سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/11/16 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

13۔ عصر غیبت میں امام مھدی (عجل اللہ فرجہ ) کے فوائد : سید توقیر عباس کاظمی

عصر غیبت میں امام مھدی (عجل اللہ فرجہ ) کے فوائد

سید توقیر عباس کاظمی

دوسرا قسط

 عقیدہ مھدویت کے غیرنفسیاتی فوائدکو دو قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

١): فوائد عامہ:                     ٢): فوائد خاصہ:

امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود کے فوائدعامہ:

امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجودکے بہت سے فوائدعامہ شیعہ وسنی روایات میں ذکر کیے گئے ہیں جن میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں۔

١: زمین وآسمان کی بقا:

امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود کا ایک فائدہ یہ ہے کہ آپ تمام زمین وآسمان والوں کیلئے امان، اور ان کی بقا کا سبب ہیں اور آپ ہی کے وجود کی وجہ سے زمین وآسمان قائم ہیں۔

امام کے وجود کے اسی فائدہ کو امام سجاد - کی حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ جسے امام صادق -نے نقل فرمایا: نحن أئمۃ المسلمین وحجج اللہ علی العالمین وسادۃ المومنین وقادۃ الغرّ المحجلین وموالی المومنین ونحن امان لأھل الارض کما أن النجوم أمان لأھل السماء ونحن الذین بنا یمسک اللہ السماء أن تقع علی الأرض الاّ باذنہ وبنا یمسک الأرض أن تمید بأھلھا ''ہم (اہل بیت ؑ) امت اسلام کے پیشوا، زمین والوں پر اللہ کی حجت، مومنین کے رہبر، (قیامت کے دن) سفید رُو افراد کے پیشوا اور مومنوں کے سرپرست ہیں، ہم زمین والوں کیلئے امان ہیں جیسے ستارے آسمان والوں کیلئے، ہمارے ہی سبب اللہ نے آسمان کو زمین پر گرنے سے محفوظ رکھا ہے مگر یہ کہ جب خدا چاہے، اور ہمارے ہی سبب اللہ نے زمین پر بسنے والوں کو ہلاکت سے بچایا ہے''([1]) ۔

اسی طرح کی عبارت امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کی ایک توقیع (خط) میں بھی ملتی ہے جس میں آپؑ نے فرمایا: انی امان لأھل الارض کما أن النجوم أمان لأھل السماء ''میں زمین والوں کیلئے امان ہوں جیسے ستارے آسمان والوں کیلئے امان ہیں''([2])۔ پس ہر زمانے میں زمین وآسمان کی بقاء اہل بیت میں سے کسی ایک فرد کی موجودگی کی دلیل ہے، مشہور حدیث لولاالحجۃ لساخت الأرض[ والسماء] ''اگر حجتّ ِخدا کا وجود نہ ہو توزمین وآسمان تباہ ہوجائیں'' ([3])؛میں بھی اسی نکتہ کی طرف اشارہ ملتا ہے۔

امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود کا یہ فائدہ اہل سنت کی معتبر کتب میں بھی بیان ہوا ہے چنانچہ اہل سنت کے علماء نے روایت کی ہیں کہ پیغمبر اکرم ؐنے فرمایا: النجوم امان لاھل السماء فاذا ذھبت ذھبوا واھل بیتی امان لاھل الارض فاذا ذھب اھل بیتی ذھب أھل الارض''ستارے آسمان والوں کیلئے امان ہیں ، جب وہ ختم ہو جائیں گے تو آسمان والے بھی ختم ہوجائیں گے اور میرے اہل بیت ؑزمین والوں کیلئے امان ہیں پس جب میرے اہل بیت ؑنہ رہیں گے تو زمین والے بھی ختم ہوجائیں گے''([4])۔ حکمت الہی کا تقاضا تھا کہ وہ اہل بیت ؑکے ذریعہ سے سیّد الانبیاء ؐ کی ذریت کو قیامت تک قائم رکھے، تا کہ عام لوگ ان کے نور ہدایت سے استفادہ کرتے رہیں لہذاوہی اس کائنات کی بقا کا سبب اور امت کیلئے امان ہیں۔

