سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/10/15 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

نبوت سیدعادل علوی

نبوت

(چھٹی قسط)

جناب سید عادل علوی صاحب

ترجمہ: علی رضا رضوی الہ آبادی

نبوت اصول دین اور ارکان دین میں سے ہے،نبوت کے سلسلہ میں دوطریقوں سے بحث کی جاتی ہے، پہلانبوت عامہ ،دوسرا نبوت خاصہ

جس میں یہ بحث ہو کہ نبوت کسے کہتے ہیں ،لوگوں کے درمیان اسکی کیاضرورت ہے، نبوت کی شرطیں کیاہیں اوراس کی معرفت اورپہچان کے طریقے کیاہیں اسے نبوت عامہ کہتے ہیں۔اور جس میں خاتم النبیّین کی نبوت کے بارے میں ، انکےمعجزات کے بارے میں خاص طور پر قرآن کی بابت گفتگو ہو اس کو نبوت خاصہ کہتے ہیں۔

پہلا طریقہ:نبی وہ انسان ہے جوکسی انسانی واسطہ کے بغیر اللہ کی طرف سے خبردے۔

بعثت کے بہت سے اغراض ومقاصدہیں جن تک نبوت کے بغیر رسائی ممکن نہیں ہے۔اس کی سب سے بہتر اورمحکم تر دلیل فطرت اور عقل سلیم ہے جو تمام شہوات اور گناہوں سے پاک ہو، کیونکہ جس طرح سے عقل وفطرت یہ گواہی دیتی ہے کہ خداموجود ہے یکتاویگانہ ہے ویسے ہی یہ اپنے رب سے ہدایت کی بھی طلبگار رہتی ہے کہ وہ تمام حقائق معارف جو انسان کو سعادت وبلندی کی راہ دکھاسکیں وہ اسے معلوم ہوں۔

فطرت خداوند کریم کے نزدیک بہت بلند منزلت کی حامل ہے چونکہ یہ فطرت حقیقت توحید میں سے ہے۔انبیاء کامبعوث ہونا فطرت کے مطالبہ کی بناپرتھا،تاکہ اجتماعی عدالت قائم ہوسکےاور انسان ظلم وتشدد کانشانہ بن سکے ۔فطرت یہ آواز دے رہی ہے کہ زمین حجت خدا سے خالی نہیں ہے، اس دنیا میں سب سے پہلے حجت خدا کاوجود آیا اور سب سے آخر میں جو اس دنیا سے جائیگی وہ بھی حجت خداکہلائیگی۔

خداوندعالم کا اپنے بندوں پرلطف کر ناواجب ہے اور جملہ الطاف میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بندوں کی ہدایت کا انتظام کرے کیونکہ خداوندعالم  نے بندوں کو اپنی عبادت کیلئے پیدا کیاہے تاکہ وہ اس عبادت کے ذریعہ رحمت خداوندی حاصل کرسکیں۔ پس انبیاء کامبعوث ہوناواجب ہے چونکہ یہ لطف کی اعلیٰ ترین مصداق ہے جس کے ذریعہ انسان کی تخلیق کاہدف ومقصد پورا ہوتاہے کہ انسان اطاعت  سے قریب اورمعصیت سے دور ہوجاتاہے ۔ یہی نبوت ہے جو احکام الہی میں عقل کی مدد گار ثابت ہوتی ہے جس کے ذریعہ حسن وقبح نفع وضرر کی پہچان ہوتی ہے اور اسی نبوت کے ذریعہ نوع انسانی کی حفاظت ہوتی ہے۔

انسان چونکہ مدنی الطبع (ماحول کے اثرکو قبول کرنے والا)ہوتاہے اجتماعی قوانین وسنن کامحتاج ہوتاہے پس خداوندعالم کیلئے ضروری تھا کہ اپنے بندوں کی ہدایت  کیلئے ایسے کامل انسان کو منصوب کرے جس کے یہاں کمال ہی کمال پایاجاتا ہو نقص کا دور دور تک شائبہ بھی نہ ہوتا کہ وہ بشریت کو کمال کی آخری منزل تک پہنچائے اورنظام حیات کو لوگوں کے درمیان بیان کرے اور عدالت اجتماعی قائم کرے۔

