سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/5/22 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

علماء کے حالات سیدعلی سلمان رضوی

علماءکے حالات

"علامہ نجفی۔شخص اورشخصیت"

ڈاکٹرسیدسلمان علی رضوی ممتاز الافاضل

معزز قارئین تحصیل علم اورسازش دنیا کے حصارمقیدہونے کے باوجود دل چاہتاہےکہ آج اپنے استاد محترم علامہ محمدحسین نجفی  مرحوم پرقلم اٹھاؤں کہ جس نے اپنی ساری زندگی درس وتدریس  اور ذکر اہل بیتؑ میں وقف کردی۔

تکلیف سے جھنجھلائی ہوئی آواز تقریباً 11/ بجے رات 28/ نومبر کو خاموش ہوگئی ،اکھٹی سانسیں بند ہو گئیں ،لب خاموش مجمع کی آوازیں بلند ہوگئیں،میری زبان سے بے ساختہ نکل پڑا۔          زمین کھاگئی آسمان کیسے کیسے۔

نجف اشرف کے اعاظم علماء آیۃ اللہ مجتبیٰ لنکرانی، آیۃ اللہ محسن الحکیم، آیۃ اللہ سید محمود شہرودی، آیۃ اللہ سید ابوالقاسم الخوئی، وحضرت مدرس افغانی علیہم الرحمۃ اور علماء نجف اشرف کی ایک منھ بولتی تاریخ خاموش ہوگئی، فقہ واصول کے نہ بند ہونے والے دروازوں سے ایک شکستہ ہوگیا،معقول ومنقول، منطق وفلسفہ، الٰہیات وادب، تفسیر وحدیث ،اور فقہ واصول کاایک معتبر مدرس تقریباً 35/ سال جامعہ ناظمیہ میں درس وتدریس دیکر چلا گیا۔

 علمی دنیا کے افق پر شائد ہی کوئی ایسا ستارہ چمکاہو جو علامہ کی شخصیت سے متاثر ہوئے بغیر رہاہو ان کے عہد کے علمی مضامین میں سانس لینے کے بعد یہ محسوس ہو تاہے کہ علامہ نے لب ولہجہ وفکر ونظر کے اعتبار سے اپنی  صلاحیت اور اپنے اسلوب کو منفرد رکھا۔

ان کی طویل زندگی میں لباس کے کتنے ہی فیشن بدلے ، حالات نے اخلاق وآداب کو نہ متاثر کیا لیکن نہ انہوں نے اپنی روش بدلی نہ وضع لباس تبدیل کی۔ علامہ نجفی علم وعمل دونوں کے تاجدار تھے مگر یہ فیصلہ مشکل ہے کہ وہ علم میں بڑے تھے یا عمل میں۔؟

علامہ نجفی نے علماء وصلحاء کے ایک نمایاں خاندان کے حیثیت سے علوم اسلامی پر اس قدر کم عمر میں عبور حاصل کر لیاتھا جو اپنی آپ ایک مثال ہے وہ ہر راہ پر مشعل بدست گئے اوراس کو اپنی ذات سے منور کیا، انھوں نے آزاد خیالی اور تشکیک کی کسوٹیوں پر حقائق اسلامی کو پرکھا اور بہت سے توہمات اور مفروضات کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔

عربی تو بہر حال ان کی مادری زبان تھی ،اور حیات مستعار کے تقریباً ابتدائی 25/ سال نجف اشرف میں گزارے تھے۔ علامہ نجفی یقیناً ایک نادر اور ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ علم وفضل ،علم وفصل ،فلسفہ وحکمت ،اصول ومنطق، شعر وادب، تصنیف وتالیف ،تقریر وخطابت غرض ہر میدان میں شہسوار نظر آتے ہیں۔

