٹوک اوربغیرسوال وجواب کے داخل ہوجائیں گےلہذا کچھ ہاتھ سے نکل جائے اس پر افسوس مت کرواورجوکچھ مل جائے اس پرمغرورمت ہوجاو،خوش نصیبی ان کے لئے ہیں کہ جنہوں نے دنیا میں زہد اختیار کیااور ہمہ تن آخرت کی طرف متوجہ رہے دنیا کوہدف اورمقصدنہیں بنایااوراسے صرف آخرت کے لئےوسیلہ کے طور پر استعمال کیااس کی نعمتوں میں اتناہی لیاجتناآخرت کے کام آنے والے تھے اورباقی کو اس کے اہل کے لئے چھوڑدیاانسان کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ مادی وفانی دنیا ہے اوراس کی یہ رنگینیاں کسی اہمیت کے حامل نہیں اگرآپ عاقل ہوگئے توزاہد بھی ہو جائیں گے زاہد کایہ مطلب نہیں کہ بالکل دنیاکو ترک کردی جائے بلکہ عقلی تقاضوں کےتحت زندگی کواعتدال کیساتھ بسرکرنے کانام زہد ہے دنیا کوسب کچھ سمجھ لینا اوراسی پرتکیہ کرلینا بے اعتدالی ہے آپ اورمیراہدف فقط دنیانہ ہو ۔

مولاعلی علیہ السلام دنیا کی صفات کوبیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔"مااصف من داراولھاعناء وآخرھافناء فی حلالھاحساب وفی حرامھاعقاب من استغنی فیھافتن ومن افتقرفیھاحزن"[4] حضرت فرماتے ہیں میں اس دنیاکے بارے میں کیاکہوں جس کی ابتداء رنج وغم اورانتہا فنا ونیستی ہے اس کے حلال میں حساب ہے اورحرام میں عقاب ہےجواس میں غنی ہوجائے وہ آزمائشوں میں مبتلاہوجائے۔

اسی طرح حضرت ایک اورجگہ فرماتے ہیں ۔دنیاکے حالات دیکھنے کے باوجوداس کی طرف میلان اوررجحان صرف جہالت ہے اسی حضرت تاکید کرتے ہوئےفرماتے ہیں ۔"ازھد فی الدنیا یبصرک اللہ عوراتھا"[5] دنیا میں زہد اختیاکروتاکہ خداوندمتعال تمہیں اس کی برائیوں سے آگاہ کرے ۔پس مولاعلی علیہ السلام کے اس حکیمانہ فرمان سے حقیقت زہد واضح ہوجاتی ہے۔

 ایک جگہ حضرت علی علیہ السلام  اس مطلب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں " دنیا اورآخرت کی اپنی اولادیں ہیں لہذاتم آخرت کے فرزندوں میں شامل ہو جاو اورخبردارفرزندان دنیا میں نہ ہونا اس لئے کہ عنقریب ہرفرزند کواس کی ماں کے ساتھ ملادیاجائے گا آج صرف عمل کی منزل  ہے اورکوئی حساب نہیں ہےاورکل حساب ہی حساب ہے عمل کی کوئی گنجائش نہیں ہے"[6]

وہاں ہرشخص کواس کی ماں کے نام سےپکارا جائے گا کہ ماں ہی ایک ثابت حقیقت ہے دنیامیں جتنی مدت رہوزاہدانہ زندگی بسر کرو دنیادرحقیقت کوئی بری چیز نہیں ہے بلکہ اس سے زیادہ محبت کرنادنیا کی اولاد میں شامل ہونا دنیاکوسب کچھ جاننابرا ہے زہداعتدال کے ساتھ زندگی کو آگے بڑھانے کانام ہے ۔

زمانہ کے ساتھ چلناضروری ہے:

جب امام جعفرصادق علیہ السلام کے نئے لباس پہننے پرکسی نے اعتراض کیا کہ یہ آپ کے آباءو اجدادکی روش کے خلاف ہے ؟ تو آپ نے جواب دیا کہ میرے آباء اجداد کازمانہ مفلسی کازمانہ تھا لوگ  ایک وقت کی روٹی کو ترستے تھے قحط پڑاہوا تھااب صورتحال یکسربدل چکی ہے۔اگرمیں اس دورمیں اپنے جدامجدعلی علیہ السلام کی طرح کالباس زیب تن کروں تولوگ میرامذاق اڑائیں گے لہذا ضروری ہے کہ زمانہ کے مطابق قدرے بہتر لباس پہنوں آپ نے اعتراض کرنے والے سے فرمایا میرے قریب آو پھرامام علیہ السلام نے اس نئے کپڑے کے نیچے پہنے ہوئے پرانا لباس اس کودکھایاپیوند لگا لباس پہنے ہوئے تھے امام  علیہ السلام نے فرمایا نیچے والالباس خداکے حضورانکساری کی علامت ہے اوراوپر والاتیرے اورتیری طرح کے لوگوں کے لئے ہے معلوم ہواکہ زمانہ کے ساتھ چلنابھی ضروری ہے۔[7]