پس شیعہ وسنی متفقہ روایات کی بناء پر زمین وآسمان کی بقا اس بات کی دلیل ہے کہ ہر دور میں اہل بیت ؑ کا کوئی نہ کوئی فرد موجود رہا ہے لہذا اِس دور میں بھی اہل بیت ؑ کا آخری فرد یعنی امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف زندہ وموجود ہیں، نہ کہ مستقبل میں پیدا ہوں گے، اسی طرح دعائے عدیلہ میں امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کو ان الفاظ میں زمین وآسمان کی بقا کا سبب قرار دیا گیاہے: وبوجودہ ثبتت الارض والسماء''امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف ہی کے وجود سے زمین وآسمان ثابت وقائم ہیں'' ([5]

٢:۔ اہل زمین کی اجتماعی عذاب سے نجات:

امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود کا ایک اور انتہائی اہم فائدہ یہ ہے کہ خداوند عالم لوگوں کی بدکرداریوں اور برے اعمال کے باوجود ان پر اجتماعی عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں کرتا ۔ امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود کے اس فائدہ سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کیونکہ سابقہ قوموں کی تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چھوٹے چھوٹے گناہوں کی وجہ سے انہیں انتہائی سخت عذاب میں مبتلا کر دیا؛ کوئی قوم مسخ ہوگئی اور کسی قوم کو غرق کر دیا گیا، کسی قوم پر آسمانی بجلی گری اور کوئی مختلف قسم کے طوفانوں میں گر گئی لیکن موجود ہ زمانے میں سابقہ قوموں کے گناہوں کی نسبت بڑے بڑے گناہ انجام دیئے جا رہے ہیں،بلکہ شاید یہ کہنا بھی صحیح ہو کہ سابقہ امتوں میں موجود سارے گناہ آج کے مسلمانوں میں موجود ہیں، آج کے مسلمان معاشرے میں گناہ وفساد اوربدکاری عام ہے لیکن اس کے باوجود مسلمان اجتماعی عذاب  میں گرفتار نہیں ہورہے تو یہ صرف امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف ہی کے وجود مبارک کی برکت کے سبب ہے۔

خداوند عالم نے قرآن مجید میں کسی قوم پر عذاب نہ آنے کے دو اسباب بیان فرمائے ہیں: (وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ وَأَنْتَ فِیْھِمْ وَمَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ) ''(اے نبی) اللہ اُن لوگوں کو عذاب میں مبتلا نہیں کرتا جبکہ تم اُن میں موجود ہو، اور خدا انہیں عذاب نہیں دیتا جبکہ وہ توبہ واستغفار کرتے رہیں''([6]

اس بنا پر کوئی بھی قوم صرف دو اسباب کی بناء پر عذاب خدا سے نجات پا سکتی ہے ۔ یا ان کے درمیان رسول خدا ؐ موجود ہوں اور یا وہ قوم توبہ واستغفار کرتی ہو۔ لیکن موجودہ زمانے میں نہ تو نبیؐ ظاہری طور پر امت کے درمیان موجود ہیں اور نہ ہی لوگوں کے درمیان توبہ واستغفار کا رواج ہے بلکہ اکثر لوگ توبہ واستغفار کی بجائے گناہوں کی طرف زیادہ رغبت رکھتے ہیں ۔

اب سوال یہ ہے کہ جب عذاب سے بچنے کیلئے قرآن مجید میں ذکر شدہ دونوں اسباب موجود نہیں تو پھر مسلمان اجتماعی عذاب کا شکارکیوں نہیں ہو رہے؟ اس سوال کا جواب صرف یہ ہے کہ اگرچہ رسول خدا ؐظاہری طور پر موجود نہیں لیکن آخری نبی کا وہ آخری نائب موجود ہے کہ جو آخری محمد بھی ہے کیونکہ رسول خدا فرما چکے ہیں کہ : اوّلنا محمد وأوسطنا محمد وآخرنا محمد یعنی ''میرے اہل بیت ؑ میں سے سب مجھ(محمدؐ) ہی جیسے ہیں''([7]

