سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/8/22 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها
■ ◊ فلسفه رسالت، عشق اهلبیت علیهم السلام میں مضمر هے
■ ◊ امام حسین علیه السلام کی زیارت عرش پر الله کی زیارت هے - بقلم آیت الله استاد عادل العلوی مترجم مطفی علی فخری
■ ◊ اهل بیت آیت مودت کى روشنى میں - فدا حسین عابدی
■ ◊ عباس بن علی (ع)
■ ◊ حضرت علی اکبر (ع)
■ ◊ امام حسن(ع) کی صلح اور امام حسین(ع)کے قیام کا فلسفه - غلام عباس رئیسی
■ ◊ انوار قدسیه : حضرت امام جعفر صادق علیه السلام -
■ ◊ امام زمانه کی معرفت ضروری کیوں ؟ - محمد یعقوب بشوی
■ ◊ غیبت کبریٰ میں امت کی ذمه داریاں - از سید ریاض حسین اختر ولد سید سلیم اختر حسین شاه
■ ◊ شیعیان آل محمد کا خدا سے رابطه - اختر حسین نسیم
■ ◊ شب قدر شب امامت و ولایت هے
■ ◊ بغض اهلبیت (ع) پر تنبیه - محمد ری شهری - مترجم سید ذیشان حیدر جوادی
■ ◊ مختلف سوالات اور ان کےجوابات از آیت الله سید عادل علوی
■ ◊ عمومی معلومات
■ ◊ جنة البقیع
■ ◊ رسول الله| کے آثار کا نادر مجموعه
■ ◊ آیۃ الله مرعشی نجفی
■ ◊ مجلہ عشاق اهل بیت کے قوانین وضوابط

◊ امام حسن(ع) کی صلح اور امام حسین(ع)کے قیام کا فلسفه - غلام عباس رئیسی

حضرات ائمه اطهار علیهم السلام کی سیرت اور عملی زندگی میں بهت زیاده مشترکات نظر آتے هیں اور یه ایک مسلم بات هے۔
بقول اقبال ؂
حقیقت ابدی هے مقام شبیری
بدلتے رهتے هیں انداز کوفی و شامی
اس اشتراکِ فکر وعمل کی اصل وجه یه هے که ائمه معصومین (ع)اور انبیاء الٰهی کا مقصد اور اصول ایک هے؛ جیسا که امام خمینیؒ کا ارشاد هے که اگر سارے انبیاءؑ عظام ایک وقت میں ایک هی مقام پر موجود هوتے تب بهی ان کے درمیان ذره برابر اختلاف نه پایا جاتا۔ کیونکه اگر کهیں بهی انسانوں کے درمیان کوئی اختلاف پایا جاتا هے تو اس کے چند عوامل ضرور هوتے هیں مثلاً:
الف۔ ان افراد کا هدف اور نصب العین ایک نهیں هوتا بلکه هر ایک کا مقصد اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ هوتا هے؛ لهٰذا ان کے درمیان اختلاف هوجاتا هے ۔ اس حقیقت کی مثال ایسی هی هے جیسے ایک مسافر مشرق جانے والا هو اور دوسرا مغرب جانے والا هو تو یه دونوں همسفر نهیں هو سکتے اور ایک گاڑی میں دونوں ایک ساته سوار نهیں هوسکتے۔
ب۔ اختلاف کا دوسرا عامل، افراد کے طریقۂ کار کا اختلاف هوتا هے۔ مثلاً دین کی خدمت کرنا سب کا هدف هوتا هے لیکن اس هدف کے حصول کیلئے ایک شخص سیاست یا جهاد کا راسته اپناتا هے اور دوسرا شخص علمی اور فلاحی خدمات کی فراهمی کء ذریعے اس هدف تک پهنچنا چاهتا هے۔ البته اس طرح کے اختلاف کی بهی دو وجوهات هوتی هیں:
۱) بعض اوقات متعدد راستے اپنانے کا سبب تقسیم کار هوتا هے؛ مثال کے طور پرایک شخص تعلیم و تربیّت کا شعبه سنبهال لیتا هے تو دوسرا عسکری شعبه اپنا لیتا هے۔ لیکن دونوں کا هدف ایک هی هوتا هے اور دونوں ایک هی نظام کے اجزاء کی حیثیّت رکهتے هیں۔ لهٰذا ایسے افراد کے درمیان تعاون کی فضا پائی جاتی هے اور وه ایک دوسرے کے کام کی تکمیل کرتے هیں۔
۲) بعض اوقات ان افراد میں اختلاف کا سبب تقسیم کار نهیں هوتابلکه ان میں سے هر ایک، اپنی روش کو برحق اور دوسرے کی روش کو باطل تصور کرتا هے۔ مثال کے طور پر کلمۂ حق کے اِعلاء کیلئے ایک فرد تبلیغ کو صحیح روش اور جهاد و سیاست کو غلط روش خیال کرتا هے جبکه دوسرا فرد برعکس نقطۂ نظر کا مالک هوتا هے۔ ایسے افراد کی مثال ان تاجروں کی سی هوتی هے که جو ایک دوسرے کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے هیں۔
اب اگر افراد کے درمیان اختلاف کی نوعیّت پهلی قسم کی هو تو معاشرے کا ڈاکٹر، استاد، وکیل، تاجر وغیره وغیره، سیاستدانوں کی مدد کریں گے اور سیاستدان ان کی۔ لیکن اگر اختلاف کی نوعیّت دوسری قسم کی هو تو اس صورت میں هر فرد دوسرے کو غلط قرار دے کر اسے کمزور کرنے کی کوشش کرے گا۔ اور یوں پهلی قسم کا اختلاف اتحاد اور همکاری کا سبب بنتا هے اور دوسری قسم کا اختلاف افتراق اور اختلاف و نزاع کا عامل بنتا هے۔
ج۔ اختلاف کا تیسرا سبب، وسائل اور ذرائع کا فرق هوتا هے۔ مثلاً دوستوں اور حامیوں کی وفاداری، تعداد ، صلاحیت ، مالی ذرائع، اسلحه و بارود اور دشمنوں کی کمیت و کیفیت و حکمت عملی ، حالات اور اوضاع زمانه ، معاشره کا باشعور هونا یا نه هونا وغیره وغیره۔ مثال کے طور پر کها جاسکتا هے که حضرت امام حسین علیه السلام کو بهتر ایسے ساتهی ملے جنهوں نے کربلا کی اس قربانی کو اتنی عظمت بخشی۔ لیکن امام حسن ؑکے ساتهی ایسے تهے که آپ کو دست بسته دشمن کے حوالے کرنے کا سوچ رهے تهے۔ حضرت امام حسین(ع)کا دشمن ایک ناپخته اور خودخواه حکمران تها لیکن حضرت امام حسن(ع)کے مدمقابل ایک انتهائی مکار سیاستدان تها ۔
