سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/10/20 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها
■ ◊ فلسفه رسالت، عشق اهلبیت علیهم السلام میں مضمر هے
■ ◊ امام حسین علیه السلام کی زیارت عرش پر الله کی زیارت هے - بقلم آیت الله استاد عادل العلوی مترجم مطفی علی فخری
■ ◊ اهل بیت آیت مودت کى روشنى میں - فدا حسین عابدی
■ ◊ عباس بن علی (ع)
■ ◊ حضرت علی اکبر (ع)
■ ◊ امام حسن(ع) کی صلح اور امام حسین(ع)کے قیام کا فلسفه - غلام عباس رئیسی
■ ◊ انوار قدسیه : حضرت امام جعفر صادق علیه السلام -
■ ◊ امام زمانه کی معرفت ضروری کیوں ؟ - محمد یعقوب بشوی
■ ◊ غیبت کبریٰ میں امت کی ذمه داریاں - از سید ریاض حسین اختر ولد سید سلیم اختر حسین شاه
■ ◊ شیعیان آل محمد کا خدا سے رابطه - اختر حسین نسیم
■ ◊ شب قدر شب امامت و ولایت هے
■ ◊ بغض اهلبیت (ع) پر تنبیه - محمد ری شهری - مترجم سید ذیشان حیدر جوادی
■ ◊ مختلف سوالات اور ان کےجوابات از آیت الله سید عادل علوی
■ ◊ عمومی معلومات
■ ◊ جنة البقیع
■ ◊ رسول الله| کے آثار کا نادر مجموعه
■ ◊ آیۃ الله مرعشی نجفی
■ ◊ مجلہ عشاق اهل بیت کے قوانین وضوابط

◊ عباس بن علی (ع)

ولادت با سعادت:
حضرت عباس علیه السلام چار شعبان المعظم 26ه کو پیدا هوئے۔ انهوں نے اس وقت تک آنکه نهیں کهولی جب تک ان کے بهائی امام حسین علیه السلام نے انهیں اپنے هاتهوں میں نهیں لیا۔ بچپن هی سے انهیں امام حسین علیه السلام کے ساته بهت محبت تهی۔ حضرت علی علیه السلام نے اس عظیم الشان بچے کا نام عباس رکها۔ روایت هے که حضرت عباس علیه السلام کی پیدائش کا مقصد هی امام حسین علیه السلام کی مدد اور نصرت تها اور اهلِ بیت علیهم السلام کو شروع سے واقعه کربلا اور اس میں حضرت عباس علیه السلام کے کردار کا علم تهاحضرت علی ابن ابی طالب (ع) نے اپنے بهائی عقیل ابن ابی طالب کے مشورے سے جوانساب کے ماهر تهے ایک متقی اور بهادر قبیلے کی خاتون فاطمۂ کلابیه سے عقد کیا اور اپنے پروردگار سے دعا کی که پروردگار! مجهے ایک ایسا بیٹا عطا کرے جو اسلام کی بقاء کے لئے کربلا کے خونیں معرکه میں امام حسین (ع) کی نصرت و مدد کرے چنانچه الله نے فاطمۂ کلابیه کے بطن سے که جنهیں حضرت علی علیه السلام نے ام البنین کا خطاب عطا کیا تها ، چار بیٹے امام علی کو عطا کردئے اور ان سب کی شجاعت و دلیری زباں زد خاص و عام تهی اور سبهی نے میدان کربلا میں نصرت اسلام کا حق ادا کیااور شهید هوئے لیکن عباس (ع) ان سب میں ممتاز اور نمایاں تهے کیونکه خود حضرت علی علیه السلام نے ان کی ایک خاص نهج پر پرورش کی تهی ۔
ابتدائی زندگی:
