سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/9/19 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها
■ ◊ اداریه
■ ◊ حجت خدااورہماری ذمہ داریاں-از:مرتضی ٰ حسین مطہری
■ ◊ مسئلہ استغاثہ اور اس کی شرعی حیثیت -شیخ الاسلام ذاکرمحمد طاهر القادری
■ ◊ امام حسن مجتبی (ع)-بقلم آیت الله ناصر مکارم الشیرازی -مترجم سید صفدرحسین نجفی
■ ◊ انوار قدسیه-آٹھویں برج امامت ثامن الحجج حضرت امام علی بن موسی الرضا سلام الله علیه -مصطفی علی فخری
■ ◊ توسل قرآن سنت کی نگاہ میں-مولف: آیت اللہ العظمیٰ شیخ جعفرسبحانی-مترجم: جواہرعلی اینگوت
■ ◊ دماغی موت کے حامل افراد کے اعضاء کی پیوند کاری آیت اللہ محمد مہدی آصفی-مترجم : سیدحسنین عباس گردیزی
■ ◊ آپ کے سوالات اور- آیت الله سید عادل علوی کے جوابات-ترجمه : مصطفی علی فخری
■ ◊ صحیفہ سجادیہ کا تعارف-سید توقیر عباس کاظمی
■ ◊ علوم غریبه-آیت الله استاد سید عادل العلوی -مترجم:فداعلی حلیمی
■ ◊ فلسفہ قیام امام حسینؑ-محرر:اشرف حسین - متعلم جامعة آل البیت(ع)
■ ◊ اهل بیت علیهم السلام کى شخصیت آیت مودت کى روشنى میں -فداحسىن عابدى
■ ◊ تحریف القرآن ؟ محمد سجاد شاکری
■ ◊ مقالات کے بارے میں مهم نکات:

◊ آپ کے سوالات اور- آیت الله سید عادل علوی کے جوابات-ترجمه : مصطفی علی فخری

 سوال  1: کیا علم الهی اور علم ائمه  کے درمیان صرف ایک حرف کا فرق هے ؟ حسین بن محمد اشعری کی روایت میں آیا هے  امام علیه السلام نے فرمایا : الله تعالی کے تهتر 73 اسم اعظم هیں جن میں سے آصف بن برخیا کے پاس ایک حرف تھا جس کی وجه سے پلک جپکنے سے پهلےاس کے اورملک سبا کے درمیانی زمین سمیٹ گئی اور   تخت بلقیس کو حضرت سلیمان کے پاس  حاضر کر دیا . اور همارے هاں بهتر حروف هیں اور ایک حرف الله کے هاں علم غیب میں مخفی هے .تو ایک حرف کے چھپا کر رکھنے کا کیا معنی هے کیا اس روایت کا یه معنی هے که علم خدا اور علم ائمه کے درمیان صرف ایک حرف کا فرق هے؟ تو کیا یه ایک حرف الله تعالی  کے علم ذاتی کا تابع هے اگر ایسا هے تو الله تعالی پر حرف کیسے صدق آتا هے اور اگر وه حرف مخلوق هو تو کیسے اهلبیت علیهم السلام کو اس پر علم نهیں هے جبکه روایتیں اهلبیت علیهم السلام کو تمام مخلوقات پر علم حاصل هونےپر دلالت کرتی هیں ؟ 

