سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/11/16 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

4۔ انوارہدایت ذاکرحسین ثاقب

انوارہدایت
انوار ہدایت کا پہلا چراغ

خاتم الانبیاءؐ حضرت محمدمصطفیﷺ

تحریر: ذاکرحسین ثاقب

مقدمہ

 پوری کائنات  میں یہ محال ہے کہ کوئی عہدہ دار ایسی صفات کاحامل ہو، جن صفات سے نبی اکرم ﷺ مزین تھے، اگر چراغ لے کر بھی تلاش کیا جائے تو ان صفات کا پایا جانانہ فقط  دشوار ہےبلکہ ناممکن ہے۔ پس اگر انسان ہدایت اور راہ مستقیم چاہتاہے تو محمد وآل محمد علیہم السلام کی اتباع وپیروی کرے کیونکہ یہی حضرات انوار ہدایت اور تقویٰ وپرہیزگاری کے چراغ ہیں انھیں کے گھر میں قرآن نازل ہوا ، یہی حضرات ہے کہ  جنھوں نے شریعت کی حفاظت کی اور انھیں کے دم سے شریعت قائم ہے اور رہے گی۔

خدا      اپنے حبیب حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی تخلیق نہ کرتا اوراُن کومفاہیم کائنات سے روشناس نہ کراتا  اگر نوع انسانی کی ہدایت مقصود نہ ہوتی۔

لذا انسانیت کی ہدایت کے خاطر اپنےمحبوب کے توسط سے قرآنی احکامات نازل کیے۔ ان احکامات پرعمل کرکےہی انسان حیات ابدی کی حقیقت سےروشناس ہوسکتاہے اوراس کائنات کےحقیقی مفہوم کوسمجھ سکتاہے۔ پس خالق کائنات نے اپنے حبیب کو رحمت کاعنوان دیکر خلق فرمایا ۔

آپ اس کائنات کی تاریکیوں میں  نورہدایت  اورانسانیت کےلیے گوشہءِ امن وعافیت ہیں۔

ہر قوم اور مذہب کے پیرو کار اپنے پیشواؤں اور رہنماؤ ں کی ہدایات اور نصیحتوں کا خاص خیال رکھتے ہیں اور اس پر عمل کرنے کو ہر حال میں لازم سمجھتے ہیں۔
تو کم از کم اتنا ہر مسلمان پر ضروری ہے کہ :کچھ نہ سہی تو اپنے اس محبوب پیغمبر ﷺ ،جن کے صدقے میں ہمیں دوجہاں کی خیرات وبر کات حاصل ہوئیں اور  اسلام شمشیر کے ذور سے نہیں بلکہ آپ ﷺ کے اخلاقِ حسنہ سے پھیلا۔پس  نبی پاکؐ سےاظہار عقیدت کےلیے ہمیں اپنے نبیؐ کی آفاقی تعلیمات کواختیار کرنا ہوگا، جن کی نظر کرم کے ہم دو جہاں میں  محتاج ہیں ،جو ہماری امیدوں اور آرزؤں کے مرکز ہیں اورمصائب وآلام میں ہماری جائے پناہ ہیں ۔

ان کی ہدایات اور نصیحتوں پر حتی المقدورعمل کر کے ان کی نظر رحمت کے مستحق بنیں۔اسی غرض سے ہم ذیل میں آپ ﷺکی کچھ ہدایات اورنصیحتیں پیش کر نے کی سعادت حاصل کرتے ہیں تا کہ ہر مسلمان ان پر عمل کر کے دنیا اور آخرت کی کامیا بیوں سے بہرہ مند ہو سکے۔

