سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/9/19 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها
■ ◊ اداریه
■ ◊ حجت خدااورہماری ذمہ داریاں-از:مرتضی ٰ حسین مطہری
■ ◊ مسئلہ استغاثہ اور اس کی شرعی حیثیت -شیخ الاسلام ذاکرمحمد طاهر القادری
■ ◊ امام حسن مجتبی (ع)-بقلم آیت الله ناصر مکارم الشیرازی -مترجم سید صفدرحسین نجفی
■ ◊ انوار قدسیه-آٹھویں برج امامت ثامن الحجج حضرت امام علی بن موسی الرضا سلام الله علیه -مصطفی علی فخری
■ ◊ توسل قرآن سنت کی نگاہ میں-مولف: آیت اللہ العظمیٰ شیخ جعفرسبحانی-مترجم: جواہرعلی اینگوت
■ ◊ دماغی موت کے حامل افراد کے اعضاء کی پیوند کاری آیت اللہ محمد مہدی آصفی-مترجم : سیدحسنین عباس گردیزی
■ ◊ آپ کے سوالات اور- آیت الله سید عادل علوی کے جوابات-ترجمه : مصطفی علی فخری
■ ◊ صحیفہ سجادیہ کا تعارف-سید توقیر عباس کاظمی
■ ◊ علوم غریبه-آیت الله استاد سید عادل العلوی -مترجم:فداعلی حلیمی
■ ◊ فلسفہ قیام امام حسینؑ-محرر:اشرف حسین - متعلم جامعة آل البیت(ع)
■ ◊ اهل بیت علیهم السلام کى شخصیت آیت مودت کى روشنى میں -فداحسىن عابدى
■ ◊ تحریف القرآن ؟ محمد سجاد شاکری
■ ◊ مقالات کے بارے میں مهم نکات:

◊ توسل قرآن سنت کی نگاہ میں-مولف: آیت اللہ العظمیٰ شیخ جعفرسبحانی-مترجم: جواہرعلی اینگوت

مقدمه :
        مباحث کلامی کے مہمترین مسائل میں سے ایک مہم مسئلہ توسل ہے۔کلمہ توسل کے معنی کیلئے ضروری ہے کہ توسل اور وسیلہ کے درمیان فرق رکھا جائے ۔ توسّل سے  مراد تقرّب حاصل کرنا ہے۔(1) لیکن جو چیز تقرّب کا سبب ہے وسیلہ کہا جاتا ہے۔ مثلا قرآن  یا امام وسیلہ ہیں اور توسّل یہ ہے کہ کسی وسیلہ کے ذریعہ بارگاہ خداوند میں تقرّب حاصل کیا جائے۔ ارشاد خداوندی ہے  : «  يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَ ابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسيلَةَ وَ جاهِدُوا في‏ سَبيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ » اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف(قربت کا)ذریعہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو شاید تمہیں کامیابی نصیب ہو۔(2)
     یعنی وسیلہ تلاش کرو پس وسیلہ سبب ہے اور توسّل سبب کا استعمال ہے ۔ اب سؤال یہ ہے کہ سبب اور وسیلہ کیا ہے؟ اسکے لئے ضروی ہے  کہ آیات و روایات کے طرف رجوع کیا جائے اور اس بات کی طرف توجہ رہے کہ کسی چیز کا وسیلہ ہونا ضروری ہے کہ شرع کے ذریعہ ثابت ہو۔ کیونکہ  ایسا نہ ہو نے کی صورت میں اسکے ذریعے سے ہم تقرّب الہی حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔ فرض کریں کہ اگر کوئی آتش کے وسیلہ سے تقرّب الہی حاصل کرنا چاہے ، یہ توسّل  حتما و قطعا باطل  ور حرام ہے کیونکہ آتش کا وسیلہ ہونا ثابت نہیں ہے ۔ یا کوئی بت کے ذریعہ تقرّب الہی حاصل کرنا چاہے تو یہ بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ بت کا وسیلہ ہونا بھی ثابت نہیں ہے بلکہ اس سے روکا گیا ہےاور حرام ہے۔ اسلئے ضروری  ہے کہ وسیلہ کے مصداق کو قرآن و حدیث سے حاصل کیا جائے۔ مثلا ان چیزوں کی طرف جنکی طرف حضرت امیرالمؤمنین علی(ع)نے نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر ۱۰۹ (3)میں اشارہ کیا ہے۔ مہمترین و برترین وسیلہ جسکے ذریعہ توسّل کرنیوالے تقرّب الہی حاصل کرسکتے ہیں وہ خدا اور اسکے نبیﷺ پر ایمان ہے۔ اسی طرح خدا کی راہ میں  جہاد، جو اسلام کا سب سے برجستہ نقطہ ہے اسی طرح سے کلمہ اخلاص اور اسکی  وحدانیت کی گواہی اور پیامبراسلامﷺ کی رسالت کی گواہی جو انسانی فطرت کو ساتھ سازگار ہے۔ اور اقامہ نماز جو قانون اسلام ہے۔ زکات کی ادائیگی جو واجب ہے اور ماہ رمضان کے روزے جو خداوند کو عقاب کیلئے سپر ہے حج بیت اللہ و عمرہ جو فقرو ناداری کو دور کرتا ہے اور گناہوں کو مٹا دیتا ہے  اور صلہ رحمی جو مال و دولت میں برکت اور اضافہ کا ذریعہہے اور موت کو دور کرتا ہے۔ پوشیدہ طور پر صدقہ دینا جو بری موت سے بچاتا ہے۔ ہرکارخیر جو انسان کو مذمت آمیز لغزشوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
              البتہ وسیلہ ان موارد میں منحصر نہیں ہیں یہ وہ ہیں جو امام کے خطبے میں بیان ہوئی ہیں اور ہم انہیں قبول کرتے ہیں لیکن آیات و روایات میں دوسرے وسائل بھی بیان ہوئی ہیں جن کے ذریعہ خداوند منان کا تقرّب حاصل کیا جاسکتا ہے۔ تقرّب الہی کیلئے بہترین وسیلہ واجبات اور مستحبات کہ ادئیگی ہے۔ اگر انسان مستحبات کی پابندی کرے تو تقرب الہی زیادہ حاصل ہو سکتا ہے یہاں تک کہ رسول خداﷺ فرماتے ہیں : « وكُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ وَ بَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ و........» (4) یعنی انسان اس مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ اسکی آنکھ عین اللہ اور اس کا کان اذن اللہ ہوجاتا ہے۔اور یہی حقیقی عرفان ہے یہ حدیث وسائل الشیعہ  میں ذکر کی گئی ہے اوراتفاق سے اہل سنت کی کتابوں میں بھی نقل ہوئی ہے لہذا نوافل و مستحبات کا وسیلہ ہونا اجماعی اور تمام مسلمین کا مورد اتفاق ہے اور تمام اسلامی فرق اس کا اعتراف کرتے ہیں لیکن ہم ان دوسرے وسائل کو بیان کرنا چاہتے ہیں جن سے بہت کم بحث کی جاتی ہے۔
مسلمانوں کے مورد اتفاق توسّلات
۱۔ اسماءو صفات سے توسّل :