جواب  1: میں نے چند سال پهلے (ويسألونك عن الأسماء الحسنى) کے عنوان پرچھپنے والے اپنے رساله میں الله تعالی کے اسماء سے متعلق بعض مطالب کو بیان کیا تھا  که ان میں سے ایک اسم اعظم هےتفصیلی جواب کیلئے اس کا مطالعه کریں لیکن یهاں پر اس ایک حرف کے بارے میں یه کهنا کافی هو گا که  وه حرف حروف تهجی  جیسا  ایک حرف نهیں هےبلکه حروف تهجی آئینے کی مانند هے که جن میں حروف الهی کا انعکاس هوتا هے کلمات الهی حروف سے مرکب نهیں هیں چونکه عیسی بن مریم علیه السلام کلمۃ الله تھے انبیاء اور ائمه علیهم السلام سب کے سب الله کے کلمات هیں تو کلمة الله اور کلمات الهی سے مراد حروف تهجی والی کلمات نهیں هیں۔
الله اور  اس کے رسول کے درمیان میں ایک حرف کا فرق هے لیکن پوری کائنات  اسی ایک حرف میں غرق هےیعنی احد (جو که الله تعالی هےقل هو اللّه أحد) اور  احمد میں( جو که رسول اکرم حضرت محمد  صلى الله عليه وآله وسلم هے )ایک میم کا فرق هے لیکن پورا عالم اسی ایک حرف میں غرق هے چونکه یه اشاره هے ممکنات کے میم کی طرف جو تمام ما سوی الله سےعبارت هے اور ذات واجب الوجود احد اور واحد هے اس کے سوا سب ذاتا ممکن الوجود هے تو الله اور اسکے مخلوقات کے درمیان ایک حرف کا فرق هے جو ذات باری  تعالی نے اپنے لئے انتخاب کیا هے وه الوهیت هے تو وه الله هے اور صمد  هے غنی بالذات هے اس کے سوا سب ممکن فقیر اور اس کی طرف محتاج هیں اس کے سوا سب لاشیء هے صرف اسی کی ذات کل شیء هے باقی سب لاشیء اور عدم محض هے تو کیا عدم کو وجود کے ساتھ مقایسه کیا جاسکتا هے؟
بلکه الله( جل جلاله وعمّ نواله )کےساتھ کسی کو مقایسه هی نهیں کیا جاتا مجھے نهیں معلوم اس بارے میں آپ کی معلومات اور دقت کس حد تک هے لهذا میں اسی مختصر جواب پر اکتفا کرتا هوں هونا تو یه چاهیے تھا که آپ سامنے آکر ایسے سوالات پوچھتے  چونکه جو کچھ جانتا هے بولا نهیں جاتا اور جوکچھ بولا جاتا هے لکھا نهیں جاتا اور جو  کچھ لکھا جاتا هےتمام  مقصود اور مراد کو بیان  نهیں کرتا هے  لهذا علم کو لوگوں کی زبان سے سیکھو مخصوصا  ائمه علیهم السلام سے منقول اس جیسی روایات کے بارے میں وه خود بهتر جاننے والے هیں بلکه میں یه بھی بتا دیتا هوں که هر جاننے والے سے بهتر اور کوئی جاننے والا هوتا هے  ( اسی لئے آنحضرت  کو حکم هوا" وقل ربي زدنى علماً")
 جو بھی الله کیلئے تقوا اختیار کرے تو الله اسے ایک معرفت  عطا کرتا هے اور ناشناخته علوم اسے سکھا دیتا هے اور اپنی رحمت رحیمیه کے ذریعه معرفت کے آفاق اس کے سامنے کھول دیتا هے اور وه رحمت احسان کرنے والوں کے قریب هے یه معارف جو که مکتب اهلبیت میں موجود هیں ان پر ایمان رکھنا چاهیے اگر هماری سمجھ میں نه آئے تو اسے اپنے اهل پر چھوڑ دیتے هیں .