حضرت علی علیه السلام نے ان کی تربیت و پرورش کی تهی۔ حضرت علی علیه السلام سے انهوں نے فن سپه گری، جنگی علوم، معنوی کمالات، مروجه اسلامی علوم و معارف خصوصا´ علم فقه حاصل کئے۔ 14 سال کی معمولی عمر تک وه ثانی حیدر کهلانے لگے۔ حضرت عباس علیه السلام بچوں کی سرپرستی، کمزوروں اور لاچاروں کی خبر گيری، تلوار بازی اور و مناجات و عبادت سے خاص شغف رکهتے تهے۔ ان کی تعلیم و تربیت خصو صاً کربلا کے لئے هوئی تهی۔ لوگوں کی خبر گیری اور فلاح و بهبود کے لئے خاص طور پر مشهور تهے۔ اسی وجه سے آپ کو باب الحوائج کا لقب حاصل هوا۔ حضرت عباس کی نمایان ترین خصوصیت ”ایثار و وفاداری“ هے جو ان کے روحانی کمال کی بهترین دلیل هے۔ وه اپنے بهائی امام حسین علیه السلام کے عاشق و گرویده تهے اورسخت ترین حالات میں بهی ان کا ساته نهیں چهوڑا۔ لفظ وفا ان کے نام کے ساته وابسته هوگیا هے اور اسی لئے ان کا ایک لقب شهنشاهِ وفا هے ۔
جنگ صفین :
جنگ صفین حضرت علی علیه السلام اور شام کے گورنر معاویه بن ابی سفیان کے درمیان مئی۔جولائی 657 ء میں هوئی۔ اس جنگ میں حضرت عباس علیه السلام نے حضرت علی علیه السلام کا لباس پهنا اور بالکل اپنے والد علی علیه السلام کی طرح زبردست جنگ کی حتیٰ که لوگوں نے ان کو علی هی سمجها۔ جب علی علیه السلام بهی میدان میں داخل هوئے تو لوگ ششدر ره گئے ۔ اس موقع پر علی علیه السلام نے اپنے بیٹے عباسؑ کا تعارف کرواتے هوئے کها که یه عباسؑ هیں اور یه بنو هاشم کے چاند هیں۔ اسی وجه سے حضرت عباس علیه السلام کو قمرِ بنی هاشم کها جاتا هے۔
واقعه کربلا اور حضرت عباس علیه السلام:
واقعه کربلا کے وقت حضرت عباس علیه السلام کی عمر تقریباً 33 سال کی تهی۔ امام حسین علیه السلام نے آپ کو لشکر حق کا علمبردار قراردیا۔ امام حسین علیه السلام کے ساتهیوں کی تعداد 72 یازیاده سے زیاده سو افراد پر مشتمل تهی اور لشکر یزیدی کی تعداد تیس هزارسے ذیاده تهی مگر حضرت عباس علیه السلام کی هیبت و دهشت لشکر ابن زياد پر چهائی هوئی تهی ۔ کربلامیں کئی ایسے مواقع آئے جب عباس علیه السلام جنگ کا رخ بدل سکتے تهے لیکن امام وقت نے انهیں لڑنے کی اجازت نهیں دی کیونکه اس جنگ کا مقصد دنیاوی لحاظ سے جیتنا نهیں تها۔ امام جعفر صادق علیه السلام حضرت ابوالفضل العباس کی عظمت و جلالت کا ذکر کرتے هوئے کها کرتے تهے : ”چچا عباس کامل بصیرت کے حامل تهے وه بڑے هی مدبر و دور اندیش تهے انهوں نے حق کی راه میں بهائی کا ساته دیا اور جهاد میں مشغول رهے یهاں تک که درجۂ شهادت پرفائز هوگئے آپ نےبڑ اهی کامیاب امتحان دیا اور بهترین عنوان سے اپناحق ادا کر گئے“ ۔ 
شهادت :
10 محرم کو امام حسین علیه السلام نےان کو پیاسے بچوں خصوصاً اپنی چار ساله بیٹی سکینه بنت الحسینؑ کے لئے پانی لانے کا حکم دیا مگر ان کو صرف نیزه اور علم ساته رکهنے کا حکم دیا۔ اس کوشش میں انهوں نے اپنے دونوں هاته کٹوا دیئے اور شهادت پائی۔ اس دوران ان کو پانی پینے کا بهی موقع ملا مگر تین دن کے بهوکے پیاسے شیر نے گوارا نهیں کیا که وه تو پانی پی لیں اور خاندا نِ رسالت پیاسا رهے۔ شهادت کے بعد جیسے باقی شهداء کے ساته سلوک هوا ویسے هی حضرت ابوالفضل العباس کے ساته هوا۔ ان کا سر کاٹ کر نیزه پر لگایا گیا اور جسمِ مبارک کو گهوڑوں کے سموں سے پامال کیا گیا۔ ان کا روضه اقدس عراق کے شهر کربلا میں هے جهاں پهلے ان کا جسم دفن کیا گیا اور بعد میں شام سے واپس لا کر ان کا سر دفنایا گیا ۔
ضو وه شیشے میں کهاں جو الماس ميں هے۔
سارے عالم کی وفا حضرت عباس ميں هے۔