انداز بندگی اور راہ نجات

"حَدَّثَنِي أَبُو حَرْبِ بْنُ أَبِي اَلْأَسْوَدِ اَلدُّؤَلِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي اَلْأَسْوَدِ ، قَالَ: قَدِمْتُ اَلرَّبَذَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى أَبِي ذَرٍّ جُنْدَبِ بْنِ جُنَادَةَ فَحَدَّثَنِي أَبُو ذَرٍّ، قَالَ: دَخَلْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فِي صَدْرِ نَهَارِهِ عَلَى رَسُولِ اَللَّهِ (صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ) فِي مَسْجِدِهِ ، فَلَمْ أَرَ فِي اَلْمَسْجِدِ أَحَداً مِنَ اَلنَّاسِ إِلاَّ رَسُولَ اَللَّهِ (صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ) وَ عَلِيٌّ (عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ) إِلَى جَانِبِهِ جَالِسٌ، فَاغْتَنَمْتُ خَلْوَةَ اَلْمَسْجِدِ ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اَللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي أَوْصِنِي بِوَصِيَّةٍ يَنْفَعُنِي اَللَّهُ بِهَا. فَقَالَ: نَعَمْ وَ أَكْرِمْ بِكَ يَا أَبَا ذَرٍّ ، إِنَّكَ مِنَّا أَهْلَ اَلْبَيْتِ ، وَ إِنِّي مُوصِيكَ بِوَصِيَّةٍ إِذَا حَفِظْتَهَا فَإِنَّهَا جَامِعَةٌ لِطُرُقِ اَلْخَيْرِ وَ سُبُلِهِ، فَإِنَّكَ إِنْ حَفِظْتَهَا كَانَ لَكَ بِهَا كِفْلاَنِ. يَا أَبَا ذَرٍّ ، اُعْبُدِ اَللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ كُنْتَ لاَ تَرَاهُ فَإِنَّهُ (عَزَّ وَ جَلَّ) يَرَاكَ، وَ اِعْلَمْ أَنَّ أَوَّلَ عِبَادَتِهِ اَلْمَعْرِفَةُ بِهِ بِأَنَّهُ اَلْأَوَّلُ قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ فَلاَ شَيْءَ قَبْلَهُ، وَ اَلْفَرْدُ فَلاَ ثَانِيَ مَعَهُ، وَ اَلْبَاقِي لاَ إِلَى غَايَةٍ، فَاطِرَ اَلسَّمَاوَاتِ وَ اَلْأَرْضِ وَ مَا فِيهِمَا وَ مَا بَيْنَهُمَا مِنْ شَيْءٍ، وَ هُوَ اَللَّهُ اَللَّطِيفُ اَلْخَبِيرُ، وَ هُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ  ، ثُمَّ اَلْإِيمَانُ بِي وَ اَلْإِقْرَارُ بِأَنَّ اَللَّهَ (عَزَّ وَ جَلَّ) أَرْسَلَنِي إِلَى كَافَّةِ اَلنَّاسِ بَشِيراً وَ نَذِيراً، وَ دٰاعِياً إِلَى اَللّٰهِ بِإِذْنِهِ وَ سِرٰاجاً مُنِيراً، ثُمَّ حُبُّ أَهْلِ بَيْتِيَ اَلَّذِينَ أَذْهَبَ اَللَّهُ عَنْهُمُ اَلرِّجْسَ وَ طَهَّرَهُمْ تَطْهِيراً. وَ اِعْلَمْ يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَنَّ اَللَّهَ (تَعَالَى) جَعَلَ أَهْلَ بَيْتِي كَسَفِينَةِ اَلنَّجَاةِ فِي قَوْمِ نُوحٍ ، مَنْ رَكِبَهَا نَجَا، وَ مَنْ رَغِبَ عَنْهَا غَرِقَ، وَ مَثَلَ بَابِ حِطَّةٍ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ مَنْ دَخَلَهَا كَانَ آمِناً"[1]

ہم نے جس روایت کو مورد گفتگو قرار دیا ہے، وہ پیغمبراکرم ﷺ کی جامع اور نہایت سودمند نصایح میں سے ہے جو کہ آپ نے اپنے ایک بلند پایہٴ صحابی ابوذر کو فرمائی۔
ابوالاسود دُئلی کا کہنا ہے: جس وقت ابوذر اپنی تبعیدگاہ رَبَذہ میں زندگی گزار رہے تھے میں ان کی خدمت میں پہنچا تو انہوں نے مجھ سے ایک روایت بیان کی۔ ابوذر کہتے ہیں ایک روز صبح کے وقت مسجد میں رسول خداﷺ  کی خدمت میں پہنچا آپ بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت علی کے علاوہ کوئی بھی آپ کے پاس نہ تھا۔ آپ کی خدمت میں شرفیابی اور احترام و ادب بجالانے کے بعد موقع کو غنیمت جانتے ہوئے حضورﷺ سے عرض کیا۔ میرے والدین آپ پر قربان مجھے ایسی بات کی نصیحت فرمائیں کہ جس کی وجہ سے خدا مجھے فائدہ پہنچائے۔
حضورﷺ نے مہربانی کرتے ہوئے فرمایا:

