سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/11/12 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

مشہدمقدس تاریخ کی نظرمیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اقبال حیدر حیدری

مشہد مقدس  تاریخ کے آئینے میں

اقبال حیدرحیدری۔قم

حضرت امام رضا علیہ السلام 11 ذیقعدہ سنہ 148 ھ مدینہ منورہ میں ، پنجشنبہ کے روز متولد ہوئے ۔آپکے پدر بزرگوار حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اورآپکی والدہ گرامی جناب نجمہ خاتون(س)ہیں۔

آپ 55 سال 10 دن کے بعد 29 صفر سنہ 203ھ کو بروز جمعہ زہر آلود انگور کے ذریعے شہید ہوئے آپ کی قبر منور مشہد مقدس میں کڑوروں لوگوں کی زیارت گاہ بنی ہوئی ہے اورہر روز ہزاروں لوگ زیارت سے مشرف ہوتے ہیں۔

مشہد مقدس سنہ 202ھ سے پہلے ایک گاؤں تھا کہ جس کو تاریخ نے "سناباد "ضبط کیا ہے یہ دیہات شہر طوس کے علاقے میں ہے شہر طوس اور سناباد میں 30 کیلو میٹر کی دوری بتائی جاتی ہے لیکن اب شہر طوس نہیں رہا ہے بلکہ ایک خرابہ ہے اس کے برعکس سناباد سناباد باقی نہیں رہا بلکہ مشہد مقدس بن چکا ہے ۔

سنا باد میں ایک باغ ،حمید بن قحطبہ کا تھا جس میں امام رضا علیہ السلام کو شہادت کے بعد دفن کیا گیا اوراسی باغ میں سنہ 193 ھ میں ہارون الرشید نے سیاست کے تحت امام علی الرضا علیہ السلام کو اپنے باپ کے برابر ہی دفن کیا ہے۔

سناباد کے پاس ہی نوغان نام کا ایک دیہات تھا یہ دونوں دیہات امام رضاعلیہ السلام کی شہادت کے بعد بڑھتے بڑھتے ایک دوسرے سے متصل ہوگئے اور شہر کی صورت اختیار کرلی اوراس شہر کو"المشہد"یا"المشہدالرضوی"کہنے لگے اوراس کے ساتھ امام علیہ السلام کے زائرین میں بھی اضافہ ہوتاگیا۔

چنانچہ  حافظ ابر واتی اپنی کتاب "مطلع الشمس "میں تحریر فرماتے ہیں کہ والی نیشار پور سوری ابن المتز نے کہ جس کو سلطان مسعود غزنوی نے اس کو اس منصب پر فائز کیا تھا سنہ 428ھ میں روضہ مبارک پر گنبد مطہر کو تعمیر کرایا تھا اس سے قبل بھی روضہ مبارک کی تعمیر ہوچکی تھی لیکن تاریخ میں محمود غزنوی کانام سرفہرست ہے کہ جس نے روضہ مبارک کی تعمیر نوزیبائی کی بنیاد ڈالی یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس  کے باپ ہی نے اس عمارت کو ویران کرڈالا تھا اوراسی وجہ سے محمود غزنوی نے ایک روز امام رضا علیہ السلام کو خواب میں کہ امام علیہ السلام فرمارہے ہیں کہ ایسا کب تک رہے گا؟ وہ سمجھ گیا کہ امام اپنے روضے کے متعلق کہہ رہے ہیں فوراً اس نے روضہ مبارک کی تعمیر شروع کردی یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مشہد اورطوس میں سنہ 329ھ، 463، 511، 616، 718، 793، 905، 917، اوربالآخرہ 1142ھ میں عظیم تحولات آئے۔ جس  کی بناء پر چند مرتبہ شہر مشہد وطوس ویران ہوئے لیکن امام رضا علیہ السلام کی برکت سے دوبارہ آباد ہوگئے۔

چنانچہ ابن اثیر اپنی کتاب میں سنہ 617-616ھ کے حالات میں تحریر کرتاہے کہ" جب مغلوں نے خراسان پر حملہ کیاتونیشاپور کے قتل وغارت کے بعدمشہد کا رخ کیااور روضہ امام علیہ السلام اور قبرہارون الرشید کو بھی ویران کردیا لیکن ایک دوسرا محقق ابن اثیر ہی سے نقل کرتا ہے کہ جب طائفہ غزنی نے سنہ 556ھ میں طوس پر حملہ کیااوروہاں کے لوگوں کو قتل کر ڈالا اور ان کامال واسباب تاراج کر ڈالا لیکن یہ طائفہ امام علیہ السلام کی بارگاہ سے متعرض نہیں ہوا۔

