سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/9/17 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

5۔ قیام امام حسین ؑ کا عرفانی پیغام اشرف حسین صالح

قیام  امام حسین علیہ السلام کا عرفانی پیغام

از: اشرف حسین صالح

قیام کربلا کے بہت سارے پیغامات ہیں ان میں سے ایک  وہ   جو ہماری آنکھوں کے سامنے واضح و روشن ہے وہ عرفانی پیغام ہے اور یہی عرفانی پیغام ایک اہم ترین  اور بہترین  پیغام ہے کہ ہر زمانے کے عرفا  ء نے اسی عرفانی پیغام پر تکیہ کیا ہےاور    اسی  پیغام نے  عرفاء کی زندگی میں رونق بخشی ہے۔

اس مقالہ میں چند پیغامات کی  طرف مختصراً  اشارہ کرنے کی کوشش کرونگا۔  

خدا سے عشق کا پیغام 

عاشوراء اور نہضت امام حسین علیہ السلام  کے اہم ترین   پیغامات میں سے ایک  خدا سے عشق کا پیغام ہے  ۔

الف:  جیسے  شب عاشور  میں جب امام حسین علیہ السلام  نے اشقیا ء سے ایک رات کی مہلت مانگی  اور مہلت کا پیغام لیکر حضرت عباس علمدار  علیہ السلام  کو جب انکی طرف بھیجا تو  اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا  : وھو یعلم انی احب  الصلواۃ ، وہ جانتے ہیں کہ میں نماز سے  کتنی  محبت کرتا ہوں ۔

ب:  اصولی طور پر  بھی اس کائنات  کے پورے نظام میں معبود و معشوق ایک ہی ہے اور   وہ خدا وند کی ذات ہے۔

جس  کی طرف  فارسی کا ایک مشہور شاعر کہتاہے :

عشق ہائی کز بی رنگی بود                                                                        عشق نبود عاقبت ننگی بود

عشق آن بگزین کہ جملہ انبیاء                                    یافتند زان عشق خود کار روکیا۔    [1]

ج:  امام حسین علیہ السلام  اور انکے اصحاب کے کلمات میں   غور کرنے سے معارف   الہی کا سمندر مل جاتا ہے۔  

 

بلا ءاور ابتلا ء کا پیغام   

 عاشوراء کے عرفانی  پیغامات  میں سے ایک  آزمائش کا پیام ہے۔

الف : جس دنیا میں ہم زندگی  بسرکرتے ہیں وہ آزمائش  اور سے پر ہے  ان میں  سے کسی کو چھٹکارا حاصل نہیں ہے  بلکہ ہر انسان کی اپنی ظرفیت کے مطابق  آزمائشیں آجاتیں ہیں۔

ب: آزمائشیں انسان کے امتحان کا وسیلہ ہے  کیونکہ انسان  کو بلا وگرفتاری وآزمایش اسکے اصلی ہدف تک پہنچاتی ہے  ۔

ج: حدیث آیا ہے: کہ   (البلاء للولاء  )[2] ہر انسان کا جتنا ایمان قوی ہوتا ہے اسی حساب سے انکی زندگی  میں آزمائشیں اور مشکلات زیادہ ہوتی ہیں جسکی واضح مثال  محمدو آل محمد ﷺ کی ذات ہیں ۔

یاد خدا کا پیغام

 قیام عاشورا کا ایک اور عرفانی پیغام یاد خدا ہے   ۔

الف: اگر ہم امام حسین علیہ السلام  کی حیات طیبہ کا غور سے مطالعہ کریں  تو پتہ چلتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام  کسی بھی  وقت ایک  لحظہ کے لیے یاد خدا سے غافل نہ رہے خصوصا قیام کربلا میں کیونکہ آپ جانتے تھے کہ یاد خدا کے علاوہ کوئی اور چیز دلوں میں تسلی وسکون نہیں لاسکتی ہے بلکہ آپ "أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ" [3] کے مصداق تھے اور امام کا ہر خطبہ اور کلام ذکر اور یاد خدا سے شروع ہوتا ہے  جیسے : جب  اشقیاء  عاشور کے دن اہل بیت علیہم السلام کے خیام کی طرف  حملہ کرنے آئے   تو امام ؑ  نے فرمایا : " لا حول ولا قوۃ  الا باللہ"  اسی طرح کربلا کے راستہ میں مسلم ابن عقیل کی شہادت کی خبر سنی تو فرمایا : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ [4]،

 

خدا  کی راہ  میں قربانی کا پیغام 

نہضت کربلا کےبنیادی  پیغامات    میں سے ایک  خدا راہ میں قربان ہونا ہے ۔

الف : اصولی طور پر  ایک عاشق کے لیے سب سے پہلی چیز  اپنے محبوب کی خاطر انکی راہ میں فدا ہونے کے علاوہ کوئی اور  چیز نہیں ہے  اس بناء پر  پورے  کائنات میں خدا کے علاوہ  معشوق  ومعبود حقیقی نہیں ہے  تو نتیجہ یہ ہوا کہ  ایک انسان مؤمن وموحد  کے لیے خدا پر ایمان کے سوا کوئی اور چیز مہم نہیں ہے  اور تعجب کی بات نہیں کہ  امام حسین ع جبسے موحد  نے اپنی جان  نچھاور کرنے کے ساتھ  اپنے باوفا اصحاب کی جانوں  کو بھی   خدا کی راہ میں قربان کردیا   تو فقط خدا کی رضایت کی  خاطر ودین مقدس کی بقاء کے لیے   تھا ۔  