سوال  2: الله تعالی کا فرمان هے :لیس کمثله شیء  الله تعالی کا کوئی مثل نهیں هے.  تو آپ کی نظر میں کیا یه درست هے که هم آیت کی تفسیر میں یه کهیں که الله کا مثل محمد وآل محمد علیهم السلام هیں ؟ جیسا که بعض روایات میں دیکھنے میں آتا هے که جب ملائیکوں نے همارے نبی  ﷺ کو دیکھا تو کها : (ماأشبه هذا النور بنور ربنا) یه نورهمارے رب کے نور سے  کتنا مشابه  هے؟

جواب  2: آیت کریمه (ليس كمثله شيء) محکمات میں سے هیں اور تمام متشابهات کی بازگشت اسی کی طرف هے اس طرح کے احتمالات جو آپ نے بیان فرمایا اس محکم آیت کو متشابهات میں تبدیل کر دیتا هے لیکن ملائکه کا قول حضور ﷺ کے رب جیسا هونے پر دلالت نهیں کرتا هے هاں حدیث قدسی میں الله تعالی کا یه فرمان موجود هے که  (عبدي أطعني حتی اجعلك مَثَلي ـ بفتح المیم والثاء ـ أقول للشيء كن فیكون وتقول لشيء كن فیكون)اے میرا بنده میری اطاعت کر ، میں تجھے مجھ جیسابنا دونگا میں کسی شئ سے کهوں بن جا تو وه بن  جاتا هے تو بھی کسی شئ سے کهے بن  جا تو وه بن  جائے گا لهذا  مثَل ثاء کو فتحه دینے اور مِثل ثاءکو ساکن کرنےمیں بڑا فرق هے.
سوال  3: زیارت جامعه کے ان جملات کا کیا مطلب هے مهربانی کر کے  ان جملات کی وضاحت کیجئے ؟ (بابي انتم وامي ونفسي واهلي ومالي ذكركم في الذاكرين واسماؤكم في الأسماء واجسادكم في الأجساد وارواحكم في الأرواح وانفسكم في النفوس واثاركم في الأثار وقبوركم في القبور) یعنی میرے باپ اور ماں، میری جان ، مال اور خاندان سب  آپ پر فدا هوجائے ذکر کرنے والوں میں آپ کا ذکر ،ناموں میں آپ کے نام ،جسموں میں آپ کے جسم، روحوں میں آپ کے روح ، نفسوں میں آپ کے نفس آثار میں آپ کے آثار قبروں میں آپ کے قبور موجود هیں.

جواب  3: میں نے زیارت جامعه کے بارے میں لکھنے والے مطبوعه رساله میں اس زیارت پر لکھی جانے والی  کتابیں ،تفسیریں اور شرحوں کا ذکر کیا هے ان میں سے ایک (الأنوار ألساطعة في شرح الزيارة الجامعة) نامی شیخ جواد کربلائی کی لکھی هوئی پانچ جلدوں پر مشتمل شرح هے جو  بهترین اور مفید شرحوںمیں سے هے اس کتاب کے جلد پنجم کےصفحه 301 سے 351 تک  ان جملوں کی وضاحت کی هے ان جملات میں موجود اعتقادی ،معرفتی، اور عرفانی مطالب کیلئے اس کا مطالعه کریں مثلا ذکر ، ذاکر اور مذکور کے معانی کی وضاحت کرنے کے بعد کهتے هیں (وكيف كان، فذكركم له سمّو وعلّو ورفعة وقدر ومنزلة بحيث لا نسبة بينها وبين غيرها من‏الأسماء) بهر صورت آپ کے ذکر کیلئے اتنی بلندی رفعت منزلت اور اتنا مقام حاصل هے که دوسرے ناموں کو اس کے ساتھ کوئی مقایسه اور مقابله  هی نهیں هے۔
یه اس صورت میں هے اگر ذکر مصدر   مفعول کی طرف اضافه هو  یعنی مذکور فیکم فی المذکورین یعنی ذاکرین کی زبان پرادا هونے والے ناموں میں تمهارے نام کو الگ خصوصیت حاصل هے
لیکن اگر فاعل کی طرف اضافه هو  یعنی تمهارا الله تعالی کا ذکر کرنا  ایک الگ امتیاز کے حامل هے نبی اکرم کا   الله تعالی کو ذکر کرنا ایک خاص  شرافت اور مرتبه  کا حامل هے چونکه آپ  معرفت اور قرب الهی کے آخری درجه پر حامل هیں تو کس میں طاقت موجودهے که وه تمهارے جیسے الله کا ذکر کرے پس بیشک تمهارے ذکر کو الگ امتیاز اور مرتبه حاصل هے .    
