سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/9/19 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها
■ ◊ اداریه
■ ◊ حجت خدااورہماری ذمہ داریاں-از:مرتضی ٰ حسین مطہری
■ ◊ مسئلہ استغاثہ اور اس کی شرعی حیثیت -شیخ الاسلام ذاکرمحمد طاهر القادری
■ ◊ امام حسن مجتبی (ع)-بقلم آیت الله ناصر مکارم الشیرازی -مترجم سید صفدرحسین نجفی
■ ◊ انوار قدسیه-آٹھویں برج امامت ثامن الحجج حضرت امام علی بن موسی الرضا سلام الله علیه -مصطفی علی فخری
■ ◊ توسل قرآن سنت کی نگاہ میں-مولف: آیت اللہ العظمیٰ شیخ جعفرسبحانی-مترجم: جواہرعلی اینگوت
■ ◊ دماغی موت کے حامل افراد کے اعضاء کی پیوند کاری آیت اللہ محمد مہدی آصفی-مترجم : سیدحسنین عباس گردیزی
■ ◊ آپ کے سوالات اور- آیت الله سید عادل علوی کے جوابات-ترجمه : مصطفی علی فخری
■ ◊ صحیفہ سجادیہ کا تعارف-سید توقیر عباس کاظمی
■ ◊ علوم غریبه-آیت الله استاد سید عادل العلوی -مترجم:فداعلی حلیمی
■ ◊ فلسفہ قیام امام حسینؑ-محرر:اشرف حسین - متعلم جامعة آل البیت(ع)
■ ◊ اهل بیت علیهم السلام کى شخصیت آیت مودت کى روشنى میں -فداحسىن عابدى
■ ◊ تحریف القرآن ؟ محمد سجاد شاکری
■ ◊ مقالات کے بارے میں مهم نکات:

◊ فلسفہ قیام امام حسینؑ-محرر:اشرف حسین - متعلم جامعة آل البیت(ع)

۱۔اداء تکلیف واطاعت فرمان خداوند
اصولی طور پر یا قانونا ہر وہ کام جو انسان کرتاہے یا دوسری عبارت میں محرک انسان قیام اور نہضت میں کبھی امور مادی اور منافع اور اغراض سیاسی اور نفسانی اور کبھی حُبِ خیر وفضیلت اور وظیفہ کو ادا کرنا ہے ۔ اگر محرک انسان عوامل شخصی ہو اور عادی ہو تو اسکا عمل شایان شان نہیں ہے۔ اور کبھی انسان کا عمل دوسرے حیوانات سے کوئی فرق نہیں ہوتا۔
لیکن اگر انسان شریعت کے اعتبار سے اپنے مخارج اور منافع مادی خود کوشش کریں اور دوسروں کے ساتھ خیانت اور دوسروں کے حق سے تجاوز نہ کریں اور آداب شرعی کی رعایت کریں تو ان کے لیے کوئی سرزنش نہیں ہے۔ یا کہہ سکتے ہیں کہ یہی لوگ انسانیت کے اعلٰی ترین درجہ پر فائز ہے۔ اور اگر نامشروع طور پر اپنے غرائز کی سیر کریں تو یہ مستحق سرزنش اور عذاب ہے۔
لیکن اگر بشر کا محرک خیر اور نیکی سے عشق کے باہر ہوتو اس کا عمل بہترین عمل ہے وہ انسان قابل تحسین ہے ۔ اس لئے کہ انبیاء علیہم السلام کے اہداف میں سے ایک یہی ہےکہ لوگوں کو خیر اور نیکی کی طرف دعوت دینا۔
ایک گروہ ایسا ہے کہ ان کے وجود میں مؤثر اور محرک ان تمام عوامل اور ان مقاصد سے برتر ہے اور یہی لوگ خد کے حقیقی اور خاص بندے ہیں۔ اطاعت اور بندگی خد اکے علاوہ ان کا کوئی مقصد اور ہدف نہیں ہے اور ان کا ہر عمل وکردار فرمانبرداری خدا کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ جیسا کہ ایک شاعر کہتاہے۔ -
بندہ آن باشد که بند خویش نیست
جز رضای خواجہ اش در پیش نیست
نہ ز خدمت مزد خواھد نہ عوض
نہ سبب جوید ز امرش نہ غرض