          اگر حقیقت میں آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کی دعائیں مستجاب ہوں تو اسماء وصفات خداوند سے توسّل کرو۔ حضرت امام حسین بن علی علیہما السلام سے یہ دعا نقل ہوئی ہے:اللهم إني أسألك بمكانك و بمعاقد عزك و سكان سماواتك و أنبيائك و رسلك أن تستجيب لي فقد رهقني من أمري عسر ۔(5)  صراحت کے ساتھ قرآن فرماتا ہے : وَ لِلَّهِ الْأَسْماءُ الْحُسْنى‏ فَادْعُوهُ بِها۔۔۔۔۔۔ اور زیبا ترین نام اللہ ہی کے لیے ہیں پس تم اسے انہی (اسمائے حسنیٰ) سے پکارو۔(6) دعا کے وقت اسماء الہی سے توسّل جیسے یا رحمن و یا رحیم  یا خالق السّموت والارض یا غافر الذنب یا رازق الطفل الصغیر ۔۔۔۔۔۔ بہت زیادہ مؤثر اور راہ گشا ہے۔ اسماء الہی کے ذریعہ توسّل تمام اسلامی فرق و مذاہب کے نزدیک حتی وہابیوں کے نزدیک بھی قابل قبول ہے۔ ترمذی بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول خدا صل اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے حضور میں اسطرح سے دعا کی:اللهمّ انّی اسئلک ُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَ لَمْ يُولَدْ وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُواً أَحَدٌ  (7)جب اسکی آواز رسول خدا صل اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے کانوں سے ٹکرائی تو حضور نے فرمایا : اس شخص کی زبان پر اسم اعظم ہوگا خداوند متعال اسکی دعا مستجاب فرمائے گا۔  شیخ طوسی اپنی کتاب مصباح المتھجد(8) میں یہ دعا نقل کرتے ہیں : اللهم إني أسألك باسمك العظيم الأعظم الأعز الأجل الأكرم ۔۔۔۔۔ خدایا تجھے ان مقدس اسماء کی قسم دیتا ہوں کہ اگر ان اسماء کو زبان پر لاتا رہا  آسمان کے بند دروازے رحمت کیلئے کھل جائیں گے وَ إذا دعيت به على مغالق أبواب السماء للفتح بالرحمة انفتحت‏۔۔۔۔۔۔ اس طرح کی روایتوں کے نمونے شیعہ کتابوں میں بہت ہیں جن کا مضمون یہ ہے کہ اگر کوئی توسّل کرنا چاہے تو اسماء الہی کو زبان پر لائے اگر کوئی اسماء الہی کے ذریعہ توسّل کرے تو خدا اسکی دعا مستجاب فرماتا ہے۔
۲۔ قرآن مجید کے ذریعہ توسل :
         دوسراوسیلہ قرآن مجید ہے، کیا آپ نے کبھی توجہ کی ہے کہ قرآن بھی توسّل کے اسباب میں سے ہے؟  قدر کی راتوں میں جب ہم سب قرآن مجید کو اپنے سروں پر رکھتے ہیں تو کہتے ہیں :اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِكِتَابِكَ الْمُنْزَلِ وَ مَا فِيهِ وَ فِيهِ اسْمُكَ الْأَعْظَمُ الْأَكْبَرُ وَ أَسْمَاؤُكَ الْحُسْنَى وَ مَا يُخَافُ وَ يُرْجَى أَنْ تَجْعَلَنِي مِنْ عُتَقَائِكَ مِنَ النَّار  (9) یہاں پر قرآن مجید وسیلہ ہے اور ہم اسے اپنے اور خدا کے درمیان واسطہ قرار دیتے ہیں کہ اس قرآن کے صدقہ میں ہمارے گناہ بخش دیئے جائیں اس میں بھی کوئی بحث نہیں ہے کیونکہ تمام اسلامی فرق قائل ہیں کہ انسان قرآن کے ذریعہ توسّل کرسکتا ہے۔
۳۔ اعمال خیر کے ذریعہ توسّل :
         اگر کسی نے تمام عمر اعمال خیر انجام دیئے ہوں تو اسکے ذریعہ توسّل کرسکتا ہے اس شرط کے ساتھ کہ اس کے اعمال خیر ریا سے آلودہ نہ ہوں فرض کریں کہ جوانی کے عالم میں آپ ایسی مجلس میں تھے  جہاں پر اسبا ب گناہ فراہم تھے مگر خوف خدا سبب بنا کہ مجلس کو ترک کردیں۔ یہ عمل ایک نیک عمل ہے اسلئے حاجت کے وقت آپ کہہ سکتے ہیں کہ خدا یا اس نیک عمل کے صدقہ میں جسے میں نے تمہارے لئے انجام دیا ہے میری یہ حاجت پوری فرما۔ حضرت ابراہیم جس وقت بیت اللہ کی دیواریں بلند کررہے تھے  :  وَ إِذْ يَرْفَعُ إِبْراهيمُ الْقَواعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَ إِسْماعيلُ رَبَّنا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّميعُ الْعَليم اور ( وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم و اسماعیل اس گھر کی بنیادیںاٹھا رہے تھے،(دعا کر رہے تھے کہ) اے ہمارے رب! ہم سے (یہ عمل) قبول فرما،یقینا تو خوب سننے والا، جاننے والا ہے۔(10)
        دلیل مدعا یہ ہے کہ جس وقت ابراہیم علیہ السلام پتھر اور اینٹ بلند کر رہے تھے اور دیوار بنا رہے تھے ، چونکہ یہ عمل ، عمل صالح  ہے اسلئے اسے اپنی دعا کا وسیلہ بنا رہے ہیں اور کہہ رہے  ہیں  رَبَّنا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّميعُ الْعَليم ۔ ایک مہم تاریخی قضیہ کو دو ہم عصرمحدث، احمد بن محمد خالد برقی( متولد۲۷۲) اپنی کتاب «المحاسن» میں اور بخاری (متوفی۲۹۶) اپنی کتاب صحیح میں اس طرح نقل کرتے ہیں : کسی زمانے میں ایک مقام پر بارش نے تین اشخاص کو بہت متأثر کیاوہ لوگ بارش کی شدت کی وجہ سے مجبور ہو کر نزدیک کے ایک غار میں پناہ لیتے ہیں تاکہ بارش رک جائے۔ غار میں داخل ہونے کے بعد اچانک زمین حرکت کرنے لگی اور ایک بڑے پتھر نے غار کا دھانہ بند کردیا اس طرح سے کی صرف ایک دریچے کی تعداد میں اس کا منہ کھلا ہواتھا آپس میں کہنے لگے کہ اسطرح تو ہم بہت جلدبھوک اور پیاس اور ہوا کی قلت کیوجہ سے ہلاک ہو جائینگے لہذا اس فکر کے بعدوہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ہم آپس میں ہر ایک کی زندگی میں جو نیک عمل انجام دیا ہے اسے وسیلہ قرار دے تاکہ خدا ہمیں نجات دے۔
        ایک نے کہا: خدایا ! تو گواہ ہے کہ میرا ایک خادم تھا جسکے لئے میں نے بارگندم معین کیا تھا لیکن وہ چلا گیا اور بار گندم میرے پاس رہ گیا۔ لہذا میں مجبور ہو گیا کہ اس  سے کھیتی کروں یہاں تک کہ کچھ سالوں بعد میں نے اسکی آمدنی سے ایک گائے خریدی اور کچھ دنوں بعد وہ خادم واپس آگیا اور اس نے مجھ سے بار گندم طلب کیا میں نے کہا اس کے بدلے میں یہ گائے لے جاؤ جب اس نے یہ ماجرا بیان کیا تو پتھر کچھ پیچھے ہٹا۔
    دوسرے نے کہا : خدایا !تو شاہد ہے کہ میں اپنے چچا کی لڑکی سے بہت محبت کرتا تھا ایک دن رات کی خلوت میں اس نے مجھ سے کہا : اے میرے چچا کے فرزند ! تجھے خدا کی قسم ہے جو مہر خدا نے میرے بدن پر لگائی ہے قانون کے بغیر اسے مت توڑ۔ میں نے حیا کی اور تیرے لئے میں نے چھوڑ دیا ، پتھر کچھ اور زیادہ پیچھے ہٹا۔
         تیسرے نے بھی عرض کی :  خدایا! تو گواہ ہے کہ میرے ماں باپ پیروناتواں تھے جو راتوں میں دودھ پیتے تھے ایک رات میں ان کے لئے دودھ لایا تو وہ سو گئے تھے میں نے سوچا کہ اگر دودھ رکھ دوں تو ممکن ہے کہ اس میں کوئی کیڑا گر جائے اور دودھ آلودہ  ہو جائے اسلئے میں  اتنی دیر تک وہیں کھڑا رہا کہ وہ بیدار ہو ئے اور دودھ پیا ۔ میں نے یہ عمل تیرے لئے انجام دیا تھا۔ پتھر اتنا پیچھے ہٹا کہ تینوں آسانی  کے ساتھ غار سے باہر چلے آئے۔
۴۔ مؤمن کی دعاکے ذریعہ توسّل :
         خداوند منان نے  مومن کی دعا کے ذریعہ توسّل کی طرف بہت زیادہ توجہ فرمائی ہے اور یہ وہی ہے جو ہم کہتے ہیں التماس دعا۔ یعنی میں آپ سے دعا کا طالب ہوں۔ امام زین العابدین علیہ السلام کبھی کبھی اپنے غلام سے فرماتے تھے کہ قبر رسول خداصل اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے قریب جاؤ اور دو رکعت نماز بجا لاؤ اور علی بن الحسین علیہماالسلام کے حق میں دعا کرو۔  امام زین العابدین علیہ السلام معصوم ہیں اپنے غلام کی دعا کے محتاج نہیں ہیں لیکن امام اپنے اس عمل سے ہمیں یہ درس دینا چاہتے ہیں کہ اگر تم نے اس زبان کے ذریعہ کوئی گناہ انجام دیا تو ممکن ہے کہ تمہاری دعا قبول نہ ہو لیکن اگر برادر مؤمن تمہارے لئے  دعا کرے تو استجابت سے زیادہ نزدیک ہے۔ روایت میں ہے کہ جس وقت غلام دو رکعت نماز پڑھ کر اور دعا کرکے امام کی خدمت میں واپس ہوتا تھا امام اسے آزاد کردیتے تھے۔ (11)لہذا مؤمن کی دعا کے ذریعہ توسّل ایک مسلم اصل ہے اور اتفاقی ہے۔