پس جس طرح امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے جدِّبزگوار رسول خدا ؐ کا وجود امت کیلئے عذاب خدا سے امان کا سبب تھا ویسے ہی موجودہ امت اگر عذاب خدا سے محفوظ ہے اور خداوند ہماری بدکرداریوں کے باوجود عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں کر رہا تو یہ صرف اور صرف امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف ہی کے وجود مبارک کی وجہ سے ہے۔

 اہل سنت کے بہت سے علماء نے اسی بات کا اقراربھی کیا ہے جیسے قندوزی نے اپنی کتاب ینابیع المودۃ میں آیت (وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ وَأَنْتَ فِیْھِمْ)کے ذیل میں لکھا ہے: أشار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الی وجود ذلک المعنی فی أھل بیتہ، وأنھم أمان لاہل الارض کما کان (ھو) صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أمانا لھم''پیغمبر اکرم ؐ نے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہی صفت آپؐ کے اہل بیت ؑ میں بھی پائی جاتی ہے اور وہ بھی زمین والوں کیلئے امان ہیں جیسے آپؐ امان تھے''([8]

اہل سنت کی ایک جماعت نے نقل کیا ہے: النجوم أمان لاہل السماء وأھل بیتی أمان لامتی''ستارے آسمان والوں کیلئے امان ہیں اور میرے اہل بیت ؑ میری امت کیلئے امان ہیں''([9])؛اور دوسری روایت میں ہے: النجوم أمان لاہل السماء وأھل بیتی أمان لاہل الارض،فاذا ذھب النجوم ذھب أھل السماء واذا ذھب أھل بیتی ذھب أھل الارض ''ستارے آسمان والوں کیلئے امان ہیں اور میرے اہل بیت ؑ زمین والوں کیلئے امان ہیں ، پس جب ستارے ختم ہو جائیں گے تو آسمان والے بھی ختم ہوجائیں گے اور جب میرے اہل بیت نہ رہیں گے تو زمین والے بھی ختم ہوجائیں گے''([10]) ۔

پس ماننا پڑے گا کہ اگر یہ امت اجتماعی عذاب سے محفوظ ہے اور زمین وآسمان اپنی اپنی جگہ قائم ہیں تو صرف اہل بیت ٪ کے آخری فرد امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود مبارک کی برکت سےہےوگرنہ نہ زمین وآسمان باقی رہتے اور نہ کوئی جاندار اس دنیا میں موجود ہوتا۔

٣: دین اسلام کی حفاظت وبقا:

جب سے رسول خدا ؐ نے دین اسلام کو لوگوں کے سامنے دائمی اور ہمیشہ رہنے والے دین کے عنوان سے پیش کیا ہے، اُسوقت سے لیکر آج تک دین اسلام کے دشمن مختلف حربوں اور ہتھکنڈوں کے ذریعہ اسلام کو نابود کرنے کی کوششوں میں سرگرم ہیں لہذا کبھی ذاتی نظریات کو دینی مسائل میں داخل کرنے کی کوشش کی گئی اور کبھی نئے دور کے رسوم ورواج کو دین کے ساتھ مخلوط کرنے کی سعی ہوئی، کبھی دین کی تفسیر کے عنوان سے تحریف کی سازشیں ہوئیں اور کبھی یہ بہانہ بنا کر لوگوں کو بے دین بنانے کی کوشش کی گئی کہ اسلام نئے دور کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا، لہذا کیا یہ ضروری نہیں تھا کہ دین اسلام کو پسندیدہ اور دائمی دین قرار دینے والا خالق، کوئی ایسا انتظام کرے کہ ہر زمانے میں دین اسلام دشمنوں کی سازشوں سے محفوظ رہے اور اسلامی تعلیمات فنا نہ ہونے پائیں؟!

