سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/9/19 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

شعائر الٰہی کی بے حرمتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سید شہوارحسین نقوی

شعائر الٰہی کی بے حرمتی

جب سے عرب کے گھٹاٹوپ ظلمات میں اسلام کا سورج اپنی آب وتاب کے ساتھ طلوع ہواہے ۔تب ہی سے دشمنان اسلام ، اسلام ومسلمین سے نبرد آزمارہے ہیں ۔صدر   اسلام میں اس کثرت سے جنگ وجدال کا وجود اس کا بین ثبوت ہے ورنہ وہ رسول جو مجسم رحمت بنکر آیا ہو اس کا برسر پیکار ہوناکیا معنیٰ رکھتاہے ؟ یہاں تک کہ مرسل اعظم ؐ کو کہنا پڑا کہ" جتنی اذیتیں مجھے پہنچائی گئیں کسی نبی کو نہیں دی گئیں" مگر رسول اکرمؐ ان تمام مشکلات کے باوجود اسلام ومقدسات اسلام کاتحفظ فرماتے رہے۔خواہ شہربدری کی زندگی گزارناپڑے ۔سوشل بائکاٹ کیاجائے۔اقرباء کو اذیتیں دی جائیں ۔سب بر سر وچشم منظور ہے مگر اہانت مقدسات اسلام منظور نہیں ۔

ہادی اعظم کی اس سیرت طیبہ یہ درس ملتاہے کہ کتنی بھی مشکلات وپریشانی کا سامناکرناپڑے مگر تحفظ اسلام ومقدسات اسلام ہی کو اولویت حاصل ہے۔ بعد رسول یہی سیرت ائمہ علیہم السلام میں جلوہ افروز نظر آتی ہے۔ جب دشمنان اسلام اپنا چولا بدل کرحضرت امیرالمومنین  علیہ السلام کے سامنے آئے توآپ نے نظیر عمیق سے دشمنوں کے غلط ارادوں کو تاڑ لیا اورایسی ضرب کاری لگائی کہ اسلام بھی محفوظ رہا اورمقدسات اسلام پر آنچ نہ آنے پائی ۔ بعداز آن تحفظ مقدسات کی ذمہ داری امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے بدوش ہوئی ۔آپ نے اس ذمہ داری کو اس خوش اسلوبی سے انجام دیا کہ لوگ تویہ گمان کررہے تھے کہ مقدسات اسلام پائمال ہوجائیں گے اورناکامی کا منہ دیکھنا پڑےگامگر جب ا س حکمت عملی کے نتائج سامنے آئے تو  انگشت بدنداں رہ گئے۔

اسکے بعد زمام تحفظ سرکار سید الشہداء امام حسینؑ کے دست مبارک میں جایگزین ہوئی۔آپ نے جس طرح اس عہدہ عظمیٰ کو حسن تدبیر سے انجام دیاوہ اظہرمن الشمس ہے۔حضرتؑ نے یہ واضح کردیا کہ تحفظ مقدسات کے سلسلے میں ذرا بھی تساہلی نہیں برتنی چاہیے ۔اس کارعظیم کو انجام دینے میں نہ اطفال ومخدرات کا خیال دامن گیر ہوناچاہیے  اورنہ قلت کا تصور غالب ہوناچاہیے ۔یہی وجہ تھی کہ قبل از واقعہ کربلا  اساس اسلام کو تو نقصان پہنچا مگر بعد از واقعہ کربلا کسی میں ہمت وجرات نہ تھی کہ وہ اسلام کی طرف آنکھ اٹھا کردیکھتا۔

اوریہی سیرت ہمارے دیگر ائمہ علیہم السلام کی بھی رہی کہ انھوں نے اپنی جانوں کی بازی لگاکر مقدسات اسلام کاتحفظ کیا اوربے حرمتی سے بچایا۔ انکے بعد سیرت ائمہ کے آئینہ دار علماء بغیر کسی خوف وخطر کے اس میدان میں سرگرم عمل ہوئے اور اس ذمہ داری کوبحسن وخوبی انجام دیا۔