" نَعَمْ وَ أَكْرِمْ بِكَ يَا أَبَا ذَرٍّ ، إِنَّكَ مِنَّا أَهْلَ اَلْبَيْتِ…"ہاں کیوں نہیں اے ابوذر تم تو باکرامت انسان ہو اور تم تو ہمارے اہلبیت میں شمار ہوتے ہو۔

کلمہ ”اَفعِلْ بِہِ“ عربی میں تعجب کے معنی میں استعمال ہوتا ہے یعنی اس کا استعمال ایسی جگہ ہے کہ جہاں انسان کسی بات پر تعجب کرے مثال کے طورپر اگر کسی شخص کے حُسن و جمال پر تعجب کریں تو کہتے ہیں ”اَجْمِلْ بِکَ“ تم کتنے حَسین ہو۔ اس طرح ”اَکْرِمْ بِکَ“ کے معنی یہ ہوئے کہ تم کتنے باکرامت انسان ہو!۔
پیغمبراکرم ﷺ کا ابوذر جیسی ہستی کے لئے کلمہ ٴ”کریم“ کا استعمال کرنا، پیغمبراکرم ﷺ کے نزدیک اس صحابی کی عظمت، منزلت اور مقام کی بلندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ حضورﷺ نے گزشتہ بیان میں ابوذر کو اپنے اہلبیت کے زمرہ میں شمار کیا۔سلمان فارسی کے سلسلہ میں بھی پیغمبرﷺ نے فرمایا: سلمان میرے اہلبیت میں سے ہیں۔ (سلمان مِنَّا اہل بیت)
حدیث کے ادامہ میں حضورﷺ ابوذر کو نصیحت کرنا شروع کرتے ہیں:" وَ إِنِّي مُوصِيكَ بِوَصِيَّةٍ إِذَا حَفِظْتَهَا فَإِنَّهَا جَامِعَةٌ لِطُرُقِ اَلْخَيْرِ وَ سُبُلِهِ، فَإِنَّكَ إِنْ حَفِظْتَهَا كَانَ لَكَ بِهَا كِفْلاَنِ"  میں تمہیں ایک ایسی نصیحت کرتا ہوں اور امید یہ ہے کہ اس کی حفاظت کرتے ہوئے اس پر عمل کروگے، کیونکہ یہ نصیحت تمام نیکیوں اور خوشبختیوں کو سموئے ہوئے ہے اگر تم اس نصیحت پر عمل کرو دنیا و آخرت کی نیکیاں تمہاری خدمت میں پیش کردی جائیں گی۔

مندرجہ بالا جملے میں وصیت پند و نصیحت کے معنی میں ہے نہ موت کے وقت کی جانے والی وصیت کے معنی میں۔"طریق"  اور سبیل بھی راستہ کے معنی میں ہیں لیکن طریق وسیع اور مین شاہراہ کے معنی میں ہے اور ”سبیل“ گلی کے معنی میں ہے۔
”کفلان“ سے دو معنیٰ ارادہ کئے جاسکتے ہیں۔ ایک تو دُگنی رحمت کے۔ قرآن میں بھی ”کفلان“ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے:"یَااَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنوُا اتَّقُوْ الله وَ آمِنُوا بِرَسُولِہِ یُؤتِکُمْ کِفْلَیْنِ مِنْ رَحْمَتِہِ "[2]

اے وہ لوگوں کہ جو ایمان لاچکے ہو الله سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ تاکہ خدا تمہیں دُگنی رحمت سے نوازے۔

اس بناء پر رسول خدا کے قول کے معنی یہ ہوجائیں گے کہ اگر میری نصیحت پر عمل کرو گے تو دُگنی نیکی پاؤ گے لیکن ”کفلان“ کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ کفلان سے مراد دنیا و آخرت ہو۔ اس بنا پر قول رسولخدا کے معنی کچھ اس طرح ہوجائیں گے کہ اگر جو کچھ میں نے کہا ہے اس پر عمل کیا تو تم نے اس طرح دنیا و آخرت کی سعادت کو اپنے لئے قرار دے دیا۔