اختلاف کے ان تین عوامل میں سے حضرت امام حسن اور امام حسین علیهما السلام کے درمیان یقیناًپهلے دو عامل، باعث اختلاف نهیں هوسکتے تهے۔ کیونکه حضرت امام حسین (ع)کا مقصد اور نصب العین رضای الٰهی اور بس ’’رضیٰ الله رضانا اهل البیت‘‘ تها اور حضرت امام حسن (ع)کا مقصد اور نصب العین بهی یهی تها۔اب حضرت امام حسن اور امام حسین علیهما السلام کے درمیاں اختلاف، منزل تک پهنچنے کیلئے طریقهٗ کار کا باهمی اختلاف بهی نهیں هو سکتا۔ کیونکه آپ دونوں امام هیں اور اپنی مسؤلیت امامت کو معصومانه صلاحیتوں کے ساته سرانجام دیا کرتے هیں؛ چنانچه ارشاد نبوی هے’’الحسن و الحسین امامان قاما او قعدا‘‘۔
بنابرایں، حضرت امام حسن اور امام حسین علیهما السلام کے درمیاں اختلاف کا واحد سبب، وسائل، حالات، مدمقابل کی حیثیّت اور دوست و دشمن کا اختلاف هی هو سکتا هے۔ حالات اور وسائل کے اسی اختلاف هی کی وجه سے نه فقط حضرت امام حسن و امام حسین علیهما السلام کے درمیان صلح و جنگ کی صورت میں اختلاف نظر آتا هے که حضرت امام حسن (ع)حکومت دے دیتے هیں اور حضرت امام حسین (ع)جنگ کا راسته اختیار کرتے هیں بلکه حضرت امام رضا علیه السلام بهی ولایت عهد ی قبول فرماتے هیں۔
بلکه کردار اور انتخاب کا یه اختلاف تو خود ایک هی معصوم کی زندگی میں بهی نظر آتا هے۔مثال کے طور پر حضور اکرم ﷺنے ۱۵ سال تک صبر و تحمل سے کام لیا اور آٹه سالوں میں اسی کے قریب جنگیں لڑیں۔ حضرت علی علیه السلام نے ۲۵ ؍سال تک سکوت اختیار کیا اور پانچ سال میں تین عظیم جنگیں لڑین۔ حضرت امام حسن (ع)نے ابتداء میں جنگ کا راسته اختیار کیا لیکن آخر میں صلح کر لی۔ اور حضرت امام حسین (ع)نے ابتداء میں صلح کا راسته اختیار کیا لیکن آخر میں جنگ لڑنا پسند فرمایا۔
پس اسی لیے تو راهبر انقلاب اسلامی ایران، فرماتے هیں که یه معصومینؑ چوده کے بجائے اگر صرف ایک شخص هوتا جس کی اتنی عمر لمبی هوتی جتنی چوده معصومین علیهم السلام کی هے تو جو اقدامات وقت کے تقاضوں کے مطابق ان هستیوں نے انجام دیے وهی ایک هستی بهی یه سب اقدامات هوبهو انجام دیتی۔
بنابرایں، ان دو اماموں کی سیاست اور حکمت عملی میں فرق اور اختلاف کے اسباب اور عوامل کو جاننے کیلئے همیں معاویه اور یزید کے درمیان کا فرق، آپ کے دوستوں اور دشمنوں اورعام مسلمانوں کے حالات کا بغور مطالعه کرنا هو گا۔ جیسا که خود نبی اکرم ﷺ اور حضرت علی (ع)کے درمیان اسی وجه سے حکمت عملی میں فرق نظر آتا هے۔ اب هم ذیل میں معصومین علیهم السلام کے درمیان اختلاف کے حوالے سے ایسے هی عوامل کی طرف اشاره کرتے هیں:
نفاق اور کفر کا فرق
اگرچه حدیث نبوی کے مطابق منافق کافر سے بهی زیاده امت مسلمه کیلئے خطرناک هے لیکن زمانے اور معاشرے کے حوالے سے نفاق کا خطره کفر کی نسبت کمتر هوتا هے ، کیونکه منافقت کا مطلب یه هے که اسلام کا بول بالا هے اور منافق اپنے کفر کا اعلان بهی نهیں کرسکتا هے۔ جبکه اظهار کفر کا مطلب یه هوتا هے که مسلمان اتنے بے ضمیر اور بے حس هوچکے هیں که کفر و اسلام کے درمیان ان کے لئے کوئی فرق نهیں رها۔
بنی امیه نے جو که دشمن اسلام اور دشمن پیغمبر تهے، اسلام کونابود کرنے کی هر ممکن کوشش کی لیکن همیشه ناکام رهے ۔ مشرکین مکه اور حضور کے درمیان هونے والی تمام جنگوں میں قیادت کرنے والے یا بنیادی کردار ادا کرنے والے اسی قبیله کے بزرگان تهے۔ لیکن جب فتح مکه کا موقعه آیا تو لشکر اسلام کی طاقت اور عظمت کو جب اس خاندان نے دیکها تو انهیں پته چل گیا که کفر کا علمبرداربن کر کامیابی کا حصول ممکن نهیں هے۔ تو انهوں نے اندرونی کفر اور بیرونی اسلام (جس کو قرآن نفاق سے تعبیر کرتا هے) کی روش کو اپنایا۔ چنانچه حضرت علی ۔ فرماتے هیں که اس خاندان کے سردار نے دین کو ترک کیا هے اور یه اسلام کی بساط کو ایسا الٹا کریں گے جس طرح پوستین کو الٹا کیا جاتا هے ۔ (نهج البلاغه خطبه۱۰۸)۔
حضرت عمار یاسرؒ فرماتے هیں: استسلمو ولم یسلموا۔ (حماسه حسینی) که انهوں نے هتهیار ڈالا هے مسلمان نهیں هوئے هیں۔ پهر ابوسفیان کا حضرت حمزه کی قبرپر جاکر یه کهنا که حمزه! بادشاهت کے جس درخت کی تم اپنے خون سے آبیاری کی تهی وه اب همارے بچوں کے هاتهوں کهلونا بنا هوا هے ۔پهر حضرت قیس بن سعد بن عباده اور معاویه کے درمیان تبادله هونے والے خطوط کے مضامین اور مغیره بن شعبه کی معروف روایت (مسعودی) جس میں امیر شام نے کها تها که جب تک نام محمد کو دفن نه کروں ،سکون سے نهیں بیٹهوں گا۔تو اس قسم کے دسیوں واقعات، تاریخِ اسلام کی کتابوں میں مرقوم هیں حالانکه بنی امیه کے زور شمشیر اور مذهبی تعصب کی وجه سے اس قسم کی دسیوں تاریخی دستاویزات غائب بهی هوچکی هیں۔ (جیسا که تاریخ میں کئی مثالیں موجود هیں)