پس یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ خداوند تعالی نے اپنے دین کی حفاظت وبقا کا انتظام ضرور کیا ہے ، البتہ ہمارے عقیدہ کے مطابق وہ امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف ہی کی ذاتِ بابرکت ہے جو غیبت کے دوران دین اسلام کی حفاظت وبقا اور دشمنوں سے اِس دین اور اسکی تعلیمات کے بچاؤ کا اہم فریضہ ادا کررہے ہیں اور آپؑ کے وجود ہی کی برکت سے دین قائم ودائم ہے۔ جیسا کہ رسول خدا ؐ نے فرمایا: في کل خلف من امتي عدول من أھل بیتي ینفون عن ھذا الدین تحریف الغالین وانتحال المبطلین وتاویل الجاہلین''میری امت کی ہر نسل میں میرے اہل بیت ٪ میں سے عادل فرد ہوں گے جو دین کو غالیوں کی تحریف، قبول نہ کرنے والوں کے انکار اور جاہلوں کی تاویل سے بچائیں گے''([11])؛ یہاں قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ مذکورہ حدیث اہل سنت کی بعض معتبر کتب میں بھی موجود ہے ([12]

نیزاہل سنت کیلئے اس دعوی کی مزید توضیح وتشریح میں خلفاء سے متعلق احادیث بھی بیان کی جا سکتی ہیں کہ جن سے امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود کا مذکورہ فائدہ ثابت ہوتا ہے۔ جیسا کہ اہل سنت نے بیان کیا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا: لایزال ھذا الدین عزیزا منیعاالی اثنی عشر خلیفۃ ''یہ دین اسوقت تک عزیز اور قوی ومظبوط رہے گا یہاں تک کہ بارہ خلفاء ہو جائیں''([13])؛ ایک اور روایت کے مطابق رسول خدا ؐنے فرمایا: لایزال ھذا الدین قائما حتی یکون علیکم اثنا عشر خلیفۃ ''یہ دین اُسوقت تک باقی رہے گا جب تک کہ تم پر بارہ خلفاء نہ ہو جائیں''([14])؛ اسی طرح اہل سنت علماء نے رسول خدا ؐکا یہ فرمان بھی نقل کیا ہے: لایزال ھذا الدین عزیزا منیعا ینصرون علی من ناواھم علیہ الی اثنی عشر خلیفۃ ''یہ دین اُسوقت تک محکم وپائیدار اور دشمنوں پر غالب رہے گا جب تک بارہ خلفاء ہوں گے''([15]

اہل سنت کی کتب میں موجود مذکورہ متواتر حدیث میں پیغمبر اکرمؐ نے اپنے بعد بارہ خلفاء کو دین کی حفاظت وبقاء کا ضامن قراردیا ہے کہ جن کی وجہ سے دین اسلام کی شان وشوکت باقی رہے گی۔

اگرچہ انتہائی معتبر اہل سنت علماء بھی مذکورہ حدیث کے مصداق کی تعیین میں بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں اور بارہ خلفاء کی تعیین سے عاجز نظر آتے ہیں حتی کہ بعض نے بارہ خلفاء کی تعداد پوری کرنے کیلئے یزید جیسے فاسق وفاجر کو بھی ان خلفاء میں شمار کیا ہے([16])؛ لیکن اہل تشیع کا مؤقف اس معاملہ میں انتہائی واضح ہے اور شیعہ حضرات کے نزدیک پیغمبر اکرم ؐنے جن بارہ خلفاء کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں دین کی بقاء اور حفاظت کا ذمہ دار قرار دیا ہے وہ صرف امام علی ؑ سے لیکر امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف تک بارہ امامِ برحق ہیں ۔

پس یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ پیغمبر اکرم ؐ کا مذکورہ فرمان (بارہ خلفاء والی حدیث)، اس بات کی واضح دلیل ہے کہ دین کی عزت وعظمت اور بقاء رسول خدا ؐ کے بارہ خلفاء میں سے کسی ایک کی وجہ سے ہے کہ جنہیں دین کی حفاظت کا ذمہ دار قرار دیا گیاہے اور عصر حاضر  میں وہ رسول خدا ؐ کے آخری جانشین امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف ہی کی ذات با برکات ہے کہ جو پردہ غیب سے دین کی حفاظت کی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔

٤: اہل زمین پر آسمان وزمین کی برکات کا نزول:

امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود کے فوائد عامہ میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ زمین والوں پر باران رحمت کا نزول ہوتا ہے، زمین اپنی برکات ظاہر کرتی ہے جیسا کہ امام فرماتے ہیں: وبنا ینزّل الغیث وتنشر الرحمۃ وتخرج برکات الأرض ''ہمارے سبب باران رحمت نازل ہوتی ہے، رحمت خدا پھیلتی ہے اور زمین سے برکات ظاہر ہوتی ہیں''([17]