اللہ کی نعمتوں سے صحیح استفادہ

"اِحْفَظْ مَا أَوْصَيْتُكَ بِهِ تَكُنْ سَعِيداً فِي اَلدُّنْيَا وَ اَلْآخِرَةِ. يَا أَبَا ذَرٍّ ، نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ اَلنَّاسِ: اَلصِّحَّةُ، وَ اَلْفَرَاغُ. يَا أَبَا ذَرٍّ ، اِغْتَنِمْ خَمْساً قَبْلَ خَمْسٍ: شَبَابَكَ قَبْلَ هَرَمِكَ، وَ صِحَّتَكَ قَبْلَ سُقْمِكَ، وَ غِنَاكَ قَبْلَ فَقْرِكَ، وَ فَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ، وَ حَيَاتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ"

 اے ابوذر میری نصیحت پر عمل کرو تاکہ دونوں جہانوں میں سعادتمند ہوجاؤ۔ اے ابوذر اکثر لوگ دو نعمتوں کے سلسلہ میں لاپروا ہیں اور ان کی قدر نہیں کرتے۔ (ان میں سے) ایک صحت ہے اور دوسری فراغت ہے۔ اے ابوذر اس سے پہلے کہ پانچ چیزوں میں مبتلا ہو پانچ چیزوں کو غنیمت جانو۔ شباب کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، توانگری کو ناتوانی سے پہلے، فرصت کو مصروفیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے۔

"اِحْفَظْ مَا أَوْصَيْتُكَ بِهِ …"

انسان مسلسل اپنی سعادت کی تکمیل کے چکر میں ہے۔ اور اس تک پہنچنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں سعادت انسان کی فطری طلب اور اصل مقصد ہے۔ لہذا چاہتا ہے کہ اسکے علل و اسباب جان لے اور اس تک جانے والے راستے کو پہچان لے۔ اسی لئے حضورﷺ تاکید فرماتے ہیں کہ اگر میری نصیحتوں پر عمل کرو تو اپنی فطری خواہش یعنی دنیا و آخرت کی سعادت تک پہنچ سکتے ہو اور اگر اس پر عمل نہ کروگے تو اس سعادت سے محروم ہوجاؤگے۔ حضورﷺ کی یہ تاکید اس میں آمادگی پیدا کرنے اور ماننے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے ہے۔ جس طرح ڈاکٹر مریض سے کہتا ہے کہ اس نسخہ پر عمل کرنا ضروری ہے تاکہ صحتیاب ہوسکیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان ڈاکٹر کے پاس اپنے علاج اور صحتیابی کے لئے جاتا ہے۔

 

حقائق کا  ادراک اورعمر سے بہترین استفادہ

"يَا أَبَا ذَرٍّ ، إِيَّاكَ وَ اَلتَّسْوِيفَ بِأَمَلِكَ، فَإِنَّكَ بِيَوْمِكَ وَ لَسْتَ بِمَا بَعْدَهُ، فَإِنْ يَكُنْ غَدٌ لَكَ تَكُنْ فِي اَلْغَدِ كَمَا كُنْتَ فِي اَلْيَوْمِ، وَ إِنْ لَمْ يَكُنْ غَدٌ لَكَ لَمْ تَنْدَمْ عَلَى مَا فَرَّطْتَ فِي اَلْيَوْمِ. يَا أَبَا ذَرٍّ ، كَمْ مِنْ مُسْتَقْبِلٍ يَوْماً لاَ يَسْتَكْمِلُهُ وَ مُنْتَظِرٍ غَداً لاَ يَبْلُغُهُ. يَا أَبَا ذَرٍّ ، لَوْ نَظَرْتَ إِلَى اَلْأَجَلِ وَ مَسِيرِهِ لَأَبْغَضْتَ اَلْأَمَلَ وَ غُرُورَهُ"

يَا أَبَا ذَرٍّ ، كُنْ فِي اَلدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ وَ كَعَابِرِ سَبِيلٍ، وَ عُدَّ نَفْسَكَ فِي أَهْلِ اَلْقُبُورِ. يَا أَبَا ذَرٍّ ، إِذَا أَصْبَحْتَ فَلاَ تُحَدِّثْ نَفْسَكَ بِالْمَسَاءِ، وَ إِذَا أَمْسَيْتَ فَلاَ تُحَدِّثْ نَفْسَكَ بِالصَّبَاحِ، وَ خُذْ مِنْ صِحَّتِكَ قَبْلَ سُقْمِكَ، وَ مِنْ حَيَاتِكَ قَبْلَ مَوْتِكَ، فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا اِسْمُكَ غَداً"

