سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/11/13 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

علماء کی یاد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابو جعفر نقوی

علماء کی یاد

علامہ سید محمدباقر نقوی

سلسلہ نمبر3                                        

 از۔ ابو جعفر نقوی پاکستانی

یکم رمضان المبارک 1294ہجری کو بمقام چکڑالہ ضلع میانوالی کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔پرائمری تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد صرف ونحو کی ابتدائی کتابیں اپنے بڑے بھائی حضرت مولانا سیدطالب حسین سے پڑھیں ۔جب مولانا سیدطالب حسین صاحب مزید تعلیم کیلئے باہر چلے گئے توآپ مولانامحمدعیسیٰ صاحب سے پڑھنے لگے۔مولانا محمدعیسیٰ فرقہ اہل قرآن کے جانی عبداللہ چکڑالوی کے صاحبزادے تھے۔اسکے بعد آپ حضرت مولانا سیدشریف حسین صاحب کے پاس جگراؤں ضلع   لدھیانہ پہنچے اور وہاں اسباق حاصل کئے ۔پھر لکھنؤ بھی کچھ عرصہ رہے۔اس کے بعد اورنٹیل کالج لاہور آگئے اورپنجاب یونیورسٹی لاہور سے 199ء میں مولوی فاضل  کاامتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔ منشی فاضل کاامتحان بھی پاس کیا۔کچھ عرصہ اورنٹیل کالج میں مدرس بھی رہے اسکے بعد وطن تشریف لائے  اور 1914ء سے درس تدریس شروع کیا۔

سنہ 1925ء میں چک نمبر 38 خانیوال تشریف لے گئے جہاں تقریباً بیس سال یعنی 1945ء تک علوم آل محمدعلیہم السلام کے دریا بہاتے رہے۔ 1945ء سے 1966ء تک بدھ رجبانہ ضلع جھنگ تشریف لے گئے یہاں کے مدرسہ کے جملہ اخراجات ایک نیک خاتون مسماۃ چندان سیال برداشت کرتی رہیں۔

حضرت مولانا کاحافظہ نہایت قوی تھاجس کتاب کوایک مرتبہ پڑھ لیتے وہ حفظ ہوجاتی ویسے بھی ہرفن کی ایک ایک کتاب آپ کو یاد تھی۔ کافیہ ،شافیہ ،حمداللہ، مسلم العلوم،دیوان المتبنی،سبعہ معلقہ کتابیں جن کاایک ایک لفظ آپ کو ازبر تھا۔آپ طلباء سے عبارت خود پڑھواتے تھے جس کی وجہ سے ان کا ہر طالب علم عبارت پڑھنے میں مشاق تھا۔ یتیمان آل محمدعلیہم السلام کے ساتھ انتہائی اخلاق سے پیش آتے تھے۔ہرایک کی عزت کرتے تھے جس کی وجہ سے اپنے پرائے سب کی آپکی عزت کرتے تھے۔

عربی ادب پر آپکو کمال حاصل تھا۔ جب آپ سند فراغ حاصل کرکے وطن واپس آئے تو چکڑاکے ایک سنی عالم مولانا احمدخان(م۔1350)نے آپ سے تحریری مناظرہ چھیڑا اور ایک عربی نظم جو دس اشعار پر مشتمل تھی لکھ کر بھیجی حضرت مولانا نے اس کے جواب میں اشعار لکھ کر بھیجےجو "فلیشھد الثقلان انی رافضی" کے وزن پر تھے۔اس کے بعد مولانا احمد نے کوئی تحریر نہیں بھیجی۔

تقسیم  سے قبل 45 سال تک آپ عشرہ محرم اورچہلم کی مجالس جگراؤں ضلع لدھیانہ میں پڑھتے رہے ۔ان مجالس کامجموعہ بنام " المجالس المرضیہ فی اذکار العترۃ النبویہ" حضرت مولاناحسین بخش روح نے شائع کیا۔

وفات: 8/صفرالمظفر 1386ھ کو آپ بیمار ہوئے چنانچہ آپ نے اپنے لڑکوں سے کہا کہ مجھے میری زمین کھاڈرضلع بھکر لے چلو۔چنانچہ وہاں چلے گئے اور 19/ صفرالمظفر1386ھ کو واصل بحق ہوگئے ۔آپ نے اپنے تینوں صاحبزادوں مولاناسیدناصرالدین حسین ، مولانا سیدضیاء الدین حسین، مولاناسیدزین الدین حسین کو علم دین سے آراستہ کیا۔

آپ کے شاگرد:یوں تو آپ کے شاگرد کافی ہیں لیکن ان میں سے بعض کاتذکرہ کیاجارہاہے۔

1۔ استاد العلماء حضرت مولانا سید محمد شاہ۔

2۔ استاد العلماء حضرت مولانا اختر عباس نجفی مدظلہ العالی۔

3۔ استاد العلماء حضرت  مولانا سید گلاب علی شاہ نقوی مرحوم۔

4۔ مولاناسیدغلام عباس  مدظلہ۔

5۔ مولاناخواجہ محمدلطیف انصاریؒ۔

6۔ مولاناسیدمحبوب علی شاہ۔

7۔ مولاناسیدآقامحسن شہیدؒ۔

8۔ حضرت مولاناعلامہ حسین بخش۔

9۔ حضرت مولاناسیدمحسن علی چھینوی ؒ

10۔ حضرت مولانا محمدحسین نجفی ڈھکو مدظلہ۔

مندرجہ بالاعلماء کے علاوہ حسب ذیل علماء بھی آپ کے شاگرد تھے۔

مولاناسیدعبدا الستار شاہ،مولانا سیدعبدالحسین خان،مولانا سید الطاف حسین نقوی ،مولانا خادم حسینؒ