سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/9/19 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها
■ ◊ اداریه
■ ◊ حجت خدااورہماری ذمہ داریاں-از:مرتضی ٰ حسین مطہری
■ ◊ مسئلہ استغاثہ اور اس کی شرعی حیثیت -شیخ الاسلام ذاکرمحمد طاهر القادری
■ ◊ امام حسن مجتبی (ع)-بقلم آیت الله ناصر مکارم الشیرازی -مترجم سید صفدرحسین نجفی
■ ◊ انوار قدسیه-آٹھویں برج امامت ثامن الحجج حضرت امام علی بن موسی الرضا سلام الله علیه -مصطفی علی فخری
■ ◊ توسل قرآن سنت کی نگاہ میں-مولف: آیت اللہ العظمیٰ شیخ جعفرسبحانی-مترجم: جواہرعلی اینگوت
■ ◊ دماغی موت کے حامل افراد کے اعضاء کی پیوند کاری آیت اللہ محمد مہدی آصفی-مترجم : سیدحسنین عباس گردیزی
■ ◊ آپ کے سوالات اور- آیت الله سید عادل علوی کے جوابات-ترجمه : مصطفی علی فخری
■ ◊ صحیفہ سجادیہ کا تعارف-سید توقیر عباس کاظمی
■ ◊ علوم غریبه-آیت الله استاد سید عادل العلوی -مترجم:فداعلی حلیمی
■ ◊ فلسفہ قیام امام حسینؑ-محرر:اشرف حسین - متعلم جامعة آل البیت(ع)
■ ◊ اهل بیت علیهم السلام کى شخصیت آیت مودت کى روشنى میں -فداحسىن عابدى
■ ◊ تحریف القرآن ؟ محمد سجاد شاکری
■ ◊ مقالات کے بارے میں مهم نکات:

◊ حجت خدااورہماری ذمہ داریاں-از:مرتضی ٰ حسین مطہری

“وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ”(سورہ انبیاء آیۃ 105)
وقال الصادقؑ : يا ابابصير طوبي لشيعة قائمنا المنتظرين لظهوره في غيبتة و المطيعين له في ظهوره اولئك اولياء الله الذين لا خوف عليهم و لا هم يحزنون “ (كمال الدين ج2 باب 33 ح 54)
معدن ہدایت کے جوہر ،گنج ولایت کے گوہر ، نورہدایت ، خورشید رسالت ،عدل وانصاف کا پیکر ،قطب عالم امکان ، منجی عالم بشریت ،یوسف زہرا، اورتمام انبیاء کی امید، امام زمانہ ارواحنالہ الفداء کے حوالے سے ہماری ذمہ داری ، ایک وسیع اورانتہائی گستردہ موضوع ہے امام زمانہ( عج)کی ذات  پیغمبراسلام کے زمانے میں مطرح تھے ۔پیغمبراسلام ؐ نے متعددروایات سے لوگوں کو امام زمانہ  (عج )کی ذات اورشخصیت سے آگاہ کر چکے تھے ۔ان کے بعد جب مولامتقیان کا دور امامت آیا توآپ نےبھی اپنے ماننے والوں کو امام زمانہ (عج)کی شخصیت وعظمت اوران کی حکومت کے بارے میں آگاہ کیے تھے ۔خلاصہ یہ کہ ہرامام اورمعصوم نے  بے شمار آیات و روایات  کے ذریعہ امام زمانہ (عج)کی معرفی کی ۔
مهم ترین ذمه داری:
اب امام زمانہ (عج)کی غیبت کے حوالے سے ہم عاشقین آل محمد ؐ محبین امام زمانہ پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہے ، ان ذمہ داریوں میں سے ایک امام زمانہ (عج )کی معرفت حاصل کرناهے یہ وہ فریضہ ہے کہ جس کو خود پیغمبرمکرم اسلام ؐ نے بیان فرمایاہے ۔اورتمام مسلمان اس بات پر اتفاق ہیں کہ امام زمانہ (عج)کی معرفت ضروری ہے،جس نے امام کی معرفت حاصل کی وہ کامیاب ہوااس نے نجات پائی اس نے اپنی ذمہ داری نبھالیا لیکن جس نے امام کی معرفت حاصل نہیں کی امام کی شناخت کے بغیر اس دنیا سے چلاجائے تو شیعہ وسنی دونوں روایات میں پیغمبر اسلام ؑسے مروی هے که آپ نے فرمایا : وه دین پہ نہیں مرا  روایت میں یہ جملہ آیاہے “ مات میتۃ الجاھلیۃ “ وہ جہالت کی موت مراہے۔