موقع  سے استفادہ اور لمبی لمبی آرذوں سے  پرہیز: " َااَبَاذَرٍّ: اِیَّاکَ وَ التَّسْوِیْفَ بِاَمَلِکَ…"   اے ابوذر ایسا نہ ہو کہ بلند آرزو ئیں تمہارے اچھے کاموں میں خلل ایجاد کردیں۔

آپ کا یہ بیان آپ کی بات کو مکمل کرنے والا اور فرصتوں سے استفادہ اور عمر کے اوقات کو ضایع نہ کرنے پر ایک تاکید بھی ہے۔ ”تسویف“ ا ن جملہ آفات سے ہے کہ جو نیک اور شایستہ اعمال کی انجام دہی میں مانع بنتا ہے۔ اسی وجہ سے روایات میں اس کی مذمت کی گئی ہے۔ تسویف کے معنی کام کو تاخیر میں ڈالنا اس امید سے کہ بعد میں انجام پاجائے گا۔ اس کیفیت کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ لیکن سب سے بڑی اور بنیادی علت جیساکہ حدیث کے اس حصہ میں ذکر ہوئی انسان کی آرزوئیں اور امیدیں ہیں یعنی انسان کو جو کام آج انجام دینا چاہیئے انجام نہیں دیتا اس امید کے ساتھ کہ کل تک تو زندہ ہے انجام دے لے گا، جب کل آتی ہے تو پھر اگلے دن کی امید پر ڈال دیتا ہے اور اس طرح اگلے مہینے اور پھر اگلے سال پر کام کو ڈالتا چلا جاتا ہے۔ حضورﷺفرماتے ہیں: اگر چاہتے ہو تمہارے اندر سے یہ خصوصیت اور کیفیت دور ہوجائے تو اس طرح خیال کرو کہ بس آج کا دن اور یہی گھنٹہ اور یہی لمحہ تمہارے پاس ہے اس کے بعد زندگی کرنے کی فرصت تمہارے پاس نہیں رہے گی۔
"تسویف"کا مفہوم دوسرے اخلاقی مفاہیم کی طرح خواہ وہ فضائل اخلاقی سے ہوں یا رذائل اخلاقی سے ایک مراتب دار مفاہیم سے ہے۔ یہ مراتب دار مفاہیم اپنے مختلف افراد کی نسبت مؤمن سے لیکر غیرمؤمن تک حتی ایمان کے مراحل کی نسبت مختلف ہیں۔ اس کے بعض مراتب عام واجب ہیں اور بعض واجب مؤکد ہیں اور بعض عام مستحب اور دیگر مستحب مؤکد۔ کبھی بعض مراتب اس قدر عمیق ہیں کہ عام لوگوں کے لئے ان کا تصور ممکن نہیں۔

 موجودہ توانائی سے استفادہ  کرنے کیلئے پیغمبر اسلام ﷺ کی نصیحت

" يَا أَبَا ذَرٍّ ، إِيَّاكَ أَنْ تُدْرِكَكَ اَلصَّرْعَةُ عِنْدَ اَلْغِرَّةِ فَلاَ تُمَكَّنَ مِنَ اَلرَّجْعَةِ، وَ لاَ يَحْمَدَكَ مَنْ خَلَّفْتَ بِمَا تَرَكْتَ، وَ لاَ يُعْذِرَك مَنْ تَقْدَمُ عَلَيْهِ بِمَا بِهِ اِشْتَغَلْتَ. يَا أَبَا ذَرٍّ ، مَا رَأَيْتُ كَالنَّارِ نَامَ هَارِبُهَا، وَ لاَ مِثْلَ اَلْجَنَّةِ نَامَ طَالِبُهَا. يَا أَبَا ذَرٍّ ، كُنْ عَلَى عُمُرِكَ أَشَحَّ مِنْكَ عَلَى دِرْهَمِكَ وَ دِينَارِكَ. يَا أَبَا ذَرٍّ ، هَلْ يَنْتَظِرُ أَحَدُكُمْ إِلاَّ غِنًى مُطْغِياً، أَوْ فَقْراً مُنْسِياً، أَوْ مَرَضاً مُضْنِياً، أَوْ هَرَماً مُفَنِّداً ، أَوْ مَوْتاً مُحَيِّراً أَوِ اَلدَّجَّالَ فَإِنَّهُ شَرُّ غَائِبٍ يُنْتَظَرُ، أَوِ اَلسَّاعَةَ وَ اَلسّٰاعَةُ أَدْهىٰ وَ أَمَرّ"

