سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/9/19 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

فلسفہ توحید 3۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیدعادل علوی

   فلسفہ توحید    

تیسری قسط

آقای سیدعادل علوی مدظلہ

ترجمہ:مرغوب عالم عسکری ہندی

پہلے دو شماروں میں بحث خداوندعالم کے اثبات کے سلسلے میں تھی اوراس مرتبہ خداوندعالم کے اثبات صفات کے سلسلے میں بحث کی جارہی ہے۔

جب ہم اللہ کو خالق کون ومکاں ،نظم دہندہ کائنات ،حکمت وتدبر سے ہم آہنگ مربی تسلیم کرچکے ہیں تو ضروری کہ اس کائنات میں اس کی ایجادات وتخلیقات کے اس صفات سے بھی واقف ہوں کہ جو اس کے مخزن علم وحکمت سے کشف ہوتے ہیں۔

اس عظیم کائنات کے عمق میں کچھ طاقتیں جو تعجب خیز ومحیرالعقول ہیں وہ ہدایت ہیں اس بات کی طرف اللہ کی قدرت واختیار کے پیش نظر غیر ممکن ومحال نہیں ،ہرشئی جس میں بوئے حیات اوراحساس وادراک کا تصور پایا جاتاہے وہ سب ایک ایسے مبداحیات کی طرف منتہی ہیں جو باالذات "حی اورقیوم " ہے جس طرح وحدت نظام عالم یعنی کائنات کاایک ڈھرے پرچلنادن ورات کاایک اسلوب پر حرکت کرنااشارہ ہے ایک ایسے خالق کی طرف جو واحد اورلاشریک ہے۔خداوندعالم تمام صفات کمالیہ سے متصف ہے اور وہ صفات اس کی ذات میں داخل ہیں، خارج ازذات ہو کر نہیں پائے جاتے اس لئے کہ اگر صفات کوزائد برذات تسلیم کرلیاجائے تو تعدد قدماء لازم آئے گا جس کابطلان سابق میں گزرچکا ہے جیسے قدرت ،علم اورحیات۔ پس اس کی قدرت عین حیات ہے اورحیات عین قدرت ہے اگر چہ یہ الفاظ معانی ومفاہیم کے اعتبار سے مختلف ہیں لیکن حقائق و واقعیت کے لحاظ سے متحدہیں۔

اس کے علاوہ پروردگار عالم کے کچھ صفات فعلیہ بھی ہیں(جو اس کی ذات سے متعلق نہیں ہوتے بلکہ خارج از ذات پائے جاتے ہیں اوراس کا سمجھنافعل پر موقوف ہے)متلا خداکے رازق ہونے کی صفت مخلوقات کورزق دینے کی وجہ سے ہے کہ جس کاوجود خارج میں ذات کے بعد متحقق ہواہے۔

پس خدا کاایک وقت رزق دینا اوردوسرے وقت نہ دینا کچھ کو اپنے فیض سے بہرہ مند کرنا اورکچھ کو نہ کرنا اسکی حکمت مشیت کے تحت ہے(جس کا ادراک بندے کے بس سے باہر ہے)

پروردگار عالم کے بہت سے اسماء حسنیٰ ہیں (جس کے ذریعہ اسے پکارا جاتاہے مثلاً : رحمن ،رحیم ،قدوس وغیرہ)اسی طرح خدا کاصفات جلالیہ سے متصف ہونا بھی متحقق ہے کہ جیسے صفات سلبیہ کہتے ہیں یعنی وہ جسم  نہیں رکھتا،وہ مرکب نہیں ہے، اسکے لئے محل(جائے سکونت)نہیں ،وہ اپنے غیر کے ساتھ متحد نہیں ،وہ حوادث کاشکار نہیں ہوتا،لذت والم سے دوچار نہیں ہوتا،وہ بصارت کامحتاج نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں ،اسکے لئے ظاہر وباطن نہیں ،یہ تمام صفات وہ ہیں کہ جس سے خدا منزہ ومبرا ہے اوران تمام صفات کا مرجع ایک صفت ہے وہ یہ کہ خدا کی ذات والا صفات امکان پذیر نہیں ہے اس لئے کہ وہ واجب الوجود ہے اور واجب الوجود کی شان یہ ہے کہ وہ امکان سے متصف نہ ہو لہذا جملہ مذکوہ صفات کاسلب اس سے لازم وضروری ہے ، یعنی لامحالہ یہ صفات اسکے اندر نہیں پائی جاسکتی۔