یا (فی الذاکرین ) سے مراد ظرف هے یعنی تمهارے ذکر ، ذکر کرنے والوں کے ذکر میں موجود هے یا آپ ذکر کرنے  والے هونے کے ناطے ذکر کرنےوالوں میں موجود هیں پهلا احتمال اس لئے هے که چونکه تمهیں حقیقی معرفت حاصل هے لهذا حقیقی ذکر تمهارا ذکر هے بیشک کوئی بھی الله کا ذکر کرکے جو بھی  حمد اور صفت بیان کرتا هے وه  حمد تمهارے حمد اور  ذکر میں پهلے سے هی موجود هے گویا آپ کا ذکر کلی اور غیروں کا ذکر جزئیات کے مانند هے.
اور دوسرا احتمال اس لئے هے چونکه آپ ذاکروں کے پیشوا هیں تو بیشک ذکر کرنے والے اپنے ذکر میں تم سے پیچھے هیں گویا وه تمهارے سمند رکا ایک قطره هے تو غیر افضل افضل میں داخل هونے کے عنوان سےان کا ذکر تمهارے ذکر میں داخل هے.
ان کا ذکر ممتاز اور برتر هونے کی وجه اس لئے هے که  حقیقی ذکر میں  ذاکر مذکور فنا هو جاتا هے اور گویا مذکور نفس کے هاں حاضر هوتا هے یه حالت ان پاک هستیوں کے سوا کسی کو حاصل نهیں هوا هے وه تقرب کے آخری منزل پر فائز هیں که جهاں تک کسی دوسرے کی رسائی نهیں هوئی هے لهذا اذکار میں ان کاذکر  اور ذکر کرنے والوں میں ان کا ذکرکرنا برتر ، بهتر اور ممتاز هے . 

سوال  4: عورتوں کے منه ڈھانپنے کا کیا حکم  هے ؟
کیوں قطیف  میں عورتوں کیلئے چهره  کھلا رکھنا حرام اور مثلا ایران اور کویت جیسی دوسری جگهوں پر جائز هے جب که همیں معلوم هے حضور پاک ﷺ نے فرمایا هے :(المراة كلها عورة ماعدا كفيها ووجهها في الصلاة) عورت کا پورا جسم(  شرمگاه هےاور اس کا )ڈھانکنا ضروری هے سوائے نماز کے که جس میں دونوں هاتھوں اور چهرے کا ڈھانکنا ضروری نهیں هے .
 اس روایت میں صرف نماز کی حالت میں چهره کھلا رکھنے کی اجازت دی هے  تو کیسے ایران میں کھلا رکھنا حلال اور قطیف میں حرام هے؟
جواب  4:یه مساله فقهاء اور مجتهدین کے درمیان اختلافی مسئله هے لهذا هر کسی کو اپنے مجتهد کی طرف رجوع کرنا چاهیے ان میں سے بعض احتیاط کی بناء پر پورے چهرے کو ڈھانکنا واجب سمجھتے هیں اور دوسرے بعض چهرے میں سے وضو میں دھونے کے مقدار کا کھلا رکھنا جائز سمجھتے هیں اور بعض صرف آنکھوں کے کھلا رکھنا جائزهونے کے قائل هیں تو هر کسی کو اپنے مجتهد کی طرف رجوع کرنا چاهیے۔
اور دوسری طرف بعض احکام  رسم ورواج اور عرف سے مربوط هے اور اگر شریعت کے ساتھ ٹکراؤ نهیں هے تو اس کی رعایت کرنا اچھی بات هے قطیف میں عورتوں کا چهره چھپا کر رهنا اچھی عادات میں سے هے او ریه کام ان مجتهدین کے فتوی کے مطابق بھی هے جو اسے واجب سمجھتے هیں اور ان کے مطابق بھی هے جو احتیاطا یه فتوی دیتے هیں اور اے کاش تمام اسلامی ملکوں میں ایسا هوتا ! چهروں کا کھلا رکھنا مخصوصا بناؤ سنگار کے ساتھ هونا جوانوں کے بهکنےکا سبب بنتا هے . والله المستعان
سوال  5: کیا پرده چھوڑنے میں شوهر کی بات ماننا اور اس کی اطاعت کرنا واجب هے؟
