سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/8/22 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

جمعہ سیدکوثرمجتبیٰ نقوی

جمعہ

از: سید کوثرمجتبیٰ نقوی مدرسہ قرآن  وعترت،قم ایران

یہ لفظ"جمعہ" متعدد چیزوں سے منسوب ہے جو دوطرح سے پڑھااور بولاجاتاہے یعنی جمعَہ ،جُمُعَہ، حالانکہ دوسرا طریقہ زیادہ بہتر اور افضل ہے اوراسی طرح قرآن مجید میں سورہ جمعہ کی آیت 9  میں بھی نازل ہواہے لیکن پہلا طریقہ تلفظ زیادہ مشہور ومستعمل ہے۔

جمعہ وہ بہترین روز عید ہے کہ جس میں ایک مخصوص نماز بنام جمعہ پڑھی جاتی ہے ۔خداوندتبارک وتعالیٰ نے ہر چیز کی درجہ بندی کی ہے کہ انبیاء ورسل سے لیکر کائنات کے ذرہ ،ذرہ کو کسی نہ کسی پر افضل وبرتر قرار دیاہے۔

مہینوں میں بہترین رمضان ہے تاریخوں میں بھی متعدد تواریخ کو بعض دیگر تاریخوں پر فوقیت حاصل ہے شبوں میں خصوصا شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہےوغیرہ ، اسی طرح دنوں میں جمعہ کادن بیشتر فضیلتوں کا حامل بنایا، جتنی فضیلتیں اس روز کو حاصل ہیں اتنی کسی اورروز کوحاصل نہیں۔

خداوندتبارک وتعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب قرآن مجید میں بھی جمعہ کے نام سے ایک سورہ نازل کیا ،اور اس روز ایک مخصوص نماز جو نماز ظہر کے عوض ہوتی قراردی۔ سورہ جمعہ ،نماز جمعہ و روز جمعہ کے علاوہ ایک شب بھی اسی نام سے منسوب ہے جسے شب جمعہ کہاجاتاہے اور وہ بھی فضیلتوں وبرکتوں کی رات ہے۔ اس کو بھی دیگر شبوں کی بہ نسبت بیشتر فضیلت حاصل ہے۔

روز جمعہ وہ روز عید ہے جس میں دو رکعت نماز مخصوص انداز سے معین کی گئی ہے، اور اسکے لئے قرآن مجید میں بڑی تاکید سے کہاگیاہے ۔" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ۔۔۔ " (سورہ جمعہ/9)اے ایمان داروں جب تمہیں جمعہ کے دن نماز جمعہ کیلئے آواز دی جائے۔"یعنی  جب جمعہ کی آذان ہو " توخدا کے ذکر کیلئے دوڑ پڑو اور خرید وفروخت چھوڑدو۔

پھر اسکے بعد والے سورہ منافقون میں ایمان داروں سے خطاب کرتے ہوئے انکے مال و اولاد کو اسکے ذکر سے غافل نہ کرنے۔اورہونے والوں کو خسارت سے دچار ہونے کاذکر بھی کیاگیا۔" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ" (سورہ منافقون/9) اے ایمان داروں تمہارامال اور تمہاری اولاد تم کو خدا کی یاد سے غافل نہ کرے اور جو ایسا کرے گا وہی لوگ گھاٹے میں رہیں گے۔

دراصل نماز جمعہ کے قیام کے چند اہم مقاصد ہیں جنکی وجہ سے اسکو اتنی اہمیت وخصوصیت اور یہ امتیاز حاصل ہے۔ جتنی بھی عبادات نماز سے لیکر جہاد تک ہیں وہ سب خلوص نیت پر مبنی ہیں۔ اگر کسی عبادت میں خلوص نیت نہ ہو تووہ عبادت شمار نہیں ہوگی۔ اسی طرح عادتاً بھی عبادات کو انجام دیاجاتاہے بچپن سے نمازپڑھنے کی عادت ہے تووہ عادتاً نماز پڑھتے ہیں ،یاکوئی دوسری عبادت انجام دیتے ہیں۔ تو اسی   عادت کے جمود کو توڑنے کیلئے (تاکہ عبادت عادت نہ بن جائے)ہرہفتہ نماز جمعہ کاایک مخصوص انداز میں انعقاد کیا جاتاہے کیوں کہ عادت کاشمار عبادت میں نہیں ہوتا۔

نماز جمعہ میں خلاف عادت وخلاف اصل، رکعت اول ہی میں قنوت یاپھر رکعت دوم میں بعد از رکوع قنوت کاپڑھاجانا روزانہ کی عادت کو ختم کرتاہے، کیونکہ عادت رکوع کے بعد سجدہ کی ہے لہذا وہ سجدہ کی طرف کھینچتی ہے لیکن عبادت قنوت کی دعوت دیتی ہے۔