۵۔ حیات رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) میں انکی دعا کے ذریعہ توسّل :
             قرآن مجید نے ان لوگوں کو جو حیات رسول (صل اللہ علیہ و آلہ وسلّم) میں زندگی ۔زار رہے تھیں مخاطب قرار دیاتا ہے  : وَ ما أَرْسَلْنا مِنْ رَسُولٍ إِلاَّ لِيُطاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ وَ لَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جاؤُكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّاباً رَحيماً ۔ اور ہم نے جو بھی رسول بھیجا اس لیے بھیجا ہے کہ باذن خدا اس کی اطاعت کی جائے اور جب یہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کر بیٹھتے تھے تو اگر آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اللہ سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے تو وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا پاتے۔(12)
  یعنی رسول  خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) کی بارگاہ میں جاکر ان سے درخواست کروکہ تمہارے لئے دعا اور استغفار فرمائیں۔ اس مورد کو وہابیت بھی قبول کرتی ہے۔ قرآن سورہ منافقین میں فرماتا ہے: جب بھی مناقون سے کہا جاتا ہے کہ نبی کریم کی بارگاہ میں جاؤ تاکہ وہ تمہارے لئے دعا فرمائیں : وَ إِذا قيلَ لَهُمْ تَعالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ لَوَّوْا رُؤُسَهُمْ وَ رَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَ هُمْ مُسْتَكْبِرُونَ اور جب ان سے کہا جائے: آؤ کہ اللہ کا رسول تمہارے لیے مغفرت مانگے تو وہ سر جھٹک دیتے ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ وہ تکبر کے سبب آنے سے رک جاتے ہیں۔(13) یہ پانچ وسیلے جنکا ذکر کیا گیا ہے صحیح و سالم ہیں اورتمام فرقوں اعم از سنی و شیعہ ، صوفی ، وھابی کے نزدیک اتفاقی ہے ۔ اس کے بعد ہماری بحث اختلافی موارد سے ہے جن وسائل سے وھابیت کو اختلاف ہے چند نمونے کی طرف اشارہ کیا جا تا ہے۔
امامیہ کے اتفاقی توسلات
۱۔ دعا ء پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) کے ذریعہ توسّل:
       امامیہ اعتقاد رکھتے ہیں دعا ء پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) کے ذریعہ  ان کی حیات کے بعد بھی توسّل کیا جا سکتا ہے اسکی دلیل وہی آیت ہے کہ جس میں ارشاد ہو تا ہے : ِ وَ لَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جاؤُك َ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّاباً  رَحيماً  (14)   یہ آیۃ کریہ مطلق ہے یعنی حیات و بعد از حیات کو شامل ہے جیسا کہ ساری آیتیں اطلاق رکھتی ہیں۔ جیسے  يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْواتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَ لا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمالُكُمْ وَ أَنْتُمْ لا تَشْعُرُون  (15)    یہ آیت بھی مطلق ہے اور آج بھی ہمیں حرم رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں اپنی  آواز بلند نہیں کرنی چاہیے۔
  اثبات مدّعی کیلئے دو اہم مقدمے :
            دو اہم مقدمے اس مسئلے کو ثابت کرنے کیلئے کہ دعا ء رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ذریعہ انکی وفات کے بعد توسّل کیا جا سکتا ہے۔
 پہلا مقدمہ :
             انبیاء ، شہداء اور مؤمنین کامل یہ بزرگ ہستیاں موت کے بعد برزخی زندگی رکھتے ہیں ۔ لہذا موت دروازہ نابودی نہیں ہے بلکہ دوسری دنیا میں زندگی کرنے کا دروازہ ہے اور یہ مطلب قرآن سے سمجھ میں آتا ہے ۔ سورہ  یٰسین میں پڑتے ھتے ہیں کہ  جب حضرت عیسیٰ کے نمایندوں نے لوگوں کو توحید کی دعوت  دی تو انطاکیہ کے لوگوں نے انہیں دھمکی دی ۔ انکی قوم کے دشمن نے فریاد بلند کی کہ اے قوم والو! تم کیا کر رہے ہو؟    قَالَ يَقَوْمِ اتَّبِعُواْ الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُواْ مَن لَّا يَسَْلُكمُ‏ْ أَجْرًا وَ هُم مُّهْتَدُونَ ( 16 )
       قوم والوں نے اسے اسطرح سے مارا کہ شدت  جراحت کی وجہ سے موت کے نزدیک ہو گیااور اسے اس وقت جنت کا وعدہ دیا گیا : قِيلَ ادْخُلِ الجْنَّةَ  قَالَ يَالَيْتَ قَوْمِى يَعْلَمُون (17)   یہ کونسی جنت ہے آیا برزخی جنت ہے؟ آیا قیامت کے روز کی جنت ہے؟ یہاں پر مہم یہ ہے کہ موت کے بعد کہا:  « يَالَيْتَ قَوْمِى يَعْلَمُون» اے کا ش تم جانتے کہ اگرچہ سنگ باران کیا گیا اور مجھے موت آگئی لیکن میں داخل بہشت ہو گیا ۔ جو آیتیں برزخی حیات پر دلالت کرتی ہیں بہت زیادہ ہیں۔ مثلا آل فرعون کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:  النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْها غُدُوًّا وَ عَشِيًّا وَ يَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذابِ۔(18)
           انہیں شب وروز آتش میں ڈالا جاتا ہےواقعاً قیامت سے پہلے آتش میں ڈالا جانا کہاں ہے؟ قطعی طور پر عالم برزخ میں ہے۔ شہداء کے سلسلے میں نازل ہونے والی آیت اسکی تائید کرتی ہے : وَ لا تَحْسَبَنَّ الَّذينَ قُتِلُوا في‏ سَبيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُون اور جو لوگ راہ خدا میں مارے گئے ہیں قطعاً انہیں مردہ نہ سمجھوبلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس سے رزق پا رہے ہیں۔( 19)  
    دوسرا مقدمہ :