زمین وآسمان کی برکات کا مسئلہ ایک قرآنی اصول ہے کیونکہ خداوند نے فرمایا: (وَلَوْ أَنَّ أَھْلَ الْقُرٰی اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَرَکٰاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلٰکِنْ کَذَّبُوْا فَأَخَذْنَاھُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ) ''اگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور پرہیزگار بنتے تو ہم ضرور ان پر آسمان وزمین کی برکتوں (کے دروازے) کھول دیتے، لیکن انہوں نے جھٹلایا پھرہم نے ان کو انکے اعمال کی بناء پر پکڑ لیا''([18]

اس آیت مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ چونکہ سابقہ امتوں نے تقوی سے منہ موڑا، حق کا انکار اور اہل حق کی تکذیب کی جس کے نتیجہ میں خداوند نے انہیں عذاب میں مبتلا کردیا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس امت پر باران رحمت نازل ہوتی ہے، زمین سے اس کی برکات ظاہر ہوتی ہیں اور اہل زمین اس سے استفادہ کرتے ہیں، یہ سب کچھ ممکن نہیں مگر صرف ائمہ اطھار علیھم السلام کے وجود کے صدقہ میں، کیونکہ وہی زمین میں تقوی وپرہیزگاری کا مظہر ہیں۔

وجودِ امامِ مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے فوائدخاصہ:

امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود مبارک میں فوائدعامہ کے علاوہ کچھ فوائد خاصہ بھی موجود ہیں البتہ دونوں میں فرق یہ ہے کہ فوائدعامہ ہر مخلوق کو مل رہے ہیں چاہے کوئی ان فوائدکی طرف متوجہ ہو یا نہ ہو، نیز یہ فوائد ہر مخلوق کو ملتے رہیں گے، چاہے کوئی امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود کو مانے یا انکار کرے۔ لیکن امام کے وجود کے فوائد خاصہ عام طور پر صرف انہیں افراد کے ساتھ مخصوص ہیں جو امام پر صحیح عقیدہ رکھنے کے ساتھ ساتھ آپؑ کے ساتھ معنوی رابطہ رکھتے اور توسل کرتے ہوں۔

١:جاہلیت کی موت سے نجات:

 اہل سنت کی معتبر کتب میں امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے حوالے سے پیغمبر اکرم ؐ کی ایک حدیث مختلف الفاظ میں موجود ہے کہ آپؐ نے فرمایا: من مات ولیس فی عنقہ بیعۃ مات میتۃ جاہلیۃ''جو کوئی ایسی حالت میں مرے کہ اس کی گردن میں کسی (امام) کی بیعت نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرا''([19]

دوسری روایت کے مطابق آپؐ نے فرمایا:من مات بغیر امام مات میتۃ جاہلیۃ ''جو کوئی امام (کی معرفت)کے بغیرمر جائے وہ جاہلیت کی موت مرا''([20])۔ ایک اور روایت کے مطابق آپؐ نے فرمایا: من مات ولیس علیہ امام مات میتۃ جاہلیۃ ''جو کوئی ایسی حالت میں مرے کہ اس کا کوئی امام نہ ہو وہ جاہلیت کی موت مرا''([21]

ان روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے : موجودہ دور میں تمام مسلمانوں (اور خاص طور پر اہل سنت )  کے لئے امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ وہ امام حق کی بیعت کا فرض ادا کر سکیں کہ جس کے نتیجہ میں انکی موت جاہلیت کی موت نہ رہے گی۔

٢:۔مومنین کی مشکل کشائی :

امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود کا ایک اور خاص فائدہ یہ ہے کہ آپؑ اپنے ماننے والوں کی مشکل کشائی اور حاجت روائی کرتے ہیں، تاریخ تشیع میں علماء ومومنین کے بہت سے ایسے واقعات ملتے ہیں کہ جن میں امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف نے بالواسطہ یا بلاواسطہ ان کی مشکلات حل فرمائیں۔

امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف نے اپنی ایک توقیع (خط) میں شیعوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اِنَّا غَیْرُ مُھْمِلِیْنَ لِمُرَاعَاتِکُمْ، وَلَانَاسِیْنَ لَذِکْرِکُم، وَلَولَاذٰلِکَ لَنَزَلَ بِکُمْ اْللَّاوٰاءُ وَاصْطَلَمَکُمْ اْلأَعْدَاءُ فَاتَّقُوْااللّٰہَ جَلَّ جَلاٰلُہُ ''ہم تمہاری دیکھ بھال میں کوتاہی نہیں کرتے اور نہ ہی تمہیں فراموش کیا ہے ، اگر ایسا نہ ہوتا تو تم پر مصیبتیں آپڑتیں اور دشمن،تمہیں تباہ وبرباد کر دیتے پس تم تقویٰ الہی اختیار کرو''([22]

امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے ان محبت آمیز جملات سے واضح ہوتا ہے کہ آپ کے ذریعہ ہمیشہ غیبی امداد شیعوں تک پہنچ رہی ہے اور امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے محبین ومعتقدین بھی اپنی فردی واجتماعی مشکلات وپریشانیوں میں کبھی اپنے امام سے غافل نہیں ہوئے بلکہ شیعت کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے زمانے کے امام کو حلّال مشکلات اور محرم اسرارِ خلقت سمجھتے ہوئے، اُن سے متوسل ہوئے ہیں جس کے بارے میں بہت سے واقعات کتبِ تاریخ میں مذکور ہیں مثلا: بحرین کے حاکم اور انار کا واقعہ  جس میں امام زمانہ نے بحرین ہی کے ایک مومن محمد بن عیسی کے ذریعہ وہاں کے مومنین کی مدد فرمائی، یا اسی قسم کے اور بہت سے واقعات امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف سے متعلق کتب میں مذکور ہیں کہ جن میں آپؑ نے اپنے ماننے والوں کی مشکل کشائی اور حاجت روائی فرمائی ہے([23]

٣:نامحسوس روحانی نفوذ اور معنوی ہدایت:

ہر آسمانی والہی رہبرچاہے وہ نبی ہو یا امام، کا سب سے اہم کام لوگوں کی ہدایت کرنا ہے چنانچہ خداوند تعالی نے فرمایا:(وَجَعَلْنَاھُمْ اَئِمَّۃً یَھْدُوْنَ بِأَمْرِنَا) ([24]) لہذا ہر نبی اور امام اپنی پوری زندگی اس ہدایت کے فریضہ کو ادا کرتا ہے لیکن اس بات کی طرف توجہ ضروری ہے کہ ہدایت کے فریضہ کی ادائیگی کیلئے بھی ہادی کالوگوں کی آنکھوں کے سامنے مسلسل ہونا ضروری نہیں ہے اگرچہ عام طور پر ہدایت کا فریضہ،درس و گفتار اور عادی تعلیم وتربیت کے ذریعہ ادا ہوتا ہے،لیکن نبی یا امام کے پاس لوگوں کی ہدایت کا ایک روحانی ومعنوی طریقہ بھی ہے کہ جو دل وفکر میں معنوی نفوذ کے ذریعہ انجام پذیر ہوتا ہے کہ جسے اصطلاح میں ہدایت وتربیت تکوینی کا نام دیا جا سکتا ہے، اس طریقہء ہدایت میں الفاظ وکلمات اور درس وگفتار مؤثر نہیں ہوتے بلکہ نبی یا امام کی صرف روحانی کشش مؤثر ہوتی ہے۔

بہت سے الہی رہبروں کے حالات میں ملتا ہے کہ بعض اوقات نہایت منحرف وغلط  افراد صرف ایک مختصر سی ملاقات کے ذریعہ بدل گئے اور فورا راہ راست پر آگئے، بے ایمانی وگناہوں سے تائب ہوکر مؤمن وفداکار بن گئے۔ اور اسی چیز کو ''شخصیت کے نفوذ یااثر'' سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