سنہ 725ھ میں جہانگرد مشہور ابن بطوطہ جب خراسان پہنچا تو وہاں کی منظر کشی کچھ اس طرح کرتاہے "جب ہم پہنچے اورامام رضا علیہ السلام  کے مدفن پر بھی گئے ۔مشہد ایک بڑا اور آباد شہر ہے یہاں پرمختلف قسم کے میوہ جات کی بھر مارہے اور اسی طرح بہتے ہوئے پانی کے چشمے بھی بکثرت موجود ہیں اورپھر لکھاہے" روضے کے اوپر ایک بڑی گنبد بنی ہوئی ہے اور وہیں پر ایک مسجد اورایک مدرسہ بھی بناہوا ہے جو کہ بہت خوبصورت ہے اوراس کی دیواریں خوبصورت پتھروں سے سجی ہوئی ہیں۔

اس نے اپنے بیان کو جاری رکھتے ہوئے آگے لکھا کہ امام علیہ السلام کی قبرپر ایک صندوق ہے جو سونے کے ورق سے سجا ہواہے اوراس کے اوپر سیمیں کی قندیل لٹکی ہوئی ہے۔

ابن بطوطہ کی اس عبارت سے یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ اس قبر کے مقابل امیر  المومنین ہارون الرشید کی بھی قبرہے اورجس وقت رافضیان اپنے امام کی زیارت کیلئے جاتے ہیں تو پہلے ایک ٹھوکر ہارون کی قبر پر مارتے ہیں اورپھر اپنے امام کو سلام کرتے ہیں ۔سنہ 814 میں گوہرشاد(شاہ رخ کی بیوی)نے اس دنیا کو خیر بادکہا اورمرحومہ کو امام علیہ السلام کے جوار ہی میں دفن کردیا گیا۔

یہاں اس بات کو فراموش نہیں کیا جاسکتاہے کہ خانم گوہر شاد اتنی مومنہ تھی کہ جس کی شاہد وہ مسجد ہےجو گوہر شاد کے نام سے بھی مشہور ہے تاریخ  نے قلمبند کیاہے کہ اسی سال اس مسجدکی تعمیر مکمل ہوئی تھی۔

سنہ 821 ھ کا مشہور واقعہ یہ ہے کہ شاہ رخ (شوہر گوہرشاد)نے امام علیہ السلام کے روضے مبارک پر تین ہزار مثقال سونے کی قندیلیں چڑھائیں۔ سنہ 856ھ میں  تاریخ نے ایک معجزہ نقل کیاگیاہے کہ جب مرزا علاء الدولۃ کی بینائی جاتی رہی تو وہ امام علیہ السلام کے روضے پر پہنچتاہے اورامام علیہ السلام سے متوسل ہو کر اپنی بینائی لیکر اس بارگاہ ثامن الحجج سے واپس پلٹتاہے ۔

سنہ 931ھ میں شاہ طہماسب نے مشہد کو عروج دیا اوربہت سی عمارتیں حرم مقدس میں بھی بنوائی لیکن شاہ طہماسب سے پہلے ہمایوں ہندی نے جب اپنی حکومت سے ہاتھ دھولیاتو شاہ طہماسب سے درخواست کی کہ اگر مجھے پھر دوبارہ حکومت مل جائے تو میں دوبارہ مشہد مقدس کو آباد کردونگا۔ لیکن شاہ طہماسب نے انکار کردیااورخوداس کام کو انجام دینے میں مشغول ہوگیا۔

952ھ میں ازبک نے مشہد مقدس میں قتل عام کیا لیکن اس کے شاہ عباس نے 987ھ میں فتح مشہد کے ارادے سے نکلا اورزیارت امام رضا علیہ السلام سے مشرف ہوا اور جنگ وجدال کے بعد سنہ 996ھ میں شاہ عباس رسماً تخت سلطنت پربیٹھااورمشہد کو آباد کرنے میں مشغول ہوگیا اس نے روضہ مبارکہ پر چند اہم عمارتیں بنوائی ہیں البتہ دور صفویہ اورقاجاریہ میں بھی ان عمارتوں  میں اضافہ ہواہے سنہ 10 ھ سے اب تک مشہد مقدس مرکز تشیع اورمرکز علم ودانش اسلامی ہے لیکن انقلاب اسلامی کے بعد سے اس حرم مقدس میں  بہت زیادہ ترقی ہوئی ہے۔

بہت سے صحن وجود میں آئے اورحرم مقدس کے مختلف کارخانوں  میں کام ہورہاہے مشہد مقدس کی بہت دور دور تک کھیتی ہوتی ہے حرم مقدس میں ایک عظیم کتابخانہ ہے جس سے ہر روز ہزاروں افراد استفادہ کرتے ہیں۔

جب مومنین زیارت سے ہوتے ہیں تو ان کو امام رضا علیہ السلام کے دسترخوان پرطلب کیا جاتاہے۔آخر میں دعا کرتاہوں کہ پالنے والے ہم زیادہ سے زیادہ تعلیم  حاصل کرنے کی توفیق عنایت فرماتاکہ محمد وآل محمد کی صحیح معرفت کے ساتھ خدا کا تقرب حاصل کرسکیں۔