خلاصه یه هے ان واقعات سے معلوم هوتا هے که یه لوگ اسلام کو نابود کرنا چاهتے تهے؛ کیونکه اسلامی اصول نه فقط ان کے خاندانی اور حکومتی مفادات کے منافی تهے بلکه یه لوگ خاندانی طور پر بهی اسلام اور حضرت محمد و آل محمد ؐکے دشمن تهے۔ لهٰذا وه منتظر تهے که ایک ایسا دن آئے که مسلمان اعلان کفر کو بهی برداشت کرلیں اور ساته ان کی بادشاهت بهی باقی رهے۔ لهٰذا تاریخ بتاتی هے که معاویه خلیفه کهلانے کی بجائے بادشاه کے لقب سے زیاده خوش هوتا تها۔(تاریخ خلفاء۔ رسول جعفریان)
لیکن معاویه اپنے دور میں کسی ایسے اظهار کی جرأت نهیں رکهتا تها لهٰذا جو بهی ناجائز اعمال اس نے انجام دیئے اس کے لئے دین کا سهارا لیا؛ یهاں تک که جب حضرت علی (ع)کو وه سب کرتا تها تو پهلے کهتا تها خدایا تو گواه رهنا که علیؑ نے تیرے دین کو ترک کیا هے یا اس میں بدعت ایجاد کی هے۔ لیکن یزید نے کفر کے الفاظ کو علی الاعلان زبان پر جاری کیا (جیسا که اس حوالے سے یزید کے اشعار معروف هیں۔( معالم المدرستین، علامه عسکری) اور اسی لیے تو مدینه میں جب مروان نے حضرت امام حسین (ع)سے مطالبه کیا که آپ یزید کی بیعت کریں تو امام نے فرمایا: ’’علی الاسلام السلام اذ بلیت الامه براع مثل یزید‘‘۔ یعنی یزید کی حکومت، اسلام کی نابودی اور اعلان کفر کے مترادف هے ۔
یهاں ممکن هے کسی کے ذهن میں یه سوال اٹهے که خدا نے خود اسلام کی حفاظت کی ضمانت دی هے تو پهر حضرت امام حسین (ع)نے اتنا بڑا خطره کیوں مول لیا؟ تو جواب یه هے که خدا وند تبارک و تعالٰی نے انهی اهل بیت اطهار (ع)اور قرآن هی کے ذریعے تو اسلام کی حفاظت کی ضمانت فراهم کی هے۔ جیسا که جناب پیغمبر اکرم ﷺنے فرمایا: ’’انی تارک فیکم الثقلین کتاب الله وعترتی اهل بیتی ان تمسکتم بهما لن تظلو بعدی ابدا‘‘۔ یعنی (میں تمهارے درمیان دو گراں چیزیں چهوڑے جا رها هوں؛ ایک الله تبارک و تعالیٰ کی کتاب هے اور دوسرے میری عترت، میرے اهلبیتؑ هیں؛ که جب تک میرے بعد ان دونوں کا دامن تهامے رهو گے، گمراه نه هو گے۔)
اسی طرح حدیث سفینه وغیره سے معلوم هوتا هے که کربلا جیسی قربانیوں هی کے ذریعے( جن کا تفصیلی ذکرفی الحال ممکن نهیں) خدا دین کی حفاظت کرتا هے۔ لهٰذا نتیجه یه هوا که حضرت امام حسین(ع)کیلئے اعلانِ کفر کے بعد خاموشی اختیار کرنا، ناممکن تها۔ کیونکه اسلام کی حفاظت آپ کی اور هر مسلمان کی ذمه داری تهی ۔ اسی لیے تو جناب زنیب (ع)نے دربار یزید میں اپنے خطاب میں فرمایا: ’’فوالله لاتمحو ذکرنا و لاتمیت وحینا‘‘۔ یعنی ائے یزید! تمهارا مقصد هماری وحی (اسلام)کی نابودی اور محافظ اسلام کو صفحه هستی سے مٹانا هے لیکن قسم بخدا یه بات تمهارے بس میں نهیں هے ۔

گناهوں میں فرق
یزید کی حکومت سے پهلے اگر کبهی حکمران گناه کرتے تهے تو اسے یا تو دوسروں کی نگاهوں سے چهپ کر انجام دیتے تهے یا اس گانه کے انجام دینے کے جواز کے طور پر بعض جعلی احادیث کا سهارا لے کر پهلے اس گناه کو شرعی طور پر جائزقرار دیتے تهے اور بعد میں اس کا ارتکاب کرتے تهے اور ان میں گناه کو کهلے عام گناه کے عنوان سے انجام دینے کی جرأت نه تهی۔ اسی لیے تو امیر شام، یزید سے کهتا تها: ’’بیٹا! شراب تو بهت سے لوگ پیتے هیں لیکن وه چهپ کر ایسا کرتے هیں۔ تم بهی ایسا هی کیا کرو‘‘؛ یعنی شراب چهپ کر پیا کرو۔(معالم المدرستین) لیکن یزید علی الاعلان گناه کاارتکاب کرتا تها۔ اور اس کی وجه بهی یه هے که اس کی پرورش بهی ایک غیر اسلامی ماحول میں هوئی تهی۔ جیسا که دربارِ ولید میں حضرت امام حسین (ع)نے اسی نکته کی طرف اشاره کرتے هوئے فرمایا که: ’’یزید رجلٌ فاجرٌ مُعلن بالفسق و مثلی لایبایع مثله‘‘۔ (یعنی یزید ایک فاجر انسان هے جو کهلے بندوں گناه کرتا هے اور مجه جیسا یزید جیسے کی بیعت نهیں کر سکتا) اسی طرح جب معاویه یزید کی خلافت کی راه هموار کرنے کیلئے اور اس کی بیعت لینے کیلئے مدینه آیا تو امام عالی مقام اور عبدالرحمن ابن ابی بکر، دونوں کا جواب ایسا هی تها که یزید اعلانیه طور پر گناه کرتا هے اور امیر شام نے بهی اس بات سے انکار نهیں کیا اور نهیں کها که نهیں وه نیک آدمی هے اور ایسے گناه کا مرتکب نهیں هوتا۔ کیونکه یه حقیقت سب پر عیاں تهی؛ لهٰذا زیاد ابن ابیه جیسا شقی انسان بهی معاویه سے کهتا هے که یزید کیلئے لوگوں سے بیعت کا مطالبه کرنے سے قبل، اسے کهه دیں که کم از کم ایک دو سال تک تو مهذب طریقے سے زندگی گزار لے۔