        آیا ہمارا رابطہ جو برزخ میں زندہ ہیں انکے ساتھ ہے یا نہیں؟ وھابیت قطع ارتباط کے قائل ہیں ۔ لیکن شیعہ قائل ہیں کہ یہ رابطہ محفوظ ہے وہ ہماری باتیں سنتے ہیں اور ممکن ہے کہ جواب بھی دیں ۔ قرآن میں چند مقامات پر ملتا ہے کہ یہ رابطہ محفوظ ہے۔ ایک صالح کے بارے میں دوسرے شعیب کے بارے میں ۔ قرآن اسطرح سے بیان کرتا ہے کہ  یہ اپنے مردوں سے باتیں کرتے ہیں : فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُواْ فىِ دَارِهِمْ جَاثِمِينَ فَتَوَلىَ‏ عَنهْمْ وَ قَالَ يَاقَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبىّ‏ِ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لَكِن لَّا تحُبُّونَ النَّاصِحِين ۔ چنانچہ انہیں زلزلے نے گرفت میں لے لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے پس صالح اس بستی سے نکل پڑے اور کہا:اے میری قوم! میں نے تو اپنے رب کا پیغام تمہیں پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کی لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے۔(20 )
        یہ صالح کے بارے میں ہے ۔ صالح کی قوم بت پرست تھی اور عذاب الٰہی نازل ہونے کے بعد اپنے گھروں میں مردہ پڑے ہوئے تھے وہ کبھی آسمانی کبھی زلزلہ اور کبھی طوفان کی آوازیں سنتے تھے لیکن اپنے گھروں میں رہے اور موت نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا اسکے بعد کی آیت کہتی ہے  فتولّی عنہم صالح نبی نے ان سے اپنا چہرہ موڑ لیا۔ چونکہ جو کچھ نبی نے کہا تھا انہوں نے اسے سنا نہیں اور نتیجے میں ان کے مردہ اجسام گھروںمیں پڑے ہوئے تھے اور اس کے بعد ( یعنی قوم کی نابودی کے بعد) صالح نبی نے انکی طرف رخ کیا اور نفرت کے ساتھ کہا : وَ قَالَ يَاقَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبىّ‏ِ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لَكِن لَّا تحُبُّونَ النَّاصِحِين ۔ حضرت صالح کس وقت اور کن سے گفتگو کررہے ہیں اپنی قوم سے جبکہ سب ہلاک ہو چکے ہیں ؟
       حضرت شعیب کے بارے میں بھی بیان ہے کہ الَّذِينَ كَذَّبُواْ شُعَيْبًا كَأَن لَّمْ يَغْنَوْاْ فِيهَا  الَّذِينَ كَذَّبُواْ شُعَيْبًا كاَنُواْ هُمُ الْخَاسِرِينَ فَتَوَلىَ‏ عَنْهُمْ وَ قَالَ يَاقَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَاتِ رَبىّ‏ِ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ  فَكَيْفَ ءَاسىَ‏ عَلىَ‏ قَوْمٍ كَافِرِينَ۔ جن لوگوں نے شعیب علیہ السّلام کی تکذیب کی وہ ایسے برباد ہوئے گویا اس بستی میں بسے ہی نہیں تھے -جن لوگوں نے شعیب علیہ السّلام کو جھٹلایا وہی خسارہ والے قرار پائے۔اس کے بعد شعیب علیہ السّلام نے ان سے منہ پھیر لیا اور کہا کہ اے قوم میں نے اپنے پروردگار کے پیغامات کو پہنچادیا اور تمہیں نصیحت بھی کی تو اب کفر اختیار کرنے والوں کے حال پر کس طرح افسوس کروں۔(21 )
       حضرت شعیب نے کہا : يَاقَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَاتِ رَبىّ‏ِ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ  فَكَيْفَ ءَاسىَ‏ عَلىَ‏ قَوْمٍ كَافِرِينَ۔
روایات معتبرہ کے ذریعہ مسئلےکا اثبات :
          بیان شدہ دو مقدمے کو نگاہ میں رکھ کر  اب ہم ان دو روایتوں کو بیان کرنا چاہتے ہیں جنہیں وھابیت بھی قبول کرتی ہے۔ صحیح بخاری میں جو اہل سنت کی سب سے معتبر کتاب ہے مذکور ہے کہ رسول خدا صل اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے جنگ بدر میں حکم دیا کہ قریش کے ستر شہید ہونے والوں کے اجساد و اجسام کو ایک بڑے گڈھے میں ڈال دیا جائے۔ اس کے بعد ان سے گفتگو شروع کی اور ایک ایک کو مخاطب قرار دیا اور فرمایا : ْ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حقّاً فانّی وجدتُ ما وعد نی ربّی حقّاً فقال له بعض اصحابه: یا رسول الله صل الله علیه و آله و سلّم ! ا تُنادی قوماً موتی؟ فقال صل الله علیه و آله و سلّم ما انتم با سمع لما اقول منهم و لکنّهم لایستطیعون ان  یجیبونی ۔ پیامبر خدا صل اللہ علیہ و آلہ و سلّم  بے جان اجساد کی طرف رک کرکے فرمایا : میں نے اپنے پروردگار کے وعدے کو حق پایا آیا تم نے بھی خدا کے وعدے کو حق پایا؟ تم ایک بری قوم تھے میرے ساتھ بد رفتاری کی میں نہیں چاہتا تھا کہ تم اس طرح سے مارے جاؤ۔ یہ سنکر جاہل عربوں نے کہا: اے رسول خدا صل اللہ علیہ و آلہ و سلّم ! کیا آپ ان مردوں سے باتیں کررہے ہیں؟ حضرت نے فرمایا : نہیں یہ مردہ نہیں ہیں میری باتیں  تم لوگوں سے یہ لوگ اچھی طرح سے سن رہے ہیں لیکن یہ لوگ جواب دینے سے قاصر ہیں۔(22)
      نتیجہ :
            اگر یہ دو مقدمے ثابت ہو جائے ( یعنی برزخی حیات کا وجود اور اسی طرح سے حیات برزخی رکھنے والوں سے ارتباط) تو ہم رسول خدا صل اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی دعاؤں کے ذریعہ انکی وفات کے بعد بھی توسّل کرسکتے ہیں۔ لہذا کوئی مانع نہیں ہے کہ ہم انکی قبر مطہر کے نزدیک اپنی حاجتیں بیان کریں ۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے :وَ لَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جاؤُكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّاباً رَحيما (23)
      اتفاق سے بہت سارے اہل سنت نے بھی لکھا ہے کہ جس وقت رسول خدا صل اللہ علیہ و آلہ و سلّم  کی رحلت ہوئی ابھی کچھ ہی دن گذرے تھے کہ ایک بیابانی عرب نے آکر اپنے آپ  کو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم   کی قبر پر گرا دیا اور کہنے لگا :انّک قُلتَ فی کِتابک الکریم:وَ لَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جاؤُكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّاباً رَحيما ۔  وَ انّی جِئتُکَ تائباً مُستَغفِراً من ذنُوبِی  ۔ (24)
              اسکے علاوہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کی ڈیڑھ کڑوڑ آبادی ہر روز نماز میں کہتی ہیں :  السّلام علیک ایّہا النّبی یہ کس سے خطاب ہے آیا ان کا خطاب مردہ سے ہے؟ سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ ہم نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم   کو نہیں پہچانا ۔ شاعر کہتا ہے :
           دیدہ ای  خواہم کہ باشد شہ شناخت                                       تا شناسدشاہ را در ہر لباس
        یعنی ایسی بصیرت کا طلبگار ہوں جو بادشاہ شناس ہو تاکہ بادشاہ کو اسکے ہر لباس میں پہچان سکے۔ دوسرے نبیوں کو بھی ہم نے نہیں پہچانا۔ بخاری جو اہل سنت کے بزرگوں میں سے ہیں ، کہتے ہیں  کہ رسول خدا صل اللہ علیہ و آلہ و سلّم    نے کفار سے گفتگو کی اور یہ دعوی کیا کہ ان کے مردے تمہارے زندہ سے بہتر سنتے ہیں۔(25)  اسلئے ہم حق رکھتے ہیں کہ رسول خدا صل اللہ علیہ و آلہ و سلّم     کی مرقد کے قریب کہیں :  یارسول الله انّی جِئتُکَ تائباً مُستَغفِراًمن ذنُوبِی ،اِستَغفِر لَناعِندَ الله ۔ اوراپنی حاجتیں طلب کریں اور ان سے طلب دعا کریں یہ تمام توسلات مشروع ہوگا۔
