سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/10/21 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها
■ ◊ فلسفه رسالت، عشق اهلبیت علیهم السلام میں مضمر هے
■ ◊ امام حسین علیه السلام کی زیارت عرش پر الله کی زیارت هے - بقلم آیت الله استاد عادل العلوی مترجم مطفی علی فخری
■ ◊ اهل بیت آیت مودت کى روشنى میں - فدا حسین عابدی
■ ◊ عباس بن علی (ع)
■ ◊ حضرت علی اکبر (ع)
■ ◊ امام حسن(ع) کی صلح اور امام حسین(ع)کے قیام کا فلسفه - غلام عباس رئیسی
■ ◊ انوار قدسیه : حضرت امام جعفر صادق علیه السلام -
■ ◊ امام زمانه کی معرفت ضروری کیوں ؟ - محمد یعقوب بشوی
■ ◊ غیبت کبریٰ میں امت کی ذمه داریاں - از سید ریاض حسین اختر ولد سید سلیم اختر حسین شاه
■ ◊ شیعیان آل محمد کا خدا سے رابطه - اختر حسین نسیم
■ ◊ شب قدر شب امامت و ولایت هے
■ ◊ بغض اهلبیت (ع) پر تنبیه - محمد ری شهری - مترجم سید ذیشان حیدر جوادی
■ ◊ مختلف سوالات اور ان کےجوابات از آیت الله سید عادل علوی
■ ◊ عمومی معلومات
■ ◊ جنة البقیع
■ ◊ رسول الله| کے آثار کا نادر مجموعه
■ ◊ آیۃ الله مرعشی نجفی
■ ◊ مجلہ عشاق اهل بیت کے قوانین وضوابط

◊ عمومی معلومات

ماهانه سائنسی میگزین ’’سائنٹیفک امریکن‘‘ میں میڈم هیلن نے ایک مضمون شائع کیا هے جو سور خوروں سے متعلق هے۔ اس میں وه بتلاتی هیں که 2009ء میں سوائن فلو (خنزیری نزله و بخار) کی جو وبا پهیلنے لگی تهی اس وبا کا آغاز امریکه کی ریاست میکسیکو سے هوا پهر یه وبا شمالی بارڈر تک پهیلتی چلی گئی۔ اسی وقت صحت سے متعلق ذمه داران نے کهه دیا تها که یه وبا جس کے جراثیم بهت کم درجه کے تهے اور هم اس پر قابو پانے میں کامیاب هو گئے، یه خوش قسمتی تهی… آئنده اگر یه وبا دوباره پهوٹ نکلی تو کروڑوں انسانوں کو موت کی نیند سلا سکتی هے۔ لهٰذا 2009 ء کی وبا ایک الارم اور انتباه هے۔ اگر اس الارم پر توجه نه کی گئی تو هم اگلی وبا میں خوش قسمت نهیں رهیں گے۔
تحقیق سے ثابت هو چکا هے که یه وائرس جهاں تیزی کے ساته پرورش پاتا هے وه خنزیر هیں۔ سؤر کے فارم اس وقت امریکه، یورپ اور چین وغیره میں بکثرت پائے جاتے هیں۔ اس وقت دنیا بهر کے فارمز میں جو سؤر پا لے جا رهے هیں ان کی تعداد ایک ارب هے۔ ان فارمز کے تاجر دنیا میں اربوں ڈالر کا کاروبار سؤر بیچ کر کرتے هیں۔ یه فارم هی اصل میں سوائن فلو کا مرکز هیں۔ سوائن فلو کا وائرس خنزیروں میں مسلسل تبدیل هوتا رهتا هے۔ آخر کار یه ایسی مضبوط شکل اختیار کر جائے گا که جب یه پهیلے گا تو روک تهام مشکل هو جائے گی۔ یه وبا کی شکل میں دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
یه بات بهی ذهن میں رهنی چاهئے که جنوبی امریکه میں یهی وه وائرس تها جس کی وجه سے 1918ء میں پانچ کروڑ افراد وبا کی نذرهو کر مر گئے تهے… جنوب کی اس وبا کے بعد اب شمالی امریکه یعنی اور کینیڈا میں اس کے زیاده پرورش پانے کے امکانات هیں، اس لئے که شمالی امریکه میں سوروں کے فارمز بهت بڑه گئے هیں اور خنزیر خوری بهی بهت بڑه گئی هے۔ دنیا میں پهلے نمبر پر خنزیر خوری میں چین هے جبکه دوسرے نمبر پر امریکه هے… امریکه کو اس لحاظ سے نمبر 1 بهی کها جا سکتا هے که چین کی آبادی امریکه سے چار گناه زیاده هے۔ تاهم خنزیر خوری میں امریکه اور چین کے بعد افریقه اور بهارت کا نمبر آتا هے۔ اس کے بعد دیگر ممالک هیں۔ صحت سے متعلق سائنسدان مسٹر پیرس نے واضح کر دیا هے که سوروں سے جو بات سا منے آ رهی هے یه ایسی نهیں هے که دنیا اس پر خاموش رهے… اسی طرح ایک اور هیلته سائنٹسٹ مسٹر گان کهتا هے هم اس سے نکلنے کا راسته جانتے هیں۔ مزید کهتا هے… تعجب هے که! هم اس پر غور کیوں نهیں کر رهے؟
جی هاں! راسته واضح هے، وه راسته چوده سو سال قبل قرآن کریم نے بتلا دیا۔ اس راستے پر چل کر آج بهی دنیا کو خنزیر خوروں اور خنزیر پالنے والوں کے فساد سے بچا یا جا سکتا هے۔ قرآن واضح کرتا هے "شک و شبه سے بالاتر حقیقت بهرحال یهی هے که الله نے تم لوگوں کے لئے مردار کو حرام کر دیا هے۔ ذبح وغیره کی صورت میں بهنے والا خون اور خنزیر کا گوشت بهی حرام قرار دے دیا هے اور وه جانور (جو اگرچه حلال هے مگر جسے) الله کے علاوه کسی (بزرگ، بت خانے یا آستانے وغیره) کے نام پر مشهور کر دیا گیا هے اس کا گوشت بهی حرام قرار دے دیا گیا هے۔‘‘ (البقره 173)۔ اسی طرح سورۃ ’’الانعام‘‘ میں بهی الله تعالیٰ نے اسے حرام قرار دیتے هوئے ساته یه بهی فرمایا که! ’’فَاِنَّهْ رِجْس‘‘ که یه تو گندهے اور پلید و ناپاک هے… اب جس میں گند هو۔ غلاظت هو وه وبائی هو گا۔ انسانیت کیلئے خطره هو گا۔ اس کے جراثیم انتهائی خطرناک هونگے اور کیوں نه هوں که الله تعالیٰ نےقرآن میں چار مقامات پر خنزیر کے گوشت کو حرام کهه کر انسانیت کو آگاه فرما دیا۔ مگر انسان هیں که غور هی نهیں کر رهے۔ سائنسی حقائق کے آشکار هونے پر بهی سور کهاتے چلے جا رهے هیں۔ فارم آباد کرتے چلے جا رهے هیں اور انسانیت کو خطرات سے دوچار کرتے چلے جا رهے هیں… یاد رهے! سور سے پهیلی هوئی وبا اس شخص پر زیاده اثر انداز هو گی جو سور 
کهاتا هے