 گذشتہ حصّوں میں ایمان کی تقویت، فرصتوں کو غنیمت جاننا، خدا کی نعمتوں اور عمر جیسے سرمایہ کی قدردانی کی تاکید کی گئی۔ اب وہی مطالب مختلف انداز سے بیان کئے جائیں گے تاکہ مؤمنوں کے دلوں میں ا س کا زیادہ سے زیادہ اثر ہوسکے۔ جب انسان الله تعالی، قیامت اور الہی اصولوں کا معتقد ہوگیا تو کوشش کرتا ہے کہ خدا کے سامنے کامیاب ہوجائے اور قیامت کے دن عنایات کا مستحق قرار پائے لیکن یہ کام اس بات پر منحصر ہے کہ سرمایہٴ عمر کی قدر کو جان لے اور یہ بھی جان لے کہ اسے کس طرح خرچ کرے کہ سعادت ابدی کو پالے۔ پیغمبرﷺ اس بات سے روکتے ہیں کہ انسان غفلت میں گناہ اور انحراف کا شکار ہوجائے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اسی حالت میں کہ جب گناہ و انحراف میں مبتلاء ہے اسے موت آجائے اور شرمندگی کی حالت میں عالم آخرت کی طرف روانہ کردیا جائے۔“

گناہ کے عواقب اور موت کی نصیحت کے متعلق

" يَا أَبَا ذَرٍّ ، إِيَّاكَ أَنْ تُدْرِكَكَ اَلصَّرْعَةُ عِنْدَ اَلْغِرَّةِ فَلاَ تُمَكَّنَ مِنَ اَلرَّجْعَةِ، وَ لاَ يَحْمَدَكَ مَنْ خَلَّفْتَ بِمَا تَرَكْتَ، وَ لاَ يُعْذِرَك مَنْ تَقْدَمُ عَلَيْهِ بِمَا بِهِ اِشْتَغَلْتَ"

اے ابوذر اس سے دڑو کہ گناہ کی حالت میں تمہیں موت آجائے۔ اس صورت میں نہ توبہ و تلافی کا کوئی راستہ باقی رہ جاتا ہے اورنہ ہی دوبارہ دنیا کی طرف پلٹنے کی طاقت رکھتے ہو اور نہ ہی وُرَثَاء جو ارث چھوڑ گئے ہو اس پر تمہاری تعریف کریں گے۔ نہ ہی خدا اس چیز پر کہ جو تم اپنے آنے سے پہلے روانہ کرتے رہے ہو اس پر تمہارے عذر کو قبول کرے گا۔

جیساکہ اس سے پہلے کہا جاچکا کہ حضورﷺ نے بعض اخلاقی مطالب کو مختلف انداز میں بیان کیا ہے۔ ان اخلاقی مطالب کے دہرانے کا مقصد مؤمنوں کے دلوں کو زیادہ سے زیادہ متاثر کرنا ہے۔ قرآنی آیات پر مختصر نظر دوڑانے سے آپ یہ دیکھیں گے کہ بہت سی قرآنی آیتیں مختلف موقعوں پر دہرائی گئی ہیں۔

یہاں تک کہ بعض موقعوں پر وہی الفاظ دہرائے گئے ہیں جیسے آیت"فَبِأَیِّ ئَالاٰءِ رَبِّکُمٰا تُکَذِّبٰانِ"سورہ رحمن میں اکتیس بار دہرائی گئی ہے۔

