سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/10/19 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها
■ ◊ فلسفه رسالت، عشق اهلبیت علیهم السلام میں مضمر هے
■ ◊ امام حسین علیه السلام کی زیارت عرش پر الله کی زیارت هے - بقلم آیت الله استاد عادل العلوی مترجم مطفی علی فخری
■ ◊ اهل بیت آیت مودت کى روشنى میں - فدا حسین عابدی
■ ◊ عباس بن علی (ع)
■ ◊ حضرت علی اکبر (ع)
■ ◊ امام حسن(ع) کی صلح اور امام حسین(ع)کے قیام کا فلسفه - غلام عباس رئیسی
■ ◊ انوار قدسیه : حضرت امام جعفر صادق علیه السلام -
■ ◊ امام زمانه کی معرفت ضروری کیوں ؟ - محمد یعقوب بشوی
■ ◊ غیبت کبریٰ میں امت کی ذمه داریاں - از سید ریاض حسین اختر ولد سید سلیم اختر حسین شاه
■ ◊ شیعیان آل محمد کا خدا سے رابطه - اختر حسین نسیم
■ ◊ شب قدر شب امامت و ولایت هے
■ ◊ بغض اهلبیت (ع) پر تنبیه - محمد ری شهری - مترجم سید ذیشان حیدر جوادی
■ ◊ مختلف سوالات اور ان کےجوابات از آیت الله سید عادل علوی
■ ◊ عمومی معلومات
■ ◊ جنة البقیع
■ ◊ رسول الله| کے آثار کا نادر مجموعه
■ ◊ آیۃ الله مرعشی نجفی
■ ◊ مجلہ عشاق اهل بیت کے قوانین وضوابط

◊ حضرت علی اکبر (ع)

اسم مبارک: علی ، حضرت امام حسین کی اولاد میں سے آپ منجهلے علی هیں که جن کو علی اوسط کها جاتا تها اس طرح که علی اکبر امام زین العابدین علیه السلام اور علی اصغر ششماهے شیر خوار کا نام گرامی تها۔ لیکن یوم عاشورا کے بعد سے یه نام اپنی خصوصیت سے تبدیل هوگئےچونکه تین میں سے دو علی یوم طف شهید هوگئے اس لیے ان هی میں سے بڑے کو علی اکبر کا خطاب مل گیا وه علی اوسط سے آج علی اکبر مشهور هوئے ۔(چمنستان محمد پر خزاں)
تاریخ و مقام ولادت : اگر چه آپ کی تاریخ ولادت میں اختلاف هے لیکن کسی حد تک معتبر روایات کے مطابق آپ  11/ شعبان المعظم 42ه کو مدینه منوره میں پیدا هوئے  ۔
والده ماجده : آپ کی مادر گرامی ام لیلی بنت ابوقره بن عروه بن مسعود ثقفی تهیں (ارشاد شیخ مفید) جناب ام لیلی کے والد قبیله بنی ثقیف کی ایک بزرگ آدمی تهے ۔ القاب : صدیق ، مظلوم، نجم العالمین، زکی ، سید ، ولی الله ، شهید، شبیه رسول۔ کنیت: ابو الحسن، ابن رسول۔ پرورش : شاهزاده کی تربیت ان حضرات کے زیر سایه هوئی جو دین اسلام کے سچے فدائی تهے ، حقانیت و معرفت کے پتلے ، ایمان کے مجسمےاور مواسات و همدردی کے مرقع تهے ۔عدل و انصاف کے قالب ، شجاعت و دلیری کے محور، علم وحکمت کے خزانے اور خلوص و صداقت کے مرکز تهے ۔ ایسی هستیوں  کے زیرسایه پرورش پانے والا بچه جن کمالات و علوم اور فضائل و اخلاق کا حامل هوسکتاهے ، وه ظاهر هے ۔
حضرت امام حسین علی اکبر سے بهت محبت کرتے تهے ، صاحب ناسخ التواریخ نے لکها هے که طاقت نسان و لطف بیان ،صباحت رخسارو ملاحت دیدار،نیکوئی خلق اور شمائل میں حضرت علی اکبر علیه السلام سے زیاده زمین پر کوئی بهی همشبیه رسول نه تها ۔
