سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/9/19 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

انوار قدسیہ

انور قدسیہ معصومین ؑ کی حیات طیبہ کامختصرتذکرہ

معصوم سوم  ۔سیدۃ نساء العالمین (سلام اللہ علیہا)۔

نام ونسب :فاطمہ بنت رسول اللہ حضرت محمدمصطفی ﷺ ۔

مشہورالقاب:زہرا،بتول ،سیدۃ النساء العالمین، صدیقہ،طاہرہ

کنیت:ام ابیہا،ام الحسنین ،ام الائمہ۔

پدربزرگوار: محمدرسول اللہ۔

مادرگرامی: خدیجہ بنت خویلد۔

ولادت: روز جمعہ 20 جمادی الثانیہ بعثت کے دوسرے یاپانچویں سال۔

جائے ولادت: مکہ مکرمہ

مدت حیاتَ:18 سال 75،40،یا90 دن روایتوں میں اختلاف ہے جن میں سے 9 سال وکچھ ماہ عرصہ حیات اپنے شوہر کے ساتھ بسرکی۔

شوہر:ابوالائمہ علی بن ابی طالب علیہ السلام، اگر علی نہ ہوتے توآدم وماسوا میں فاطمہ کو کوئی ہمسر نہ ہوتا۔

نقش انگشتری: " اللہ ولی عصمتی امن المتوکلون"

فرزندان:امام حسنؑ، امام حسینؑ، جناب محسن،زینب کبریٰ ،زینب صغریٰ،(ام کلثوم)

شہادت: روز  دوشنبہ یایکشنبہ 13،14 یا15جمادی الاولیٰ یاایک ،دو،تین جمادی الثانیہ 13ہجری میں۔

سبب شہادت:  غلام عمر قنفذ کاتازیانہ چلانا،اورجلتے ہوئے دروازے پر عمر کالات مارنا کہ جس کی وجہ سے سیدہ عالمیان در  ودیوار کے درمیان پس گئیں، چنانچہ یہی  سبب ہے ہے سقوط جنین اورپہلو شکستہ ہونے کاکہ جو بعد میں چل کے شہادت کا اصل سبب قرار پایا۔

مدفن: مدینہ منورہ ،نشان قبرتاظہور امام غیرمعلوم۔

آپکے اقوال میں وہ خطبہ مشہور ہے جو دربار ابوبکر میں مطالبہ فدک کے موقع پر ارشاد فرمایاکہ جو آپکی موروثی ملکیت تھی۔

بعدحمد وثناء پروردگار کے ارشاد فرمایاکہ میں شہادت دیتی ہوں کہ میرے پدر بزرگوار حضرت محمدمصطفیﷺ اللہ کے بندے اور وہ رسول ہیں جنکو بھیجنے کیلئے چنا گیا ۔اورمبعوث ہونے سے پہلے منتخب کیاگیاجبکہ مخلوقات خدا حجاب غیبت میں پوشیدہ ،اورکتم عدم میں محفوظ ،اور انتہاء عدم سے مقرون ومتصل تھی،آپ جملہ امور اورحوادث روزگار نیز مقدورات زمانہ کی مکمل معرفت رکھتے تھے۔اللہ نے آپ کو بھیجاتاکہ آپکے ذریعہ اپنے ارادہ کی تکمیل کرے حکمت ذریعہ اور مقدورات یقینیہ کونافذ کرے  آپ نے دیکھا امتیں مختلف فرقوں میں بٹی ہوئی ہیں لوگ آگ اوربتوں کی پوجا کررہے ہیں اورجانتے ہوئے خداکی عبادتوں  سے انکار کرنے میں مشغول ہیں لہذا ایسی صورت میں اللہ نے میرے باپ (محمدؐ)کے ذریعہ ظلمتوں کو روشن کیا، دلوں کی تاریکیوں کو دورکیا،آنکھوں سے ضلالتوں کے پردہ  ہٹائے اورلوگوں کی ہدایت کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے اور انکو گمراہی سے نکال کر اندھے پن سے صاحب بصیرت بنایا،دین مستحکم اورسیدھی راہ پر چلنے کی دعوت دی۔ پھر اللہ نے انتہائی مہر ومحبت ،الفت ورغبت کے ساتھ روح قبض کرکے اپنے پاس بلالیا۔

اسکے بعد متوجہ کیااورفرمایا! یہ اللہ کی کتاب تمہارے پیش نظر ہے کہ جس کے امور واضح ،احکام روشن اورعلائم ظاہر ہیں ،اور اس کے اوامر ونواحی نمایاں و  روشن ہونے کےساتھ موافق بہ طبیعت ہیں ۔یقیناً تم نے تخلف کیا اورفرامین الہی کو پس پشت ڈال دیا ۔کیا تم اس سے انحراف کرنا چاہتے ہو یا دوسرے فیصلہ کے طلب گار ہو۔تمہارا خیال  ہے کہ میں میراث کی حقدار نہیں ہوں کیا جاہلیت کے فیصلہ کے خواہاں ہو جبکہ ایمان والوں اوریقین رکھنے والوں کیلئے اللہ ہی کا فیصلہ بہترین فیصلہ ہے۔

کیا تم نے عمداً کتاب خدا کو پس پشت ڈالدیا ہے یاجان بوجھ کر فرامین الہی سے چشم پوشی کی ہے جبکہ قرآن کا صاف صاف ارشاد ہے "وورث سلیمان داود "(داؤد سلیمان کے وارث قرارپائے) نیز قرآن یحیٰ ابن زکریا کی دعاکویوں حکایت کرتاہے "رب ھب لی من لدنک ولیا یرثنی ویرث من اٰ ل یعقوب"بارالہا میرے لئے اپنے پاس سے ایک ولی قرار دے جو میرا اورآل یعقوب کا وارث ہو۔ اور اسکے علاوہ بھی قرآن میں ذوالارحام میں بعض کے وارث ہونے کاذکر موجودہے۔"واولوالارحام بعضھم اولیٰ ببعض ببعض فی کتاب اللہ" کتاب خدا کی روسے ذوالارحام میں بعض ،بعض سے اولیٰ ہیں (ترکہ کے اعتبارسے)خطبہ مذکورہ کتب مفصلہ میں موجود ہیں۔