سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/11/13 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

1۔ اداریہ ذاکرحسین ثاقب

اداریہ

از: ذاکرحسین ثاقب

علامہ مجاہد شیخ باقرنمر کی شہادت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

"وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ "

اورعنقریب ظالموں کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس جگہ پلٹادئے جائیں گے۔

آیت اللہ نمر 1379 ھ  میں مشرقی سعودی عرب کے صوبے قطیف کے شہر عوامیہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد علی بن ناصر آل نمر بھی اپنے علاقے کے معروف عالم اور خطیب تھے۔

آپ  نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم اپنے آبائی شہر عوامیہ میں حاصل کی اس کے بعد وہ دینی علوم کے حصول کی خاطر سن 1400  ھ   میں ایران تشریف لائے،  دس سال تک یہاں مقیم رہنے کے بعد دمشق کے نواح میں واقع دینی مرکز زینبیہ تشریف لے گئے۔

ایران اور شام میں حصول علم اور تدریس کے بعد سعودی عرب واپس پہنچے اور اپنے آبائی شہر عوامیہ میں دینی علوم کی تدریس اور مذہبی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے ۔

انہوں نے 2003 ء میں عوامیہ میں مرکزی نماز جمعہ قائم کی اور اس کے بعد الامام القائم مرکز کی بنیاد ڈالی۔ یہ مرکز آگے چل کر 2011ء ر میں مرکز الاسلامیہ میں تبدیل ہو گیا۔

آیت اللہ نمر باقر نمر نے عوامیہ میں مساجد کے کردار کو اجاگر کر نے، نماز جمعہ کے قیام، شادی بیاہ کے معاملات میں آسانیاں پیدا کرنے، معاشرے میں خواتین کے کردار کو بڑھانے، نوجوانوں کو دینی مسائل اور معاملات سے آشنا کرنے اور سماجی برائیوں سے مقابلہ کرنے کا مشن شروع کیا اور آخری دم تک اس پر قائم رہے۔

اس علاوہ  آپ نے  جنت البقیع کی تعمیر نو کے لیے بھی جدوجہد کی اور سن 2004ء  سے ہر سال آٹھ شوال کو یوم انہدام جنت البقیع پر مظاہروں اور مجالس کا اہتمام کرتے رہے۔ سعودی حکومت کی شدید پابندیوں اور سختیوں کے باوجود یوم انہدام جنت البقیع پر مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ سن 2007ء  تک جاری رہا۔

آیت اللہ نمر باقر نمر اپنی تقریروں میں مذہبی بنیادوں پر روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کو ترک کرنے اور عوام کو ان کے جمہوری اور مذہبی حقوق دیئے جانے پر زور دیتے رہے۔

سعودی حکومت نے سن 2008ء  میں حکم زباں بندی جاری کرتے ہوئے ان کے خطبات اور تقریروں پر پابندی عائد کر دی تھی۔

2011 میں تیونس اور مصر میں آمریتوں کے خاتمے کی تحریک شروع ہوئی تو آیت اللہ نمر باقر نمر نے بھی ایک بار پھر اپنے خطبات کا سلسلہ شروع کر دیا اور ملک میں سیاسی اور جمہوری اصلاحات کا مطالبہ کیا۔

2003ء  میں انہیں پہلی بار گرفتار کیا گیا، انہیں نماز جمعہ پڑھانے سے منع کیا گیا اور اس مسجد کو مسمار کر دیا کیا جہاں وہ نماز جمعہ پڑھایا کرتے تھے لیکن آپ  اسی تباہ شدہ مقام پر نماز جمعہ پڑھاتے رہے۔ انہیں 2004، 2005، 2006 اور 2008  میں گرفتارکیا گیا اور مہینوں تک جیل میں رکھا گیا۔

آیت اللہ نمبر باقر نمر کو چھٹی اور آخری بار 8 جولائی 2012 میں، باقاعدہ منصوبے کے تحت ان کی گاڑی پر فائرنگ کے بعد سعودی سیکورٹی اہلکاروں نے گرفتار کیا۔ اس حملے میں وہ شدید طور پر زخمی ہو گئے تھے اور ان کے پیر میں چار گولیاں لگی تھیں۔

سعودی حکومت کی ایک نمائشی عدالت نے پندرہ اکتوبر 2014ء  کو اس مجاہدعالم دین اور آمریت مخالف رہنما کو بے بنیاد الزامات کے تحت موت کی سزا سنائی تھی۔ ان کے خلا ف مقدمہ کی سماعت کو خفیہ رکھا گیا اور میڈیا کے لوگوں کو اس میں شرکت کی اجازت نہیں تھی۔ انہیں پھانسی کی سزا سنائے جانے کے خلاف عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور دنیا بھر میں اس کے خلاف مظاہرہے بھی ہوتے رہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ان کی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد روکنے کامطالبہ کیا تھا۔

 لیکن  آل سعود(آل نحوس)نے  2 جنوری 2016ء  کو اس عالم ربانی کے  پاک ومنزہ خون   کو ایک مرتبہ پھر اپنے گندے  ہاتھوں سے بہایا اور " علامہ مجاہدشیخ باقرالنمر )قدس سرہ ( جو مسلمانوں میں علم وجہاد کے رموز میں سے تھا ان کو شہید کرکے ایک بار پھر تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پامال کردیا ۔ تاکہ  عدالت ختم ہوجائے  اورخداکانوربجھ جائے ۔مگریہ نہیں جانتے مظلوموں کے پاک ومنزہ خون کےہر ایک قطرے سے ایمان کاسچا اورمخلص درخت پیداہوتاہے ۔ جن میں سےہمارےمجاہدشہید، اور سینکڑوں مجاہدین حق کی پاسداری کے خاطرشہادت کیلئے تیارہیں ۔

جولوگ شہیدباقرالنمر اوران جیسےدوسرے  مجاہدین پرظلم کرتے ہیں عنقریب معلوم ہوگا کہ ان ٹھکانا کہاں ہے۔اوران شاء اللہ ظلم اورناانصافی کاانجام نابودی کے  علاوہ کچھ نہیں اوروہ خسرالدنیاوالآخرہ کے مصداق ہوں گے۔