۲۔ توسّل بہ ذات ، یعنی مقام و منزلت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم    کے ذریعہ توسّل :
           توسّل کا دوسرا مصداق خاص جو امامیہ کے نزدیک اتفاقی ہے، توسّل بہ ذات یعنی نبی کریم کے مقام و منزلت کے ذریعہ توسّل ہے۔ شیعہ اعتقاد کے مطابق خداوند کریم نے اپنے نبی کو وہ حق اور مقام و منزلت عنایت کی ہے جسکے پیش نظر ہم خدا کو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم     کی منزلت کی قسم دے سکتے ہیں۔
   وہابیوں کو اس سے تنفر ہے  اور کہتے ہیں کہ یہ شرک ہے اور ہمیں یہ حق نہیں ہے کہ خدا کو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم     کے مقام اور اسکی ذات اقدس کی قسم دیں ۔ اسطرح کی خدا کو قسم اور واسطہ دینا اور طلب کرنا جائز نہیں ہے۔ جبکہ اہل سنت کی حدیثی کتابیں اس قسم کے توسّل سے بھری پڑی ہیں وہ غافل ہیں اور اسطرح کی کتابوں کو ملاحظہ نہیں کرتے اور صرف محمد بن عبدالوہاب کی تقلید کرتے ہیں اور کبھی بھی اس تقلید سے باہر نکلنے کی کوشش نہیں کرتے۔
وھابیوں کا پہلا اعتراض :
           وہابی کہتے ہین کہ نبی کریم خدا پر کوئی حق نہیں رکھتے بلکہ صرف خدا صاحب حق ہے پس جو آپ یہ کہتے ہیں:اللّهمّ انّی بحقّ نبیّک و بحقّ ولیّک وبحقّ الحسین یہ صحیح نہیں ہے۔  بلکہ خدا ہمیشہ ذوالحق ہے نہ یہ کہ یکون علیہ الحق ؟
   جواب :
        حق کی دو قسمیں ہیں : پہلا حق جو اصلی ہے وہ خداکیساتھ خاص ہے۔ لہذا کوئی بھی یہ حق خدا پر نہیں رکھتا۔این التّراب و ربّ الارباب  ۔  دوسرا حق، حق بالعرض ہے جو خدا کچھ لوگوں کو عطا کرتا ہے جیسے فرماتا ہے  : وَ كاَنَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِين ۔(26)  جس حق کے ہم قائل ہیں وہ حق ہے جسکو خدا نے اپنے پیغمبر اور اولیاء کو دیا ہے۔ اور یہ حق کی دوسری قسم ہے۔یعنی خدا نے خود کو مقروض قرار دیا ہے اور حقیقت میں بطور مثال علی علیہ السلام کو صاحب حق قرار دیا ہے ۔ ہاں کبھی صاحب لطف و رحمت ہے اور اصطلاحا خدا اتنا بزرگ و برتر ہے کہ اپنے آپکو وام دار اور ہمیں طلبگار قرار دیتا ہے  ۔ مثلا فرماتا ہے : مَّن ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا (27)در واقع خدا ، وام دار قرض دہندہ ہو گیا اور یہ لطف و عظمت خدا کے علاوہ کوئی دوسری چیز نہیں ہے۔
 اہل سنت کی کتابوں میں ذات رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم  کے ذریعہ توسّل :
        سنن ترمذی (28)میں یہ حدیث نقل ہوئی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ عثمان بن حنیف (نمایندہ امام علی علیہ السلام) اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم  کے بزرگ صحابی بیان کرتے ہیں کہ  رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم  کی خدمت اقدس میں تھا کہ ایک نابینا شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم ) دعافرمائیں کہ میری نا بینائی دور ہو جائے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم   نے فرمایا :  کیا تم اسی حالت پر صبر نہیں کرنا چاہتے؟ عرض کی : نہیں میں صبر نہیں کرسکتا۔ آپ  دعا  فرمائیں    بینا ہو جاؤں۔ حضرت نے فرمایا : جاؤ وضو کرکے نما ز پڑھو اور اس کے بعد یہ دعا پڑھو :  اللّهمّ انّی اسئلک و اتوجّه الیکَ بنبیک محمد( صل الله علیه و آله و سلّم) نبی الرحمة یا محمّد انّی اتوجّه بک الی ربّی فی حاجتی لتقضی. اللّهمّ شفّعه فی .آپ کو معلوم ہے کہ (نبیک) دونوں فعل اسئلک اورأتوجّه کے متعلق ہے اور نبی کریم کے نام کاذکر  اس کے بعد بعنوان عطف بیان ہے۔اور اس مطلب کو روشن کرنے کیلئے ہے کہ توسّل ذات نبی کے ذریعہ ہے نہ دعاء نبی کے ذریعہ۔
     لہذا نبی کریم کے مبارک نام کا ذکر (یعنی محمدصلی الله علیه و آله و سلّم) ، ذات نبی کے ذریعہ توسّل پر وضح دلیل ہے۔ اسکے علاوہ صرف اسی پر اکتفاء نہیں کی ہے بلکہ کہتا ہے :  نبی الرحمة اور پھر کہتا ہے  یامحمّدانّی اتوجّه بک الی ربّی فی حاجتی لتقضی. اللّهمّ شفّعه فی۔ اسکی آنکھ اس طرح سے روشن ہوئی کہ گویا نابینا تھا ہی نہیں۔
     ابن تیمیہ بھی کہتا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔(29) اگر اسوقت ہم ضریح مبارک کے مقابل کہیں : یا رسو ل اللہ اشفع لنا عنداللہ تو وہابی کہتے ہیں کہ تم مردے کو آواز دے رہے ہو، مردے کو آواز نہیں دی جا سکتی اور اسکی ذات سے توسّل نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ حدیث انکے گلے میں ہڈی کیطرح پھنسی ہوئی ہے کیونکہ اسکی سند کا انکار نہیں کرسکتے یہاں تک کہ ابن تیمیہ بھی کہتا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے چونکہ اسکی دلالت کو رد  نہیں کرسکتے اسلئے تأویل کرتے ہیں۔
تأویل : ذات رسول صلی الله علیه و آله و سلّم کے ذریعہ توسّل
      کہتے ہیں کہ اس عبارت میں کلمہ دعا مقدر ہے یعنی انّی اسئلک و اتوجّه الیک بدعاءنبیک بدعاء نبی الرّحمة  جواب میں ہم عرض کریں گے کہ آپ تو اصلا تأویل پر اعتقاد ہی نہیں رکھتے  اگر کوئی تأویل کرتا تھا یا آج کوئی تأویل کرئے تو اسے فاسق اور کافر کہتے ہو پس آپ یہاں پر تأویل کیوں کرتے ہیں؟
      تہران میں مہندس عبدالرزاق بغایری( ۱۳۴۸۔ ۱۳۳۲ ش) (ریاضی دان اور استاد دارالفنون) بیان کررہے تھے کہ ہم رسول اسلام کی زیارت سے مشرف ہوئے اور مکہ پہنچے ۔ جدّہ میں ایک عراقی شیخ کو دیکھا جو فقیر اور نادار تھا اس پر رحم آیا اور اس سے کہا کہ آؤ ہم تمہیں زندگی کا خرچ دیں گے اور اس کے بدلے میں تم ہماری اعمال حج میں مدد کرو۔ اس نے قبول  کر لیا اور ہم مدینہ کیلئے روانہ ہو گئے ۔ وہاں پر ایک شیخ نے پوچھا کہاں کے رہنے والے ہو؟ جواب دیا : ایرانی  اور شیعہ ہیں۔ پس اس نے کہا: تم لوگ آیات قرآن کی تأویل کرتے ہو ۔  مہندس بغایری کہتے ہیں کہ بعنوان نمونہ چند شواہد اس نے ذکر کئے ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا : خدایا ایک مدت سے اس عراقی کے ساتھ ہیں جس نے اعمال حج میں ہماری مدد کی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بھی شیعوں کے سخت مخالفین میں سے ہو۔
