سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/5/22 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها
■ ◊ فلسفه رسالت، عشق اهلبیت علیهم السلام میں مضمر هے
■ ◊ امام حسین علیه السلام کی زیارت عرش پر الله کی زیارت هے - بقلم آیت الله استاد عادل العلوی مترجم مطفی علی فخری
■ ◊ اهل بیت آیت مودت کى روشنى میں - فدا حسین عابدی
■ ◊ عباس بن علی (ع)
■ ◊ حضرت علی اکبر (ع)
■ ◊ امام حسن(ع) کی صلح اور امام حسین(ع)کے قیام کا فلسفه - غلام عباس رئیسی
■ ◊ انوار قدسیه : حضرت امام جعفر صادق علیه السلام -
■ ◊ امام زمانه کی معرفت ضروری کیوں ؟ - محمد یعقوب بشوی
■ ◊ غیبت کبریٰ میں امت کی ذمه داریاں - از سید ریاض حسین اختر ولد سید سلیم اختر حسین شاه
■ ◊ شیعیان آل محمد کا خدا سے رابطه - اختر حسین نسیم
■ ◊ شب قدر شب امامت و ولایت هے
■ ◊ بغض اهلبیت (ع) پر تنبیه - محمد ری شهری - مترجم سید ذیشان حیدر جوادی
■ ◊ مختلف سوالات اور ان کےجوابات از آیت الله سید عادل علوی
■ ◊ عمومی معلومات
■ ◊ جنة البقیع
■ ◊ رسول الله| کے آثار کا نادر مجموعه
■ ◊ آیۃ الله مرعشی نجفی
■ ◊ مجلہ عشاق اهل بیت کے قوانین وضوابط

◊ بغض اهلبیت (ع) پر تنبیه - محمد ری شهری - مترجم سید ذیشان حیدر جوادی

رسول اکرم(ص) ! میرے بعد ائمه باره هوں گے جن میں سے نوصلب حسین (ع) سے هوں گے اور ان کا نواں قائم هوگا، خوشا بحال ان کے دوستوں کے لئے اور ویل ان کے دشمنوں کے لئے۔( کفایة الاثر ص 30 روایت ابوسعید خدری)۔
رسول اکرم(ص)! میرے باره ائمه مثل نقباء بنئ اسرائیل کے باره هوں گے، اس کے بعد حسین (ع) کے کاندهے پر هاته رکه کر فرمایا که نو اس کے صلب سے هوں گے جن کانواں مهدی هوگا جو زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بهر دے گا جس طرح ظلم و جور سے بهری هوگی ، ویل هے ان سب کے دشمنوں کے لئے۔ ( مناقب ابن شهر آشوب 1 ص 195)۔
رسول اکرم (ص)! اگر کوئی بنده صفاء و مروه کے درمیان هزا ر سال عبادت الهی کرے پهر هزار سال دوباره اور هزار سال تیسری مرتبه اور هم اهلبیت (ع) کی محبت حاصل نه کرسکے تو پروردگار اسے منه کے بل جهنم میں ڈال دے گا جیسا که ارشاد هوتاهے " میں تم سے محبّتِ اقربا کے علاوه اور کوئی سوال نهیں کرتاهوں" ( تاریخ دمشق حالات امام علی (ع) 1 ص 132 / 182 روایت ابوامامه باهلی ، مناقب ابن شهر آشوب 3 ص 198)۔
رسول اکرم(ص) ! اگر کوئی شخص هزار سال عبادت الهی کرے اور پهر ذبح کردیا جائے اور هم اهلبیت (ع) سے دشمنی لے کر خدا کی بارگاه میں پهنچ جائے تو پروردگار اس کے سارے اعمال کوو اپس کردے گا۔ ( محاسن 1 ص 271/ 527 روایت جابر عن الباقر (ع) )۔
رسول اکرم(ص) ! پروردگار اشتهاء سے زیاده کهانے والے ، اطاعت خدا سے غفلت برتنے والے، سنت رسول(ص) کو ترک کرنے والے عهد کو توڑ دینے والے، عترت پیغمبر سے نفرت کرنے والے اور همسایه کو اذیت دینے والے سے سخت نفرت کرتاهے۔( کنز العمال 16 / 44029 ، احقاق الحق 9 ص 521)۔