 اگرچہ ہر آیت دہرائے جانے سے اپنے ایک خاص معنٰی پاتی ہے لیکن اس کے علاوہ دہرائے جانے کا فائدہ جو دلوں پر گہرے اثر کی صورت میں ہوتا ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ روزانہ کے اعمال میں کردار کی تبدیلی اور نئی عادتوں کے جنم اور ان پر ملکہ خواہ بری یا اچھی ہوں ان میں دہرائے جانے کا بڑا عمل دخل ہے۔
روایت میں آیا ہے کہ جب سورہ طہ کی آیت نمبر ۱۳۲ "وَأْمُرْ اَھْلَکَ بِالصَّلٰوةِ"نازل ہوئی حضورﷺ مسلسل آٹھ ماہ علی کے گھر جاتے رہے اور فرماتے نماز پڑھو! خدا کی رحمت تم پر برسے، خدا نے ارادہ کرلیا ہے کہ تم اہلبیت سے ناپاکی کو دور رکھے اور برائی سے تمہیں پاک کردے۔
(اگر روزانہ کم از کم ایک بار بھی حضورﷺ حضرت علی کے گھر تشریف لے جاتے تھے تو اس لحاظ سے یہ عمل دو سو چالیس بار تکرار ہوا ہے جبکہ ظاہراً دن میں پانچ بار آپﷺ تشریف لے جاتے تھے)۔
حضورﷺ کے اس بیان کا لُب لُبَاب یہ ہے کہ اگر انسان نہ جانتا ہو کہ کونسا عمل اسے سعادت تک پہنچاتا ہے اور کونسا شقاوت تک تو بالآخر گناہ اور برائی میں پڑجائے گا اور گناہ کرتے وقت اسے موت آجائے تو اس نے سب سے برے نقصانات کو اپنے لئے خریدا ہے کیونکہ اس نے اپنی عمر و زندگی اور جوانی جیسے سرمایہ اور پروردگار کی دیگر نعمتوں کو گناہ جیسے جوے میں لٹا دیا ہے اور ان کے بدلے میں بربادی کے علاوہ کچھ حاصل نہ کرسکا۔ اسی وجہ سے حضورﷺ فرماتے ہیں کہ دڑو اس سے کہ گناہ کرتے وقت موت آجائے اور تمہاری روح قبض کرلی جائے۔ اس وقت تمہارے پاس کوئی موقع نہ ہوگا کہ گناہ سے توبہ کرسکو۔ ہمیشہ کے لئے یہ گناہ تمہارے نامہ اعمال میں لکھ دیا جائے گا کیونکہ کسی کو بھی دنیا میں دوبارہ پلٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس سلسلے میں قرآن کریم فرماتا ہے: "حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَ‌بِّ ارْ‌جِعُونِ" لعَلِّی أَعْمَلُ صَالِحًا فِیمَا تَرَ‌کْتُ کَلَّا إِنَّهَا کَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا …"[3]

جب ان میں سے کسی ایک گنہگار کی موت آتی ہے تو کہتا ہے اے خدا مجھے دنیا میں پلٹا دے ہوسکتا ہے اچھے اعمال کے ذریعہ اپنے برے کاموں کو بدل سکوں -(جواب ملے گا) ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا اور یہ وہ بات ہے جو وہ ہمیشہ کہتا ہے۔

اگر انسان گناہ کرتے وقت اس بات کو سوچے کہ ہوسکتا ہے اسی حالت میں اسے موت آجائے تو گناہ کرنا چھوڑ دے گا۔ بالفرض انسان کو تجارتاور غیرشرعی معاملات سے ایک بڑی رقم ہاتھ لگ جائے اور اپنے ورثاء کے لئے چھوڑ جائے تو کیا اسے اس کا کوئی فائدہ پہنچے گا؟ کیا وہ ورثاء جو اس کی میراث سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اس کی ان زحمات کا خیال کرتے ہوئے اس کی تعریف کریں گے اور اس کے لئے خدا سے بخشش کی دعا کریں گے؟ یا پھر وہ لوگ اس مال کو اپنے عیش کے لئے استعمال کریں گے اور اس کو یاد بھی نہ کریں گے اور اگر اس کی تعریف کی بھی تو اس کو کوئی فائدہ نہ پہنچے گا۔ اب جب وہ تمام نالائقی اورکمی کے ساتھ خدا کے پاس پہنچے گا تو کیا اس کے پاس کوئی جواز ہوگا؟ اور خدا اسے معاف کردے گا؟ جب وہ جانتا تھا کہ فلاں عمل حرام ہے اور خدا کے حکم کے خلاف ہے اور اس پر اس امر کی حجت تمام ہوچکی تھی تو پھر خدا کے سامنے کیا عذر پیش کرے گا اور اپنی جان پر جس آگ کو مسلط کرلیا ہے اس کا کیا جواب دے گا؟

"يَا أَبَا ذَرّ، مَا رَأَيْتُ كَالنَّارِ نَامَ هَارِبُهَا، وَ لاَ مِثْلَ اَلْجَنَّةِ نَامَ طَالِبُهَا" اے ابوذر میں نے نہ دیکھا جہنّم کی آگ کی مانند کہ اس سے بھاگنے والا سورہا ہوا ور نہ جنّت کی مانند کہ اس کا چاہنے والا سورہا ہو۔