دورجاہلیت کہ جس کو قرآن مجید کے سورہ جمعہ میں ضلال مبین سے یاد کیاہے کہ :  هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولاً مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَوَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ “اگرچہ پیغمبر اسلام ؐ مبعوث بہ رسالت ہونے سے پہلے لوگ ضلال مبین اورکھلی گمراہی میں تھے ، ہرطرف سے بت پرستی کا دوردورہ تھا  حلال وحرام کی تمیز نہ تھی محرم ونامحرم میں فرق نهیں تھا خداو رسول کی معرفت نہ تھی ۔ لہذا پیغمبر اسلام کے مبعوث بہ رسالت ہونے سے پہلے جو دورگزراہے اس دور کو قرآن مجید میں دورجاہلیت سے یاد کیا ہے ۔
 - پیغمبر اسلام ؐ نے فرمایا کہ میرے مبعوث بہ رسالت ہونے کے بعد خداکی طرف ،اورتوحید کی طرف دعوت دینے کے بعد دین کے تمام معارف اورتعلیمات بتادینے کے بعد اب کوئی دنیا سے چلاجائے لیکن اپنے زمانے کی حجت کی معرفت نہ رکھتا ہو تو یہ انسان اس جاہل کی طرح ہے جودور جاہلیت میں مراہے ۔اس کے اوراس میں کوئی فرق نہیں ہے اسی طرح اگر کوئی شخص دنیاوی اعتبار سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرے مثلاً B.A ، M.A،P.H.D کرے یعنی مختلف شعبوں میں ڈگری حاصل کرے لیکن امام زمانہ کی معرفت نہ رکھتا ہوتو یہ جہالت کی موت مراہے اسلام ناب محمدی کی روسے اس ڈگری کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔بلکہ وہ جہالت کی موت مراہے “من مات  ولم یعرف امام زمانہ مات میتۃ الجاھلیۃ” جو امام زمانہ کی معرفت کے بغیر اس دنیا سے چلاجائے تو وہ جہالت کی موت مراہے ،لهذااہم ترین ذمہ داریوں میں سے ایک امام کی معرفت ہےوہ دعاجسے امام جعفرصادق  علیہ السلام نے زرارہ کوتعلیم دی ہے اس دعاکا نام ہی دعائے معرفت ہے اس دعامیں امام ؑ نے تین معرفتوں کو ضروری اوردین کی اساس اوربنیا د قرار دی ہے
 1۔ اللہ کی معرفت 
2۔ رسول کی معرفت 
 3۔ زمانے کے امام کی معرفت
 “ اَللّهُمَّ عَرِّفْني نَفْسَکَ فَاِنَّکَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْني نَفْسَکَ لَمْ اَعْرِفْ رَسُولَکَ اَللّهُمَّ عَرِّفْني رَسُولَکَ فَاِنَّکَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْني رَسُولَکَ لَمْ اَعْرِفْ حُجَّتَکَ اَللّهُمَّ عَرِّفْني حُجَّتَکَ فَاِنَّکَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْني حُجَّتَکَ ضَلَلْتُ عَنْ ديني "خدایا تونے اگر تیرے حجت کی معرفت مجھے عطا نہیں کی تو میں اپنے دین میں گمراہی پر مرا لھذا گمراہی سے بچنے کیلئے ضلالت سے بچنے کیلئےجہالت کی موت سے