سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/9/19 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

تفسیر سورہ کوثر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیداطہرحسین رضوی

تفسیر سورہ کوثر

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ" إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ الكوثر"

ترجمہ:بیشک ہم نےآپ کوکوثر عطاکیا، لہذا آپ لئے نمازپڑھیں اورقربانی دیں ،یقیناً آپ کادشمن بے اولاد رہے گا۔

شان نزول :اس سورہ کو سورہ اعطینااورسورہ کوثر کہاجاتاہے۔ احتمال د یاگیا ہے کہ یہ سورہ مقام منیٰ پر نازل ہوا تھا اسلئے اس جگہ کو"مسجد کوثر"کہاجاتاہے اورحجاج بڑے جوش وجذبہ کے ساتھ اسکی زیارت کو جاتے ہیں۔

یہ سورہ” مکّہ “ میں نازل ہوا ہے ۔ لیکن بعض مفسرین کے بقول مدینہ میں نازل ہوا ہے ۔اور بعض کاکہناہے کہ دو مرتبہ نازل ہوا ہے ۔

کفار قریش میں سے "عا ص بن وائل" مسجد سے نکلتے وقت رسول خداؐ سے گفتگو کرنے لگا  قر یش کا ایک گروہ مسجد میں بیٹھایہ منظر دیکھ رہا تھا ۔

جب" عا ص بن وائل " مسجد میں دا خل ہوا تو ان لوگوں نے پوچھا! توکس سے گفتگو کررہا تھا؟  کہا "ابتر"(بے اولاد) شخص سے گفتگو کررہا تھا ۔یہ بات " عا ص بن وائل " نے اس لیےکہاتھا  "عبد اللہ" پیغمبر اکرم ؐکے فر زند دنیا سے ر خصت ہو چکے تھے۔ اور عرب ایسے آدمی کو جس کے کوئی بیٹا نہ ہو” ابتر“ کہا کر تے تھے اسی وجہ سے  قر یش نے (عبداللہ)پیغمبر اکرم ؐ کے فرزند کی و فا ت کے بعد اس لقب کو آنحضرت کے لیے انتخاب کر رکھا تھا ، جس پر یہ سورت نازل ہوئی ، اور پیغمبر اکرمؐ  کو نعمتوں اور "کوثر"(کثرت نسل) کی بشا رت دی گئی اورآپ کے دشمنوں کو ابتر کہاگیا۔(تفسیر نمونہ ج7 ص 376 اور سیرہ ابن اسحٰق ص 229 میں اسی مفہوم کی عبارتیں موجود ہیں)۔

کوثر کے معانی:  مفسرین نے کوثر کے مختلف معانی بیان کئے ہیں، مثلاً : حوض کوثر، دنیاوآخرت میں خیر کثیر،رسول اکرمؐ کے پیروؤں میں کثرت ،شفا۔

یہ تمام معانی صحیح ہیں اوران میں کوئی تضاد بھی نہیں پایاجاتاہے قرآن مجید اپنے دامن میں مختلف معانی لئے ہوئے ہے۔لیکن امام جعفر صادقؑ نے فرمایا کہ کوثر سے مراد فاطمہ زہرا(س)کی اولاد کے ذریعہ رسولؐ خدا کی نسل کثیر کا باقی رہناہے جس کا شمار ناممکن ہے۔

اہل سنت کے مفسر امام فخر الدین رازی اپنی تفسیر میں رقمطراز ہیں کہ: کو ثر سے رسول خداؐ کی اولاد مراد ہے اوریہ سورہ ان لوگوں کے جواب میں نازل ہوا جو رسول خداؐ کو بے اولاد ہونے کا طعنہ دیتے تھے۔ چنانچہ کو ثر کے معنیٰ یہ ہے کہ خدا اپنے رسول ؐ کو تاقیامت باقی رہنے والی نسل عطاکرے گا ،یہی وجہ ہے کہ اہل بیت ؑ کو اتنی کثرت سے(مظلومانہ)شہید کرنے کے باوجود انکی نسل میں کمی نہیں ہوئی ،لیکن بنی امیہ کے کوئی آثار باقی نہیں رہے۔

علماء ودانشوروں کے بقول امام باقرؑ، امام صادقؑ، امام کاظمؑ اورامام رضاؑ اورنفس زکیہ جیسے افراد سب کے سب نسل پیغمبرؐ میں شمار ہوتے ہیں۔

سورہ کا معجزہ: سورہ کوثر قرآن مجید کامختصر ترین معجزترین اورشگفت انگیز ترین سورہ ہے جس میں پانچ پیشینگوئیاں ہوئی ہیں۔

1۔ رسولؐ خدا کی نسل کثیر ۔

2۔ رسولؐ خدا کے پیروکاروں کی کثرت ۔

3۔ آئین توحید کا رائج ہونا اورہمیشہ باقی رہنا۔

4۔رسولؐ خدا کے دشمنوں کابے اولاد ہونا۔

5۔ رسولؐ خدا کے دشمنوں کی سرگرمیاں بے سود ہوں گی۔

اس وقت کے حالات ان پیشینگوئیوں کو تسلیم نہیں کررہے تھے لیکن آج ہم اور آپ اپنی آنکھوں سے اس حقیقت کو دیکھ رہے تھے۔

سورہ میں اخلاقی پہلو:بلاشبہ خدانے اپنے پیغمبر ؐ کو جس قدرخیر کثیر عطا کیا ہے اتنا کسی اور کو نہیں دیا ہے ،حد یہ ہے کہ آپ کے دشمنوں کو ابتر بنادیا ہے ۔اور ان کی نسل منقطع کر کے پیغمبر ؐ اکرم کی نسل کو فاطمہ زہرا(س)کے ذریعے قیامت تک کے لئے باقی اور دائمی بنادیا اور آپ سے نماز وقربانی کا مطالبہ کیا اس بات کی دلیل ہے کہ انسان  کوجب بھی کوئی خیر نصیب ہو تو وہ اپنافریضہ سمجھتے ہوئے کہ خدا کرے اور شکر خدا کابہترین طریقہ ہے کہ نماز ادا کرے اور راہ خدا میں قربانی دے۔

البتہ بندہ کے ذریعے ملنے والی نعمت کابھی شکرادا کرناچاہیے کیونکہ (من لم یشکر المخلوق لم یشکر الخالق)یعنی جو شخص مخلوق کا شکریہ ادانہیں کرتا،خدا کابھی شکرادا نہیں کرسکتا۔

جمع کا صیغہ کیوں؟قرآن مجید میں سورہ کوثر کے دیگر کئی سوروں میں خداوند عالم کیلئے جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے آخر کیوں؟

جمع کے صیغہ سے متکلم کی عظمت وقدرت معلوم ہوتی ہے۔ اوردشمنوں کے مقابلے میں رسولؐ کو بشارت دی گئی ہے۔تاکہ رسول اکرم ؐ کو اطمینان  حاصل ہوجائے اورنابودی دشمن واضح ہوجائے۔

حوالہ: 1۔ مراۃ الحرمین ج۔1 ص۔325

2۔ مجمع البیان ،10، ص،549 و ج،5،ص 549

3۔ تفسیر کبیر فخرالرازی ج32،ص،824

4۔ تفسیر نمونہ ،ج 27، ص،378

قطعہ

عرش اعظم سے چلا طرز سخاوت دیکھ کر   دہر کاسورہ بہ عزوشان نیچے آگیا

دست زہراؑ کی لطافت نفس زہراکی کشش    روٹیاں اوپرگئیں قرآن نیچے آگیا

ڈاکٹرپیام اعظمی