بنابرایں، دین اسلام میں گناه اعلانیه اور مخفی گناه میں فرق هے۔ جهاں ایک انسان کے دسیوں مخفی گناه معاف کر دیے جائیں گے وهاں شاید اس کا فقط ایک اعلانیه گناه بهی معاف نه کیا جائے گا۔ کیونکه مخفی گناه کرتے وقت صرف انسان اپنے اوپر ظلم کرتا هے، لیکن معاشرے کو اس کے گناه سے کوئی خاص نقصان نهیں پهنچاتا اور نه هی وه شخص اپنے عمل کے ذریعے معاشره کو گناه کی دعوت دیتا هے ۔ لیکن جب ایک انسان اعلانیه طور پر گناه انجام دیتاهے تو در اصل وه اپنے اس عمل کے ذریعے گناه کی قباحت اور برائی کو ختم کردیتا هے اور شریعت کی توهین کامرتکب هوجاتا هے ۔پس ایک طرف تو اعلانیه اور مخفی گناه میں فرق هے
اور دوسری بات یه هے که اهم شخصیتوں کے گناه اور معمولی افراد کے گناه میں بهی کافی فرق هے۔ جیسا که ایک عرب شاعر کهتا هے :
اذا کان ربّ البیت بالدّف مولع
فشیمه اهل البیت الرقص
یعنی۔ اگر کسی خاندان کا بزرگ ڈهول بجانے والا هو تو اس گهر کے با قی افراد بهی رقص کرنے لگیں گے۔جب مسلمانوں کا حاکم، اسلام کے احکام کا عملی مذاق اڑاتا هو تو عوام کی کیا حالت هوگی؟ جب ایک ایسا شخص که جس کی ذمه داری الهی حدود کا اجراء هے، خود شرابی هو تو شراب کی حد کون جاری کرے گا؟
اسی لیے تو کها گیا هے که قیامت کے دن عالم کے ایک گناه معاف هوجانے سے پهلے جاهل کے ستر گناه معاف هوچکے هوں گے ۔ اور برعکس اگر کوئی عالم نیک هے تو اس کی نیند اور آرام بهی جاهل کی عبادت سے بهتر هے۔ کیونکه اهم شخصیات کے نیک یا برے اعمال کا معاشرے پر پڑنے والا اثر انتهائی زیاده هوتا هے ۔ اور اسی لیے حضور اکرم ﷺنے فرمایا: ’’الناس علی دین ملوکهم‘‘۔(یعنی لوگ اپنے بادشاهوں کے دین پر هوتے هیں)۔ یهی وجه هے که قرآن کریم جهنمیوں کی زبانی یه بات نقل کرتا هے که وه لوگ بروزِ قیامت کهیں گے ’’خدایا! ان سرداروں اور بزرگوں نے همیں گناه پر اکسایا پس ان کو دُگنے عذاب میں مبتلا کردے‘‘۔
اب ان حقائق کی روشنی میں غور فرمائیے که اگر یزید اقتدار پر قابض رهتا اور لوگ اسے خلیفۃ المسلمین اور جانشینِ رسول(ص)کے طور پر قبول کرلیتے تو کیا اسلام پر عمل کرنے والا کوئی باقی ره جاتا؟ اور یه بات بهی جان لینی چاهیے که وه دین جس پر عمل نه هو پائے وه زنده دین نهیں کهلاتا۔ زنده دین وه هوتا هے جو لوگوں کی عملی زندگی میں نظر آئے ورنه ایسا دین جس پر عمل انجام نه پائے، اور وه دین فقط نبی اکرم ﷺ کے ذریعے لوگوں تک نه پهنچ پائے یا صرف لوح محفوظ پر باقی رهے تو ان دونوں میں کیا فرق هے۔ اسی لیے تو قرآن مجید هر مقام پر ایمان اور عمل صالح باهم دونوں کو باعث نجات قرار دیتا هے۔
سورۂ مبارکۂ ’’العصر‘‘، اس حقیقت پر گواه هے۔ لهٰذا اب تک کی بات کا خلاصه یه هوا که یزید سے پهلے کے حکمران اگرچه گناه توکرتے تهے لیکن مخفی طور پر یا گناه کا شرعی جواز ڈهونڈ کر؛ لیکن یزید علی الاعلان گناه کرتا تها۔ یهی وجه هے که اس سے پهلے کے حکمرانوں کے خلاف اتنے شدید ردّ عمل کی ضرورت نه تهی جتنی اس کے خلاف ضرورت تهی۔ کیونکه اس کے ان گناهوں پر خاموشی، اس کی تائید سمجهی جاتی۔ لهٰذا حضرت امام حسین (ع)پر یزید کے خلاف قیام، ضروری هوگیا تها۔ البته همارے موجوده زمانے میں بهی مسلمانوں کا یهی حال هے اور اس دور کے مسلمانوں کو بهی کم از کم سوچنا چاهیے که کهیں وه یزیدِ وقت کی بیعت میں تو نهیں هیں؟

ایک طرف شک و شبه، دوسری طرف مرده ضمیری:
تاریخ کا هر طالب علم بخوبی جانتا هے که حضور اکرم ﷺ کی وفات سے لے کر حضرت علی (ع)کو خلافت ملنے تک، کسی بهی حکمران نے نه فقط آل محمد(ص) کو تنها کردینے میں کوئی کسر اٹها نه رکهی، بلکه امیر شام کو بهی مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی سیاست پر عمل پیرا رهے۔ اسی لیے رسولخدا ﷺکی امت ، اهل بیت اطهار علیهم السلام کے مقام سے بے خبر رهی اور حضرت علی (ع)اور معاویه کی جنگ کو حق و باطل کی بجائے قبیلۂ بنی هاشم اور بنی امیه کے درمیان چلی آنی والی دشمنی کی ایک کڑی تصور کرنے لگی۔ اور معاویه کی سازشوں کے ذریعے حضرت علی (ع)تو نعوذ بالله، بے نمازی، لیکن امیر شام کاتبِ وحی بن گئے!حضرت علی (ع)قاتلِ عثمان اور ظالم ٹههرے اور معاویه خوامخواه میں خونِ عثمان کا طلبکار اور حق بجانب قرار پایا۔
اب اُس دور میں جنگ، مشکل کا حل نه تها؛ کیونکه جنگ میں زیاده طاقت رکهنے والا غالب آتا هے چاهے حق پر هو یا باطل پر۔ لیکن حضرات آئمه اطهار علیهم السلام تو محافظِ اسلام هیں لهذا انهیں اگر حکومت کرنے میں اسلام و مسلمین کو خطره نظر آئے تو اسے چهوڑ دینے کیلئے تیار هوتے هیں۔ کیونکه حکومت کرنا تو ایک وسیله اور ذریعه هے اور دین و ایمان کا بچانا هدف هے ۔ اب اگر ذریعه اور و سیله هدف کو نقصان پهنچائے تو پهر وه وسیله نهیں بلکه مانع هے۔