رسول اکرم (ص)، هم سے عداوت وهی کرے گا جس کی ولادت خبیث هوگی ۔( امالی صدوق (ر) ص 384 / 14 ، علل الشرائع ص 141 / 3 روایت زید بن علی ، الفقیه 1 ص 96 / 203۔
امام علی (ع) ! بدترین اندها وه هے جو هم اهلبیت (ع) کے فضائل سے آنکهیں بند کرلے اورهم سے بلا سبب دشمنی کا اظهار کرے که هماری کوئی خطا اس کے علاوه نهیں هے که هم نے حق کی دعوت دی هے اور همارے غیر نے فتنه اور دنیا کی دعوت دی هے اور جب دونوں باتیں اس کے سامنے آئیں تو هم سے نفرت اور عداوت کرنے لگا۔( خصال ص 633 / 10 روایت ابوبصیر و محمد بن مسلم، غرر الحکم 3296)۔
امام علی (ع)! هر بنده کے لئے خدا کی طرف سے چالیس پرده داری کے انتظامات هیں یهاں تک که چالیس گناه کبیره کرلے تو سارے پرده اٹه جاتے هیں اور پروردگار ملائکه کو حکم دیتاهے که اپنے پروں کے ذریعه میرے بنده کی پرده پوشی کرو اور بنده اس کے بعد بهی هر طرح کا گناه کرتاهے اور اسی کو قابل تعریف قرار دیتاهے تو ملائکه عرض کرتے هیں که خدایا یه تیرا بنده هر طرح کا گناه کررهاهے اور همیں اس سے اعمال کے حیا آرهی هے۔
ارشاد هوتاهے که اچها اپنے پروں کو اٹهالو ، اس کے بعد وه هم اهلبیت (ع) کی عداوت میں پکڑا جاتاهے اور زمین و آسمان کے سارے پردے چاک هوجاتے هیں اور ملائکه عرض کرتے هیں که خدایا اس بنده کا اب کوئی پرده نهیں ره گیاهے۔ ارشاد هوتاهے که الله کو اس دشمن اهلبیت (ع) کی کوئی بهی پرواه هوتی تو تم سے پروں کو هٹانے کے بارے میں نه کهتا۔( کافی 2 ص 279 / 9 ، علل اشرائع ص 532 / 1 روایت عبدالله بن مسکان عن الصادق (ع) ) ۔
جمیل بن میسر نے اپنے والد نخعی سے روایت کی هے که مجه سے امام صادق (ع) نے فرمایا، میسر ! سب سے زیاده محترم کونسا شهر هے؟
هم میں سے کوئی جواب نه دے سکا تو فرمایا ، مکه اس کے بعد فرمایا اور مکه میں سب سے محترم جگه؟
اور پهر خود هی فرمایا رکن سے لے کر حجر اسود کے درمیان ، اور دیکهو اگر کوئی شخص اس مقام پر هزار سال عبادت کرے اور پهر خدا کی بارگاه میں هم اهلبیت(ع) کی عداوت لے کر پهنچ جائے تو خدا اس کے جمله اعمال کو رد کردے گا۔( محاسن 1 ص 27 / 28،)۔

بغض اهلبیت ؑ کے اثرات

1۔ پروردگار کی ناراضگی
رسول اکرم(ص) ! شب معراج میں آسمان پر گیا تو میں نے دیکھا که در جنت پر لکها هے۔ لا اله الا الله ۔ محمد رسول الله ، علی حبیب الله الحسن والحسین (ع) صفوة الله ، فاطمة خیرة الله اور ان کے دشمنوں پر لعنة الله ۔( تاریخ بغداد 1 ص 259 ، تهذیب دمشق 4 ص 322 ، مناقب خوارزمی ص 302 / 297 ، فرائد السمطین 2 ص 74 / 396 ، امالی طوسی (ر) ص 355 / 737 ، کشف الغمه 1 ص 94 ، کشف الیقین ص 445 / 551 ، فضائل ابن شاذان ص 71)۔