بچنے کیلئے امام زمانہ کی معرفت بہت ضروری ہے امام صادق ؑ فرماتے ہیں اگر میرے زمانے میں امام زمانہ موجودہوتے تو میں ان کے خادمین میں سے ہوتا ۔” لوادرکتہ لاخدمتہ طول حیاتی”اگرمیں امام زمانہ کوپاتا تو میں اپنی زندگی ان کی خدمت میں گزارتا یہ ہے مقام امام زمانہ چنانچہ روایت میں ہےکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو امام زمانہ کا تعارف کرواو تاکہ امام زمانہ کے حوالے سے جو شبھہ ذہنوں میں ہے وہ نکل جائے معصوم نے فرمایا کہ امام زمانہ وہ ہستی ہے جن کے ذریعہ سے پوری کائنات کو رزق مل رہی ہے زندگی کا جو محورہے ،زندگی کاجو مرکز ہے ،جو قلب کائنات ہے جو کائنات ہے جو تمام ہستی کی حیات کا باعث ہے وہ امام زمانہ کی ذات ہے کائنات کے دوام کا جو سبب ہے ،وہ حجت خداہے۔” لولا الحجۃ لساخۃ الارض باھلھا”اگرحجت خدانہ ہوتی توزمین اپنے اہل کے ساتھ دھنس جاتی ۔
دوسری ذمہ داری : امام کی حکومت کیلئے امام کی آمد کیلئے اوراپنے آپ کو واقعاً اصحاب امام زمانہ میں سے پانے کیلئے کردارکے حوالے سے اپنے آپ کو آمادہ کرنا ہے چنانچہ امام صادق ؑ نے اپنے  بزرگ صحابی ابابصیر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: يا ابابصير طوبي لشيعة قائمنا المنتظرين لظهوره في غيبتة و المطيعين له في ظهوره اولئك اولياء الله الذين لا خوف عليهم و لا هم يحزنون”اے ابا بصیر خوش نصیب ہیں سعادت مندہیں وہ لوگ جن کے لمحات ہمارے قائم آل محمد ؐ کے انتظار میں گزررہے ہیں ؟ اطاعت کےساتھ عبادت کے ساتھ اپنے کردار کی اصلاح کے ساتھ انتظار کررہے ہیں ان کے لئے امام نے فرمایا”اولٰئک اولیاءاللہ”حقیقت میں روئے زمین اولیاء الہیٰ یہی لوگ ہیں “ لاخوف علیھم ولاھم یحزنون”ان کے لئے نہ کوئی خوف ہے اورنہ کوئی حزن۔
 - ارباب نظر!اب تک محققین اوراہل عرفان کا نظریہ یہ ہے کہ امام زمانہ کی غیبت کا جوسبب بناہے وہ انسانوں کے گناہ ہے انسانوں کی نافرمانیاں ہیں یہ معصیتیں سبب بنی ہیں کہ اللہ اپنی حجت کو پردہ غیب میں رکھے امام زمانہ خودفرماتے ہیں اگردنیاوالے ہماری اطاعت کرلیتے خداکی اطاعت کرلیتے ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دیتے بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ وفاداری کرلیتے تو خداوندعالم مجھے ظہورکی اجازت دے دیتا میرے ظہورمیں جوسب سے بڑی رکاوٹ ہے وہ تم لوگوں کا دھوکہ تم لوگوں کی خیانتیں ہیں تم لوگوں کی معصیتیں ہیں اگرکوئی چاہتا ہے کہ واقعاًامام زمانہ کا ظہور ہو توسب سے پہلے اپنے وجودسے گناہوں کودور کرے خودگناہ نہ کرےدوسروں کے ساتھ بے وفائی نہ کرے چنانچہ کسی نے پیغمبر اسلام ؐ سے پوچھایارسول اللہ آپ کے آخرین وارث کی ایک طولانی غیبت کی وجہ کیاہے؟