سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/11/16 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

مصداق دعویٰ سلونی کون؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سید شہوار نقوی

مصداق دعوی سلونی کون؟

سیدشہوارنقوی امروہوی

دشمنی اہل بیت ؑ کبھی ظلم وجور کے ذریعہ ظاہرہوئی اورکبھی بغض وحسدکےذریعہ ظاہر ہوئی توکبھی حرص   کےذریعہ ظاہرہوئی۔اورحرص ایک ایسی بری عادت ہے کہ جسکی احادیث میں کثرت سے مذمت وارد ہوئی ہے ۔اسلئے کہ حرص اگر اچھے کام کی ہوتو مفید ثابت ہوتی اوراگرحرص ایسی ہے جواسکے بس میں نہیں ہے تووہ انسان کوذلیل ورسواکردیتی ہے۔

کچھ ایساہی ہوادشمنان اہل بیت علیہم السلام کےساتھ! کہ ان پر اہل بیت ؑ کی ہمسری کابھوت سوار تھالہذا انجام پرنظر رکھے بغیرہروہ کام کیاجو انکو اہل بیتؑ کا ہمسر بنادے حالانکہ ان نادانوں کو یہ معلوم تھا کہ اہل بیت ؑ کاہمسرتوانبیاء وملائکہ نہیں ہوسکتے تویہ کیسے ہوسکتے ہیں۔

جس وقت عالم علم لدنی نے منبرسے "سلونی قبل ان تفقدونی"کا دعویٰ کیاتودشمنان اہل بیت ؑ کے سینوں پرسانپ لوٹنے لگے اوربغیر سوچے سمجھے اس دشوار وادی میں قدم رکھاجسکے نتیجہ میں بدنامی وذلت وخواری کامنھ دیکھناپڑا۔تاریخ میں ایک دونہیں بلکہ بہت سے افراد ملتے ہیں کہ جنھوں نے سلونی کادعویٰ کیااورانکو شکست کھاناپڑی۔

لہذا ہم ذیل میں چندمدعیان دعویٰ سلونی کاذکرکررہےہیں۔

1۔ مقاتل بن سلیمان نے ایک موقع پردعویٰ کیا کہ "سلونی عمادون العرش" عرش کے ادھرکی جوبات چاہوپوچھ لو۔ اس پر ایک شخص نے پوچھاکہ جب جناب آدم نے حج کیاتوانھوں نے کس سے سرمنڈوایاتھا؟ مقاتل نے کہا خدانے تمہارے دل میں یہ سوال اسلئے پیداکیاکہ مجھے اس غرور پرذلیل ورسواکرے ،مجھے کہاں اسکا علم ہوسکتاہے۔

2۔ ایک مرتبہ اسی مقاتل بن سلیمان نے اپنی قابلیت کاثبوت دینے کیلئے کہاکہ مجھ  سے عرش کےنیچے کی جوچیز پوچھناہو پوچھ لو۔ایک شخص کھڑاہوا اورکہا کہ عرش اورکہا عرش اورتحت الثریٰ کی بات نہیں پوچھتابلکہ روئے زمین ہی کی بات پوچھتاہوں جس کا ذکرقرآن میں بھی ہے اوروہ یہ ہے کہ اصحاب کہف کے کتے کاکیسارنگ تھا؟ یہ سنکر مقاتل بن سلیمان بہت شرمندہ  اورلاجواب ہوگیا۔

3۔ شافعی نے مکہ میں کہاکہ " سلونی ماشئتم اخذتکم من کتاب اللہ وسنۃ نبیہ"جوچاہو مجھ سے پوچھ لومیں  کتاب سنت نبی کی روشنی میں اسکاجواب دونگا۔ایک شخص نے پوچھاکہ اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے کہ جس نے حالت احرام میں زنبور(مکھی)کوماردیاہو؟ مگرشافعی سے کوئی جواب نہ دیاجاسکا۔

4۔ مقاتل بن سلیمان نےپھر ایک مرتبہ دعویٰ کیا۔ایک شخص نے پوچھاکہ چیونٹی کی انتڑیاں اسکے جسم کے اگلے حصہ میں ہوتی ہیں یاپچھلے حصہ میں ؟ مگروہ کچھ جواب نہ دے سکا۔

5۔ ابراہیم بن ہشام نے حج کے موقع پر دعویٰ کیا"سلونی سلونی فاناابن الوحیدلاتسئلواعلم منی"مجھ سے پوچھ لومیں یکتائے روزگاراوراعلم زمانہ ہوں جس پر ایک عراقی نے پوچھا! کیاقربانی واجب ہے؟ یہ سننا تھاکہ چہرہ کارنگ اترگیاپریشان ہوکرادھرادھر دیکھنے لگا۔ہاتھوں کے طوطے اڑگئے ۔مجمع پرسکوت طاری تھامجمع منتظر تھا کہ شایدجواب دے بس جس طرح اس نے سلونی کادعویٰ کیاتھا۔ اسی لہجہ میں کہتاہے کہ میں نہیں جانتا۔