رسول اکرم (ص)! جب مجهے شب معراج آسمان پر لے جایا گیا تو میں نے دیکها که در جنت پر سونے کے پانی سے لکھاهے، الله کے علاوه خدا نهیں ۔ محمد اس کے رسول هیں ، علی (ع) اس کے ولی هیں، فاطمه (ع) اس کی کنیز هیں، حسن (ع) و حسین (ع) اس کے منتخب هیں اور ان کے دشمنوں په خدا کی لعنت هے۔( مقتل خوارزمی 1 ص 108 ، خصال ص 324 / 10، مائته منقبه 109 / 54 روایت اسماعیل بن موسیٰ (ع) )۔
رسول اکرم (ص)! هر خاندان اپنے باپ کی طرف منسوب هوتاهے سوائے نسل فاطمه (ع) کے که میں ان کا ولی اور وارث هوں اور یه سب میری عترت هیں ، میری بچی هوئی مٹی سے خلق کئے گئے هیں، ان کے فضل کے منکروں کے لئے جهنم هے، ان کا دوست خدا کا دوست هے اور ان کا دشمن خدا کا دشمن هے۔( کنز العمال 12 ص 98 / 34168 روایت ابن عساکر، بشارة المصطفیٰ ص 20 روایت جابر)۔
رسول اکرم (ص)! آگاه هوجاؤ که جو آل محمد سے نفرت کرے گا وه روز قیامت اس طرح محشور هوگا که اس کی پیشانی پر لکها هوگا "رحمت خدا سے مایوس هے"( مناقب خوارزمی ص 73 ، مقتل خوارزمی 1 ص 40 ، مائته منقبه 150 / 95 ، روایت ابن عمر ، کشاف 3 ص 403 ، فرائد السمطین 2 ص 256 / 524 ، بشارة المصطفیٰ ص 197 ، العمدة 54 / 52 ، روایت جریر بن عبدالله، احقاق الحق 9 ص 487)۔
امام علی (ع)! همارے دشمنوں کے لئے خدا کے غضب کے لشکر هیں۔( تحف العقول ص 116 ، خصال ص 627 / 10 روایت ابوبصیر و محمد بن مسلم ، غرر الحکم ص 7342)۔

2۔ منافقین سے ملحق هوجانا
رسول اکرم(ص) ! جو هم اهلبیت (ع) سے نفرت کرے گا وه منافق هوگا ۔(فضائل الصحابه ابن حنبل 2 ص661 ، 1166 ، درمنثور 7 ص 349 نقل از ابن عدی ،مناقب ابن شهر آشوب 3 ص 205 ، کشف الغمه 1 ص 47 روایت ابوسعید)۔
رسول اکرم (ص)! هم اهلبیت (ع) کا دوست مومن متقی هوگا اور همارا دشمن منافق شقی هوگا۔( ذخائر العقبئص 18 روایت جابر بن عبدالله ، کفایة الاثر ص 110 واثله بن الاسقع)۔
رسول اکرم (ص)! قسم هے اس ذات کی جس کے قبضه میں میری جان هے۔ انسان کی روح اس وقت تک جسم سے جدا نهیں هوتی هے جب تک جنّت کے درخت یا جهنم کے زقوم کا مزه نه چکه لے اور ملک الموت کے ساته مجهے علی (ع) ، فاطمه ، حسن (ع) اور حسین (ع) کو نه دیکه لے ، اس کے بعد اگر همارا محب هے تو هم ملک الموت سے کهتے هیں ذرا نرمی سے کام لو که یه مجھ سے اور همارے اهلبیت (ع) سے محبت کرتا تها اور اگر همارا اور همارے اهلبیت (ع) کا دشمن هے تو هم کهتے هیں ملک الموت ذرا سختی کرو که یه همارا اور همارے اهلبیت(ع) کا دشمن تها اور یاد رکهو همارا دوست مومن کے علاوه اور همارا دشمن منافق بدبخت کے علاوه کوئی نهیں هوسکتاهے۔ (مقتل الحسین (ع) خوارزمی 1 ص 109 روایت زید بن علیؑ۔
رسول اکرم(ص) ! میرے بعد باره امام هوں گے جن میں سے نوحسینؑ کے صلب سے هوں گے اور نواں ان کا قائم هوگا، اور همارا دشمن منافق کے علاوه کوئی نهیں هوسکتاهے۔(کفایة الاثر ص 31 روایت ابوسعید خدری)۔