یهی وجه هے که اگر حکومت مقصد میں مانع بن جائے تو حضرت امام علی ؑ کی نظر میں بکری کی چهینک سے بهی بدتر هے؛ لیکن اگر اس کے ذریعے عدل و انصاف کا قیام ممکن هو تو یه ایک بهترین چیز هے۔ لهٰذا اس صورتحال میں ضرورت اس بات کی تهی که وه لوگ جو که حضرت امام علی (ع)کو بے نمازی اور مستحق لعن و طعن مانتے تهے یا وه لوگ جو شک و شبه میں مبتلا تهے ، خود انهیں موقعه دیا جاتا که وه اپنی نگاهوں سے بنی امیه کی حقیقت اور ان کی حقیقی تصویرکو حکومت کے آئینه میں وه خود دیکه لیں۔ اور وه خود فیصله کریں که حق کهاں هے اور باطل کهاں۔ یعنی اگر حکومت سے دستبردار هونے سے اگرچه حکومت چلی جاتی هے لیکن لوگوں کا ایمان محفوظ ره سکتا هے اور اهل بیتؑ کی معرفت بهتر هوسکتی هے اور لوگ سمجه سکتے هیں که حضرت علی ۔ اور معاویه کے درمیان جنگ، اقتدار کی جنگ نهیں بلکه اسلام کی بقاء یا نابودی کی جنگ هے تو اهل بیتؑ یه قربانی دینے کیلئے تیار هیں۔
پس حضرت امام علی (ع)اور حضرت امام حسن (ع)کے زمانے کے مسلمان ایک شک و تردید میں مبتلا تهے۔ جس سے انهیں نکالنے کیلئے وقت ملنا چاهیے تها که اگر معاویه کے ساته جنگ میں امام جیت بهی جاتے تب بهی یه شک و شبه باقی ره جاتا۔ لیکن جیسا که خود حضرت امام حسن (ع)نے بهی بتایا اور تاریخی شواهد اور قرائن بهی بتارهے تهے که جیت معاویه کی هو گی، بلکه حضرت امام علی (ع)نے اس اموی جیت کی خبر بهی دے دی تهی اور آپ(ع)نے فرمایاتها:’’ انّی لاظن اَنّ هولاء القوم سیدون علیکم۔۔۔ که شام والے جیت جائیں گے اور ان کے غلبه کی وجوهات بهی آپ نے بیان کی جو که نهج البلاغه میں مذکور هیں۔
اور جب صلح کے بعد امیر شام کوفه پهنچا تو اس نے واشگاف لفظوں میں یه اعلان کیاکه اس جنگ کا مقصد معاشره میں احیاء نماز، روزه، زکات اور حج وغیره نهیں تها بلکه مقصد حکومت کا حصول تها جو حاصل هو گیا۔ یعنی اس نے خود لوگوں کے شکوک کو دور کردیا اور اُس کے بعد کے اعمال نے مزید حقیقت کو آشکار کردیا۔ اب اس صورت میں حضرت امام حسن (ع)کا جنگ لڑنا اور صلح نه کرنا کیا نتیجه دے سکتا تها؟ اگر جنگ هوتی اور امام کو شکست هوتی تو معاویه یزید جیسا بے وقوف نه تها۔ جیسا که اس نے یزید کو اپنی وصیت میں لکها هے که اگر حسین (ع)قیام کرے تو تم اسے قتل مت کرنا چونکه وه فرزند رسول خدا ﷺ هیں۔ یه ایک پخته سیاستدان کی بات هے تاکه کوئی اس پر اعترض بهی نه کرسکے ورنه امام حسن مجتبیٰ (ع)کو زهر دلوانے والا کون تها؟
یهی معاویه هی تو تها۔ لهٰذا اگر جنگ هوتی تو وه امام حسن (ع)کو اسیر کرتا اورپهر انهیں عزت و احترام کے ساته آزاد کردیتا اور پهر بعدمیں امام کے خاص ساتهیوں کو شهید کر دینے کے بعد خود امام کو بهی چپکے سے شهید کردیتا اور ان پر احسان بهی جتاتا اور خود امت کے درمیان نیک نام بهی هوجاتا۔ اسے فتح مکه کے وقت جناب حسنین علیهما السلام کے نانا نے ان کو جو آزاد کیا تها اور وه اس شرمندگی میں مبتلا تها، اس شرمندگی سے بهی نجات مل جاتی اور امام کے ساته اس کا کوئی معاهده بهی نه هوتا جس کا خوف هر وقت اس کے دل پر چهایا رهتا۔ کیونکه معاهده کی خلاف ورزی کو عرب کے مشرکین بهی برا مانتے تهے ۔ اور یهی معاهده هی تو تها که معاویه نے حضرت امام حسن (ع)کو شهید کرانے کے بعد هی یزید کیلئے بیعت کے مطالبے کی جرأت کی۔
پس یهاں پر جنگ جاری رکهنا اور شکست کهانا، امام کی جیت نه تهی بلکه یهاں پر صلح کرنا اور وه بهی مشروط صلح،یهی حضرت امام حسن (ع)کی جیت تهی اور مقصد کی جیت، اسلام کی جیت اور اهل اسلام کی جیت، امام حسن (ع)کی صلح میں مضمر هو گئی ۔ کیونکه صلح کا سب سے پهلا بند یه تها که معاویه کتاب خدا اور سنت رسول(ص) پر عمل کرے گا۔ یهاں حضرت امام حسن (ع)کا مقصد پورا هوچکا تها اور اب اگر معاویه کتابِ خدا اور سنتِ رسولخدا ﷺ پر عمل نه کرتا تو معاویه کی باطنی حقیقت اور عهد شکنی اور قرآن و سنت سے انحراف سب لوگوں کے سامنے آجاتا۔ اسی طرح سے صلح کے معاهدے کے بقیه بندوں نے بهی مسلمانوں کو هر قسم کے شک و شبه سے نکال دیا اور انهیں عملاً بتادیا که معاویه کا اسلام سے کوئی تعلق نهیں هے اور وه فقط اقتدار کے درپے هے۔
لیکن امیر شام نے اپنے آپ کو بے نقاب هوتے دیکه کر ایک نیا منصوبه تیار کیا اوروه یه تها که مسلمانوں کو بے غیرت بنادیا جائے اور انهیں اجتماعی اور سیاسی احساس ذمه داری سے محروم کر دیا جائے۔ انهیں حکومت اور سیاست کے مسائل سے لا تعلق کر دیا جائے۔ اور اس نے اس مقصد کے حصول کیلئے انتهائی ماکرانه اور ماهرانه نقشه تیار کیا۔ اس نقشه کے مطابق اس نے مخلص مؤمنین اور مسلمین کو قتل کروایا، جیلوں میں ڈالا یا پهر شهر بدر کردیا۔ صغیف العقیده لوگوں کو مال و دولت یا حکومت عهدے دے کر خریدا۔ اور عام لوگوں کو جاهل رکها گیااور انهیں فقط یهی سمجهایا گیا که ان کی ذمه داری حکومت و سیاست کے امور میں دلچسپی لینا نهیں هے بلکه انهیں اپنی روٹی اور کپڑے کی فکر کرنا چاهیے۔
