سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/9/19 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

علماء کی یاد

علماءکی یاد

"آیۃ اللہ العظمیٰ سید امجدحسین صاحب اعلیٰ  اللہ مقامہ"

مولانا سید امجد حسین صاحب بن مولانا منورعلی صاحب کا وطن رسولپور سونی ضلع الہ آباد تھاآپ کی ولادت 1280ھ مطابق بہ 1864ء میں ہوئی۔

آپ کے والد ماجد ایک عالم وفاضل تھے۔ آپ اپنی ابتدائی تعلیمات اپنے والد کے حضور تمام کرلکھنؤ تشریف لے گئے اورمولانا محمد حسین صاحب قبلہ ،مفتی محمدعباس صاحب قبلہ، مولاناسید احمد علی محمدآبادی صاحب قبلہ اورتاج العلمامولانا محمد علی صاحب قبلہ کے محضر سے استفادہ کرکے اجتہاد کے اسناد واجازےحاصل کیے۔

مولانابہت ہی ذہین ،محنتی، بااستعداد وباتقویٰ تھے۔ 1305 ھ میں آپ نے تصنیف ،تالیف وتدریس کاکام شروع کیا اوردس سال لکھنؤ میں قیام کرنے کے بعد الہ آباد بحیثیت امام جمعہ وجماعت تشریف لائے اور 1319ھ میں عراق تشریف لے گئے ،وہاں تقریبا دس سال قیام کرنے کے بعد 16/ربیع الثانی 1319ھ کو ہندوستان واپس تشریف لائے۔

 آپ نے عراق میں دس سال کے قیام کے دوران متعدد اساتید بزرگ سے فقہ، اصول،حدیث وتفسیر میں کمال حاصل کیا اورآیۃ اللہ شیخ محمد طہٰ نجفی، آیۃ اللہ محمدعلی رشتی نجفی اور آیۃ اللہ شیخ محمد کاظم طباطبائی جیسے بزرگ اساتید سے اجازہ اجتہاد ونقل روایات حاصل کیا، جناب محمد طہٰ نجفی صاحب نے اپنے اجازہ میں تحریرفرمایا:"حصلت لہ ملکۃ الاجتہاد وقوۃ الاستنباط فھو فی المجتھدین الاعلام الذی یجب علیٰ اھل تلک الاطراف اتباع اقوالہ واشارہ وراد علیہ راد علی اللہ"

نجف اشرف سے واپسی کے بعد آپ احکام شریعت کی تبلیغ وترویج میں مشغول ہوگئے ، ماہ مبارک رمضان سے آخر ماہ ذی الحجہ تک الہ آباد میں قیام کیا ،آپ اپنی خوش اخلاقی، خصلت مہمان نوازی اورسخاوت کی وجہ سے سبھی کے محبوب و دوست تھے۔کہاجاتاہے کہ کسی غیر مومن سے کچھ نہیں کھاتے تھے بلکہ اپنے کھانے کا سامان ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے۔

آپ نے چک الہ آباد میں 1327ھ میں مدرسہ کی تاسیس کی اورمجلہ (اصلاح کھجوا)کے مطابق 23/ ربیع الاول 1350ھ میں رحلت فرمائی۔

آپکی تصانیف:

1۔ زبدۃ المعارف در اصول دین

2۔ وسیلۃ النجاۃ فی احکام الصلاۃ(اردو مطبوعہ)

3۔ الصفائح الابدیہ فی شرح الوجیزۃ علامہ بہائی (عربی،1305ھ ، مطبوعہ)

4۔ خلاصۃ الطاعت در احکام جمعہ وجماعت (اردو)

5۔ حاشیۃ الرضیہ علی البھجۃ المرضیۃ۔

عن الحسین بن علیؑ:

"للسلام سبعون حسنۃ تسعۃ وستون للمبتدی و واحد للراد" (تحف العقول ص177)