1083۔ رسول اکرم (ص)! جو هماری عترت سے بغض رکهے وه ملعون، منافق اور خساره والا هے۔( جامع الاخبار ص 214 / 527)۔
1084۔ رسول اکرم (ص)! هوشیار رهو که اگر میری امت کا کوئی شخص تمام عمر دنیا تک عبادت کرتارهے اور پهر میرے اهلبیت (ع) اور میرے شیعوں کی عداوت لے کر خدا کے سامنے جائے تو پروردگار اس کے سینے کے نفاق کو بالکل کهول دے گا ۔( کافی 2 ص 46 / 3 ، بشارة المصطفیٰ ص 157 روایت عبدالعظیم الحسنئ)۔
ابوسعید خدری ! هم گروه انصار منافقین کو صرف علی (ع) بن ابی طالب کی عداوت سے پهچانا کرتے تهے۔( سنن ترمذی 5 ص 635 / 3717 ، تاریخ دمشق حالات امام علی (ع) 2 ص 220 / 718 ، تاریخ الخلفاء ص 202 ، المعجم الاوسط 4 ص 264 / 4151، مناقب خوارزمی 1 ص 332 / 313 عن الباقر(ع) ، فضائل الصحابه ابن حنبل 2 ص 239 / 1086 ، مناقب امیر المومنین (ع) کوفی 2 ص 470 / 965 روایت جابر ابن عبدالله تذکرة الخواص ص 28 از ابودرداء ، عیون اخبار الرضا (ع) 2 ص 67 / 305 روایت امام حسین (ع) ، کفایة الاثر ص 102 روایت زید بن ارقم ، العمده ص 216 / 334 روایت جابر بن عبدالله مناقب ابن شهر آشوب 3 ص 207 ، مجمع البیان 9ص 160 روایت ابوسعید خدری ، قرب الاسناد 26 / 86 روایت عبدالله بن عمر)۔
3۔ کفار سے الحاق
رسول اکرم (ص)! هوشیار هو که جو بغض آل محمد پر مرجائے گا وه کافر مرے گا، جو بغض آل محمد پر مرے گا وه بوئے جنت نه سونگه سکے گا۔( کشاف 3 ص 403 ، مائته منقبه 90 / 37 روایت ابن عمر، بشارة المصطفیٰ ص 197 ، فرائد السمطین 2 ص 256 / 254 روایت جریر بن عبدالله ، جامع الاخبار 474 / 1335 ، احقاق الحق 9 ص 487)۔
رسول اکرم (ص)! جس شخص میں تین چیزیں هوں گی وه نه مجه سے هے اور نه میں اس سے هوں، بغض علی (ع) بن ابی طالب (ع) عداوت اهلبیت (ع) اور ایمان کو صرف کلمه تصور کرنا۔( تاریخ دمشق حالات امام علی (ع) 2 ص 218 / 712 ، الفردوس 2 ص 85 / 2459 ، مقتل خوارزمی 2 ص 97 ، مناقب کوفی 2 ص 473 / 969 روایت جابر)۔

4۔ یهود و نصاریٰ سے الحاق
جابر بن عبدالله رسول اکرم سے نقل کرتے هیں که آپ نے فرمایا، لوگو! جو هم اهلبیت (ع) سے بغض رکهے گا الله اسے روز قیامت یهودی محشور کرے گا۔
میں نے عرض کی حضور ! چاهے نماز روزه کیوں نه کرتا هو؟ فرمایا چاهے نماز روزه کا پابند هوا اور اپنے کو مسلمان تصور کرتا هو۔(المعجم الاوسط 4 ص 212 / 4002 ، امالی صدوق (ر) 273 / 2 روایت سدیف ملکی، روضة الواعظین ص 297)۔
امام باقر (ع) ! جابر بن عبدالله انصاری نقل کرتے هیں که رسول اکرم(ص) منبر پر تشریف لے گئے جبکه تمام انصار و مهاجرین نماز کے لئے جمع هوچکے تهے اور فرمایا :
ایها الناس ! جو هم اهلبیت (ع) سے بغض رکهے گا ، پروردگار اس کو یهودی محشور کرے گا۔
میں نے عرض کی حضور ! چاهے توحید و رسالت کا کلمه پڑهتاهو؟ فرمایا بیشک !