اخلاق و عادات : حضرت علی اکبر علیه السلام اخلاق میں ظل رسول تهے ۔ آپ کی زندگی کا هر شعبه رسالت کے ایام کو یاد دلاتا تها ، اس لیے امام حسین علیه السلام نے جناب علی اکبر ؑکےمتعلق ارشاد فرمایا: اللهم اشهد علی هولاء القوم فقد برزالیهم اشبه الناس خلقا و منطقا برسولک، کنا اذا اشفقنا الی نبیک نظرنا الی وجهه۔ میرے معبود شاهد رهنا اس قوم پر که ان کی طرف وه جوان لڑنے جارها هے جو سب سے زیاده خوبصورت و سیرت و رفتار و گفتار میں تیرے رسول سے مشابه هے ، اور جب هم تیرے رسول (ص)کی زیارت کے متمنی هوتے تو اسی کا چهره دیکهتے تهے ۔
اس کلام سے ثابت هورها هے که جیسی صورت و سیرت رسول خدا کی تهی وهی علی اکبر ؑکی تهی ۔
علامه ابن شهر آشوب حضرت علی اکبر علیه السلام کے ذکر میں فرماتے هیں : آپ اپنے پدر بزرگوار کے مطیع و فرمانبردار صاحبزادے تهے ،احکام شریعت سے کما حقه واقف تهے ،آپ انتهائی شجاع و متقی اور خداپر توکل رکهنے والے تهے ۔
مهمان نوازی: عرب میں یه رواج تها که جس گهر میں آگ روشن دیکهتے اس کے یهاں مهمان هوتے تهے ۔ جناب علی اکبر علیه السلام بهی ایک بلند مقام پر آگ روشن کرتے تهے تاکه فقراء و مساکین آئیں اور آپ کے مهمان هوں ۔
دشمن کی نگاه میں خصوصیات : ایک مرتبه معاویه نے اپنے خلوت کے دربار میں اپنے اهل بزم سے کها که  تمهاری نظر میں آج مسند خلافت رسول(ص)کا سب سے زیاده مستحق کون هے ؟ سب خوشامد خوروں نے دست بسته عرض کی که هرلحاظ سے هم تو تجه هی کو مستحق خلافت جانتے هیں ۔معاویه نے کها یه بالکل جهوٹ هے انصاف سے دیکهو تو تمام عرب میں علی بن الحسینؑ سے زائد هرگز اس مسند کے لیے کوئی اور مستحق نهیں کیونکه ان کے جد رسول خدا هیں ، بنی هاشم کی شجاعت اور بنی ثقیف کا حسن ان کی ذات میں جمع هیں اور سب سے بڑی خصوصیت یه هے که ان کو دیکه کر رسول کی تصویر آنکهوں میں پهر جاتی هے ۔
جس وقت جناب علی اکبر علیه السلام میدان جنگ میں تشریف لے گئے تو عمر سعد نے عسکر بن سعد کو حکم دیا که اے عسکر بن سعد اس کا مقابله کرو تو عسکر نے کها: که میں اس سے مقابله نهیں کرونگا  اس لیے که یه شبیه رسول(ص) هیں ۔
سفر کربلا: حضرت امام حسین علیه السلام نے کربلا کا سفر اختیار کیا اور آپ کا قافله مقام زباله پر پهنچا تو آپ کو غنودگی طاری هوگئی اس وقت آپ نے کسی کی آواز سنی که جیسے کوئی کهه رها هو که اے حسینؑ آپ عراق کی طرف جلدی فرمارهے هو اور موت آپ کا تعاقب کررهی هے که آپ کو فردوس بریں لے جائے ،جب آپ بیدار هوئے تو زبان پر کلمه انا لله و انا الیه راجعون جاری فرمایا کڑیل جوان بیٹا فورا سامنے آتا هے اور دست بسته عرض کرتا هے بابا اس وقت اس کلمه کے زبان پر جاری کرنے کا کیا مقصد هے ؟ امام حسینؑ نے ارشاد فرمایا اے لخت جگر میں نے ابهی خواب میں دیکها که ایک شخص کهه رها هے که اے حسین آپ عراق کی طرف جلدی فرمارهے هو اور موت آپ کا تعاقب کررهی هے که آپ کو فردوس بریں لے جائے۔