اسلامی زہد اورمسیحی رہبانیت:

نہج البلاغہ میں زہد کی تعریف وتفسیر سے جوچیز سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ زہدایک روحانی حالت کانام ہے زہد کاتعلق روح سے ہے زاہد مادی زندگی سے اس لئے بے اعتناہے کہ وہ معنوی اوراخروی چیزوں سے وابستگی رکھتاہے اوراس بے اعتنائی اوربے توجہی کاتعلق صرف ذہن ،فکرواحساس اورقلبی لگاو سےنہیں ہے اوراس کاسلسہ ضمیر ہی پرختم نہیں ہوتا بلکہ زاہد اپنی عملی زندگی میں سادگی اورقناعت کواپناتاہے ۔ دنیاکے بہترین زاہدوہ شخص ہےکہ جس نے مادیات سے کم سے کم فائدہ اٹھایاہے ۔حضرت علی علیہ السلام صرف اس جہت سے زاہدنہیں کہ انہوں نے دنیا سے دل نہیں لگایا بلکہ عملاً بھی دنیوی خواہشات ولذتوں سے خود کوہمیشہ دوررکھا۔

یہاں قارئین کے ذہنوں میں یہ سوال ضرور پیداہوتا ہے کہ سبھی لوگ جانتے ہیں کہ اسلام نے رہبانیت اورزاہدانہ زندگی کی مخالفت کی ہے اوراس کو راہبوں کی بدعت میں شمار کیاہے ۔ " ثم قفینا۔۔۔۔ ورھبانیۃ ابتدعوھا "[8] رہبانیت تو انہوں نے خود ہی ایجاد کر لی تھی۔ ہم نے ان پر اسے واجب نہ کیا تھا۔ انہوں نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے (اسے ایجاد تو کرلیا ) مگر اس کی رعایت نہ رکھ سکے۔ اسی طرح پیغمبراکرمﷺ نے صاف صاف فرمایا۔" لارھبانیۃ فی الاسلام"[9]  اسلام میں رھبانیت نہیں ہے۔

حقیقیت یہ ہے کہ اسلامی زہد کچھ اورہے اورمسیحی رہبانیت کچھ اورہے ۔رہبانیت: معاشرہ سے کٹ جاناکنارہ کشی اختیارکرنا اورصرف عبادت میں مشغول ہونا ہےاس طرز فکر کی بنیاد پردنیا وآخرت کےراستے ایک دوسرے سے جدا ہیں دونوں میں سے کسی ایک کاانتخاب کرناچاہیے یاتو عبادت وریاضت میں مشغول ہوجاناچاہیے تاکہ کل آخرت میں کام آئے یاپھر معیشت وزندگی کواپنائے جو اسی دنیا میں کام آئے۔جب کہ اسلام میں زہد کافلسفہ وہ چیز نہیں جس سے رہبانیت وجودمیں آتی ہےاسلام میں دنیاا ورآخرت  ایک دوسرے سے جدانہیں ہیں۔

رسول خداﷺ کا زہدعلی علیہ السلام کی زبان سے :

 حضرت علی علیہ السلام زہد رسول اکرم ﷺ کےزہدکوبیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔اے رسول اکرم ﷺ آپ نےاس دنیا کو صغیروحقیر اورذلیل وپست تصورکیا اوریہ سمجھا ہے کہ پردگار نے اس دنیا کو آپ سے الگ رکھا ہے اوردوسروں کے لئے قراردی ہے تویہ آپ کی عزت اوردنیا کی حقارت ہی کی بنیادپر ہے لہذا ٓپ نے اس سے دل سے کنارہ کشی اختیار کیااوراس کی یاد کودل سے نکال دیا ۔

آپ نے پیغام پروردگار کوپہنچانے میں سارے عذر تمام کردیئے اورامت کوعذاب الٰہی سے ڈراتے ہوئے نصیحت فرمائی جنت کی بشارت سناکر اس کی طرف دعوت دی اورجہنم سے بچنے کی تلقین کرکے اس کا خوف پیداکردیا۔

 

 



[1] ۔ یوسف ۲۰

[2] ۔نہج البلاغہ خطبہ ۸۱

[3] ۔ نہج البلاغہ حکمت ۴۳۹

[4] ۔نہج البلاغہ خطبہ ۸۲

[5] ۔ نہج البلاغہ حکمت ۳۹۱

[6] ۔ نہج البلاغہ خطبہ ۴۲

[7] ۔ اصول کافی باب اللباس

[8] ۔ سورہ حدید آیہ ۲۷

[9] ۔بحارالانوارج ۱۵ باب نہی عن الرھبانیہ