میں نے ایک ایسے شخص سے شادی کی هے جو پهلے مسلمان تھا لیکن ابھی کسی چیز پر عقیده نهیں رکھتا هے وه مجھے حجاب اتارنے کا دستور دیتا هے تو ایسے حالات میں کیا کرنا چاهیے جبکه هم یورپ میں رهتے هیں؟ 
جواب  5: اگر شوهر ضروریات دین میں سے کسی کا انکار کرتا هے یعنی ایسی چیز کا انکار کرتا هے جس کی بازگشت توحید یا نبوت کے انکار کی طرف هے مثلا وه کهتا هے میں نماز کو واجب نهیں مانتا تو وه اس بات کے ذریعه  الله تعالی اور نبی اکرمﷺ کے فرمان کا منکر هوا هے لهذا وه مرتد هے چونکه وه پهلے مسلمان تھا  اس لئے مرتد فطری هوگا اس کے مخصوص احکام هیں وه مردے کے حکم میں هے اس لئے  طلاق کے بغیر اس کی بیوی اس سے  جدا هو جائے گی اس کے لئے اس شخص سے همبستری کرنا جائز نهیں هے چونکه وه کافر اور نجس هے اس کی جائداد  ورثه کے درمیان تقسیم هو گا او رتین دن کے بعد اسے قتل کردیا جائے گا اس کے علاوه بهت سارے احکام هیں چونکه اسلامی اور انسانی معاشرے کے لئے ایک خطرناک جراثیم کی مانندهے .
لیکن کسی ایسی چیز کا انکار نه کرے بلکه وه اسلامی احکام کا پابند نهیں هےتو ایسا شخص فاسق اور فاجر هے وه پاک هے نکاح  باطل نهیں هوتی هے بیوی اس کے عقد میں باقی رهتی هے لیکن  کشف حجاب  (پرده هٹانا )حرام هے کسی حرام کے انجام دینے یا کسی واجب کے چھوڑنے میں شوهر کی اطاعت کرنا واجب نهیں هےبلکه بیوی پر واجب هےالله تعالی کی نافرمانی کا مطالبه کرنے کی صورت  میں اپنے شوهر کی مخالفت کرے (لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق) خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نهیں کی جاتی هے.
میں دعا کرتا هوں الله تعالی اس کو هدایت دے اسکی عقل کامل کرے تاکه جان لے که اس پست دنیا اور اس اس کی زینتوں کے بعد موت هے قبر هے برزخ هے قیامت هے دردناک جهنم اور ذلت اور خواری هے دنیا چند دنوں کے سوا کچھ نهیں هے لیکن آخرت همیشه رهنے والی جاوید اور ابدی زندگی هے اس میں انسان یا سعادت مند وں میں سے هونگے یا بدبختوں اور اشقیاء میں سے اور قرآن کریم کا فرمان هے ( أما الذين سعدوا ففي الجنة هم فيها خالدون وأما الذين شقوا ففي النار هم فيها خالدون ) لیکن جو سعادت مند هیں وه جنت میں اور اشقیاء آگ میں همیشه همیشه کیلئے هونگے . اگر شوهر کو پته چل جائے که وه اں پر قیامت هے عذاب هے اور اس پر ایمان  لائے تو وه اپنے خدا کی طرف پلٹ آئےگا توبه کرے گا اور صالحین میں سے هو جائے گا 
آپ ان کلمات کو کسی بورڈ پر لکھ کر گھر کے دیوار پر  یا سونے کے کمرے میں لگائیں شاید اس کو عبرت حاصل هو جائے اور الله کیلئے یه کام سخت نهیں هے: يا من بدنياه اشتغل قدغره طول الامل
الموت يأتي بغتة والقبر صندوق العمل   اے وه شخص جو صرف اپنی دنیا  سنورنے میں مشغول هے بیشک لمبی آرزوں نے اسے دھوکه دیا هے موت اچانک آنے والی هے اور قبر عمل کا خزانه هے.