معاویه کے اسی کردار کی وجه سے اهل کوفه کی اکثریت، حق شناس اور حسین (ع)شناس ضرور هو گئی تهی، اور انهیں بهت سارے شکوک و شبهات سے نجات بهی ملی؛ لیکن یه الگ بات که وه اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر کوئی قدم اٹهانے کیلئے تیار نه تهے۔ اسی لئے فرزدق نے حضرت امام حسین (ع)کے جواب میں عرض کیا: ’’قلوبهم معک، سیوفهم علیک‘‘۔ یعنی( انهیں آپ کی معرفت تو هے، لیکن عمل میں وه بنی امیه کے ساته هیں) اور یهی وجه تهی که جناب حضرت مسلم (ع)کا ساته دینے والے مجاهدوں کو پراکنده کرنے کیلئے آنے والی ان کی ماؤں، بهنوں ، او بیویوں کی بات بهی یهی تهی که حکومتی مسائل سے همارا کیا واسطه؟
حکمرانوں کی سیاست همیشه یهی رهی هے که عوام کو سیاست سے دور رکها جائے۔ قرآن مجیدمیں فرعون کے بارے میں ارشاد هوتا هے که: ’’فاستخفّ قَومَه فَاطاعوه‘‘۔ یعنی (اس نے اپنی قوم کو ذلیل بنایا تب انهوں نے فرعون کی اطاعت کی)۔ اور کیا وجه هے که آج مسلمان ایسے حکمرانوں کے خلاف بغاوت کرکے، غلامی کی زندگی سے نجات پا کر آزادی کے حصول کیلئے کوشاں نهیں هیں؟ وجه یهی هے که حکمرانوں نے ان سے اعتماد بنفس چهین لیا هے اور انهیں اپنا بنده اور غلام بنا لیا هے ؛ جیسا که مولا علی علیه السلام ایسے هی حکمرانوں کے ان کرتوتوں کے بارے میں فرماتے هیں: ’’فاتّخذوا عباد الله خَوَلاً‘‘۔ یعنی (ان ظالم حکمرانوں نے خدا کے بندوں کو اپنا بنده بنا لیا هے)۔
بنی امیه اپنی اس منحوس سیاست میں کامیاب هوچکے تهے۔ انهوں نے مخلصین کو قتل عام کرکے یا پابند سلاسل بناکر یا شهر بدر کرکے، دنیا پرستوں کو مال و دولت و حکومت دے کر، عوام الناس کو بے وقوف بناکر یا ذلیل، اور مرده ضمیر بناکر، اسلامی مملکت کے سیاه و سفید پر قبضه کر لیا تها۔
اب ان حالات میں عالم اسلام کی اس مشکل صورتحال کے حل کیلئے حضرت امام حسین ؑکے پاس فقط دو هی راستے تهے:)۔ تبلیغ کے ذریعے مسلمانوں کو بنی امیه اور حاکموں کے ناپاک عزائم سے باخبر کرتے؛ تاکه پوری امت اٹهے اور امام حسین (ع)نے بهی یهی قدم اٹهایا۔ بلکه امام حسین (ع)سے قبل خود حضرت علی (ع)نے اپنے خطبوں میں بنی امیه کے خطرات سے مسلمانوں کو آگاه کیا تها۔ بلکه حضور ﷺ کی متعدد احادیث میں اس خاندان کے خطرات سے مسلمانوں کو خبردار کر دیا گیا تها۔ لیکن اموی لابی کی مشینری نے صدرِ اسلام هی سے پیغام رسالت اور ولایت سے مسلمانوں کو باخبر هونے نهیں دیا۔ بلکه جعلی احادیث کے ذریعه اور سنت پیامبر(ص) کے نقل و انتقال پر پابندی لگا کر حق کو باطل اور باطل کو حق بنا کر پیش کیا ۔ اب بدقسمتی سے خود مولا امام حسین ؑ کے زمانے میں معمولی تبلیغ کے ذریعے پیغام حق کو تمام مسلمانوں تک پهنچانا ناممکن هوچکا تها۔
اس دعوی ٰ کی دلیل یه هے که مولا امام حسین (ع)نے دو مرتبه اپنے خواص کو اپنا پیغام سنایا۔ایک تو صحرای منیٰ میں حج کے دوران جهاں حاجیوں کی کثرت کی وجه سے حکومت کے کارندے ناکار هوجاتے هیں۔ اس موقعه پر آپ نے ایک خطبه کے ذریعے حضرت علی (ع)کی شان میں حضور ﷺ کی احادیث سنائیں اور سامعین سے درخواست کی که وه ان فضائل کو دوسروں تک پهنچادیں۔ اور دوسرے خطبه میں خواص کی آرام طلبی ، مصلحت پسندی،سکوت اور بنی امیه کے مظالم کو آپ نے بیان فرمایا۔ اس سے معلوم هوتا هے که تبلیغ کے ذریعے امت محمدی کی اصلاح کرنا ناممکن هوچکا تها۔ یعنی نه پیغام پهنچانا ممکن رها تها اور جن تک پیغام پهنچ چکا تها وه بهی انتهائی مرده ضمیر هوچکے تهے۔ چنانچه حضرت امام حسین (ع)کے ایک سفیر نے پهانسی کے پهندے میںبهی لوگوں کو پیغام حسینی سنایا لیکن کوئی قابل ذکر اثر دیکهنے میں نه آیا۔ اور امام حسین (ع)نے جو قاصد بهیجے تهے انهیں یکے بعد دیگرے گرفتار کرکے شهید کر دیا گیا۔ کیونکه اگرچه امت کے اندر بالعموم جهالت تهی لیکن شیعیان علی تو حقیقت سے واقف تهے یا عام مسلمان جو که محب اهل بیت (ع)اور دشمن بنی امیه تهے وه بهی حالات سے باخبر تهے۔ لیکن احساس ذمه داری کا نه هونا، حب دنیا اور مرده ضمیری نے انهیں چلتی پهرتی لاشیں بنا دیا تها۔
ان حالات میں ضرورت اس بات کی تهی که ان کی رگوں میں خون ڈال دیا جائے اور مرده ضمیروں کو زنده و بیدار کر دیا جائے۔ اس کام کیلئے تبلیغ کافی نه تهی بلکه کسی زنده اور بیدار کر دینے والے اقدام کی ضرورت تهی۔ اور وه اقدام خون کی هولی هی هو سکتا تها۔ اور فرزند رسول ﷺ نے عزت و احترام کی زندگی کو خیر باد کها اور نانا کے دیار کو چهوڑ کر، کربلا کے چٹیل میدان میں قدم رکها اور پیاس کے ذریعے، خون دے کر اور جگر گوشوں کے ٹکڑے اٹها کر اور بهنوں کی چادریں لٹا کر آپ نے اُن مرده ضمیر مسلمانوں کو زنده کر دیا۔ کچه اس طرح که وه لوگ جو زنده امام (ع)کی فیوضات سے استفاده کرنے کی اهلیت نهیں رکهتے تهے، وه امام کے مقدس خون کی اس قربانی سے بیدار هوکر وارث حسینؑ کی اطاعت کریں اور اسلام کو بنی امیه جیسے دشمنان اسلام سے بچائیں۔ خون دینا اور مظلومیت اگر صدائے حق کے ساته هو تو ایسا اثر دکها سکتا هے اور اس نے ایسا اثر دکهایا بهی۔ لهٰذا انقلاب کربلا خون کا محتاج تها نه صلح یا سکوت کا؛ کیونکه حضرت امام حسین (ع)کے پاس صرف اپنی قیمتی جان تهی ، سیدانیوں کی چادریں تهیں، اور جوانوں اور جانثاروں کی جوانیاں تهیں جنهیں آپ نے راه دین پر قربان کردیا۔