عمر کی قدردانی

"يَا أَبَا ذَرٍّ ، كُنْ عَلَى عُمُرِكَ أَشَحَّ مِنْكَ عَلَى دِرْهَمِكَ وَ دِينَارِكَ..." اے ابوذر درہم و دینار کی نسبت اپنی عمر (کے خرچ کرنے) میں زیادہ کنجوسی دکھاؤ۔

اگر کوئی کوشش اور محنت سے دولت جمع کرتا ہے تو کیا اسے آسانی سے کسی دوسرے کے حوالے کردیتا ہے؟ جس چیز کو پانے کے لئے اس نے اتنی زحمتیں اٹھائیں مفت میں ہاتھ سے جانے نہیں دیتا اور اس کی اہمیت کو جانتا ہے۔ اس کے برعکس اپنی عمر کے سلسلہ میں ذراسا بھی نقصان کا احساس کئے بغیر سالوں اپنی عمر کو غلط راستوں پر چل کر ضایع کردیتا ہے دوسرے معنوں میں یوں کہہ لیں کہ ہم اپنے مال کے خرچ کرنے میں تو کنجوسی دکھاتے ہیں لیکن عمر جیسے سرمایہ کو ضایع کرنے میں کنجوسی نہیں دکھاتے یہ جانتے ہوئے کہ عمر کی اہمیت کا مال کی اہمیت سے کوئی مقابلہ نہیں۔
اگر کسی کی زندگی خطرے میں پڑجائے تو وہ اپنی جان کو بچانے کے لئے کئی گناہ دولت خرچ کرنے پر تیار ہے تاکہ وہ زندہ رہ سکے۔ فرض کریں کسی کے پاس سونا چاندی اور ہیرے جواہرات کی کانیں ہوں حتی تیل کے تمام ذخائر اس کے اختیار میں ہوں اور اس سے کہا جائے کہ اگر چاہتے ہو زندہ رہو تو ساری دولت کو دے دو کیا وہ اپنی ساری دولت کو نہیں دے گا؟
انسان دنیا کی آسائشوں کو اپنے لئے چاہتا ہے اب اگر وہ زندہ نہ رہ سکے تو ان سب کا کیا فائدہ۔ اس لحاظ سے اس کی عمر زمین پر موجود تمام دولتوں سے زیادہ اہم ہے تو پھر اس قیمتی سرمایہ کو مفت ہاتھ سے کیوں جانے دیں۔ ہم نہ صرف مفت ضایع کردیتے ہیں بلکہ کبھی تو اس کی جگہ ہمیشہ کا عذاب اپنے لئے مول لیتے ہیں۔ اگر درہم و دینار کا لٹانا عقلمندانہ کام نہیں تو پھر خواہشات نفسانی کے پیچھے اپنی عمر کا لٹانا کونسی عقلمندی ہے۔
عمر جیسے قیمتی سرمایہ کو مفت میں دوست احباب اور بیوی بچوں میں ضایع نہ کرو اور نہ ہی دوسروں کی خوشی کی خاطر اپنی عمر کو بیکار ضایع کرو بلکہ گناہ کی راہ میں ضایع کرنا اور برا ہے۔ ہاں اگر انسان الله کی خوشنودی کے لئے اپنی عمر دوسروں کو خوشحال کرنے، بیوی بچوں کو خوش رکھنے اور مؤمنوں کی حاجت روائی کے لئے صرف کرتا ہے تو نہ صرف اپنی عمر کو اس نے مفت ضایع نہ کیا بلکہ اس کے بدلے میں الله کی خوشنودی بھی حاصل کی جس کی اہمیت سب سے بڑھ کر ہے۔

 لیکن یہ کوئی سمجھداری کی بات نہیں کہ سرمایہٴ عمر جس کا ہر لحظہ ساری دنیا سے زیادہ ارزش رکھتا ہے بیکار مصروفیات اور دوسروں کی مرضی پر گزاردیں کیونکہ اس صورت میں ہم نے عمر کو مفت ضایع کیا۔



[1] ۔ الامالی شیخ طوسی ج/1 ص 525

[2] ۔ سورہ حدید، آیت ۲۸

[3] ۔ سورہ مؤمنون، آیہ/۹۰۔۱۰۰