تو پیغمبراسلام نے فرمایا:یخاف القتل” ان کو شہید کرنے کا خوف ہے لوگ اتنے خیانت کار ہیں لوگ اتنے خداکے دشمن ہیں جس طریقے سے لوگوں نے اللہ کے گیارہ نمایندوں کو شہید کیا مولا علی ؑ کو شہید کیا امام حسن وحسین کو شہید کیا یہاں تک کہ امام حسن العسکری کوبھی شہید زہر سے شہید کیا اسی لئے امام صادق ؑ کا فرمایا “ مامنا الامقتول اومسموم “ ہم میں سے ہرایک کو یا زہر سے یاتلوار سے شہید کیاگیااگرامام زمانہ دنیا میں ہوتے تواب تک ان کو شہید کرچکے ہوتے لھذاان کی حفاظت کے خاطر انہیں پردہ غیب میں رکھاگیا ہے چونکہ اس ہستی پر کائنات کی بقا ء ہے شریعت کی بقاہے اس ہستی پر تما م انبیاء کے اہداف کی بقاء ہے انہی کے ذریعہ سے پوری کائنات میں عدل وانصاف قائم ہونگے ،لھذا پیغمبراسلام ؐ کی حدیث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ امام زمانہ کی غیبت کاجو بڑافلسفہ ہے وہ یخاف القتل ہے۔ایک اورروایت جوامام صادق ؑ سے نقل ہوئی ہے “لکل شیءاناس دولۃ ودولتنا فی آخرالزمان تظہر”ہر ایک نے حکومت کی ہے بنی عباس نے اپنے زمانے میں حکومت کی بنی امیہ نے اپنے زمانے میں حکومت کی لیکن یہ مت سمجھو کہ ہم آل محمد کی حکومت نہیں ہوگی بلکہ ہماری حکومت آخری زمانے میں ہوگی ہماری حکومت میں تمام مظلوموں کو اپنا حق ملےگاخداکی آئین پوری دنیا میں نافذہوگی لیکن ہماری حکومت آخری تب ہوگی جب امام زمانہ ظہورفرمائیں گے ہماری حکومت حکومت انبیاء ہوگی ہماری حکومت حکومت اولیاء ہوگی حکومت صالحین ہوگی “ ان الارض یرثھاعبادی الصالحون “ کاجو عملی مصداق ہے وہ حکومت امام زمانہ ہے اس کے بعد فرمایا “ من سرہ ان یکون من اصحاب القائم فلینتظرولیعمل بالورع ومحاسن الاخلاق “جو یہ چاہتاہے کہ اصحاب امام زمانہ میں سے ہوجائے ناصرین امام زمانہ میں سے ہوجائے تو اسے چاہیے شدت کے ساتھ امام زمانہ کاانتظار کرے اورتقویٰ الٰہی اختیارکرلے اس کے بعد دوسراجملہ  ومحاسن الاخلاق ،امام فرماتے ہیں تم اپنے اخلاق کوٹھیک کرو اپنے اندر جواخلاقی خامیاں ہیں ان کو دورکرے ایساکروگے تویہ جملہ ہے “فان مات وقام القائم بعدہ “جس نے اپنے وجود میں تقویٰ الٰہی کوپیداکیا لیکن امام زمانہ کوپا نہ سکا اوراس کاانتقال ہواتوامام زمانہ نے فرمایاگھبراو نہیں تمہاراشماراصحاب امام زمانہ میں سے ہوگا چنانچہ دعائے عہد میں ہم پڑھتے ہیں “  فَأَخْرِجْنی مِنْ قَبْری مُؤْتَزِراً كَفَنی شاهِراً سَیْفی مُجَرِّداً قَناتی مُلَبِّیاً دَعْوَهَ الدّاعی فی الْحاضِرِ وَالْبادی”بارالٰہا! اگرمیں مرگیا اورتیری حجت کوپانہ سکا مجھے قبر سے نکال لینا ،منادی حق کی آواز پرلبیک کہتے ہوئے کفن پھاڑتے ہوئے اورہاتھ میں تلوار لیکر امام زمانہ کی خدمت پہنچادے حدیث میں ہے بہت سارے منتظرین امام زمانہ اپنی قبروں سے اٹھ کر امام کی خدمت میں آئینگے ،جب امام زمانہ ظہور کریں گے توقبروں سے جاکر کہیں گے “قم باذن اللہ وقام القائم بحکم اللہ “جس کے انتظارمیں تم تڑپ رہے  تھے جس کے انتظارمیں تم فریادکررہے تھے اس کا ظہور ہوچکا ہے آو! امام زمانہ کے ناصرین میں سے ہوجاو۔