لهٰذا امام حسن مجتبیٰ (ع)کے دور میں امت کی ایک اهم مشکل شک و شبه تها جیسا که خوارج اسی شک و شبه کی پیداوار تهے؛ جبکه حضرت امام حسین علیه السلام کے زمانه کی ایک اهم یاسب سے زیاده اهم بیماری، امت کی مرده ضمیری تهی ۔ اُس مشکل کا حل صلح میں نهیں تها بلکه اس مشکل کا حل فقط خون دینے میں تها۔ چنانچه صلح ایک طرف امام حسن (ع)نے خون حسین ابن علی علیهما السلام کوضائع نهیں هونے دیا کیونکه آپ(ع)کی صلح نے بنی امیه کے کریهه چهره سے نقاب اٹهالیا تها، اور دوسری طرف خون حسینی نے صلح امام حسن (ع)کا مقصد پورا کردیا اور سن ۶۱ هجری میں نه فقط امت کوبیدار کر دیا بیداری امت کا ایک دائمی سامان فراهم کر دیا ۔
اگرچه حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین علیهما السلام کے صلح اور جنگ کے امتیاز کی وجه کے طور پر مذکوره تین قسم کےفرق کے علاوه اور بهی متعدد فرق بیان کئے جاسکتے هیں لیکن مقاله میں گنجائش نه هونے کی وجه سے یهاں عناوین کے ذکر پر اکتفاء کیا جاتا هے۔
۴۔ چونکه امام حسن (ع)کا معاویه کے ساته صلح نامه کے ذریعے معاهده هوچکا تها، لهذا امام حسین ؑنے اس معاهده کی پاسداری کرتے هوئے معاویه سے تو جنگ نه کی لیکن یزید کے ساته نه صرف ایسا کوئی معاهده نه تها بلکه اس کا اقتدار پرآنا خود معاهده کی ایک آشکار خلاف ورزی تهی، لهٰذا اس کے ساته جنگ کرنے کیلئے آپ میدان میں نکلے۔
۵۔ سقیفه سے لے کر حضرت امام علی (ع)کو ظاهری خلافت ملنے تک اقتدار پر آنے والے حکمرانوں نے هر ممکن طریقے سے معاویه کو مضبوط بنایا تها اور خود معاویه کی سیاست اور مکاری بهی نمایاں تهی اور اسے دین کو دین اور قرآن کو قرآن کے خلاف استعمال کرنے کا گُر خوب سمجه آتا تها لیکن یزید کے پاس ایسی ذهانت نه تهی ۔
۶۔ جس طرح که رهبر انقلاب اسلامی ایران بیان فرماتے هیں امام حسین (ع)کے عصر میں، کربلا میں ایک ایسا واقعه پیش آیا جس کی تاریخ اسلام میں اس وقت تک کوئی مثال نه تهی لیکن آئنده کبهی بهی ایسا کوئی واقعه پیش آسکتا تها۔ لهٰذا نبی اکرم ﷺ سے لے کرحضرت امام حسن (ع)تک هر معصوم ؑنے اپنے انداز میں ایک خاص اسوه پیش کیا ۔ لیکن حضرت امام حسین (ع)پر لازم تها که ابد تک کیلئے ایسا اسوه پیش کریں که اگر کبهی دین خطرے میں پڑ جائے اور ایک سچے مسلمان کے پاس دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے ساته مقابله کرنے کیلئے خون و مظلومیت کے علاوه اور کوئی اسلحه نه هو تو پهر بهی وه طاغوت سے ٹکرا جائے لیکن دین کی حفاظت سے دستبردار نه هو۔
۷۔ یزید نے تو حضرت امام حسین (ع)سے بیعت مانگی تهی اور اس بیعت کے اسلام کی بقأ اور دین کی سلامتی کیلئے منفی نتائج برآمد هونا تهے ۔ لهٰذا حضرت امام حسین (ع)بیعت نه کر سکتے تهے ۔ اس کے برعکس، ، جب معاویه نے حضرت امام حسن (ع)کو صلح کی شرائط پیش کیں تو صلح کا یه مطالبه اور یه جنگ بندی مشروط تهی۔ اور حضرت امام حسن (ع)نے تو صلح اور جنگ بندی کی یه شرط رکهی که معاویه کا لقب امیر المومنین نهیں هوگا حالانکه لقب اسلامی حکومت کے سربراه کیلئے ایک خاص لقب اور عنوان کی حیثیت رکهتا تها۔ پس معاویه کا مطالبه جنگ بندی تها جبکه یزید کا مطالبه بیعت۔ لهذا جنگ بندی تو اسلام اور مسلمین کے حق میں کی جا سکتی هے لیکن بیعت نهیں کی جا سکتی۔کیونکه جنگ بندی میں حاکم کے اعمال اور کردار کی تأئید نهیں هوتی جبکه بیعت میں حاکم کے تمام ناجائز اعمال کی بهی تصدیق و تائید هوتی هے۔
۸۔ صلح امام حسن (ع)کے وقت جو مسئله در پیش تها وه مسئلۂ خلافت تها۔خلافت کی وه شکل جو اس وقت موجود تهی اگرچه همارے لیے اور همارے پیشواؤں کی نظر میں اشکال و اعتراض سے خالی نه تهی لیکن پهر بهی یه سلسله بعض اصلاحات کے همراه قابل قبول هو سکتا هے ؛ لیکن یزید کی حکومت تو ملوکیت تهی جو کسی بهی شکل میں قابل قبول نهیں هوسکتی ۔
۹۔ امام حسن (ع)کے زمانے میں عالمِ اسلام پر روم کے حمله کا خطره موجود تها۔ یهی وجه هے که آپ ۔ اور معاویه کے درمیان صلح کا معاهده طے پانے کی خبر سن کر روم کا لشکرواپس چلا گیا؛ لیکن حضرت امام حسین (ع)کے قیام کے وقت عالمِ اسلام کو ایسا کوئی خطره لاحق نه تها ۔