         دوسرا شیخ  ضریر اتفاق سے نابینا تھا ہمارے عراقی شیخ نے کچھ اسکی مدد کی اور اسکی طرف متوجہ ہوا اور کہا : یا للعجب مجھے افسوس ہے کہ جناب عالی قیامت کے دن رسول خداصل الله علیه و آله و سلّم کی زیارت نہیں کرسکتے اور ان کے جمال کا دیدار نہیں کر پائیں گے۔ اس نے پوچھا کیوں؟ عراقی شیخ نے کہا کہ قرآن کہتا ہے : وَ مَن كاَنَ فىِ هَاذِهِ أَعْمَى‏ فَهُوَ فىِ الاَْخِرَةِ أَعْمَى‏ وَ أَضَلُّ سَبِيلا (30) اس نے کہا : اس سے مراد کور دل ہے نہ کور چشم۔ قافلہ کے روحانی نے کہا : یہ وہی تأویل ہے جیسے یہ سنا اس نابینا کی فریاد آسمان کیطرف  بلند ہوگئی۔
    روایت عثمان پراہل سنت کے تین اعتراض :
پہلا اعتراض : 
             وہابی اس حدیث سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔ یہ تمام مطالب اس وقت صحیح ہیں جس وقت رسول خدا صلی الله علیه و آله و سلّم زندہ ہوں نہ کہ انکی حیات کے بعد، وہابیوں کی اس بات کے جواب میں اس مطلب کیطرف اشارہ  کرنا چاہتے ہیں کہ خود عثمان بن حنیف کہتے ہیں کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا میں بہت پریشان حال اور مقروض ہوں جب بھی عثمان کے پاس جاتا ہوں میری طرف توجہ نہیں کرتے ہیں ۔ میں نے کہا : میں  رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلّم   کےپاس تھا اور ایک نابینا شخص آیا اور حضرت نے اسے یہ دعا تعلیم دی اور اسکی دعا مستجاب ہوئی جاؤ وضو کرو اور دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد یہ دعا پڑھو: اتفاق سے فقیر نے ایسا ہی کیا اور پھر عثمان (خلیفہ) کے پاس گیا ، عثمان نے اس مرتبہ گشادہ روئی کے ساتھ استقبال کیا اور اسکی حاجتیں پوری کی۔(31)
    دوسرا اعتراض :
                 کہتے ہیں کہ اس حدیث کی سند میں روح بن صلاح ، نامی ایک شخص ہے جو ہمارے یہاں ثقہ نہیں ہے ۔ البتہ یہ انکی خطا ہے اصل سند اسطرح سے ہے : « حدّثنا طاطاهر بن عیس بن قیرس المقری حدثنا اصبغ بن الفرج حدثنا ابن وهب عن ابی سعید المکی عن روح بن القاسم عن ابی جعفر الخطمی المدنی عن  ابی امامة بن سهل بن حنیف عن عمه عثمان بن حنیف  »  پس فرد مذکور روح بن القاسم ہے نہ کہ  روح بن صلاح! اس سے پتہ چلتا ہے کہ مصدر کو بھی دقیق اور صحیح طریقے سے نہیں دیکھا ہے۔    اتفاق سے اگر سند میں روح بن صلاح بھی ہو تو سب نے اسکو ضعیف  نہیں مانا ہے۔ روح بن صلاح کو صرف ایک شخص ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہےلیکن ابن حبّان نے اسکی توثیق کی ہے لہذا  اولاً صغری غلط ہے یعنی راوی روح بن صلاح نہیں ہے  بلکہ روح بن القاسم ہے جو ثقہ ہے. ثانیاً بالغرض اگر روح بن صلاح ہو تو دو نے اسکی تصدیق کی ہے اور ایک نے تضعیف ۔
     تیسرا اعتراض :
            روایت عثمان پر یہ ہے کہ اگر یہ روایت صحیح ہو تو دنیا میں نابینا کو پیدا نہیں ہو نا چاہیے ۔ کیونکہ ہر نابینا اس دعا کو پڑھ کر بینا ہو جائے گا۔
       اس اعتراض کا ضعف بہت واضح ہے ، یہ اعتراض حکایت کرتا ہے کہ انہوں نے نہ   رسول خداصلی الله علیه و آله و سلّم کو پہچانا ہے اور نہ ہی دعا کو جواب میں ہم کہیں گے ، قرآن جو شہد کے سلسلے میں کہتا ہے :  فیہ شفاء ۔ لہذا دوا کی دکانوں پر صرف شہد بگنی چاہیے کیونکہ شہد میں شفاء ہے کیا واقعا یہ بات بے بنیاد ہے اور بے اساس نہیں ہے ؟ توجہ کرنی چاہیئے کہ شہد اور دعا جیسے موارد مقتضیات میں سے ہیں علامت تامہ نہیں ہیں لہذا بعض شرایط میں مؤثر اور بعض شرایط میں نا مؤثر ہیں۔
    ذات رسول خداصلی الله علیه و آله و سلّم کے ذریعہ توسّل کیلئے چہار مؤیّد :
         متعدد اور مختلف موارد  بیان کرتے ہیں کہ ذات رسول خداصل الله علیه و آله و سلّم کے ذریعہ توسّل جائز ہے یہاں پر ہم چہار موارد بیان کریں گے۔ 
۱ ۔  ابن حجر نے بخاری کی شرح  لکھی ہے جسکا نام   فتح الباری ہے جسکا بہت زیادہ احترام کیا جاتا ہے۔ اہل سنت کی نگاہ میں کوئی بھی عالم حدیث میں ابن حنبل کے بعد ابن حجر کی برابری نہیں کرسکتا، اس کتاب میں لکھتے ہیں کہ جس وقت قحطی نے مکہ کو متأثر کیا عبدالمطلب نے رسول خداصلی الله علیه و آله و سلّم کے ہاتھوں کو پکڑ ا جبکہ حضور ابھی بچے تھے اور آسمان کی طرف بلند کرکے عرض کی خدایا !اس بچے کے صدقہ میں جسکا مستقبل روشن ہے بارش نازل فرما۔ جناب عبدالمطلب  نے ذات نبی کے ذریعہ توسّل کیا اور اس وقعہ کو شعر کی شکل میں اس طرح سے بیان کیا گیا ہے :   
       وابیض یستسقی الغمام بوجهه      ثمال الیتامی عصمة للا رامل(32) 
2۔ عبدالمطلب کی وفات کے بعد ابوطالب نے رسول خداصل الله علیه و آله و سلّم کی سرپرستی قبول کی  حضور اس وقت جوان تھے  جب قحطی اور خشکسالی آتی تو آپ نے ذات رسول خداصل الله علیه و آله و سلّم کے ذریعہ توسّل کیا اور کہا : خدایا! اس نوجوان کی برکت اور مقام کے صدقے میں بارش نازل فرما۔(33)      
۳۔ خود عمر بن خطاب نے قحطی میں پیامبراسلام صلی الله علیه و آله و سلّم کے چچا عباس کے ذریعہ توسّل کیا ہے، یہ خلیفہ کی عین عبارت ہے جس میں کہتا ہے : « اللّهمّ انا کنّا نتوسّل الیک بنبیّنا و انّا نتوسّل الیک بعمّ نبیّنا فاسقنا » (34) یہ صحیح بخاری کی روایت ہے جسکو مخالفین کو قبول کرنا چاہیئے لیکن کہتے ہیں کہ خلیفہ کی عبارت کا مطلب  نتوسّل  بدعاء عمّ نبیّنا ہے ۔
           ہم کہیں گے کہ رسول خداصلی الله علیه و آله و سلّم کے چچا نے تو دعا نہیں کی ، دعا تو خلیفہ نے کی ہے نماز بھی اس نے پڑھی ہے اور عم رسول خداصلی الله علیه و آله و سلّم کے ذریعہ توسّل بھی اسی نے کیا ہے اور اسی لئے زمانہ خلیفہ کے شاعروں نے مقام و عظمت عبس کے سلسلے میں اشعار لکھے ہیں۔ اشعار کا مضمون اس طرح ہے:  «  فسقی الغمام غرّة بغرّة العبّاس » (35) خدا نے عباس کے نورانی چہرے کے صدقے میں ہمارے لئے بارش نازل کی ۔ (36)
۴۔  عطبی عوفی نے ابو سعید خدری سے نقلی کیا ہے کہ رسول خداصل الله علیه و آله و سلّم نے اس طرح فرمایا ہے :  « من خرج من بیته الی الصلاة فقال : « اللّهمّ انّی اسئلک بحقّ السائلین علیک و اسئلک بحقّ ممشای هذا .....» (37) جو بھی شخص نماز کئلئے اپنے گھر سے مسجد کے طرف جائے اور یہ کہے : خدا! میں تجھ سے درخواست کرنے والے اور ان قدموں کے صدقہ میں جو تیرے لئے اٹھ رہے ہیں درخواست کرتا ہوں ۔۔۔۔۔ یہاں پر خدا سے درخواست کرنیوالوں کے حق کے ذریعے توسّل کیا گیا ہے۔