حیات فراموشوں اور احساس فروشوں نے علامہ کو پہچانا ہی نہ ہوگا جبکہ علامہ نجفی اس شخصیت کانام ہے جس کے دل کی کیفیت اس کے چہرے سے پڑھا جاسکتاہے عوام کا غم اس کے ماتھے کی ہر شکن پر تحریر ہے آنکھیں ان کے غم میں سوگوار ہیں ،نابرابری اور غلط تقسیم کے ترازو توڑنے کی فکر چہرے سے عیاں ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے بعض ناقدین اور سامعین کو ان سے شکایت رہی ہے مگر میں کہتاہوں کہ شائد علامہ کا خیال یہ رہا ہو۔

ہم غمزدہ ہیں لائیں کہاں سے خوش کے گیت     دیں گے وہی جو پائیں گے اس زندگی سے ہم

انھوں نے زندگی کی تلخیوں سے کبھی فراز نہیں کیا بلکہ اپنے عزم مصمم سے نبرد آزمائی کی دعوت دی ہے معزز دوستوں اور ساتھیوں ہماری زندگیاں روشنی سے محروم ہو گئی ہیں اور ہر طرف اندھیرا چھایا ہواہے ،میں نہیں جانتاکہ آپ سے کیا کہوں اور کس طرح کہوں ہمارے طلاب جا معہ ناظمیہ کے استاد محترم جنہیں ہم طلاب جامعیہ ناظمیہ علامہ کہہ کر پکارتے تھے، جو ناظمیہ کے ایک اہم رکن تھے ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن جس طرح ہم انہیں مدتوں سے دیکھتے آئے تھے اسی طرح اب دوبارہ نہ دیکھ سکیں گے اب ہم صلاح ومشورہ کیلئے دوڑے دوڑے ان کے پاس نہ جائیں گے ،اور نہ اپنی پریشانیوں میں  ان سے تسلی پائیں گے اوریہ ایک ہولناک صدمہ ہے صرف میر ے لئے نہیں بلکہ ملک کے لاکھوں افراد کیلئے اوراس زبردست نقصان کے احساس کو کم کرنے کیلئے میرے لئے میرے یا کسی دوسرے کیلئے کوئی مشورہ دیناذرا مشکل ہے۔

معزز قارئین ہمارا یہ کہنا کہ روشنی معدوم ہو گئی ،ناظمیہ میں اب کیا رہا؟ یہ کہنا بالکل غلط ہے کیونکہ ابھی بھی ناظمیہ میں مختلف روشنیاں گہرہائے علم وادب کے چاند تارے بن کر چمک رہی ہیں جن میں:

امیر جامعہ ناظمیہ مولانا حمید الحسن صاحب ، مولانا سید محمد شاکر صاحب جیسا بہترین فلسفی ومنطقی، مولانا ابن حیدر صاحب جیسا ادیب ، مولانا مجتبیٰ حسین صاحب جیسا بہترین نحو وفقہ کا استاد، مولانا شہنشاہ حسین صاحب جیسا بہترین اصول کا استاد وخطیب ، مولانا تنویر حسین صاحب ، مولانا حسنین صاحب جیسا مفکر واستاد ، مولانا ظہیر عباس صاحب ، مولانا غافر صاحب جیسا مدبر ومولانا مرتضیٰ پاروی صاحب ، مولانا محمود صاحب جیسے اساتذہ کرام ومولانا عبدالحسن صاحب ناظم نشرو اشاعت وغیرہ جیسی عظیم شخصیتیں ہمارے درمیان موجود ہیں ۔

آج ہمیں علامہ نجفی کو یاد کرتے ہوئے سوچنا ہو گا کہ آج علم وادب کے جو روشن چراغ ہمارے درمیان موجود ہیں ان کی زندگی میں ان کی عظمت کا احترام ہم کب کریں گے۔

معزز قارئین آج اگر ہم مولانا محمد حسین نجفی کی وقعت کرتے ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ان کے اصولوں کو بھی جانیں اور اپنائیں انکی یادتازہ کریں اور اس یا د کے ذریعہ جو فائدہ مند باتیں ہیں ان سے بھی فائدہ اٹھائیں۔