ان کے امور میں موثر صرف خدا ہے۔ کیونکہ ان کا کام امر الھی کی اطاعت کرنا ہے۔ انبیاء اور پیشوایان دینی وائمہ طاھرین علیہم السلام ہیں جو کہ توحید خالص کے رہنما اور کاروان خدا کے سالار ہیں جیسا کہ حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ: (إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَى رَبِّي سَيَهْدِينِ)1(إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ)2 اور اسی طرح حضرت پیغمبر اکرمﷺ نے فرمایا: (إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ)3
پیغمبر اکرمﷺ کی زندگی کے بعد آپؐ کے خاندان مطہر خدا کے خالص بندے اور وحدانیت کے پرچار کرنے والے تھے۔ یہی لوگ تھے ، جہاں بھی ہیں ان کے دو کام اہم تھے ۔ رضایت خدا  اُن میں زیادہ تھی، اور خدا کے مخلص کا بزرگترین مظہر تھے۔ امام حسینؑ کا قیام بھی یزید اور بنی امیہ کے خلاف ایک نہضت پر خلوص تھی ، کیونکہ امام حسینؑ اس قیام میں نہ حکومت اور مقام  ظاہری اور دنیوی چاہتے تھے۔اور نہ مال اور دولت دنیا کے خواہاں تھے۔ بلکہ اطاعت خدا کے خاطر یزید کے بیعت کرنے سے انکا ر کیا۔ اور فرمان الہی کی اطاعت کے خاطر حرمین شریفین سے ہجرت کی۔ اور امر الہی کی اطاعت کے واسطے جہاد کیا۔ بس نتیجہ یہ ہوا کہ بہترین اور واقعی تفاسیر قیام امام حسینؑ کی علت اور فلسفہ یہ ہے کہ ہم کہیں کہ قیام اور نہضت کی علت فرمان خدا کی اطاعت کرناہے ۔ کیونکہ تاریخ اسلام اور احادیث اور روایات اور زندگانی امام حسینؑ اور ان کے آل کی زندگانی سب دلیل ہیں کہ قیام امام حسینؑ خدا کی طرف سے ایک فوق العادہ امر اور رمز غیبی اور سر الہی تھا اور واقعا امام کو یہ تمام فداکاریاں اور ان مصائب کا تحمل کرنا اطاعت خداوندی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
۲۔ امر بہ معروف اور نہی از منکر
یہاں پر علت اور فلسفہ قیام امام حسینؑ خود امام ؑ کی زبان مبارک سے جاری ہوئی اس وصیت نامہ میں جو اپنے برادر محمد حنفیہ کو لکھا تھا اور یہ وصیت نامہ کلمہ توحید کی طرح نفی او راثبات پر مشتمل ہے۔
نفی کی جہت یہ ہے کہ: کوئی بھی مسلمان میں سے امام حسینؑ کے حق بارے میں احتمال نہیں دیتا تھا کہ قیام سے امام ؑ کا قصد اور نیت: فساد اور تجاوز یا حق کوقبول کرنے سے آپ نے پہچانا ہو۔کیونکہ یزید کی بیعت کرنے میں حق تصور ہوتا تھا ۔ تو کوئی اس کو قبول نہ کرنے سے حق کی مخالفت میں شمار ہوجائے۔کیونکہ قرآن کی صریح آیت میں خداوند کا ارشاد ہے کہ اہل بیتؑ کو ہر رجس اور پلیدی سے پاک رکھا ہے۔
اور اسی طرح عامہ اور خاصہ کی مشہور حدیث ثقلین کی رو سے بھی اہل بیت کی عصمت اور مصونیت از خطا کاا علان ہوا تھا ۔ لیکن حکومت وقت کے مزدور اور اموی سلطنت اور کم اطلاع اشتباہ اور دھوکہ سے بچنے کے لیے۔ امام نے فرمایا کہ (إِنّي لَمْ أَخْرُجْ أَشِراً وَلَا بَطِراً وَ لَا مُفْسِداً وَلَا ظَالِماً) یعنی اپنے قیام کی علت کا بیان کرنے کے لیے چہار پہلوں کا اعلان فرمایا: ۱۔ اصلا ح امور امت، ۲۔ امر بہ معروف ۳۔نہی از منکر ۴۔اپنے نانا اور پدر بزرگوار کی پیروی (إِنَّمَا خَرَجْتُ لِإِصْلاحِ أُمَّة جَدِّي وأُرِيْدُأَنْآمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأَسِيْرُ بِسِيْرِة جَدِّي وَأَبِي عَلِي بن أبي طالب(ع))