۵۔ جس وقت مادر حضرت علی علیہ السلام فاطمہ بنت اسد کی وفات ہوئی تو رسول خداصل الله علیه و آله و سلّم نے حکم دیا کہ انکے لئے قبر تیار کی جائے اور جب قبر تیار ہو گئی رسول خداصل الله علیه و آله و سلّم قبر میں اترے اور لیٹ گئے فرمایا : اے خدا جو حیات و زندگی اور موت دیتا ہے اور حیّ و زندہ ہے جسکو فنا نہیں ہے  میری ماں فاطمہ بنت اسد کی مغفرت فرما اور قبر کو گشادہ و فراخ فرما ۔ اور پھر  یہ جملہ فرمایا : تیرے نبی اور ان سے پہلے کے انبیاء کا واسطہ ۔(38)یہاں پر بھی رسول خداصل الله علیه و آله و سلّم نے اپنے اور انبیاء ماسبق کے حق کے ذریعہ توسّل فرمایا ہے۔
   منکرین توسّل کے دلائل اور انکے جوابات :
1-   پهلااعتراض :
       قرآن میں ارشاد ہوتا ہے : وَ مِن وَرَائهِم بَرْزَخٌ إِلىَ‏ يَوْمِ يُبْعَثُون(39)۔  اور انکے پیچھے قیامت تک کیلئے ایک حائل اور پردہ ہے۔ جب ہمارے اور مرنے والوں کے درمیان حائل موجود ہے آپ کسطرح سے دعا یا ذات رسول یا امام کے ذریعہ توسّل کرسکتے ہیں۔ جبکہ ہمارے اور انکے درمیان ایک  مانع اورحائل موجود ہے جس کا نام برزخ ہے۔(40)
          جواب : آ پ کسی آیت کا مطلب ومعنی بیان کرنا چاہیں تو سب سے پہلے ضروری ہے کہ آپ اس آیت کے سیاق و سباق پر نظر کریں تاکہ مغالطہ نہ ہو ۔ آیت کا سیاق یہ ہے   : حَتىَّ إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبّ‏ِ ارْجِعُونِ لَعَلىّ‏ِ أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ  كلاََّ  إِنَّهَا كلَمَةٌ هُوَ قَائلُهَا  وَ مِن وَرَائهِم بَرْزَخٌ إِلىَ‏ يَوْمِ يُبْعَثُون۔ جب ان میں سے کسی کو موت آجاتی ہے  تو کہتا ہے : اے پروردگار! مجھے واپس دنیا میں بھیج دے۔ شاید جو کچھ میں نے ترک کیا ہے (اور کوتاہی کی ہے) عمل صالح انجام دے سکوں ( لیکن اس سے کہا جاتا ہے ) ایسا نہیں ہے ۔ یہ ایسی بات ہے جو کہہ رہا ہے ( اگر پلٹا دیا جائے کار بیہودہ انجام دے  گا)اور ان کے پیچھے ایک برزخ ہے اس دن تک کہ اٹھائے جائیں۔(41) یعنی موت کے وقت جب ان کی برزخی آنکھ کھلتی ہے اور فاسق و کافر اپنا مستقبل تاریک دیکھتا ہے اور کہتا ہے : خدایا! مجھے پلٹادے شاید عمل خیر انجام دوں۔ قرآن نے انھیں دو جواب دیا ہے :
  پہلا جواب  «كلاََّ  إِنَّهَا كلَمَةٌ هُوَ قَائلُهَا»   یعنی یہ درخواست صوری ہے اگر پلٹا دیا جائے، دوبارہ گناہوں میں غرق ہو جائیگا۔
دوسرا جواب  « وَ مِن وَرَائهِم بَرْزَخٌ إِلىَ‏ يَوْمِ يُبْعَثُون »    یہ برزخ برگشت  سے حائل اور مانع کے معنی  میں ہے کہ دوبارہ دنیا کیطرف پلٹ سکیں نہ یہ کہ آواز اور دعا سننے سے مانع ہے۔  
     اگر آپ خوب توجہ فرمائیں تویہ مطلب بہت واضح اور روشن ہے ۔ مخالفین یہ خیال کرتے ہیں کہ ہر چیز سے مانع ہے ایسا نہیں بلکہ صرف رجوع و برگشت سے مانع ہے۔ لہذا آواز اور دعائیں ردوبدل کرسکتے ہیں۔
۲۔ دوسرا اعتراض :
            یہ ہے کہ مردے نہیں سنتے  جو اس دنیا سے چلا جاتا ہے اس سے سننے کی قوت سلب کرلی جاتی ہے ۔ اس پر دو آیتیں دلیل ہیں : « إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتىَ‏ » یعنی اے پیغمبر صل الله علیه و آله و سلّم آپ اپنی آوازمردوں تک نہیں پہونچا سکتے  ۔(42)«   وَ مَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فىِ الْقُبُور ‏ » یعنی اے پیغمبر صلی الله علیه و آله و سلّم آپ اپنی آوازان تک  نہیں پہونچا سکتے جوقبروں میں سو رہے ہیں ۔ (43) لہذا نبی و آئمہ علیہم السلام با حیات نہیں ہیں یہ بھی  دوسروں کی طرح نہیں سن سکتے۔(44)
     پہلا جواب  ابن حجرکاہے جو کہتے ہیں:
       آپ کیوں اس طرح سے آٰیت کا معنی کررہے ہیں جبکہ صحیح بخاری میں یہ روایت موجود ہے کہ میت ،مشایعت کرنے والوں کے قدموں کی  آوازیں سنتی ہے۔ «تسمع خفق نعالهم» (45) اگرمیت سننت کی قوت نہیں رکھتی تو تلقین کا کیا مطلب ہے؟ ابن حجر جو اس زمانے کا عالم ہے اس نے اس اعتراض کا نقضی جواب دیا ہے۔
           اس اعتراض کا دوسرا جواب ابن تیمیہ کے شاگرد ابن قیّم نے جو کتاب اسکی طرف منسوب ہے  الّروح میں دیا ہے۔ اگر یہ کتاب اسی کی ہو تو یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ اس نے ابن تیمیہ کے مکتب سے کنارہ گیری کی ہے چونکہہ یہ کتاب کاملاً ابن تیمیہ کے عقائد کے خلاف ہے۔  ابن قیّم اس کتاب میں جب ان دوآیتوں تک پہونچتا ہے تو کہتا ہے کہ اس سے مراد نفی استماع نہیں ہے بلکہ اس انتفاع کی نفی ہے جو سودمند ہے۔ یعنی نفی انتفاع لہذا « إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتىَ‏ »(46)    یعنی جو چیزا س کیلئے سودمند ہے وہ اس تک نہیں پہونچاسکتے ۔ چونکہ میت دنیا کیطرف برگشت کے قابل نہیں ہے اسلئے آپ جو بھی کہیں گے اسکو نفع نہیں ہو سکتا اور اصطلاحاً نفی الانتفاع ہے۔
 ۳۔ تیسرا اعتراض :
         میت سے انقطاع عمل ہے ۔ روایت میں ہے کہ  « اذا مات المرء انقطع عمله الا من ثلاث : صدقة جاریة ، و علم ینتفع به و ولد صالح یدع له » یعنی انسان کے مرنے کے بعد عمل کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے، صرف تین چیزوں سے اسے نفع پہونچتا ہے : صدقہ جاریہ یا وہ علم جس سے دوسرے نفع حاصل کریں مثل کتاب،یا ایسی اولاد جو اسکے لئے دعا کرے۔ (47) لہذا جب رسول خدا صل الله علیه و آله و سلّم کی رحلت ہو گئی سلسلہ عمل قطع ہو گیا اس لئے اب دعا بھی نہیں کرسکتے کیونکہ جب وہ بھی دوسروں کی طرح مردہ ہیں تو ان کا بھی سلسلہ عمل ختم ہو چکا ہے مگر وہی تین امور ، اور ہمارے لئے دعا کرنا ان تین امور میں سے نہیں ہے۔
جواب :
      یہاں پر ایک بڑی غلطی کی گئی ہے «القطع عمله» یعنی ایسا عمل کہ جس سے خود کو نفع ہو نہ یہ کہ کوئی عمل انجام نہیں دے سکتا۔ یعنی استثناء ایک قرینہ ہے کہ یہ تین امور وہ اعمال ہیں کہ جن سے خود میت نفع حاصل کرسکتی ہے لیکن دوسروں کو نفع پہونچانا اسکی نفی نہیں کی گئی ہے۔