یه کلمه صرف اس قدر کارآمدهے که خون محفوظ هوجائے اور ذلت کے ساته جزیه نه دینا پڑے۔
اس کے بعد فرمایا ، ایها الناس جو هم اهلبیت (ع) سے دشمنی رکهے گا پروردگار اسے روز قیامت یهودی محشور کرے گا اور یه دجال کی آمد تک زنده ره گیا تو اس پر ایمان ضرور لے آئے گا اور اگر نه ره گیا تو قبر سے اٹهایا جائے گا که دجال پر ایمان لے آئے اور اپنی حقیقت کو بے نقاب کردے۔
پروردگار نے میری تمام امت کو روز اول میرے سامنے پیش کردیا هے اور سب کے نام بهی بتادیے هیں جس طرح آدم کو اسماء کی تعلیم دی تهی۔ میرے سامنے سے تمام پرچمدار گذرے تو میں نے علی (ع) اور ان کے شیعوں کے حق میں استغفار کیا۔
اس روایت کے راوی سنا ن بن سدیر کا بیان هے که مجه سے میری والد نے کها که اس حدیث کو لکه لو، میں نے لکه لیا اور دوسرے دن مدینه کا سفر کیا ، وهاں امام صادق (ع) کی خدمت میں حاضر هوکر عرض کی که میری جان قربان، مکه کے سدیف نامی ایک شخص نے آپ کے والد کی ایک حدیث بیان کی هے فرمایا تمهیں یاد هے؟ میں نے عرض کی میں نے لکه لیا هے۔
فرمایا ذرا دکهلاؤ، میں نے پیش کردیا، جب آخری نقره کو دیکها تو فرمایا سدیر ! یه روایت کب بیان کی گئی هے؟
میں نے عر ض کی که آج ساتواں دن هے۔
فرمایا میرا خیال تها که یه حدیث میرے والد بزرگوار سے کسی انسان تک نه پهنچے گی ، (امالی طوسی (ر) ص 649 / 1347 ، امالی مفید (ر) 126 / 4 روایت حنان بن سدیر از سدیف مکی، محاسن 1 ص 173 / 266 ، ثواب الاعمال 243 /1 ، دعائم الاسلام 1 ص 75)۔
امام باقر (ع) ! ایک شخص رسول اکرم کی خدمت میں آیا اور کهنے لگا یا رسول الله ! کیا هر لا اله الا الله کهنے والا مومن هوتاهے؟
فرمایا هماری عداوت اسے یهود و نصاریٰ سے ملحق کردیتی هے، تم لوگ اس وقت تک داخل جنت نهیں هوسکتے هو جب تک مجه سے محبت نه کرو، وه شخص جهوٹا هے جس کا خیال یه هے که مجه سے محبت کرتاهے اور وه علی (ع) کا دشمن هو۔( امالی صدوق (ر) 221 / 17 روایت جابر بن یزید الجعفی ، بشارة المصطفیٰ ص 120)۔
5 روز قیامت دیدار پیغمبر سے محرومی
عبدالسلام بن صالح الهروی از امام رضا (ع) ... میں نے عرض کی که فرزند رسول ! پهر اس روایت کے معنی کیا هیں که لا اله الا الله کا ثواب یه هے که انسان پروردگار کے چهره کو دیکه لے؟
فرمایا که اگر کسی شخص کا خیال ظاهری چهره کا هے تو وه کافر هے ۔ یاد رکهو که خدا کے چهره سے مراد انبیاء مرسلین اور اس کی حجتیں هیں جن کے وسیله سے اس کی طرف رخ کیا جاتاهے اور اس کے دین کی معرفت حاصل کی جاتی هے جیسا که اس نے خود فرمایا هے که اس کے چهره کے علاوه هر شے هلاک هونے والی هے، انبیاء و مرسلین اور حجج الهیه کی طرف نظر کرنے میں ثواب عظیم هے اور رسول اکرم(ص) نے یه بهی فرمایاهے که جو میرے اهلبیت(ع) اور میری عترت سے بغض رکهے گا وه روز قیامت مجهے نه دیکه سکے گا اور میں بهی اس کی طرف نظر نه کروں گا۔( عیون اخبار الرضا (ع) 1 ص 115 / 3 ، امالی صدوق (ر) 372 / /7 التوحید 117 / 21 ، احتجاج 2 ص 380 / 286)۔