6۔جب قتادہ کوفہ میں وارد ہوا اورلوگ اسکے گردجمع ہوئے تواس نے کہاجوپوچھناہوپوچھ لواس پرابوحنیفہ نے ایک شخص سے کہاکہ اس سے پوچھوکہ حضرت کے واقعہ میں جس چیونٹی کاذکرہے وہ وہ مادہ تھی یانر؟ پوچھنے پرجواب سے عاجز رہا۔

7۔ایک دن ابن جوزی منبرپرگیااوربہت ہی فخرومباہات کے ساتھ دعویٰ کیاکہ اے لوگوں جوبھی پوچھناچاہتے ہو پوچھ لویہ سنکر ایک خاتون نے دریافت کیاکہ اس روایت کے متعلق آپکاکیانظریہ ہے کہ حضرت امیرالمومنین ؑ سلمان کی  خبررحلت سنکرایک ہی رات میں مدائن پہنچ گئے اورانکی تجہیزوتکفین میں شرکت فرمائی۔اس نے جواب دیاکہ درست ہے پھراس خاتون نے پوچھاکہ اس روایت کے سلسلے میں کیاخیال ہے کہ عثمان بن عفان کی لاش تین دن تک بے گوروکفن پڑی رہی ۔حالانکہ حضرت امیرالمومنین ؑ مدینہ تشریف فرماتھےآپ نے تجہیزوتکفین نہیں کی۔کہاہاں یہ بھی درست ہے اس خاتون نے کہاان میں سے امیرالمومنین ؑ کاکون ساعمل درست اورکونساعمل غلط تھا۔یہ سن کر ابن جوزی چکراگیاکچھ میں نہیں آتاتھاکہ کیاجواب دے مگراپنی خجالت کودورکرنے کیلئے کہا۔اے خاتون اگرتوشوہرکی اجازت سے آئی ہے تواس پر لعنت اوراگربغیراجازت سے آئی توتجھ پرلعنت کہ توبےجھجک  یہاں چلی آئی ۔اس بی بی کوایک گوشہ مل گیااورکہتی ہے کہ اے ابن جوزی کیامیں پوچھ سکتی ہو کہ ام المومنین عائشہ جنگ جمل میں اذن رسول سے آئی تھیں یابغیراجازت؟ یہ سن کر ابن جوزی کے پاس کوئی جواب کی کوئی گنجائش باقی نہ رہی۔

8۔ علامہ ابن ابی الحدیدتحریرفرماتے ہیں کہ الناصرلدین اللہ کے عہد میں ایک واعظ تلاقت لسانی میں بڑی شہرت رکھتاتھاایک دفعہ اس نے دوران بیان صفات باری تعالیٰ کاذکرچھیڑدیاجس پربغداد کے ایک شخص احمدبن عبدالعزیزنے چنداعتراضات کئے جن کاکوئی معقول جواب نہ دے سکا۔البتہ اپنی عظمت وجلالت کاسکہ جمانے کیلئے پرشکوہ الفاظ میں عبارتوں سے کھیلناشروع کیاجس نے عوام کومرعوب کردیااورہرطرف سے داد وتحسین کی صدائیں آنے لگیں ۔

واعظ بھی غرور علمی کے نشہ میں جھوم کرکہنے لگاجوپوچھناچاہیتے ہوپوچھ لوجس پراحمد نے کہاکہ اے شخص یہ دعویٰ توعلی ابن ابی طالب کاہے ۔واعظ نے اپنے علم کی نمائش کرتے ہوئے بڑی تمکنت سے کہاکہ تم کس علی بن ابی طالب کاذکرکرتے ہو،کیا علی بن ابی طالب بن مبارک نیشاپوری کا، یا علی بن ابی طالب بن اسحاق مروزی کایا علی بن ابی طالب بن عثمان قیروانی کا یا علی بن ابی طالب بن سلمان رازی کااسی طرح کئی اشخاص گنادئے جن کانام علی بن ابی طالب تھا۔یہ سن کر احمدنے کہاکہ واہ سبحان اللہ! اس وسعت علمی کا کیاٹھکانامگر میری مراد وہ علی ہیں جوسیدۃ النساء العالمین کے شوہر تھے ۔اورجب رسولؐ نے اصحاب کے درمیان عقدمواخاۃ پڑھاتھاتوانہیں اپنی اخوت کیلئے منتخب کیاتھا۔اس نے کچھ جواب دیناچاہاکہ منبرکی داہنی طرف سے ایک شخص کھڑاہوااورکہنے لگااے واعظ محمدبن عبداللہ نام کے بھی سینکڑوں ملےگی مگر ان میں سے ایک بھی ایسانہ ہوگاکہ جسکے حق میں قدرت نے یہ کہاہوکہ"وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ-إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ" اسی طرح علی بن ابی طالب نام کے بھی بہت ملیں گے مگران میں سے ایک بھی ایسانہ ہوگاجس کے بارے میں رسول نے فرمایاہو" أنت منّي بمنزلة هارون من موسی إلّا إنّه لا نبيّ بعدي"۔ اس بحثابحثی کانتیجہ یہ ہواکہ لوگ آپس میں الجھ پڑے اورواعظ منھ چھپاکربھاگ گیا۔