سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/11/16 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

12- آپ کے سوالات اور آیت الله عادل علوی کے جوابات : مصطفی فخری

آپ کے سوالات اور آیت الله عادل علوی کے جوابات

ترجمه : مصطفی  فخری

سوال 1: اگر مسلمانوں کے بازار میں موجود اکثر چیزیں یورپی ممالک سے لائی گئی هو یا ایسے اسلامی ممالک سے لائی گئی هوں جو ذبح کے مساله میں شرعی حدود اور احکام کی رعایت نهیں کرتے هیں تو کیا اس بازار میں موجود گوشت میں  بھی سوق مسلمین ( مسلمانوں کے بازار ) کا حکم جاری هوگا ؟

جواب 1: سوق مسلمین ( مسلمانوں کے بازار ) کا قاعده مشکوک گوشت کے حلال هونے میں بھی جاری هو گا ( یعنی جب تک آپ کو اس گوشت کے حرام هونے پر یقین نه هو حلال هو گا).

سوال2: السلام علیکم . سوره بقره کی آیت نمبر 217 یسئلونک عن الشهر الحرام ... کے بارے میں ایک سوال تھا وه یه که اگر اس سے مراد واقعه کربلا  نهیں هے تو کونسی جنگ مراد هے ؟ مهربانی کر کے اچھی طرح جواب دیں چونکه یه حضرت امام حسین علیه السلام کی نصرت هے الله آپ کو جزائے خیر دے.

جواب 2: بیشک قرآن کیلئے ا یک ظاهر هے اور ایک باطن هے ظاهر کو بیان کرن والی چیز کو تفسیر اور باطن کو بیان کرنے والی چیز کو تاویل کهتے هیں تو آیت کی تفسیر رسول اعظم ، آپ کی قوم اور اصحاب هیے اور  حرمت والی مهینوں میں جنگ کرنے کے بارے سوال اور اس کا جواب هے آیت کی تا ویل واقعه طف (کربلا )سے مربوط هے لیکن یه  مطلب  راسخون فی العلم کی زبانی ثابت هونا چاهئے جو که محمد وآل محمد علیهم السلام هیں اگر حضور پاک یا آئمه اطهار کی حدیثوں میں یه موجود هے تو هم قبول کرلیں گے وگرنه نهیں ،الله تعالی حقایق امور کے جاننے والا هے . 

سوال 3: کیا قران کریم میں تحریف هوا هے؟ سات قرائتوں کی تفسیر اور ان میں اختلاف کی وجه کیا هے؟

جواب 3: قرآن کریم کو الله تعالی نے تحریف سے بچایا هے لیکن قرائتوں میں اختلاف عرب کے لهجوں میں فرق کی وجه سے هے کبھی حجاز کے لهجے میں پڑھا جاتا هے اور کبھی یمنی لهجے میں اس طرح دوسرے لهجوں میں پڑھا جاتا هے لهذا یه قرآن میں تحریف  نهیں هے میں نے اپنی کتاب   (کیف تكون مفسرا للقرآن الكريم ) میں یه بحث تفصیل سے بیان کیا هوں اسی طرح آیت الله خوئی کی کتاب البیان اور آیت الله معرفت کی کتاب التمهید کی طرف بھی مراجعه کر یں .

وال 4: کیا مرجعیت علیا (مجتهدین جامع الشرائط) کی غیبی مدد هوتی هے اور حضرت صاحب العصر والزمان عج الله تعالی فرجه الشریف کی  نگرانی میں هوتے هیں ؟

جوا ب 4: السلام علیکم : بیشک حقیقی دینی مرجعیت ( مجتهد) کو الهی اور ربانی  تایید اور مدد حاصل هوتی هے اور حضرت صاحب العصر (عجل الله تعالى فرجه الشريف) کی نگرانی هوتی هے جس طرح آپ نے فرمایا : وانا حجة الله علیهم اور میں ان ( مجتهدین) پر حجت هوں اس حجیت میں نگرانی مدد اور توفیق بھی شامل هیں لیکن جو اهلیت رکھے بغیر مرجعیت کا ادعا کرے وه گر جاتا هے ختم هوتا هے اور مرنے کے بعد بھی ان کا کوئی نام لیوا نهیں هوتا هے الله تعالی کے لئے اپنی مخلوقات میں مختلف شان هیں .

