سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/9/19 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

علماء کی یاد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیدسجاد حسین رضوی

علماء کی یاد !!

سلسلہ نمبر1                                                          سیدسجادحسین رضوی پاکستان

علامہ سید عارف حسین الحسینی قدس سرہ

علامہ سید عارف حسین الحسینی سید کرم ایجنسی کے صدر مقام  پارہ چنارہ سے 15 میل دورگاؤں پیواڑ جوپاک افغان سرحدپرواقع ہے ۔دسمبرسنہ 1946ء میں پیداہوئے۔آپ کے والد محترم سید فضل حسین جن کاتعلق یہاں کے محترم وممتازسادات گھرانے سےتھا۔ اورانھوں نے ہی شہید قائدکو قرآن پڑھایااورابتدائی تعلیم دی۔شہیدقائد نے سنہ 1964ء میں گورمنٹ ہائی سکول پاراچنارسے میٹرک پاس کیا۔کیونکہ شہید قائد کودین کی خدمت کاجذبہ زیادہ تھا لہذاآپ نے میٹرک کے بعد مدرسہ جعفریہ پارہ چنارمیں سنہ 1967ء تک معارف اسلامی کوحاصل کیا اوراسکے بعددینی تعلیم حاصل کرنے کیلئے نجف اشرف مدرسہ شہیدیہ اوردارالحکمۃ تشریف لے گئے اورچارسال تک وہاں رہے وہاں کے معروف اساتیذ آیۃ ا۔۔۔ مدنی ، آیۃا۔۔۔شہیدمحراب لذوت ،شیخ مدرس افغانی ، آیۃا۔۔۔سیدمرتضوی اور آیۃا۔۔۔ مہدی آپکے اساتیذ میں سے تھے۔

شہید قائد چندسال کے بعد وطن واپس آئے اورچندماہ تک مدرسہ جعفریہ پارہ چنارسے منسلک رہے ۔اورمزیدمعارف اسلامی کے حصول کیلئے ایران کے معروف شہرقم المقدس میں تشریف لائے۔اورآپ نے تعلیم کے ساتھ ساتھ شاہ ایران کے خلاف تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اورآپ نے قم المقدس میں رہ کر آیۃا۔۔۔میرکاظم شیرازی، آیۃا۔۔۔محسن حرم اوردوسرے بڑے علماء سے مذہبی تعلیم کوحاصل کیا۔

شہیدقائدسنہ 1979ء کو پاکستان تشریف لائے اوراپنی مذہبی فعالیت کے باعث آپ تحریک نفاذفقہ جعفریہ کی سپریم کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔اورآپ کا اسلام کے تاریخی کنویشن میں بڑااہم کردارتھا لہذامولانامفتی جعفرصاحب جو تحریک کے سربراہ تھے ان کی رحلت کے بعد سپریم کونسل نے بتاریخ 10 فروری سنہ 1984ء کو اپنے اجلاس کے اتفاق رائے پرآپ کو تحریک نفاذجعفریہ کا قائد منتخب کیا۔اور آپ نے اس عظیم عہدہ کوسنبھالتے ہی مظلوم خصوصاً شیعہ افراد کے آئینی حقوق کے حصول کیلئے جدوجہدشروع کی ۔اورآپ نے 6 جولائی 1987ء کے عظیم الشان موقع"قرآن اورسنت کانفرنس"میں اپناسیاسی پروگرام عوام کے سامنے پیش کیاجس میں آپ نے کھل کراعلان کیاکہ تحریک نفاذفقہ جعفریہ سیاسی عمل سے گریزکے قائل نہیں اورہم پاکستان کے سیاسی معاملات میں بھرپورحصہ لینے کیلئے آمادہ ہیں۔

اسی سال کے اوائل میں آپ نے لبنان ،شام اورایران کا دورہ کیا۔اوروہاں کے ممتاز سیاسی اورمذہبی رہنماؤں سے ملاقات کی۔دنیابھر کی اسلامی تحریکوں سے آپ کاتعلق وارتباط تھا۔اورباالخصوص آپ کی بڑی آرزو تھی کہ پاکستان کی اپنی جماعتیں آپس میں متحدرہیں۔

شہیدقائد نے ہمیشہ جمہوری قوتوں کے موقف کی تائیدکی اورسیاسی جماعتوں کوبھی اپنے قریب کیا۔آپ امریکی سامراج کے خلاف قاطع اورواضح نظریات رکھتے تھے۔آپ نے اتحادبین المسلمین کیلئے دن رات خدمات کیں۔

لیکن دشمن نے اس عظیم شخصیت کوپہچان لیااورعارف اللہ کو اپنے اغراض واہداف تک پہنچنے میں بڑامانع پایا۔اوراپنی ذلیلانہ اقدام سے 5اگست 1988ء کو ہمیں اس عظیم قائد سے محروم کردیا۔

خدانے شوق بخشاہے تجھے حق کی حمایت کا

  سخاوت کا،عبادت کا،ہدایت کا،شجاعت کا

نمازیں ہی تیری معراج آخربن گئیں عارف 

خیال اتناتھاتجھ کوہرگھڑی رب کی عبادت کا