سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/11/13 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

انوار قدسیہ

انور قدسیہ معصومین ؑ کی حیات طیبہ کامختصرتذکرہ

معصوم چہارم  ۔امام دوم  

نام ونسب : ۔الحسن ابن علی علیہما السلام کہ طول تاریخ میں اس سے پہلے کسی کانام "الحسن" نہیں رکھاگیا۔

مشہورالقاب:مجتبیٰ ،زکی، ناصح ،سبط اکبر، سید شباب اہل الجنۃ

کنیت:ابومحمد

پدربزرگوار: علی ابن ابی طالب علیہ السلام

مادرگرامی: فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا

ولادت: 15 رمضان المبارک شب سہ شنبہ سنہ 2 یا3 ہجری قمری۔

جائے ولادت: مدینہ منورہ بادشاہ فارس یزد جرد کے عہد سلطنت میں۔

مدت حیاتَ:47، یا48سال جس میں سات سال وکچھ ماہ اپنے نانا رسول اللہ ﷺ کی ساتھ بسر کیا اورتقریباً 37 سال تک اپنے والد علی مرتضیٰ کے ساتھ رہے اور ان کے دس سال کے بعد اس دار فانی کو الوداع کہا۔

مدت امامت: دس سال ،21 رمضان سنہ 40 ہجری سے جام شہادت نوش فرمانے تک۔

دلائل امامت: نص نبوی ،جامہ عصمت ،اوربہت سارے معجزات مثلاً غیب کی باتیں بتاناان کی امامت پر دلیلیں ہیں۔

نقش انگشتری: "العزۃ للہ

ازواج: ام بشربنت ابو مسعود خزرجی ، خولہ بنت منظومہ فزاریہ، ام ولد،ام اسحاق بنت طلحہ ،جعدہ بنت اشعث ابن قیس۔

اولاد ذکور:زید، عبدالرحمن، حسین، طلحہ ، حسن مثنیٰ، قاسم

اولاد اناث: ام حسن، ام حسین، فاطمہ، ام سلمہ، ام عبداللہ ،، رقیہ۔

شہادت: روز ،پنجشنبہ 27 یا28 صفر سنہ 50 ہجری۔

سبب شہادت:  آنحضرت کی زوجہ جعدہ بنت اشعث کازہر دینا معاویہ کے حکم سے۔

مدفن:جنت البقیع، مدینہ منورہ میں اپنی جدہ ماجدہ فاطمہ بنت اسد کے ساتھ مدفون ہیں۔

نمونہ اقوال:یہ وہ قرآن ہے جس میں چراغ اورقلب کے لئے شفاہے۔جولانی کرنے والا جس میں نگاہوں کو گردش دیتاہے۔ اوراصحاب الصفا(بندگان صالح)کیلئے اس میں دل بستگی کا سامان ہے اور اس میں تدبروتفکربابصیرت دل کی حیات ہے جس طرح صاحب بصارت تاریکیوں میں نور کے سہارے راستہ طے کرتاہے ۔

اخلاق مومن یہ ہے کہ دین میں قوت وملائمت کے ساتھ کریم ہو، علم میں استحکام اورحلم کی صورت میں علم سے وابستہ ہو تفقہ میں وسعت اورعبادت الٰہی میں میانہ روی اختیار کرے حرص وطمع سے گریزاں،نیز عین استقامت کی صورت میں نیکی بجالائے اپنے دشمن پر ظلم وستم نہ کرے اوراپنے دوستوں کی نسبت گناہ وعصیان کامرتکب نہ ہو اس چیز کو نہ چاہے جو اس کے لئے ثابت نہ ہو اور نہ ہی اس حق کا منکر ہوجائے جو اس کیلئے ثابت ہو عیب جوئی ،سخت گیری اورتجاوزانہ اقدام سے پر ہیز کرے حالت نماز میں خاشع ومتواضع نظرآئے ادا ئے زکوٰۃ میں وسعت قلبی کا مظاہرہ کرے آسود گی وراحت میں شکر بجالائے سختی وبلا میں صابر نیز پروردگار کے عطیات پر قناعت کرے غم وغصہ کی طمع نہ کرے بخل اس سے ہمکنار نہ ہو لوگوں کے درمیان میل ملاپ سے رہے تاکہ ان کی حالت سے باخبر ہو سکے سلامتی کو پیش نظر رکھتے ہوئے سکوت اختیار کرے خواہ اس پر ظلم ہی کیوں نہ ہو اورعزیز ذوانتقام کے فیصلے کامنتظررہے۔