سوال5: کیا وه شخص شهید هے جو ظالم حکومتوں کے خلاف نکالی جانے والی ریلیوں میں قتل هو جاتے هیں؟  کیا موجوده مجتهدین کو اعلمیت کے اعتبار سے ترتیب وار بیان فرما سکتے هیں؟ 

جواب 5: ان کیلئے شهیدوں کا اجر هے لیکن ان کا حکم نهیں هے. ( غسل وکفن کی ضرورت هے)

دوسرا سوال کسی اور سے پوچھیں .

سوال 6: کیسے ان افراد سے حلالیت طلب کروں جن کی میں نے غیبت کی هے اور ابھی ان سے حلالیت طلب کرنا ممکن نهیں هے؟

آغا صاحب  میں لوگوں کی غیبت کرتا تھا غلط باتیں کرتا تھا اور جھوٹ بولتا تھا ابھی میرا ضمیر بیدار هوا هے پشیمانی نے میری نیند اڑا دی هے  لهذا میں گزشته سے توبه کرنا چاهتا هوں اور میں نے  کتابوں میں پڑھ چکا هوں که لوگوں سے حلالیت طلب کرنا توبه کے شرطوں میں سے هے لیکن جن کی میں نے غیبت کی هے بعضوں کو تو میں نے دیکھا هی نهیں هوں اور بعضوں کے پاس جا کر کهه دوں تو وه مجھے معاف نهیں کریں گے یا هماری دشمنی اور زیاده هو جائے گی اب میں کیا کروں مهربانی کریں انهی  سوچوں کی وجه سے میری پلکیں  نهیں جھپکتی هیں ؟

جواب 6:    آفرین هو تم پر توبه ،انابه اور سعادت تم پر مبارک هو توبه کرنے والے کی دعا قبول هوتی هے لهذا میرے گناهوں کی مغفرت، دنیا اور آخرت دونوں کی سعادت ور حسن عاقبت کے لئے دعا کریں .

لیکن غبیت کا مساله ، حلالیت طلب کرنا عسر اور حرج کی وجه سے ممکن نه هونے کی وجه سے تمهاری اور کوئی ذمه داری نهیں هے لیکن بهتر یه هے که آپ ان کے لئے استغفار کریں اور ان کی طرف سے صدقه دیدیں ، دو رکعت نماز پڑھ کر ثواب ان کو هدیه کریں اور ان کی کامیابی کیلئے دعا کریں اور تم بھی ان سب کو بخش دو جنهوں نے تمهاری غیبت کی هیں تم زمین والوں پر رحم کرو گے تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا  تم بخش دو اور چشم پوشی کرو الله تعالی بھی بخش دے گا اور چشم پوشی کرے گا اور الله توبه کرنے والوں کو دوست رکھتا هے 

 

سوال 7: اهلبیت علیهم السلام میں سے هر امام کے زمانے میں محبین اور شیعوں کو  امام کی بیعت کرنے کی شرافت ملتی تھی اور وه  بیعت کرتے تھے ابھی میرا سوال یه هے :

1-        کیا  امام عصر  عج کی غیبت کے زمانه میں بھی بیعت واجب هے  یا ظهور کے بعد بیعت واجب هے؟

2-       اگر زمان غیبت میں بیعت واجب هے تو مهربانی کر کے بتائیں آپ نے کیسے امام الحجة کی بیعت کی هے  ؟

مجتهدین کے خادم : شیخ جاید آذربائیجان

جواب 7: آپ کو مفاتیح الجنان میں موجود دعائے عهد اول اور دوم کو پڑھنا چاهئے یه زمان غیبت میں بیعت کی مانند هے.

سوال 8 : ذهن اور حافظه کی تقویت کیلئے کیا کرنا چاهئے؟

جواب 8: جدید نفساتی علوم میں اسی طرح روایات میں اس کے لئے کچھ راستے بیان هوئے هیں جن میں سے کچھ کھانے کی چیزیں هیں حافظه کو بڑھاتی هیں اور بعض دعائیں بھی هیں جن میں سے بعض مفاتیح الجنان میں موجود هیں آپ کو همیشه یه دعا پڑھنی چاهئے (اللّهم أرزقني فهم النبیین، وحفظ المرسلین، وإلهام الملائكة المقربین، ولا یؤده حفظهما وهو العلي العظیم، برحمتك یا أرحم الراحمین).