شرائط نبوت:انبیاء کیلئے عصمت واجب ہے اور عصمت انبیاء کیلئے لطف پروردگار ہے چونکہ نفس نبیؐ  (ازحیث نفس)نفس انسانی ہے جو اس بات کی اقتضاء کرتاہے کہ جیسے دوسرے افراد سے معصیت سرزد ہوتی ہے ویسے ہی انبیاء سے بھی گناہ ومعاصی صادر ہوں لیکن ان کے یہاں ایک مانع پایاجاتاہے جو اس اقتضاء کو دفع کرتاہے اوروہ عقل وعقل کامل ہے جس کے ذریعہ تمام چیزوں کا علم حاصل ہوتاہے کہ گناہوں کی ابتداء کہاں سے ہوتی ہے اس کے انجام وآثار کیاہیں وغیرہ۔۔۔۔ یہ لوگ کبھی بھی حضور خدا سے غافل نہیں ہوتے ہیں جسکے نتیجہ میں گناہوں کے ارتکاب سے دور رہتے ہیں لیکن یہ دوری قہری واجباری نہیں بلکہ اختیاری ہے۔

انبیاء کیلئے  عصمت اس لئے ضروری ہے تاکہ انکے کلام پربھروسہ واطمینان کیاجاسکے اورغرض نبوت حاصل ہوسکے اس لئے کہ اگر انبیاء معصیت انجام دیں تو یاانکا اتباع اور انکی پیروی کی جائیگی ۔اور یہ ممکن نہیں، کیونکہ یہ معصیت ہے اور معاصی کی پیروی کاحکم نہیں دیا جاسکتا۔یاانکی پیروی نہیں کی جائیگی یہ مقام نبوت کے منافی ہے لہذا ہمیں ماننا پڑئےگا کہ انبیاء تمام گناہوں سے پاک ہیں خواہ گناہ کبیرہ یاصغیرہ ،وہ لوگ سہو ونسیان سے دور بلکہ وہ تمام چیزیں جو مقام نبوت کے شایان شان نہ ہوں ان سب سے پاک ومنزہ ہیں۔ نبیؐ کیلئے ضروری ہے کہ کمال عقل وذکاوت اور رای قوی پائی جاتی ہو اور جن سے طبیعت نفرت کرتی ہو اس ان سے وہ دور ہوں تاکہ مورد نفرت قرار نہ پائیں جو کہ غرض نبوت کے منافی ہے۔

انبیاء کیلئے ضروری ہے کہ وہ ابتدائی زندگی سے آخری مراحل تک معصوم ہوں کیونکہ اگر ایک زمانہ میں بھی ان سے گناہ سرزد ہوجائے تو لوگوں کے قلوب انکی اطاعت وپیروی کیلئے ہرگز آمادہ نہ ہوں گے۔

انبیاء کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنےزمانہ میں سب سے افضل وبرتر ہوں ،یہ عقلاً قبیح ہے کہ مفضول کو فاضل پر مقدم کیاجائے اس لئے کہ مفضول ہمیشہ تکمیل  کامحتاج رہتاہے پس اسے کیسے فاضل وکامل سے مقدم کیاجاسکتاہے۔ مثلاً یہ کیسے ہوسکتاہے کہ علم منطق کے ابتدائی طالب علم کو ارسطو پر مقدم کیا جائے ایسے دوسرے علوم وفنون میں بھی نہیں ہو سکتا ہے جب ہم خاطی انسان یہ کام نہیں کرتے تو وہ حکیم مطلق وعالم مطلق کیسے یہ کام انجام دے سکتاہے کہ اس قادر مطلق نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:"اَفَمَن يَهْدِي إِلَي الْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لاَّ يَهِدِّي إِلاَّ أَن يُهْدَي فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ"(سورہ یونس آیت/35)