سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/11/12 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

علماء کی یاد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیدسجاد عبقاتی

علماء کی یاد

(صاحب تحفۃ الازھار)

سلسلہ نمبر4                                                         سیدسجادعبقاتی

آیت اللہ  سرکارناصرالملت اعلیٰ اللہ مقامہ

آپ کانام نامی واسم گرامی سیدناصر حسین بن سیدآیت اللہ میرحامد حسین موسوی ہے۔کنیت ابوالفضل اورلقب نجم الدین تھا۔چونکہ آپ روز تولد حضرت اسحاق  بن ابراہیم علیہ السلام پیداہوئے تھے اسی بناپر آپکے عم محترم نے آپ کو"اسحاق "کے نام سے موسوم فرمایا ۔آپ کے دیگر القاب "ناصرالملۃ" صدرالمحققین" شمس العلماء" قابل ذکر ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کی "بلند مقامی "کے شاہد ہیں۔

 (واضح رہے کہ صدرالمحققین کالقب والدماجد ،ناصرالملۃ  کالقب علامہ میرزا شیرازی مرحوم ،اورلقب شمس العلماء گورنمنٹ برطانیہ نے دیاتھا ) آپ کا سلسلہ نسب(27)واسطوں سے حضرت حمزہ بن امام موسیٰ کاظم علیہ السلام تک پہنچتاہے۔

ولادت ونشونما

سرکار ناصرالملۃ بتاریخ 19 جمادی الثانی 1284ھ یوم پنجشنبہ دارالعلم لکھنؤ میں متولدہوئے ۔آپ نے ایک  صاحب علم وفضل وکمال خانوادہ میں آنکھ کھولی اور اسی نورانی ماحول میں تربیت پائی آپ کے والدماجداعلیٰ اللہ مقامہ نے پروان چڑھایایہاں تک کہ آپ سن تمیز کو پہنچ گئے۔

کیفیت تحصیل علم

سرکار ناصرالملۃ نے ابتدائی تعلیم اپنے والدماجد سے حاصل کی پھرخاندانی روایت کے مطابق علم دین کی تحصیل شروع کی۔ چونکہ  آپ فطرتاًذکی ،ذہین ، محنتی، اورمستقل مزاجی کے مالک تھےبنابرایں 19 سال کی عمر میں تمام رائج کتب درسی ختم کر ڈالیں اوران میں مہارت حاصل کرلی۔ مولوی عبدالحئ لکھتے ہیں کہ آپ نے والد علام سے سات مرتبہ"نہج البلاغہ"کو پڑھ کر عربی ادیبات پر عبور حاصل کرلیا۔(نزہۃ الخواطر طبع حیدرآباد)

آپ نے علم فقہ ، اصول، فلسفہ، کلام اورادیبات میں جن اساتذہ کے سامنے زانوئے ادب تہ کئے ان میں والد محترم کے علاوہ اس دور کے جلیل القدر عالم دین علامہ مفتی عباس اعلیٰ اللہ مقامہ خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔

آپ کے علمی ومذہبی مشاغل

مولانا ناصرالملۃ مرحوم بڑی مختصرمدت میں کسب فیض کرکےکمال علمی وبصیرت ذہنی کے مالک بن گئے اورپھر تصنیف وتالیف ،درس وبحث ،فتوے وامامت وقضاوت جیسے دینی امور میں حصہ لینا شروع کردیا ۔ان مشاغل میں آنجناب کی تمام تر توجہ تکمیل "عبقات الانوار"کی طرف مرکوز ہوکر رہ گئی تھی  سرکار ناصرالملۃ نے والد علام کی زندگی ہی میں "عبقات"کاتحقیقی کام شروع کردیا تھا اورقریب سو صفحے اس انداز سے تحریر فرمائے تھے کہ مرحوم صاحب عبقات اپنے نورنظر کو "صدر المحققین"کے لقب سے نواز دیا تھا اورآگے چل کر یہی لقب آپکے مدارج علمی کی ضمانت بنا۔

صدر المحققین اکابر علماء کی نظرمیں

سرکارناصر الملۃ اپنے تبحر علمی اوربصیرت دینی کی بناپر بیرون ملک کے ہم عصر علماء وفقہاء میں بھی نمایاں حیثیت رکھتے تھے چنانچہ جن اکابر ین سے آپ کے عالمانہ تعلقات تھے ان میں مجدد شریعت میرزا حسن شیرازی مرحوم، علامہ نوری طبری صاحب مستدرک الوسائل اورعلامہ سیداسماعیل صدراعلیٰ اللہ مقامہ قابل ذکرہیں۔ ان حضرات سے آپکی باقاعدہ خط وکتابت جاری رہتی تھی چنانچہ مجدد شریعت حضرت آیت اللہ العظمیٰ میرزامحمدشیرازی اعلیٰ اللہ مقامہ اپنے ایک خط میں یوں رقمطرازہیں۔

"خداوند منان آپکوامام عصر (عج)کی تائیدات کے سائے میں محفوظ ومصون رکھے اورآپ کونشر علوم آل محمد(ص) اورترویج دین مبین کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطافرمائے آپ نے جو ایک جلد عبقات الانوار" حدیث الطیر" ارسال فرمائی تھی دستیاب ہوئی ۔

خداوندعالم والدماجد ودیگرسبھی کے درجات کو بلند فرمائے اورآنجناب وتمام خادمان دین وشریعت کو تائید وتوفیق کرامت فرمائے۔ اطال اللہ بقائکم ومتع اللہ المسلمین بوجودکم۔" 

    عبدہ محمدحسن شیرازی