   دوسرا نکتہ یہ ہے کہ روایت یہ بیان نہیں کرتی کہ میت دوسروں کیلئے دعا نہیں کرسکتی، یہ کیسے ممکن  نہیں ہے جبکہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے کہ  : « وَ يَسْتَبْشرُِونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُواْ بهِِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيهِْمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُون » (48)
۴۔ چوتھا اعتراض  :
            چوتھا اعتراض یہ ہے کہ کہتے ہیں ذات رسول خدا صلی الله علیه و آله و سلّم اور انکی دعاؤں کے ذریعہ توسّل کرنا انکی رحلت کے بعد شرک ہے کیونکہ بت پرست بھی یہی کام کرتے تھے اور بتوں سے حاجت روائی کی درخواست کرتے تھے؟۔ تم بھی کبھی خدا کو میت کی قسم دیتے ہو اور کبھی اس سے دعا کرتے ہو ، میت سے اپنی حاجتیں طلب کرتے ہو بت پرستی بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔(49):  « وَ يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَ لَا يَنفَعُهُمْ وَ يَقُولُونَ هَؤُلَاءِ شُفَعَؤُنَا عِندَ اللَّهِ .....» اور یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان کی پرستش کرتے ہیں جو نہ انہیں ضرر پہنچا سکتے ہیں اور نہ انہیں کوئی فائدہ دے سکتے ہیں اور (پھربھی) کہتے ہیں: یہ اللہ کے پاس ہماری شفاعت کرنے والے ہیں، (50)
جواب :
       ہمارے چاند اور آسمان کے درمیان زمین سےآسمان تک فرق ہے۔ بت پرست بت سے توسّل کرتے تھے اور بت ہی پر الوہیت و ربوبیت کا اعتقاد رکھتے تھے۔ اس آیت پر توجہ کریں : وَ مِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّهِ أَندَادًا (51) کہتے تھےکہ بت مثل وہم شان خداہیں ۔ وہ بتوں کے سلسلے میں الوہیت و ربوبیت کے قائل تھے :  يحُِبُّونهُمْ كَحُبّ‏ِ اللَّهِ  (52)
     اس آیت کا مصداق ہم نہیں ہیں کیونکہ اولاًٍٍ وہ خدا کی جگہ بتوں کی پرستش کرتے تھے جبکہ مسلمان صرف اور صرف خدا کی پرستش کرتے ہیں پھر آپ دونوں کے توسّل کو برابر کیوں سمجھتے ہیں؟
   ثانیاً وہ انداد (یعنی خدا کی ظرح بتوں کے رب ہونے) کے قائل تھے اور ہم نہیں ہیں ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ انبیاء و اولیاء خدا اسکے بندے ہیں اور ہم کہتے ہیں :  اشهد ان لا اله الا الله و اشهدأن محمّد رسول الله   اور یہ بھی کہتے ہیں :  اشهد انّ محمدا عبده  و رسوله .
ثالثا ان کا عقیدہ تھا کہ یہی بت جنگ میں ہماری مدد کرتے ہیں : وَ اتخَّذُواْ مِن دُونِ اللَّهِ ءَالِهَةً لَّعَلَّهُمْ يُنصَرُون(53) بت پرست بتوں سے مدد طلب کرتے تھے اسلئے قرآن انکی مخالفت میں فرماتا ہے : َ يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَ لَا يَنفَعُهُمْ وَ يَقُولُونَ هَؤُلَاءِ شُفَعَؤُنَا عِندَ الله(54)
 رابعاً وہ عزت کو بتوں کے اختیار میں سمجھتے تھے اور یہ خیال کرتے تھے کہ بتوں سے ہماری عزت ہے ، لِّيَكُونُواْ لهَمْ عِزًّا(55)لہذا اگر وہ بتوں سے متوسّل ہوتے تھے تو اسلئے کہ وہ انہیں معبود و پرور دگار و ناصر اور صاحب عزت سمجھتے تھے اور اسطرح سے دعا کرتے تھے ۔ جبکہ ہم معتقدہیں کہ نصرت اور عزت صرف خدا کے اختیار میں ہے۔  وَ تُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَ تُذِلُّ مَن تَشَاءُ (56) لہذا ان دونوں اعتقاد میں بنیادی فرق ہے ان دونوں میں خلط نہیں کرنا چاہیے ۔ میزان و معیار امر ظاہری نہیں ہے بلکہ باطنی ہے۔ اگر میزان و معیار ظاہر کار ہو تو تمام مسلمان  موسم حج میں وہی کام انجام دیتے ہیں جو بت پرست انجام دیتے تھے کیونکہ پتھروں کے درمیان پھیرے لگانا بت پرستوں سے کوئی فرق نہیں رکھتا اسی طرح دو پہاڑوں کے درمیان سعی بھی بت پرستوں کے عمل سے کوئی فرق نہیں رکھے گی۔ فرق یہ ہے کہ وہ بتوں کے الوہیت و ربوبیت کے قائل تھے اور یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ عزت  و نصرت بتوں کی قدرت میں ہے جبکہ ہم معتقد ہیں : وَ مَا النَّصرُْ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الحْكِيم(57)
۵۔ پانچواں اعتراض :
          بت پرست و مشرکین ہرگز یہ نہیں کہتے تھے کہ عزت و نصرت بتوں کے اختیار میں ہے بلکہ کہتے تھے کہ یہ صرف ہمارے شفیع ہیں : َ ما نَعْبُدُهُمْ إِلاَّ لِيُقَرِّبُونا إِلَى اللَّهِ زُلْفى(58) مسلمانوں کا بھی یہی عقیدہ  ہے ، یعنی اپنے شرک کی شفاعت کے پردے میں توجیہ کرتے ہیں۔
جواب :
      آپ کا یہ دعوی کذب محض ہے کیونکہ اس آیت میں صریحاً ارشاد ہورہا ہے : لِّيَكُونُواْ لهَمْ عِزًّا(59) لہذا وہ عزت کو بتوں کے اختیار میں سمجھتے تھے جبکہ ہم عزت خدا کے اختیار میں سمجھتے ہیں ۔ دقت کرنی چاہیے کہ صرف ایک ہی آیت  کو مفاد قرار نہ دیں بلکہ آیت کے صدر و ذیل پر نگاہ ہونی چاہیے۔ لہذا یہ کہنا کہ وہ صرف بتوں کے شفیع ہونے کے قائل تھے یہ کذب وجھوٹ واضح و روشن ہے۔بت پرست  ومشرکین بتوں کے الوہیت کے قائل تھے۔ أَ جَعَلَ الاَْلهِةَ إِلَاهًا وَاحِدًا (60)  اور بتوں کو آلہہ و انداد کہتے تھے اور انکے رب ہونے اور یہ  کہ عزت و نصرت انکی قدرت میں ہے اعتقاد رکھتے تھے۔
        اس کے علاوہ تاریخ میں مر قوم ہے کہ سب سے پہلا دشمن جس نے بت پرستی کا رواج مکہ میں ایجاد کیا عمربن لحئ ہے اس نے شام کے ایک علاقہ میں لوگوں کو بتوں کی پرستش کرتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا : کہ اگربارش نہیں آئی تو ہم اس سے بارش طلب کرتے ہیں اور یہ بارش نازل کرتے ہیں اور۔۔۔۔ عمربن لحئ وہاں سے ایک بت لایا اور مکہ کی بلند ی پر  نصب کردیا اور لوگوں کو اس کی پرستش کی دعوت دی۔
       قابل توجہ بات یہ ہے کہ خود آیہ مبارکہ بت پرستوں کی منطق پرستش کو رد اور تکذیب کر رہی ہے :   إِنَّ اللَّهَ يحَكُمُ بَيْنَهُمْ فىِ مَا هُمْ فِيهِ يخَتَلِفُونَ  إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِى مَنْ هُوَ كَذِبٌ كَفَّار خداوندمتعال قیامت کے دن جس امر میں وہ اختلاف کررہے ہیں حکم و داوری کرے گا ، خداوند یقینا کاذبوں اور کافروں کی ہدایت نہیں کرتاہے۔(61)
       آیت کہہ رہی ہے کہ یہ لوگ کاذب ہیں اور انہیں شرم و حیا آتی ہے اور توجیہ کرنے کیلئے کہتے ہیں ہاں یہ بت شفیع ہیں اور کام نہیں کرتے کیونکہ اگر یہ کہیں  کہ ی بارش نازل کرتے ہیں نفع پہونچاتے اور مدد کرتے ہیں تو یہ بات  واضح طور پر باطل ہے اسلئے صرف یہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے شفیع ہیں۔