مگر آج کے مسلمان کہ جنکےسامنے ہادیان دین کی سیرت طیبہ موجود ہے جنھوں نے قدم قدم پہ رہنمائی فرمائی کہ کس طرح تحفظ اسلام کرنا چاہیے اورکس طرح مقدسات اسلام کی حفاظت کرناچاہیے۔

لیکن اسکے باوجود مقدسات اسلام کی بے حرمتی ،بانی اسلام کے خلاف حرف زنی اورمقدس عبادت خانوں پر حملے کئے جارہے ہیں اوریہ فرزندان توحید سبکی باندھے ایک تماشائی کا رول ادا کررہے ہیں۔ ان چند برسوں میں اسلامی مقدس مقامات کی کس انداز میں بے حرمتی کی گئی کہ جس کی نظیر بیک وقت ملنا مشکل ہے اور سارا عالم دم بخود ہوکر نظارہ کرتاہے۔

تعجب تو ان افراد پر ہوتاہے کہ جو اپنے کو تحفظ مذاہب وانسانیت کا علمبردار گردانتے ہیں اور معمولی سی معمولی حرکات وسکنات پر آسمان شگاف صدائیں بلند کرتے ہیں۔ انکی زبانیں ان جنایات کے خلاف گونگی ہوگئیں ۔دنیا نے دیکھا کہ دشمنان اسلام کے ہاتھوں مسلمانوں کی مقدس ترین عبادت گاہ یعنی سرزمین خانہ کعبہ پر مظلوم ایرانی حاجیوں کے خون سے ہولی کھیل کر حرمت حرم الٰہی کو پامال کیاگیا اورہزاروں ایرانیوں کو موت کے گھاٹ اتاراگیا۔

ابھی توہین حرم الٰہی کا زخم مند مل نہ ہونے پایاتھا کہ درندہ صفت انسان صدام لعین کے ہاتھوں توہین حرم مظلوم کربلا عمل میں آئی جسکے سبب ہزاروں شیعوں کو تہہ تیغ کیاگیاجس نے مومنین کے قلوب کوبے چین کردیا۔

کچھ ہی عرصہ گزراتھا کہ ہندوستان میں دشمنان اسلام نے خانہ خدا یعنی بابری مسجد کو مسمار کیا اس عمل نے جلے ہوئے پر نمک کاکام کیا مگر بادل ناخواستہ جام صبر نوش کرناپڑا۔

ابھی زیادہ نہ گزرا تھاکہ فلسطین میں حرم حضرت ابراہیمؑ کو نمازیوں کے خون سے رنگ دیا گیا یہ وہ دل سوز سانحہ تھا کہ جس نے حرمت حرم ابراہیم ؑ کو دشمنوں کے پیروں تلے کچل دیا۔ یہ غم بھی دل سے جدا نہ ہواتھا ایک نئی مصیبت  عظمیٰ کا نزول ہوا،روز عاشورہ کہ جس دن ساری دنیا مظلوم کربلا حضرت امام حسینؑ کا غم منارہی تھی اورنوحہ کناں تھی ،عین عصر کے وقت کہ جس وقت حرم امام رضا ؑ عزادارن امام مظلوم ؑ سے کھچاکھچ بھراہوا تھا ایک طاقتور بم دھماکہ ہوا ،حرمت حرم کو ضائع کیاگیا اور عزاداروں ناحق خون بہایاگیا۔               "اناللہ وانا الیہ راجعون"

لہذا اس وقت ہماری ذمہ داری  ہے کہ خواب غفلت سے بیدار ہوں اورجان ومال کی پرواہ کئے بغیر عبادت خانوں کی حفاظت کریں اور شعائر الٰہی کو بے حرمتی سے بچائیں۔

ضروری نوٹ:گزشتہ شمارہ میں ایک مضمون " شمع خاموش کی تابندگی" کے عنوان سے، جس کا بعض حصہ مقدم ومؤخر ہوگیاتھا لہذا مضمون نگار کے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہم اس شمارہ میں اسی مضمون کو دوبارہ شائع کررہے ہیں۔