سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/9/19 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

صحابہ قرآن کی نظر میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیدمہدی حسن کاظمی

صحابہ قرآن کی روشنی میں

صحابی کی تعریف: جسے زندگی کے ایک لمحہ میں بھی پیامبر ؐ اسلام کی زیارت نصیب ہوئی ہو وہ صحابی ہے۔

سنی بھائی دعویٰ کرتے ہیں کہ پیامبرؐ اسلام کے تمام صحابی صفات اورافعال میں برابرتھے۔ لیکن فقط اس دعویٰ پر اکتفا نہیں کرنا چہیے قرآن واحادیث وروایات و واقعات کے اعتبار سے دیکھنا چاہیے کہ تمام صحابی برابرتھے یانہیں۔

چنانچہ اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے قرآن مجید کی کچھ آیات کا تذکرہ کیاجارہا ہے جس میں کسی کو اختلاف نہیں ہے۔

سورہ بقرہ آیہ 204 تاآیہ 207 میں خداوند متعال نے دو صحابیوں کا تعارف کروایا ،ایک صحابی کے بارے میں فرمایا۔"وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ  ٱلْخِصَامِ۔۔۔۔۔۔۔۔  فحسبه جهنم ولبئس المهاد"

خداوند عالم نے کس قدر صریح تعارف فرمایاہے ۔سنی حضرات تین قسم کا دعویٰ کرتے ہیں۔

1۔ سب کے سب صحابی مراتب کے اعتبار سے برابرتھے۔

2۔ جو بھی حاکم ہو اس کا اتباع واجب ہے۔

3۔ جسے پیغمبرؐ اسلام ایک بار بھی سینے سے لگالیں اس پر جہنم کی آگ حرام ہوجاتی ہے۔

خداوندعالم نے ان تینوں آیتوں میں تینوں دعووں کا جواب دیا کہ کچھ صحابی ایسے تھے جو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے پیغمبرؐ  کو تعجب میں ڈالتے تھے اورحقیقت میں شدید ترین دشمن تھے۔اوردوسرے دعویٰ کا جواب مکمل طورپر دیا ہے کہ صحابی بھی ہو اورحاکم بھی بن جائے اگرمفسد فی الارض ہے تو خدا اسے دوست نہیں رکھتا جسے خداوند عالم نے دوست نہیں رکھا اسکی پیروی کیونکر ضروری ہوسکتی ہے۔ اورتیسرے دعویٰ کاجواب یوں ہے کہ جب ایک شخص صحابی بھی ہو اورحاکم بھی بن جائے اگر مفسد فی الارض ہے تو فحسبہ جہنم پس اسکے لئے جہنم کابچھوناہے۔

ان تینوں آیتوں کے بعدایک  اورصحابی کاتعارف کروایا خداوندعالم نے " و من الناس من یشری نفسه ابتغاء مرضاة الله و الله رؤوف بالعباد" اور لوگوں میں کوئی شخص ایسا بھی ہوتا ہے جو اﷲ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنی جان بھی بیچ ڈالتا ہے، اور اﷲ بندوں پر بڑی مہربانی فرمانے والا ہے۔

سنی اورشیعوں کا اتفاق  ہے کہ یہ آیت مبارکہ حضرت علی علیہ السلام کی شان میں ہے اس کے باوجود بھی سبھی سنی حضرات یادلیل پیش کرتے ہیں کہ سورہ حجرات میں آیہ 7 میں خداوند متعال نے صحابہ کے بارے میں فرمایا:"حبب الیکم الایمان "کہ خداوند عالم تم (صحابہ)کے ایمان کو دوست رکھتا ہے ۔اس آیہ مبارکہ میں ضمیر "کم" کو استعمال کیا گیا ہے جو کہ جمع پر دلالت کرتی ہے۔

جیسا کہ کالج کے ایک پروفیسر نے اسی آیہ مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے اپنے کلاس کے شیعہ طلبہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ خداوندمتعال نے ضمیر"کم" کو استعمال جوکہ جمع پر دلالت کرتی ہے پس تمام صحابہ کرام مراد ہیں اورشیعہ صحابہ کو برا کہتے ہیں جبکہ خداوند تعریف اورشان بیان فرمارہاہے۔

اولاً توضمیر جمع سے حصر کہا ں سے ثابت ہو ایہی غیر معقول ہے،دوسرے یہ کہ اگر ضمیر جمع کو ملاک ومعیار سمجھا جائے تو اسی سورہ حجرات کی آیت نمبر 14 میں خداوند متعال نے فرمایا: " قالت الاعراب اٰ منا ۔۔۔۔  ولما یدخل الایمان فی قلوبکم" یہاں پر بھی خداوندعالم نے ضمیر "کم" جوکہ جمع پر دلالت کرتی ہے استعمال کی ہے ،جس میں فرمایا کہ ایسے صحابی مسلمان توکہلاسکتے ہیں لیکن مومن نہیں کہلاسکتے کیونکہ ابھی تک ایمان انکے دلوں میں نہیں اترا ہے تو معلوم ہواکہ بعض صحابہ فقط مومن تھے۔ اسی طرح ہمیں یہ بھی معلوم ہو سکتاہے کہ کون سے صحابہ مومن تھے اورکون سے صرف مسلمان ،تو خداوند عالم نے یہ بھی فرمایا:" إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتابُوا وَ جاهَدُوا بِأَمْوالِهِمْ وَ  و انفسهم فى سبیل اللّه "  مومن تو بس وہی ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے ، پھر انہوں نے اس میں سے کسی طرح کا شک وشبہ نہ کیا اور اپنے مال سے اور اپنی جانوں سے خدا کی راہ میں جہاد کیا ہو۔

اگر زندگی میں کسی وقت بھی اللہ اوررسول پر ایمان لانے میں شک کیاہو تو وہ مومن نہیں ہوسکتاپس  اگر کوئی صحابی کثیر مجمع میں پیغمبر اسلام ﷺ کو یوں خطاب کرے کہ جیسے مجھے آج آپکی نبوت میں شک ہورہا ہے ویسا کبھی نہیں ہو اتو وہ مومن کب ہوسکتاہے ۔

ایک اورمقام پر سورہ حجرات آیہ 6 میں خدانے ایک اورصحابی کا تعارف کروایاہے۔ "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا" ائے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو اسکی تحقیق کرو۔

اس آیہ مبارکہ کی شان نزول میں سنی اورشیعہ بھائیوں کااتفاق ہے کہ جب پیغمبراسلام ﷺ نے ولید بن عقبہ (جو کہ عثمان بن عفان کامادری برادر تھا اورصحابی بھی )کو قبیلہ بنی مصطلق کی طرف اپنا نمائندہ بناکر بھیجاتھا تو اس نے آکر جھوٹ بولا تھا کہ وہاں لوگ نہ زکوٰۃ دیتے ہیں نہ نماز پڑھتے ہیں بلکہ میرے قتل کاارادہ رکھتے ہیں درآن حالیکہ ایسانہیں تھا۔

اور اس کے علاوہ تیس آیات ہیں جو صریحاً دلالت کرتی ہیں کہ تمام صحابہ برابر نہیں تھے بلکہ چہارحصوں میں تقسیم ہوئے ۔کچھ منافق  تھے کچھ مسلمان ،کچھ مومن اورکچھ متقی تھے۔اختصار کو دیکھتے ہوئے ہم یہیں پر اکتفا کرتے ہیں۔