 

سوال9: کیا میں اپنے بیٹے کا نام تبدیل کر سکتا هوں؟

الله تعالی نے مجھے ایک بیٹا عطا کیا هے جسے میں نے اپنے والد کا نام  عبد المطلوب علی رکھا تھا ابھی میرے بیٹے کی عمر ایک سال هے میں چاهتا هوں بیٹے کا نام تبدیل کردوں چونکه مجھے ایسا محسوس هو رها هے که ان  کا نام اچھا نهیں رکھا هوں اور ایک طرف سے مجھے ڈر لگ رها هے که کهیں والد صاحب مجھ سے ناراض نه هو چونکه بچے کو ان کا نام رکھا گیا هے لهذا آپ علامه آیت الله سیدعادل دام ظله کیا مشوره دیتے هیں؟

 

جواب 9: احادیث شریف میں آیا هے که الله تعالی کی خوشنودی والدین کی خوشنودی میں هے جیسا که قرآن کریم میں آیا هے که ان کے ساتھ همیشه (قولاً کریماً) شریفانه گفتگو کی جائے  اور لوگوں کے ساتھ (قولا سدیدا) سیدھی بات کی جائے  ان دونوں میں فرق یه هے که قول سدید سے مراد منطقی ، استدلالی اور معقول با ت هے جو عام لوگوں کے  ساتھ هونی چاهئے  اور قول کریم سے  کریمانه اور شریفانه گفتگو مراد هے جو والدین کے ساتھ هونی چاهئے باپ اور ماں کی  هربات میں اطاعت هونی چاهئے جب تک وه گناه اور معصیت کا حکم نه دے  (و ان جاهداك علی ان تشرك بي ما ليس لك به علم فلا تطعهما) [1]اور اگر تمهارے ماں باپ اس بات پر زور دیں که کسی ایسی چیز کو میرا شریک بناؤ جس کا تمهیں علم نهیں هے تو خبر دار ان کی اطاعت نه کرنا . لیکن معصیت کے علاوه باقی هر کام میں ان کی اطاعت ضروری هونے ،ان کے ساتھ نیکی کرنے اور عاق حرام هونے پر بهت ساری روایات موجود هیں روایات میں آیا هے : من احزن والديه فقد عقهما [2] جس نے اپنے والدین کو محزون کیا وه عاق هوا اس لئے ممکن هے آپ کو یه نام (عبد المطلوب )اچھا نه لگے یا آپ کا بیٹا آینده اس نام کو پسند نه کرے  یه اس صورت میں هے که آپ اس نام کی عرفی تفسیر کریں مثلا عرف میں حکومت ، عدالت یا پولیس جس شخص کے پیچھے لگی هو اس وقت کها جاتا هے فلان شخص عدالت کو یا پولیس کو مطلوب هے لیکن اگر شرعی اور اسلامی تفسیر کی جائے تو مطلوب الله نعالی کے اسماء میں سے هے جس طرح دعائے جوشن کبیر میں آیا هے : یا خیر المطلوبین جیسا که مفاتیح الجنان میں موجود هے  اس صورت میں عبد المطلوب کا معنی عبد الله هو گا نه که حکومت یا عدالت کو مطلوب بنده .الله تعالی هی مطلوب اول هے چونکه اس کے تمام مخلوق تسبیح میں اسی کو طلب کرتے هیں وه مطلق مطلوب اور مطلوب مطلق هے اور وه خیر المطلوبین هے چونکه وه کلّ خیر هے تو ایسی صورت میں آپ کا بیٹا اس مطلوب مطلق کا بنده هو گا   لهذا هونا تو ایسا چاهئے که آپ اس نام پر فخر کرے چونکه وه لوگوں کو الله تعالی کے مطلوب هونے کی یاد دهانی کر رها هے .ساری مخلوقات کو اس کا بنده هونا چاهئے جس طرح آپ کا بیٹا اس کا بنده هے   .

 



[1] - لقمان آیت 15.

[2] - بحار الانوار 74 : 72 ، كتاب العشرة ، باب بر الوالدين / 53