خانہ کعبہ کے پہلو میں بت پرست اسعد بن زرارہ کی پیغمبر اکرم ؐ سے مختصر ملاقات اور اس کا مسلمان ہونا، کربلا کے راستے میں امام حسین ؑ کے پیغام کا زھیر پر اثر، کہ اُس نے اپنے ہاتھ کا لقمہ بھی منہ میں رکھنا گوارا نہ کیا اور فورا امام کی طرف چل پڑا، نیز امام حسین ؑ کی حرُ بن یزید ریاحی سے ملاقات اور اُس کا یزیدی لشکر کو چھوڑ کر امام حسین ؑ کے لشکر میں شامل ہوجانا، حضرت امام موسی کاظم ؑ کو دیکھ کر ہارون کی طرف سے امام ؑ کے زندان میں بھیجی گئی فاحشہ عورت کا بدل جانا یا بشیر حافی اور امام موسی کاظم ؑ کا واقعہ وغیرہ... یہ تمام واقعات معصومین کے نامحسوس روحانی نفوذ واثر کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اسی طرح غیبت کے پردے میں امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود کا بھی ایک اثر یہی ہے کہ آپؑ مومنین کے دلوں کی ذرخیز زمین کو اپنی روحانی شخصیت کے نفوذ کے بیج سے آباد کرتے ہیں جس سے آپؑ کے ماننے والوں کی روحانی تربیت ہوتی ہے۔

٤:امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت کا مومنین کیلئے باعث برکت ہونا:

امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت کے سبب مومنین کیلئے عظیم اجر وثواب کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور ایسا بہت ساعظیم ثواب جس کا حصول انتہائی بامشقت اعمال کے بغیر ممکن نہ تھا، امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت کی وجہ سے مومنین کو مل رہا ہے اورروایات میں اس عظیم ثواب کا کثرت کے ساتھ ذکر ہوا ہے جیسا کہ امیر المومنین حضرت علی ؑ سے روایت ہے : أفضل العبادۃ الصبر والصَمت، وانتظار الفرج ''بہترین عبادت صبرکرنا، فضول باتوں سے پرہیز اور امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور کا انتظار کرنا ہے''([25]

پس غیبت کے زمانے میں امام ؑکے ظہور میں تعجیل کیلئے دعا کرنے والے ، غیبت میں مصائب ومشکلات پر صبر کرتے ہوئے امامت کے عقیدہ پر ثابت قدم رہنے اور ظہور کے بعد آپؑ کی نصرت کے خواہاں مومنین، خداوند کی طرف سے ثواب عظیم حاصل کرتے ہیں۔

٥: دیگر فوائد:

حضرت امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود کے فوائد صرف ذکر کئے گئے موارد میں ہی منحصرنہیں ہیں بلکہ آپ ؑ کے وجود مبارک کی برکت سے کائنات کی مخلوقات کو اور بھی بہت سے فوائد مل رہے ہیں مثلاً امام کے لئے ممکن ہے کہ وہ اسلامی نظام کی بقاء اور اہل اسلام کی حفاظت کے لئے امراء وسلاطین کی رہنمائی کریں، فقہاء اور علماء کے ساتھ ہمنشینی کے ذریعہ دینی مسائل میں ان کی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں ہدایت کے راستہ پر گامزن فرمائیں، یا معاشرے کے حاجت مند افراد کی ضرورتوں کو پورا کریں۔

اس دنیا میں کتنے ہی ایسے لاعلاج ہیں کہ جنہیں اچانک شفا مل جاتی ہے، کتنے ہی پریشان حال لوگ ہیں جو دیکھتے ہی دیکھتے آسودہ خاطر ہوجاتے ہیں، کتنے ہی علمی مسائل چند لمحوں میں حل ہوجاتے ہیں!!!

کچھ بعید نہیں ہے کہ جسے ہم اپنی عام زندگی میں اتفاقی بات سمجھ رہے ہوں وہ حقیقت میں امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف ہی کی مدد اور رہنمائی ہو، جیسا کہ امام مھدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے موضوع پر لکھی گئی کتب میں دسیوں واقعات اسی بات کی دلیل ہیں کہ امام کے لئے اللہ تعالی کی دی ہوئی قدرت کے تحت یہ سب کام ناشناختہ اور نامحسوس طور پر انجام دینا ممکن ہے۔



[1] : کمال الدین (شیخ صدوق): ج١ص٢٠٧ ؛ فرائد السمطین (جوینی شافعی):ج١ص٤٥، طبع لبنان١٣٩٨؁ھ؛ ینابیع المودۃ (قندوزی حنفی):ص٢١ .

