سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/11/13 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

اداریہ

اداریہ

"نحمدک اللھم علیٰ نعمائک ونصلی ونسلم علیٰ سیدانبیائک وعلیٰ اھل بیتہ الائمۃ الھدیٰ"

قرآن کریم کلام کلیم اوراسلام ومسلمین کا آئین ہے اس کاتکامل یہی ہے کہ وہ حق مطلق ہے یعنی ہرطرح کے باطل سے پاک ومنزہ  وہ کہ جس میں چھوٹاسے چھوٹا باطل بھی نہ پایاجائےخداوند متعال حق مطلق ہے اس کی ذات باطل سے منزہ ہے ۔اوراسی طرح اسکی کتاب بھی حق مطلق ہے۔ چونکہ خداوندمتعال حق مطلق ہونے کی وجہ سے ازلی وابدی ہے تو اسکی کتاب بھی اسی لئے ابدی وجاودانی ہے۔" وَإِنَّہُ لَکِتَابٌ عَزِیزٌ لاَیَاٴْتِیہِ الْبَاطِلُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَلاَمِنْ خَلْفِہِ تَنزِیلٌ مِنْ حَکِیمٍ حَمِید "(فصلت /42،43)

ممکن ہے کہ شاید آپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوکہ:

 اگرقرآن کا ہونا اتنا ہی محکم ومستحکم ہے کہ باطل اس کو نہیں پاسکتاتو مسلمانوں میں کیوں اتنے فرق وگروہ ہیں جبکہ ان کے پاس قرآن جیسی کتاب موجودہے؟

تو اس کےجواب میں ہم کہیں گے کہ حق پر باطل کاشامیانہ  ہو اور باطل حق کے لباس میں حقیقت کاماسک لگاکر میدان میں آجائے تو سادہ لوح افراد کو فریفتہ کرلیتاہے اورکچھ ہی دیرمیں ان کی فکروں کواپنی طرف متوجہ کرلیتاہے ۔امیربیان مولائے متقیان حضرت علیؑ فرماتے ہیں۔" فلوان الباطل خلص من مزاج الحق لم يخف على المرتادين، و لو ان الحق خلص من لبس الباطل انقطعت عنه السن المعاندين، و لكن يؤخذ من هذا ضغث و من هذا ضغث فيمزجان" اگرباطل  حق کی آمیزش سے الگ رہتاتوحق کے طلبگاروں پر مخفی نہ ہوسکتا اوراگرحق باطل کی ملاوٹ  سےالگ رہتادشمنوں کی زبانیں نہ کھل سکتیں لیکن ایک حصّہ اس میں سے لیاجاتا ہے اور کچھ ایک  اس میں سے پھردونوں مِلا دیاجاتا،اورایسے ہی مواقع پر شیطان اپنے ساتھیوں  پرمسلط ہوجاتاہے۔

مسئلہ ولایت،غدیرغم وآیت " الیوم اکملت لکم دینکم"ونیز آیت مباہلہ سورہ آل عمران آیت 61 اس بات کو روشن کرتی ہے کہ مسلمانوں نے لباس باطل کونور حق پر ڈال دیاکہ آج مسلمان متفرق ہوگئے اورتعجب خیز ہے کہ جن کی کتابوں میں (15000)پندرہ ہزار حدیثیں مولائے متقیان علی ؑ اوراہل بیت علیہم السلام کی فضلیت میں آئی ہوں وہ مولا کی ولایت ووصایت کے منکرہوں۔

اورجب پیغمبر اکرم ﷺ نے غدیرخم میں مولاکو اپناخلیفہ بنایااوریہ خبراطراف واکناف میں منتشر ہوئی (چونکہ اس سال خانہ کعبہ میں ایک لاکھ سے زیادہ حاجی تھے)تو نعمان بن حارث فہری آیا اورپیغمبرؐ سے کہنے لگا: آپ ؐ نے توحید خداکی دعوت دی، ہم نے اس کی گواہی دی۔آپ نے نماز،روزہ حج وزکات کاحکم دیا، ہم نے انجام دیا۔یہی کیاکم تھاکہ مزیداس جوان(مولاکی طرف اشارہ کرکے)کواپناجانشین بنایا۔آیایہ خود آپکی طرف سے ہے یاخداکی طرف سے۔

پیغمبرؐ نے فرمایا: خدا کی قسم کہ اس کے علاوہ کوئی خدانہیں یہ حکم خداہے۔بس نعمان نے اپنے چہرہ کورسولؐ کی طرف سے گھماکرکہا:" اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ"پروردگار اگریہ کلام حق تیری طرف سے ہے توہم پرآسمان سے پتھربرسادے یا عذاب  الیم نازل کردے ۔

ابھی یہ بات تمام نہ ہونے پائی تھی کہ ناگہاں آسمان سے ایک پتھرگرا اور وہ مرگیا،کہ جس کے متعلق خداوندمتعال نے سورہ معارج کی ابتدائی تین آیتوں میں ذکرفرمایاہے۔اس مقام پر قول رسولؐ یاد آتاہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ خداوندعالم حدیث قدسی میں ارشاد فرماتاہے۔:"لواجتمع الناس کلھم علیٰ ولایۃ علیؑ ماخلقت النار"(دمعۃ الساکبہ ج2ص55)اگرتمام لوگ ولایت علیؑ کوقبول کرلیتے تومیں جہنم کوخلق نہ کرتا۔