سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/11/16 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

جہاد اکبر گلزار حیدر

جہاداکبر

جناب سید گلزار حیدر رضوی

بعد از حمد وثناء خدا ودرود بر محمدمصطفی ؐ وآلہ الاطہارؑ  کہ جنہوں نے ہماری صراط مستقیم کی طرف ہدایت کی اور آج بھی مشغول ہدایت ہیں وہ نہیں چاہتے کہ ان کا چاہنے والا شیطان کے راستہ پر چلے ان حضرات کی ہرچند یہ کوشش رہی کہ ان کا شیعہ گمراہ نہ ہو اور ضلالت کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں نہ بھٹک جائے او پروردگارنے قرآن میں ارشاد فرمایاہے کہ "ان ھدیناہ السبیل اما شاکراً واما کفوراً" ہم نے راہ ہدایت قائم کردی ہے اب چاہے تم اس پر گامزن ہو کر خدا کے شاکر بندے بن جاؤ یا اس راہ سے منحرف ہو کر نا شکربندے بن جاؤ۔

خدائے تعالیٰ نے اپنافریضہ ادا کردیا ہے اب اگر کوئی انسان گمراہ ہوتاہے تواس میں خدا کا کوئی قصور نہیں، بلکہ خود اس بندہ کا قصور ہے کہ جس نے اس کی نعمت کی ناشکری کی، خدا یہ نہیں چاہتا کہ اس بندے فسق وفجور کریں بلکہ اللہ یہ چاہتاہے کہ تمام انسان اس کے بتائے ہوئے احکام پر عمل کریں اب جو انسان اس بات کے حامی ہیں کہ تمام اچھائی اور برائی خداکی طرف سے ہے تو ان کا یہ نظریہ سوفیصد غلط ہے بلکہ پروردگار نے ہم کو دو طاقتیں جو ضمیر اور نفس ہے عطا کی ہیں یہ دونوں کبھی بھی اپنے فریضہ سے غافل نہیں ہوتی ہیں، کون کہتاہے کہ اب کوئی رسول ونبی نہیں ، کون کہتاہے کہ اب امام نہیں ہے ،انسان کے اندر جو ضمیر ہے وہی مجازی نبی اور رسول ہے اگر ایک امام پردہ غیب میں ہے تو دوسرا مجازی امام خود انسان کے اندر موجودہے کہ جو حقیقی امام کا نمائندہ ہے اگر انسان ضمیر کے ٹوکنے پر موجہ ہوجائے توسلمان فارسی بن جاتاہے اور ایسے ہی انسان فرشتوں سے افضل ہو اکرتے ہیں ،اور اگر نفس کی پیروی کرتاہے تو جانور سے بد تر بن جاتاہے۔

 ایسے ہی لوگوں کیلئے قرآن کااعلان ہے کہ:"هُمْ كَالْأَنْعامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سبیلاً" کہ وہ لوگ مثل جانوروں کے ہیں بلکہ اس سے بھی بدترین ہیں، ہرانسان میں یہ دونوں طاقتیں ہوتی ہیں جب رسول اسلامؐ نے اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایاکہ: خدانے ہر انسان کو دو طاقتیں دی ہیں ایک نفس لوامہ ہے کہ جس کو ضمیر کہتے ہیں، اوردوسری طاقت نفس عمارہ ہے کہ جس کو نفس کہتے ہیں ،جب رسول اسلامؐ یہ فرماچکے تو ایک شخص نے کھڑے ہوکر کہا"یانبی اللہؐ" آپ کے بھی نفس ہوگا تو رسول اسلامؐ نے فرمایا کہ ہاں میرے بھی نفس تھا لیکن میں نےاس کو پہلی فرصت میں قتل کردیا،خالق نہج البلاغہ ارشاد فرماتے ہیں کہ "ان نفسک عدوک فاقتلھا" بے شک تمہارا نفس تمہارا دشمن ہے اس کو قتل کر دو،اب یہاں پر آپ کے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوگا کہ ہم اپنے نفس کو کیسے قتل کریں، ایسا کون سا ہتھیار ہے کہ جس کے استعمال سے اس موزی نفس کو قتل کردیا جائے میرے پیارے دوستوں نفس کسی ہتھیار سے نہیں قتل ہوگا بلکہ اس کی مخالفت ہی اس کو قتل کردیتی ہے، مثال کے طور پر نفس کہتاہے سینما چل کر فلم دیکھی جائے تو تم اس کی فوراً مخالفت کردویہی مخالفت نفس کو قتل کرنے کا بہترین حربہ ہے جب نفس برے کام کی طرف ترغیب دلائے تو ضمیر فوراً ٹوکتاہے کہ نہیں یہ کام غلط ہے ایسا کرنا برا ہے خدا ناراض ہو جائے گا پھر نفس کہتاہے کہ اتنا تو چلتاہے فلم دیکھی جائے،اسی وقت ضمیر پکارتاہے کہ نہیں تو کس کاچاہنے ولاہے ایسا کام کرے گا جو ان مقدس حضرات کو ناگوار ہے، آخرت میں ان کو کیا منھ دکھائے گا اگر ضمیر کا کہا لیاجائے تو نفس خودبخود خاموش ہوجاتاہے اور اسی طرح سے مسلسل مخالفت اس کو قتل کردیتی ہے اوراسی مخالفت کو جہاد اکبرکہاجاتاہے ۔

ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ ایک جنگ سے اصحاب پلٹ کر آئےتو رسول اسلامؐ کے سامنے جاکر کہا کہ یارسول اللہ ہم نے جہاد سر کر لیا ہے ایک بڑا معرکہ طے کیا ہے تو رسول اسلام ؐ نے فوراً اصحاب کی طرف متوجہ ہوکر کہا یہ کوئی بڑا معرکہ نہیں ہے، یہ کوئی جہادنہیں ،تو تمام اصحاب حیرت سے ایک دوسرے کامنہ دیکھنے لگے اور کہنے لگے کہ اس بھی بڑاکوئی معرکہ ہے؟ تورسول اسلامؐ نے فرمایا کہ یہ جہاد اصغر تھا ابھی جہاد اکبر باقی ہے تو اصحاب وانصار نے کہا کہ یارسول اللہؐ توضیح فرمائیں،تو آپ نے ارشاد فرمایاکہ: اپنے نفس سے جنگ کرناجہاد اکبرکہلاتاہے۔

اور جب انسان خداکی مرضی کے مطابق عمل انجام دیتاہے تو خدا بھی کہتاہے کہ :" وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ"اے میرے نیک بندہ تونے میری مرضی کےمطابق عمل انجام دیا ہے تو نے میری مرضی کا خیال رکھاہے تو میں تیری مرضی کا خیال رکھوں گاجو توکہہ دئے گا وہی انجام پائیگا ،مذکورہ آیۃ کا اشارہ اس طرف ہے کہ اے میرے نیک بندہ ہم تجھے اتنا عطاکریں گے کہ تو راضی ہو جائیگا۔کیونکہ جو بندے اللہ کہ بتائی ہوئی راہ پر گامزن رہتے ہیں وہ کبھی  وہ نہیں چاہتے جو خدانہ چاہے،پروردگار عالم کا ارشاد گرانقدر موجود ہے کہ"وَمَا تَشَاؤُونَ إِلَّا أَن يَشَاء اللَّهُ "وہ لوگ کچھ چاہتے ہی نہیں سواء اس کے کہ جو اللہ چاہے یعنی نیک بندے وہی چاہتے ہیں جو اللہ چاہے۔

میرے دوستو! اگر انسان ضمیر کی روک ٹوک پر متوجہ ہو جائے تو سلمان بن سکتاہے، مقداد بن سکتاہے ،اوراگر نفس کے ہاتھوں پر بیعت کرلے تو ابوسفیان ،مروان اوریزید بن جاتاہے،اسی مجازی نبی کی ہدایت قبول کرکے جنت سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں اور اسی مجازی نبی کی ہدایت ٹھکراکر ہمیشہ کیلئے جہنم میں جاسکتے ہیں ،جیسا کہ قرآن کریم میں خدا کاقول ہے کہ:"ھم فیھاخالدون" یعنی اگر جہنم میں چلے گئے تو بھی ہمیشہ اسی کے اندر رہنا ہے اور اگر جنت میں چلے گئے تو بھی ہمیشہ وہیں رہنا ہے، اورہم کو جنت چاہیے تو اعمال صالح انجام دیں یہ میں تسلیم کرتاہوں کہ محرمات سے دامن کو بچاناآسان نہیں ہے واجبات پر ہر انسان عمل کرسکتاہے نماز کوئی بھی پڑھ سکتاہے روزہ کوئی رکھ سکتاہے لیکن خود کو حرام باتوں سے نہیں بچا سکتاہے لیکن خدانے قرآن مجید میں ارشاد فرمایاہے کہ " فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا " بے شک ہر سختی کےبعد آسانی ہے ، جب ہم یہاں پر تکلیفیں برداشت کریں گے تو جنت میں جاسکتے ہیں اگر دنیا کی رنگین گلیوں میں کھوگئے تو کبھی بھی اس بیش بھا نعمت سے بہرہ مند نہیں ہو سکتے دنیا میں بھی نقصان اورآخرت میں بھی نقصان ہاتھ آئے گا۔