اب جو عادتاً نماز پڑھنے کے عادی ہوگئے ہیں یا نماز میں ادھر اُدھر کی سیر کرتے ہیں وہ فوراً سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور جو عبادت کو عبادت سمجھ کر انجام دیتے ہیں وہ اس کے رموز و اسرار پر عمل کرتے ہیں۔

شاید نماز جمعہ کا مقصد یہ بھی ہو کہ مومنین نماز پنجگانہ میں اپنے اہل محلہ سے ملاقات کرکے ان کے احوال سے واقف ہوتے ہیں اور ہفتہ میں ایک بار شہر یا قصبہ کے افراد کی خیریت سے آگاہ ہیں۔

یہ اسلام کا وہ سیاسی پہلو ہے جس کے تحت اسلام عبادت کے ساتھ دنیوی معاملات میں بھی ذکر وفکر کی دعوت دیتاہے، کیونکہ نماز جمعہ اس سیاسی اجتماع کانام بھی ہوسکتاہے کہ جس سے دیگراقوام عالم پر ملت مسلمان کا تحاد ویکجہتی آشکار ہو۔

نماز جمعہ در صدد اسلام: نماز جمعہ کا انعقاد زمانہ رسولؐ سے ہوتاآرہا ہے مدینہ منورہ میں بڑی عظمت وشان سے مسلمان نمازجمعہ پڑھتے اور احترام واکرام سے کرتے تھے،حضرت ختمی مرتبت ؐ کی اقتداؐمیں نماز جمعہ کا قیام ہوتاتھا۔مومنین مسجد مقدس نبوی میں مدینہ اور اطراف مدینہ سے آتے تھے اوراس روز کو عید قرار دیتے تھے۔

نماز جمعہ کیلئے بعض روایات میں اس طرح بھی ملتاہے کہ اس کا قیام مکہ ہی سے جاری ہے نزول آیات وقرآن سے پہلے بھی اس کاقیام تھا ان آیات کا نزول تو فقط نماز جمعہ کے ابھارنے اور ترغیب دلانے کیلئے ہواتھا۔

حالانکہ اس پر شواہد موجود نہیں ہیں ۔نمازجمعہ کی اساس وبنیاد ہجرت کے بعد ہی ملتی ہے اس کے بہت سے شواہد بھی پائے جاتے ہیں کہ جب رسولؐ نے مکہ سے ہجرت کی تو قبا(ایک جگہ نام ہے)پہنچے جو مدینہ کے قریب ہے ۔اس جگہ روز دوشنبہ 12/ ربیع الاول کو پہنچے تھے چونکہ اس وقت میں  سوائے اہل بیتؑ اور معدود چند اصحاب خاص جو ہجرت کے قریب ساتھ ہوئے تھے سوائے ان کے رسولؐ کو کوئی نہیں جانتاتھا لہذا جب رسولؐ مدینہ پہنچے تو لوگ جوق در جوق آنے لگے اور بیعت کرنے لگے۔

اب یہ مدینہ میں ہر آدمی یہ  سوال کرتاہے تھاکہ رسولؐ کب تشریف لائے؟ جو جانتے تھے کہ رسولؐ مکہ سے مدینہ "قبا"12 /ربیع الاول کو آئے ہیں لہذا وہ ویسے ہی بتارہاتھا۔اب یہ آمد رسولؐ اتنی مشہور ہوئی کہ آج تک مسلمان سمجھتے ہیں کہ  رسولؐ 12/ ربیع الاول کو دنیا میں آئے انہوں نے رسولؐ کا آنا تو یاد رکھا مگر یہ بھول گئے کہ 12/ ربیع الاول کو قبا میں آئے یا دنیا میں۔

جبکہ حضور کی ولادت 17/ربیع الاول کوہوئی ،لیکن ہجرت کی شہرت کو ولادت کی تاریخ میں بدل دیا اور قباآنے کو دنیا میں آنے سے تعبیر کرنے لگے۔لیکن اہل بیتؑ چونکہ گھر والے تھے اور گھر کی بات گھر والا بہتر جانتا ہے اس لئے ان کی حقیقی تاریخ ولادت  ووفات باقی رہ گئی۔

جب رسولؐ قباپہنچے تو شب جمعہ تک وہاں قیام کیا پھر روز جمعہ مدینہ تشریف لے آئے اور وہاں قوم کو جمع کرنے ومسجد بنانے کا حکم دیا جب لوگ جمع ہوگئے تو حضورؐ نے خطبہ دیا جو تاریخ اسلام وقیام جمعہ کا پہلاخطبہ جمعہ تھا جس کا انعقاد مسجد نبوی مدینہ منورہ سےہوا۔

اس کے بعد نماز جمعہ کاانعقاد پہلی مرتبہ بحرین میں ہوا پھر یہ سلسلہ ہر دور سے گزر تا ہو اآج تک جاری ہے اور قیامت تک جاری رہےگاَ"انشاء اللہ"

قال رسول اللہ ﷺ:

"مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ. أَللّهُمَّ والِ مَنْ والاهُ، وَ عادِ مَنْ عاداهُ"(الکافی 1/ 294)