6۔ روز قیامت مجذوم هونا
رسول اکرم (ص)! جو بهی هم اهلبیت (ع) سے بغض رکهے گا، خدا اسے روز قیامت کوڑهی محشور کرے گا ۔( ثواب الاعمال 243 / 2 ، محاسن 1ص 174 / 269 روایت اسماعیل الجعفی ، کافی 2 ص 337 / 2)۔

7۔ شفاعت سے محرومی
انس بن مالک ! میں نے رسول اکرم کو علی (ع) بن ابی طالب (ع) کی طرف رخ کرکے اس آیت کی تلاوت کرتے دیکها " رات کے ایک حصه میں بیدار هوکر یه خدائی عطیه هے وه اس طرح تمهیں مقام محمود تک پهنچانا چاهتاهے" ( اسراء ص 79)۔
اورپهر فرمایا ۔ یا علی (ع)! پروردگار نے مجهے اهل توحید کی شفاعت کا اختیار دیاهے لیکن تم سے اور تمهاری اولاد سے دشمنی رکهنے والوں کے بارے میں منع کردیا هے۔( امالی طوسی (ر) 455 / 1017 ، کشف الغمه 2 ص 27 ، تاویل الآیات الظاهره ص 279)۔
1094۔ امام صادق (ع) ! بیشک مومن اپنے ساتهی کی شفاعت کرسکتاهے لیکن ناصبی کی نهیں اور ناصبی کے بارے میں اگر تمام انبیاء و مرسلین مل کر بهی سفارش کریں تو یه شفاعت کارآمد نه هوگی ، ثواب الاعمال 251 / 21 ، محاسن 1 ص 296 / 595 روایت علی الصائغ)۔
8۔ داخله جهنم
رسول اکرم(ص) ! قسم هے اس ذات کی جس کے قبضه میں میری جان هے، هم اهلبیت(ع) سے جو شخص بهی دشمنی کرے گا الله اسے جهنم میں جهونک دے گا، (مستدرک حاکم 3 ص 162 / 4717 ، موارد الظمان 555 / 2246، مناقب کوفی 4 ص 120/607 ، درمنثور ص 349 نقل از احمد ابوحبان)۔
رسول اکرم ! قسم هے اس کی جس کے قبضه میں میری جان هے که جو بهی هم اهلبیت (ع) سے بغض رکهے گا پروردگار اسے جهنم میں منه کے بهل ڈال دے گا ۔( مستدرک 4 ص 392 / 8036 ، مجمع الزوائد 7 ص 580 / 12300 ، شرح الاخبار 1 ص 161 / 110 ، امالی مفید 217 / 3 روایت ابوسعید خدری)۔
رسول اکرم(ص) ! اے اولاد عبدالمطلب ، میں نے تمهارے لئے پروردگار سے تین چیزوں کا سوال کیا هے، تمهیں ثبات قدم عنایت کرے، تمهارے گمراهوں کو هدایت دے اور تمهارے جاهلوں کو علم عطا فرمائے اور یه بهی دعا کی هے که وه تمهیں سخی، کریم اور رحم دل قرار دیدے که اگر کوئی شخص رکن و مقام کے درمیان کهڑا رهے نماز، روزه، ادا کرتارهے اور هم اهلبیت (ع) کی عداوت کے ساته روز قیامت حاضر هو تو یقیناً داخل جهنم هوگا۔( مستدرک 3 ص 161 / 4712 ، المعجم الکبیر 11 ص 142 / 11412 ، امالی طوسی (ر) 21 / 117 /184 / 247 / 435 ، بشارة المصطفیٰ ص 260 روایات ابن عباس)۔