ٹماٹر کهائیں
جلد کو نقصانات سے بچائیں
ٹماٹر قدرت کا وه انمول تحفه هے جسے کچا کهائیں یا پکا کر ، هر طرح مفید هے ۔ ٹماٹر نه صرف کهانوں کو مزیدار بناتا هے بلکه اس کا استعمال بهت سی بیماریوں سے تحفظ کا بهی ذریعه هے۔حالیه تحقیق کے مطابق سرخ ٹماٹروں کا استعمال بلند فشار خون اور خون میں کولیسٹرول کی سطح کم کرنے میں مدد گار ثابت هوتا هے۔ ٹماٹر کهانے سے خطرناک بیماریوں کے خلاف مدافعت بڑهتی هے اور پکانے کے بعد تو اسکی خصوصیات اور زیاده بڑه جاتی هیں۔ٹماٹر کهانے سے کینسر خصوصاً مثانے کے سرطان، خون جمنے، هڈیوں کی کمزوری اور دل کی بیماریوں سے بچا ئو میں مدد ملتی هے
جدید تحقیق کے مطابق ٹماٹر کهانے سے جلد کے نقصانات سے بچا جاسکتا هے۔ اس طرح ٹماٹر کے استعمال سے جلد کو سورج کی روشنی سے  جهلسائو اور بڑهتی عمر کے اثرات سے بهی محفوظ رکها جاسکتا هے۔ ٹماٹر سورج کی روشنی میں موجود الٹرا وائلٹ شعاعوں سے بچانے میں معاون ثابت هوتا هے۔ تحقیق کاروں کے مطابق ٹماٹر سے تیار کرده مصنوعات کیچ اپ، پیسٹ، سوپ اور اس کے جوس کے  باقاعده استعمال سے ڈهلتی عمر کے اثرات سے بهی جلد کو بچایا جاسکتا هے ٹماٹر کهانے سے سورج کی شعاعوں کے مضر اثرات سے بچا جاسکتا هے کهانے میں ٹماٹر کے باقاعده استعمال سے چهرے کے جهلسائو اور دهوپ کی وجه سے جلد کے سرخ هونے سے بچنے میں بڑی مدد ملتی هے۔ تحقیق کے دوران 20 خواتین  کو باره هفتوں کے دوران روزانه پانچ کهانے کے چمچ (55 گرام) ٹماٹر کی پیسٹ زیتون کے تیل کے ساته ملا کر کهلائی گئی۔ 21 تا 47 سال کی عمر کی خواتین جنهوں نے ٹماٹر کی پیسٹ روزانه کهائی تهی ان کی جلد دوسری خواتین کی نسبت سورج کی روشنی اور دهوپ سے سرخ هونے سے 33 فیصد تک محفوظ رهی .