۱۰۔ جیسا که هم نے مقدمه میں اشاره کیا هے، حضرت امام حسین اور حضرت امام حسن علیهماالسلام کے ساتهیوں اور اصحاب میں بهی بڑا فرق تها۔ حضرت امام حسین (ع)کے ساتهی ایسے باوفا تهے که ان کی وفاشعاری نے قیامِ عاشور کی عظمت کو دوبالا کردیا اور یهی وجه هے که واقعه کربلا ابد تک زنده رهے گا۔اس کے برعکس، حضرت امام حسن مجتبیٰ (ع)کے اصحاب کی حالت سب کو معلوم هے۔ آپ کے اصحاب میں اکثریّت بک جانے والوں کی تهی اور وه کسی طور بهی جنگ جاری رکهنے کیلئے آماده نه تهے۔ اور اگر آپ ؑ شهید هوجاتے شاید مظلومیتِ امام حسن مجتبیٰ (ع)کا ذکر کرنے والا بهی کوئی نه هوتا۔ اور یوں آپ کا هدفِ شهادت ناکام هو جاتا کیونکه شهادت کا مقصد تو ابد تک آنی والی نسلوں کا حق اور حقیقت کاپیغام پهنچانا هوتاهے اور یه پیغام رسانی اسی صورت میں ممکن هے جب شهید کو زنده رکهنے والا کوئی موجود هو۔
۱۱۔ حضرت امام حسن مجتبیٰ (ع)کے دور میں معاویه نے جناب عثمان کے خون کے مطالبے کا بهانے بنا کر لوگوں کے جذبات اپنے حق میں موڑ لیے تهے اور اُس نے آیۂ قصاص نعره بنا کر بغاوت کی تهی۔ لیکن قیام کربلا میں حضرت امام حسین (ع)نے قرآن و سنت کی روشنی میں قیام کیا تها اور یهاں یزید کے پاس بهی لوگوں کو بهکانے کا کوئی هربه نه تها۔
یهاں یه بات بهی یاد رکهنا چاهے که باطل حاکم کے خلاف قیام کرنا اور اسلامی حکومت وجود میں لانا هر مسلمان پر واجب هے، خصوصاً معصوم امام پر؛ خواه یزید کے زمانے کی طرح کے انتهائی خطرناک حالات رونما نه بهی هوئے هوں۔یه بات خود حضرت امام حسین اور حضرت امام حسن علیهما السلام کے فرمودات سے صاف ظاهر هے ۔ اور اسی طرح قرآن و سنت و سیرت معصومین (ع)سے بهی یه بات واضح هے۔ لیکن سوال یه هے که حضرت امام حسن مجتبیٰ (ع)نے صلح کیوں کی آپ نے قیام کیوں نهیں کیا؟ تو آپ کے قیام نه کرنے کی وجه کچه ایسی رکاوٹیں اور موانع تهے جن کی وجه سے قیام کرنا اهل حق کے حق میں نه تها۔
چنانچه نماز پڑهنا، حج پر جانا، روزه رکهنا ، واجب هے لیکن کچه مشکلات اور موانع کی وجه سے یه وجوب ساقط بهی هوجاتا هے ۔ تو پهر ان اعمال کے سرانجام دینے والے سے نهیں پوچها جاتا هے که کیوں تم نے نماز پڑهی بلکه نه پڑهنے والے سے پوچها جاتا هے که کیوں تم نے ترک کیا۔ یعنی اسلام کا حکم تو باطل اور ظالم کے خلاف قیام کرناهے، نه که سکوت۔ بنابرایں، امام حسن (ع)کے جنگ نه کرنے اور صلح کرنے کے لئے دلیل کی ضرورت هے، نه که قیام عاشورا کیلئے ۔ لهٰذا صلح امام حسن مجتبیٰ (ع)کو بهانا بنا کر ظالم حکمرانوں کے سامنے خاموش اور لب بسته لوگوں کو دلیل کی ضرورت هے نه که حضرت امام حسین (ع)کی سیرت کو اپنا کر ایسے فاسق حکمرانوں کے خلاف اٹه کهڑے هونے والے مجاهدین کو۔ یهی وجه هے که خود امام حسن مجتبیٰ (ع)واجب الاطاعت امام هونے کے باوجود بهی صلح کی وجوهات اور دلائل بیان فرماتے تهے۔
اگرچه ان دو هستوں کی سیرت سے همیں معلوم هوجاتا هے که اسلام میں جنگ کے موقعه پر جنگ ضروری هے اور صلح کے موقعه پر صلح لازم هے؛ لیکن یه سب کچه وقت کے تقاضوں کو مدنظر رکهتے هوئے هے۔ یعنی اسلام شناسی اور زمان شناسی هر قسم کی جنگ اور صلح کی بنیادی شرط هے ۔ بنابرایں، نه امام حسن (ع)اور امام حسین (ع)کے درمیان کوئی مزاجی کا فرق هے که نعوذبالله کها جائے که ایک امام سخت مزاج تهے اور دوسرے نرم مزاج یا بعض دشمنان اهل بیتؑ کی طرح یه کها جائے که امام حسن (ع)عثمانی تهے اور امام حسین (ع)علوی عقیده رکهنے والے تهے ۔ نهیں ایسا نهیں هے بلکه ’’الحسن والحسین امامان قاما او قعداً‘‘۔ لهٰذا نه تو آپ دونوں کے نصب العین میں کوئی فرق تها اور نه هی دونوں کے طریقه کار میں۔ یهی وجه هے که حضرت امام حسین(ع)بهی سن ۵۱ هجری تک صلح کے حامی تهے جبکه دوسری طرف قیام کربلا کیلئے خود حضرت امام حسن مجتبیٰ (ع)نے بهی اپنے بیٹوں کو قربانی دینے کی وصیت کی تهی۔ پس اگر ان دو معصوم اماموں میں کوئی فرق موجود تهاتو وه فرق حالات کا اور دراصل، یزید اور معاویه کا فرق تها۔ اگر کوئی فرق پڑ گیا تها تو امت میں فرق پڑ گیا تها اور ان دو اماموں کے اصحاب کی وفاشعاری میں فرق پڑ گیا تها۔ اب آئیے هم  یه عهد کریں که هم حضرت امام حسین (ع)کے اصحاب کی طرح وفاشعاربن جائیں که جن کے ساته شهادت پر حضرت امام حسین (ع)بهی فخر محسوس کرتے هیں اور اپنے اصحاب کی وفا کی تأئید و تصدیق کرتے هیں۔ وه اصحابِ با وفا که جن کی زیارت میں آئمه معصوم (ع)نے بهی ’’یالیتنا کنا معکم‘‘ (ائے کاش! هم بهی تمهارے ساته هوتے ) کے الفاظ بیان فرمائے۔ اور خدا نه کرے هماری مثال حضرت امام حسن (ع)کے ان اصحاب کی سی هو جو عهد شکن تهے اور امام کا ساته دینے کیلئے دل سے آماده نه تهے۔