سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/9/19 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

اداریہ

اداریہ

"ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ" (سورہ نحل/125)

پروردگار عالم اپنے حبیب حضرت محمدمصطفیٰ سے فرماتے ہین کہ لوگوں کو اپنی طرف حکمت اور موعظہ سے دعوت دو، بشرنیازمند موعظہ ہے، سید المظلوم امیر المومنینؑ اپنے فرزند امام حسن مجتبیٰؑ سے فرماتے ہیں۔"بنی احی قلبک بالموعظہ"(نہج البلاغہ مکتوب/31) اے میرے فرزند موعظہ سے اپنے دل کو زندہ کرو۔

"ثمرالوعظ الانتباہ"(غررالحکم حروف الثاء/35)موعظہ کا نتیجہ خواب غفلت سے بیداری ہے۔

"المواعظ شفاء لمن عمل بھا"(غررالحکم حروف الالف/1213) جولوگ مواعظ پر عمل کرتے ہیں انکے لئے شفاہے۔

اور آپ فرماتے ہیں:"المواعظ صقال للنفوس وجلاء للقلوب"(غررالحکم حروف الالف/1399)موعظہ دلوں کو جلا بخشتاہے۔

اگر موعظہ قرآن واہل البیتؑ کی زبان میں ہو تو دل کو منور کرتاہے بہت سے انسانوں نے موعظہ کی وجہ سے خداوندعالم سے انس پیداکیاہے ،اور کبھی ایک موعظہ انسان کی زندگی میں تبدیلی پیداکردیتاہے۔

حدیث قدسی:

(کتاب کلمۃ اللہ ص/350 ، تالیف آیۃ اللہ سید حسن شیرازی)

احادیث قدسی میں ہے کہ خداوند متعال ہر شب ایک فرشتہ بھیجتاہے جو دنیا میں لوگوں کو اس طرح موعظہ کرتاہے:

1۔ "یَا أَبْنَاءَ الْعِشْرِینَ! جِدُّوا وَ اجْتَهِدُوا"

اے برادران بیس سالہ دنیا میں کوشش وتلاش کرو۔

ظاہر ہے کہ جوانی کام اور کوشش کا زمانہ ہے جو بھی کسی مقام ومنزل پر پہنچا وہ اس کی جوانی کی کوشش کا نتیجہ ہے۔

2۔"وَ یَا أَبْنَاءَ الثَّلَاثِینَ! لَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیاةُ الدُّنْیا"

اے برادران تیس سالہ! دنیا تم کو مغرور نہ کرے،دنیا دار غرور ہے انسان ہمیشہ تیس سال کا یاجوان قوی وجوان نہیں ہے۔

امیرالمومنینؑ دنیا سے خطاب کرتے ہیں:" یا دنیا الی تعرضت ام الی اقبلت غری غیری، لاحان حینک، هیهات قد طلقتک ثلاثه لارجعة لی فعیشک حقیر و خطرک یسیر آه من قلة الزاد و بعد السفر و قلة الانس "(سفینۃ البحارج2 ص 170،مادہ عدا)

اے دنیا! دوسروں کو فریب دے، میں تجھ کو تین مرتبہ طلاق دے چکا ہوں کہ جس کے درمیان رجوع نہیں کیا۔۔۔۔

3۔ "وَیَا أَبْنَاءَ الْأَرْبَعِینَ! مَا ذَا أَعْدَدْتُمْ لِلِقَاءِ رَبِّکُمْ"

وہ فرشتہ الہی آواز دیتاہے: اے برادران چالیس سالہ !

 اپنے خدا سے ملاقات کیلئے تم نے کیاآمادہ کیا؟

جب انسان چالیس سال کا ہو جاتاہے اور تب تک اپنی اصلاح نہیں کرپاتاشیطان اسکے چہرے پر ہاتھ پھیر کر کہتاہے۔"یاابی وجہ لایفلح" (سفینۃ البحارج1 ص 504)ہمارا باپ اس چہرہ وصورت پر فدا کہ جس کی اب اصلاح نہیں ہوسکتی۔

ایک دوسری حدیث میں وارد ہوا ہے کہ جب انسان چالیس سال کا مکمل ہوجاتاہے تو پروردگار عالم اپنے فرشتوں سے فرماتاہے:"غلظاً وشدداً علیہ" (خصال صدوق ص 545)اس کو شدت وسختیوں میں ڈالو اسلئے کہ یہ چالیس سال کاہوگیا۔

4۔ "وَ یَا أَبْنَاءَ الْخَمْسِینَ! أَتَاکُمُ النَّذِیرُ"

وہ فرشتہ ہر شب آواز دیتاہے: اے برادران پچاس سالہ!

ڈرانے والا آگیا، ہاں جنھوں نے موت کیلئے زاد سفر تیار نہیں کیا موت ان کیلئے ڈر اور خوف ہے۔

5۔"وَ یَا أَبْنَاءَ السِّتِّینَ! زَرْعٌ آنَ حَصَادُهُ"

اے دنیا میں رہنے والے برادران ساٹھ سالہ! تم وہ کشتی ہو جس کی مسافرت ختم ہو گئی۔جب گیہوں کی بالیاں پک کر آمادہ ہو جاتی ہیں تواس کو کاٹ لیا جاتاہے، آئیے دیکھیں کہ ہم نے آخرت کیلئے کیا بویا کہ اب اس کو کاٹیں۔

6۔ "وَ یَا أَبْنَاءَ السَّبْعِینَ! نُودِیَ لَکُمْ فَأَجِیبُوا"

وہ فرشتہ آوازہرشب دیتاہے: اے دنیا میں رہنے والے برادران سترسالہ!

تم کو صدا دی جارہی ہے جواب دو۔

7۔"وَ یَا أَبْنَاءَ الثَّمَانِینَ! أَتَتْکُمُ السَّاعَةُ وَ أَنْتُمْ غَافِلُونَ"

اے دنیا میں رہنے والے برادران اسی سالہ !

موت تم تک پہنچ گئی تمہاری قیامت برپا ہو گئی اور تم غافل ہو۔