معاویه بن خدیج ! مجهے معاویه بن ابی سفیان نے حضرت حسن (ع) بن علی (ع) کے پاس بهیجا که ان کی کسی بیٹئ یا بهن کے لئے یزید کا پیغام دوں تو میں نے جاکر مدعا پیش کیا ، انهوں نے فرمایا که هم اهلبیت (ع) بچیوں کی رائے کے بغیر ان کا عقد نهیں کرتے لهذا میں پهلے اس کی رائے دریافت کرلوں۔
میں نے جاکر پیغام کا ذکر کیا تو بچی نے کها که یه اس وقت تک ممکن نهیں هے جب تک ظالم همارے ساته فرعون جیسا برتاؤ نه کرے که تمام لڑکوں کو ذبح کرے اور صرف لڑکیوں کو زنده رکهے۔ میں نے پلٹ کر حسن (ع) سے کها که آپ نے تو اس قیامت کی بچی کے پاس بهیج دیا جو امیر المومنین (معاویه) کو فرعون کهتی هے۔
تو آپ نے فرمایا معاویه ! دیکهو هم اهلبیت (ع) کی عداوت سے پرهیز کرنا که رسول اکرم (ص)نے فرمایا هے که جو شخص بهی هم اهل بیت (ع) سے بغض و حسد رکهے گا وه روز قیامت جهنم کے کوڑوں سے هنکایا جائے گا۔( المعجم الکبیر 3 ص 81 / 2726 ، المعجم الاوسط 3 ص 39 / 2405)۔
امام باقر (ع): اگر پروردگار کا پیدا کیا هوا هر ملک اور اس کا بهیجا هوا هر نبی اور هر صدیق و شهید هم اهلبیت(ع) کے دشمن کی سفارش کرے که خدا اسے جهنم سے نکال دے تو ناممکن هے، اس نے صاف کهه دیا هے، یه جهنم میں همیشه رهنے والے هیں، سورهٴ کهف آیت 3 ۔( ثواب الاعمال 247 / 5 از حمران بن الحسین )۔
امام صادق (ع)! جو شخص یه چاهتاهے که اسے یه معلوم هوجائے که الله اس سے محبت کرتاهے تو اسے چاهئے که اس کی اطاعت کرے اور همارا اتباع کرے، کیا اس نے مالک کا یه ارشاد نهیں سناهے که " پیغمبر کهه دیجئے اگر تم لوگوں کا دعویٰ هے که خدا کے چاهنے و الے هو تو میرا اتباع کرو الله تم سے محبت کرے گا اور تمهارے گناهوں کو معاف کردے گا۔(آل عمران آیت 31)۔
خدا کی قسم کوئی بنده خدا کی اطاعت نهیں کرے گا مگر یه که پروردگار اپنی اطاعت میں همارا اتباع شامل کردے۔
اور کوئی شخص همارا اتباع نهیں کرے گا مگر یه که پروردگار اسے محبوب بنالے اور جو شخص همارا اتباع ترک کردے گا وه همارا دشمن هوگا اور جو همارا دشمن هوگا وه الله کا گناهگار هوگا اور جو گنهگار مرجائے گا اسے خدا رسوا کرے گا اور منه کے بهل جهنم میں ڈال دے گا، والحمدلله رب العالمین ( کافی 8 ص 14 / 1 روایت اسماعیل بن مخلدو اسماعیل بن جابر)۔ 1001۔ اما م کاظم (ع) ! جو هم سے بغض رکهے، وه حضرت محمد کا دشمن هوگا اور جو ان کا دشمن هوگا وه خدا کا دشمن هوگا اور جو خدا کا دشمن هوگا اس کے بارے میں خدا کا فرض هے که وه اسے جهنم میں ڈال دے اور اس کا کوئی مددگار نه هو ( کامل الزیارات ص 336 روایت عبدالرحمان بن مسلم)۔