ب : جب  امام ع میدان جنگ میں  فوج اشقیاء سے  لڑ رہے تھے اس وقت فرمایا : ان کا ن دین محمد لم یستقم الا بقتلی فیاسوف خذینی [5] ۔

ج: حضرت زینب  سلام علیہا شھداء کے سرہانے پہنچی تو فرمایا : " الہی تقبل منا ھذا القربان القلیل "

تسلیم ورضا کا پیغام

حماسہ حسینی کے عرفانی پیغاموں میں سے ایک  تسلیم ورضا ہونا ہے

الف : عبادت گزار اور  توحید پرست  انساس کی بارز ترین  خصوصیات  میں ایک  خدا کی رضایت پر راضی ہونا اور اللہ کے تمام احکام الہی کے سامنے سر تسلیم خم ہونا ہے  

ب: امام حسین ع نے فرمایا  کوفیوں سے مخاطب ہوکر : تم لوگ کبھی فلاح نہیں پاوگے  کیونکہ تم لوگوں نے اپنی خشنودی کی خاطر خدا کی رضاکو چھوڑ دیا ہے ۔

ج: امام زین العابدین ؑ  نے دربار یزید میں   یزید کے زر خرید خطیب کے بکواسات سنے تو اس کے جواب میں فرمایا : افسوس ہو تم پر  اے زر خرید  تم نے لوگوں کی خشنودی کی خاطر خدا کی رضایت کو چھوڑ دی ہے ۔

جب امام حسین ؑ   پر دشمنوں کا خنجر چلا تو بارگاہ الہی  میں رضایت کا اعلان کرتے ہوے فریا :"  رضا بقضائک وتسلیما لامرک"   اسی طرح ایک  اور جملہ میں فرمایا :"ترکت الخلق ترا  فی ھواک وایتم العیال لکی آراک"

حقیقی کامیابی  کا پیغام

خدا کی راہ میں  امام حسین ع اور انکی با وفا اصحاب نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا  اور سید السجاد ع اور جناب زینب س نے امام کے مشن کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا : جیسے  امام کی مختلف زیارت میں ہم یہی تمنا کرتے ہیں :"فیالیتنا کنا معکم فنفوز فوزا عظیما "

اخلاص کا پیغام

قیام امام کے سب سے درخشان  چہرہ  اخلاص کا ہے  ۔

الف:   یوں  تو  تاریخ اسلام میں بہت سارے واقعات رونما ہوے ہیں  لیکن ان میں سے   کچھ کو حیات جاودانہ ملی ہے تو صرف اخلاص وخدائی رنگ ہونے کی وجہ سے ہے  یہی اخلاص  وصبغۃ اللہ   اور اس بے زوال  رنگ الہی کی وجہ سے  نہضت عاشورا  کو جاوادنہ زندگی خدا نے عطا کی ہے ۔

ب: نیت میں عمل میں قیام  میدان جنگ میں  تمام مراحل  میں اخلاص کے ساتھ  قدم بڑھانے کی وجہ سے  اسی طرح  عزاداری  ومرثیہ خوانی  وخطابت  ۔ تمام چیزوں  میں  اخلاص ہونے کی وجہ سے قیام عاشورا نے تا صبح قیامت رہنا ہے ان شاء اللہ

ج: چونکہ  اخلاص ہی حماسہ حسینی کا اساسی رکن تھا اس  لیے کوئی چیز  امام حسین ع اور انکے اصحاب کی شھادت کی راہ میں رکاوٹ نہ بن  سکیں ۔ 

قیام فقط خدا کے لیے

حماسہ افرین  عاشورا  کا ایک پیغام یہ ہےکہ قیام  امام حسین علیہ السلام   فقط خدا کے لیے تھا  ۔

الف: کوئی بھی شخص خدا کے لیے قیام کرے  تو اسکا  تمام ہم وغم  صرف اپنی تکلیف پر عمل کرنا اور خدا کی رضایت کو حاصل کرنا ہے۔  

پس ہمیں کربلا سے درس لینا چاہیے  کہ ہم اپنے تمام کاموں میں اخلاص کے  ساتھ ہمیشہ  قدم بڑھانے کی کوشش کریں  ۔   

 منابع وحوالہ :

قرآن کریم

1۔ اعلام الہدایۃ  مھدی  پیشوائی  

2- دا ئرہ  المعارف  تشیع  1372  دکتر احمد صدر

3-  زندگانی امام حسین ؑ (علی اصغر ہمدانی)  ۔

4 -لہوف سید ابن طاووس۔          

5-میزان الحکمت  الری شہری ۔

6- منتہی الامال شیخ عباس قمی ۔

7-نفس المہموم شیخ عباس قمی  ۔



[1] - ابیاتی برگزیدہ از اشعار مثنوی مولانا

الر شھری ، میزان الحکمت 2 ص 170 [2]

[3] سورہ الرعد آية 28

[4] ۔ بقرة آية 156

[5]   ۔ دا ئرت المعارف  تشیع  1372  دکتر احمد صدر