[2] : الاحتجاج( طبرسی) : ج٢ص٥٤٥؛ کمال الدین (شیخ صدوق):ج٢ص٤٨٥.

[3] : بعض احادیث میں یہ الفاظ ہیں''لو بقیت الأرض بغیر امام لساخت'' (اصول کافی: ج١ص١٧٩، باب أن الأرض لاتخلوا من حجۃ؛ بصائر الدرجات،ص٤٨٨، باب أن الأرض لاتخلوا بغیر امام)۔

[4] : ذخائر العقبی(طبری شافعی):ص١٧،طبع مصر١٣٥٦؁ھ، نیز یہی حدیث اہل سنت کی بہت سی کتب میں ایک ہی مضمون میں مختلف الفاظ کے ساتھ بیان ہوئی ہے المستدرک، حاکم نیشاپوری،ج٢ص٤٤٨؛ مجمع الزوائد، (ھیثمی)،ج٩ص١٧٤،طبع بیروت١٩٨٨؁؛ المعجم الکبیر، (الطبرانی)،ج٧ص٢٢،طبع٢ دار احیاء التراث العربی١٩٨٥؁. ؛ الجامع الصغیر، (جلال الدین سیوطی)، ج٢ص٦٨،طبع اول،دار الفکربیروت،١٩٨١؁

[5] : مفاتیح الجنان، دعائے عدیلہ.

[6] : سورہ انفال(٨)آیت٣٣۔

[7] : بحار الأنوار(مجلسی):ج٣٦ص٣، باب نادر فی معرفتھم صلوات اللہ علیھم.

[8] : ینابیع المودۃ (قندوزی حنفی) : آیت ''وما کان اللہ لیعذبھم''کے ذیل میں؛ مستدرک (حاکم): ج٣ص١٤٩۔

[9] : شواھد التنزیل (حاکم حسکانی):ج١ص٤٢٦؛ ذخائر العقبی( الطبری): ص١٧.

[10] : ینابیع المودۃ (قندوزی حنفی):ج ٢ص٤٤٢.

[11] : بحار الأنوار(مجلسی): ج٣٦ص٢٥٦،باب٤١۔

[12] : ینابیع المودۃ (قندوزی حنفی):ج ٢ص١١٤.

[13] : المعجم الکبیر(طبرانی):ج٢ص١٩٥باب عامر الشعبی؛ صحیح مسلم:ج ٦ص٣، باب الناس تبع لقریش والخلافۃ فی قریش؛ سنن أبی داود: ج٢ص٩٠٣،

[14] : سنن أبی داود:ج ٢ص٩٠٣، آخر کتاب الفتن ؛ المعجم الکبیر (طبرانی): ج٢ ص٢٠٧، باب ابو خالدالوالبی

[15] : مسند أحمد:ج ٥ص٩٩۔

[16] : شرح صحیح الترمذی:(ابن عربی)، حدیث خلفاء کے ذیل میں۔

[17] : کمال الدین(شیخ صدوق): ج١ص٢٠٧؛ أمالی (صدوق): ص١٨٦، المجلس الرابع والثلاثون۔

[18] : سورہ اعراف/٩٦۔

[19] : صحیح مسلم،کتاب الامارۃ، باب١٣؛ سنن کبری (ترمذی):ج٨ص١٥٦؛ فتح الباری (ابن حجر):ج١٣ص٥.

[20] : مسند (أحمد بن حنبل):ج ٤ص٩٦؛ مجمع الزوائد (ھیثمی):ج٥ص٢١٨.    

[21] : مجمع الزوائد (ھیثمی):ج٥ص٢١٨.

[22] : بحار الانوار (مجلسی):ج٥٣ص١٧٥؛ الاحتجاج (طبرسی):ص٥٩٦.

[23] : رجوع کریں:منتھی الآمال(اردو ترجمہ احسن المقال):ج٢ص٤٤٠؛ النجم الثاقب: ص٣١٤؛ بحار الانوار (مجلسی):ج٥٢ص١٧٨.

[24] : سورہ انبیاء : آیت ٧٣

[25] : بحارالانوار (مجلسی): ج٧٤ص٤٢٢.