جناب علی اکبرؑ عرض کرتے هیں: اے بابا الله آپ کو تمام مصائب سے محفوظ رکهے کیا هم حق پر نهیں هیں ؟ بیٹے کا یه کلام سن کر امام فرماتے هیں قسم بخدا هم حق پر هیں ۔ شاهزاده علی اکبرؑ اس جواب کو سن کر خوش هوگئے اور عرض کیا که اے بابا اب همیں کوئی پروه نهیں که موت هم پر آپڑے یا هم موت پر جاپڑیں۔ (وقعات کربلا)
صبح عاشور: صابر و شاکر امامؑ نے رفقائے باوفا اور اعزائے نامدار سمیت عبادت خدامیں رات گذاری یهاں تک روز عاشور کی سپیدی نمودار هونے لگی انجم فلک اس منظر کی تاب نه لاکر غروب هونے لگے امام مع جانثاروں کے مصلوں سے تجدید تیمم کے لیے اٹهے ایک بار آپ نے اپنی قلیل سی فوج پر نظر ڈالی کڑیل جوان بیٹے پر نظر امامت جمی حکم دیا بیٹا اذان کهو همشکل پیغمبر گلدسته اذان پر تشریف لے گئے شبیه پیغمبر نے لحن رسول الله میں الله اکبر کها ادهر سیدانیاں همه تن گوش هوگئیں، عالم امکان محو هوگیا ، وحوش وطیور جهومنے لگے ، میراخیال هے علی اکبر سے اذان کهلواکر دشمنوں پر اتمام حجت کرنا مقصود هو اس لیے کل کو یه کهه سکیں که پهچانا نهیں دن بهر کا موقع هے دنیا دیکه کر ضرور کهے گی که اس جوان رعنا نے صبح کو رسول(ص) کی آواز یاد دلائی تهی ادهر اذان ختم هوئی بیبیاں خیموں میں اور مرد امام کے پیچهے نماز صبح میں مشغول هوگئے۔
اول قتیل : نماز صبح اور اس کی تعقیات سے فارغ هوکر امام نے اپنی قلیل سی فوج کی طرف دیکها اور دشمن کی فوج کی طرف سے تیروں کی بارش هونی شروع هوگئی امام نے اپنے لشکر کو مرتب کیا اس طرح که میمنه کا سردار زهیر قین کو اور میسره کا سردار اپنے بچپن کے دوست حبیب ابن مظاهر کو اور علمدار لشکر حضرت ابوالفضل العباس ؑکو قراردیا اور قلب لشکر میں جناب علی اکبرؑ کوکهڑا کیا ۔ جنگ شروع هوئی اور ایک ایک کرکے اصحاب امام شهید هوتے رهے ۔یهاں تک که ظهر عاشوره  آگئي اور اب اقرباء  کی باری آئی ۔
علامه ابوالفرج اصفهانی نے حضرت امام محمد باقر علیه السلام کی اسناد سے لکها هے که شهید اول حضرت علی اکبر هیں اور زیارت ناحیه میں بهی امام آخر الزمان ؑنے اول قتیل کهه کر سلام کیا هے : السلام علیک یا اول قتیل من نسل خیر سلیل من سلالۃ ابراهیم الخلیل، میرا سلام هو اس شهید پر جو نسل ابراهیمی میں سب سے پهلے شهید هوا اس سے واضح هوتا هے که مظلوم کربلا نے سب سے پهلے اپنے هی لخت جگر کو قربان کیا تاکه دوسروں کے لیے حجت قرارپائے ۔ اگر چه بیشتر کتابوں میں یه هے که حضرت عباس کی شهادت کے بعد جناب علی اکبر شهید هو‏ئے ۔
مزار شریف: حضرت امام حسین علیه السلام کی قبر شریف کے کنارے پائین پا آپ کی قبر مطهر هے ۔