اللہ کے نیک بندے روز محشر بلند مرتبہ پر فائز ہوں گے ہر ایک کو عالی درجہ سے نوازہ جائیگا اورناظرین  رشک کریں گے کہ اے کاش یہ مرتبہ ہم کو بھی مل جاتا، کف افسوس ملیں گے کہ اے کاش یہ عمل ہم نے انجام دیا ہوتاتوآج اتنا بڑا نقصان نہ ہوتا اور یہی لوگ پروردگار سے التجا کریں گے کہ اے پالنے والے ہمیں دوبارہ دنیا کی طرف پلٹا دے تاکہ ہم نیک عمل بجالاسکیں ،لیکن پروردگار آواز دے گا کہ اب افسوس کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا یہ روز جزاہے اعمال کا دروازہ بند ہوچکاہے روز جزا وہ دن ہوگا کہ باپ بیٹے سے بھاگے گا اور ماں بیٹے سے بھاگے گی ،بھائی ، بھائی سے بھاگے گا کوئی کسی کی مدد نہیں کرےگا اورجب کہ ہم یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ موت کب آجائے کب موت کا فرشتہ ہم لینے کیلئے آجائے تو ہمکو ہمہ وقت پروردگار کی بارگاہ  میں جانے کیلئے تیار رہنا چاہے ارہر وقت یاد پروردگار کے سمندر میں غرق رہنا چاہیے اور لمحہ لمحہ خود کو بارگاہ ایزدی میں حاضر سمجھناچاہیے ،ہم اپنے خواہشات کے جال میں پھنس کر دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ لیتے ہیں جبکہ ایسا نہیں اس دنیا کے بعد ایک طولانی سفر درکار ہے جب انسان کسی چھوٹے سفر پر جاتاہے تو زاد سفر ہمراہ رکھتا ہے اور اسمیں  ایک پریشانی کے آثار پائے جاتے ہیں وہ اس سفر کو ذہن میں لیکر بے چین سا دکھائی دیتاہے تمام ضرورت کی چیزوں کو جمع کرتاہے، لیکن اسے ایک طولانی سفر کی کوئی فکر نہیں ،جبکہ اس چھوٹے سے سفر کی ایک حد معین ہے لیکن اس سفر کی کوئی حد معین نہیں ہے اگرحد ہے بھی تو وہ خدا وحدہ لاشریک کے علم میں ہے، یا ان حضرات کے علم میں کہ جنکو اس نے علم عطاکیا ہے انکے علاوہ کوئی نہیں جانتا کہ کتنے عرصہ تک ہمیں یہ سفر کرناپڑےگا۔

جب انسان بچپن کی منزل میں ہوتاہے تووہ تمام وقت کھیل میں گزار دیتاہے اورجب جوان ہو تاہے توشہوت کاشکار ہو جاتاہے، اور بڑھاپے کی طرف جاتاہے تودولت پرست ہو جاتاہے ،اسکو اپنی آخرت کی کوئی پرواہ نہیں ہے،آخرت کی پرواہ کرنا اور خدا سے ڈرتے رہنا اسکانام جھاد اکبر اور تقویٰ ہے، سلمان وابوذر تقویٰ کی اس منزل پر تھے کہ انکے لئے رسول اسلامؐ نے فرمایا:"لو علم ابوذر مافی قلب سلمان لقتلہ او کفرہ "(بحار الانوار)اگر ابوذر سلمان کے دل کی بات جان لیں تو یا انکو قتل کردیں گے یاان کو کافر بتادیں گے یعنی یہ ایمان وتقویٰ کی ان منزلوں پر تھے کہ جس کو کوئی چھو نہیں سکتاتھا۔