سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/8/22 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

اداریہ

اداریہ

عید روزہ داروں کیلئے ہے ، عید روزہ داروں کاانعام ہے، عید قبولیت روزہ کاپیغام ہے، عید راتوں کی عبادت کاتشکر ہے ،عید گناہوں سے پرہیز گاری کانام ہے۔

عید زبان عربی کالفظ ہے جس کے معنی لغت میں باز گشت کے ہیں ، اسلام میں ان ایام کو دو  وجہوں سے کہاگیاہے۔

1۔ پہلی علت یہ ہےکہ لوگ اس دن مخصوص اعمال ،توبہ ودعا کے ذریعہ خداوند متعال کے قریب ہوتے ہیں اور خداوند متعال بھی اپنے بندگان کو ہدیہ مغفرت عطاکرتے ہے۔

جناب موسیٰؑ کی داستان میں آیاہے کہ :" قَالَ مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّينَةِ "جناب موسیٰ ؑ نے کہا کہ تمہارا وعدہ کادن زینت (عید)کادن ہے علامہ طباطبائی  ؒ فرماتے ہیں کہ آیت کے سیاق سے معلوم ہوتاہے ۔کہ قوم موسیٰ ایک مخصوص دن بن سنور کے بازار وں کو آراستہ کرتے اورعید کے عنوان سے جشن مناتے تھے ۔حضرت موسیٰ ؑ نے اس روز خدا کی غیبی مدد سے جادو گروں کے تمام مکرو سحر کو برباد کیا اور فاتح کی حیثیت سے شہر میں واپس آئے۔

2۔ دوسری علت یہ ہے کہ خداوند متعال اپنے مومن بندگان کو فوائد جمیلہ اور عائدات حزیلہ عنایت کرتاہے رسول خداؐ فرماتے ہیں روز عید خدا فرشتوں سے فرماتاہے کہ : جنہوں نے اپنے وظائف پر عمل کیا ان کی جزاکیاہوگی۔

فرشتے فرماتے ہیں: خدایا ان کی جزا تیرے ہاتھ میں ہے۔

توخداوند متعال فرماتے ہیں:"اشھدوا ملائکتی انی غفرت لھم"(شجرہ طوبیٰ /ج1، ص19) فرشتو گواہ رہنا میں نے اپنے بندوں کو بخش دیا۔

قرآن مجید میں خداوند متعال نے چار جگہوں پرعید کاذکر کیاہے:

1۔ حضرت عیسیٰ کے زمانے کی عید :یہ عید حضرت عیسیٰ کی امت میں رائج تھی ،اس دن حضرت عیسیٰ نے خداوند متعال سے مائدہ طلب کیاتھا:"قالَ عيسَي ابْنُ مَرْيَمَ اللَّهُمَّ رَبَّنا أَنْزِلْ عَلَيْنا مائِدَةً مِنَ السَّماءِ تَکُونُ لَنا عيداً"(مائدہ/ 114)

2۔ عید کفار: "وَالَّذِينَ لَايَشْهَدُونَ الزُّورَ"( فرقان آیت 72 )، خداکے مخلص بندوں کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے۔کہ وہ "زور"کی شہادت نہیں دیں گے ،"زور"سے مراد نصاریٰ وکفار کی عیدہے،پس آیت کامفہوم یہ ہوگا کہ  خداکے خالص بندے کفار کی محافل اوران کےجشنوں میں شرکت نہیں کریں گے ۔

یا روزہ داروں کو آگاہ کیاجارہا ہے کہ عیدفطر کے دن رقص، غنااور حرام موسیقی کی محافل میں شرکت نہیں کریں گے کیونکہ یہ چیزیں نصاریٰ وکفار کی عید سے تعلق رکھتی ہیں۔

3۔ عید فطر: قرآن کہتاہے کہ " قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَکَّى" تزکی سے مراد زکات فطرہ ،یعنی وہ روزہ دار جو فطرہ نکالے وہ کامیاب وفلاح یافتہ ہے،اسکے بعد خداوند متعال فرماتاہے؛ " وَ ذَکَرَ اسۡمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی" نماز عیدالفطر پڑھو۔

4۔ عید قربان: قرآن مجید میں ہے کہ:"إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ، فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ، إِنَّ شَانِئَکَ هُوَ الْأَبْتَرُ" نحرسے مراد قربانی کرنااور اورصل سے مراد نماز عید ہے۔

اتحاد بین السلمین:عید کے روز مسلمانوں کا عظیم اجتماع اسلام کے اہم ہدف"اتحاد"کی عکاسی کرتاہے ،اس عظیم دن اگر مسلمان آپس میں سوء تفاہم دور کرکے دل کی نقاہت کو ختم کردیں اور بلا تفریق ایک دوسرے کے گلے لگ جائیں ،تویہ وہ بزرگ وعظیم دن ہوگا کہ مسلمان خداوندعالم سے اپناانعام حاصل کرسکتے ہیں۔

اور ظاہر ہے کہ مسلمانوں کی اس وحدت سے دشمن ناراض وغصہ ہوگا اور شیطان نفس خوار و ذلیل ہوگا ۔اور یہی مسلمانوں کی ظاغوت پر فتح ہوگی۔

امام رضا علیہ السلام جب مامون کی دعوت پر مدینہ سے ایران تشریف لائے اوراسکے اصرار پر شرائط کے ساتھ آپ ؑ نے ولی عہدی قبول لی تو عید کے موقع پر اس نے خواہش ظاہر کی کہ نماز عید پڑھانے آپ تشریف لے جائیں ،آپ نے منع کیا مگروہ نہیں ماناتوآپؑ نے فرمایا:

ہم اس شان سے جائیں گے جیسے رسول خداؐ اور امیرالمومنینؑ جایاکرتے تھے۔

مامون نے کہا: جیسی آپ کی مرضی۔ اور محافظوں ،لشکر وعوام کو حکم دیا کہ آپؑ کے احترام میں گھر سے باہر نکلیں ۔

جس راستہ سے آپؑ کو گزرناتھا لوگ اس راستہ پر آکر آس پاس مکانوں کی چھتوں پر، عورت،مرد بچے،اوربڑے سب جمال الہی کاانتظار کرنے لگے۔

صبح ہوئی ،امام ؑ نے غسل کیا،سفید عمامہ کو سر پر رکھاعصا ہاتھ میں لیا اور برہنہ پاگھرسے باہر آئے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کرکے چار تکبیرکہا، جیسے تمام فضاء، دردیوار آپ ؑ کے ساتھ پوری جمعیت ،محافظین دولتی وافراد شہر بھی صدائے تکبیر بلند کرنے لگے۔پوراشہر گریہ ،صیحہ ونالہ میں تبدیل ہوگیا۔محافظین اپنی سواریوں سے نیچے آئے اور برہنہ پا ہوگئے ۔کسی میں ہمت نہیں تھی کہ لوگوں کو گریہ سے روک لے سب بے اختیار فریاد کررہے تھے۔ امامؑ تشریف لیجارہے تھے اورہر دس قدم پر تکبیر کہتے،جیسے زمین وآسمان اور اطراف کی دیواریں امامؑ کی اس تکبیر کاجواب دے رہی ہوں مامون کے پاس خبرپہنچی(فضل بن سہل ذوالریاستین نے کہا)اے بادشاہ  اگر امام ؑ نےاس میں نماز پڑھادی توتیری حکومت میں انقلاب آجائےگا۔اگرچاہتاہے کہ خلافت وتخت وتاج باقی رہے تو امامؑ کو واپس کردے اور امامؑ کو آدھے راستہ سے واپس پلٹناپڑا۔