اسلام کے مہم ترین فرائض میں سے ایک عقلا وشرعا اس کی اہمیت اور اس اکے احکام معلوم ہے اور شریعت اسلام کا اس کے ساتھ تعلق ہے وہ امر بہ معروف اور نہی از منکر ہے اس حکم کا بڑھا نمونہ اور اسلام کی ترقی میں زیادہ کردار ہے اوتمام انسانوں کو حق دیتا ہے کہ اوامر الہی کو اجرا کریں اور نواہی الہی سے پرہیز کریں اور نہی کے انجام دینے والوں کے خلاف مبارزہ کریں ۔صدر اسلام میں مسلمان اس حکم کے ذریعے سے اپنے حقوق کی حفاظت اور ظلم سے روکنے کا ایک وسیلہ سمجھتے تھے۔ جو اس حکم کی رعایت کرتے تھے ۔ لیکن پیغمبر اکرمﷺ کے بعد اگرچہ حکومت وخلافت اپنی اصلی جگہ پر نہیں پہونچی اور منحرف ہوگئی کیونکہ پیغمبر ﷺ کے زمانہ سے نزدیک تھی یہ حکومت۔ دوسرے کچھ احکام میں جسے اجراء حدود میں سختی کرتے تھے۔ لیکن حکومت ظلم اور زور کے ذریعے اور لوگوں کے افکار اور احساسات کی بی احترامی کریں۔ اور لوگ امر بہ معروف اور نہی از منکر اور آزادی بیان سے ڈرتے ہیں۔ ہماری نظر میں بنی امیہ کی سب سے بڑی فاش غلطی تھی۔ امر بہ معروف اور صلحاء اور حق کے چاہنے والے اورمصالح عامہ کے چاہنے والوں اپن عیاش کے لیے استعمال کرتے تھے۔اور ناموس کی عزت پائمال کرنا اور حدود الہی کی چھٹی کرنا اور شعار اسلام کی تحقیر کرنا۔
یہ تمام خرابیاں خود حکومت سے ہوتی تھی اور ایک شخص پر ختم ہوتی تھی۔ زمامدار اور خلیفہ کے نام پر۔ تمام قدرت پر قبضہ اور تمام آزادی کا چھننا لوگوں سے اور لوگوں کو دینی اور اجتماعی حقوق سے محروم بناناتھا۔ ان کا کام۔ اب نتیجہ یہ ہوا کہ چونکہ امام حسینؑ یہ تمام خراب حالات چاہے سیاسی ہوں یا اجتماعی ہوں سب کودیکھتے تھے۔ ایسے میں امام کی ذمہ داری کیاہے؟ ج: باوجود اس کے کہ امام ؑ مسلمان معاشرے کے افراد میں سے ایک فرد ہونے کی حیثیت سے امام ؑ پر تکلیف یا وظیفہ تھا کہ امر بہ معروف ونہی از منکر کریں۔مسلمانوں کے درمیاں ایک محبوبیت بھی تھی۔ امام کا وظیفہ زیادہ اور سنگین تھا ۔ کیونکہ تمام لوگوں کی نظر رہبری کے لیے امامؑ کی طرف تھی۔کہ امام ؑ ایک رہبر معنوی کی حیثیت رکھتے ہیں اور اکثر  لوگ کہتے بھی تھے کہ اگر امام حسینؑ ان حالات پر سکوت اختیار کریں لوگوں کا وظیفہ مشخص ہے۔ کیونکہ امام حسینؑ ان کا زیادہ جاننے والا اور بیان کرنے والا تھا امام حسینؑ سے زیادہ کوئی اور سزاوار تر نہیں ان سے مقابلہ کرنے میں۔ لہذا امام حسینؑ کے اوپر ایک ذمہ داری تھی کہ ان مظالم اور مفاسد کے خلاف اٹھیں اور امر بہ معروف اور نہی از منکر کے ساتھ عالم اسلام کو بیدار کریں۔ اور اپنی جان کو اور اپنے انصار اور یاران کے  جانوں کو قربان کریں راہ اسلام میں۔ اور بنی امیہ کی نحس حکومت کے خلاف قیام کریں اور آپؑ جانتے بھی تھے کہ بنی امیہ اس کو توڑ دیں گے۔ لہذا جلدی نتیجہ آیا۔ قیام عاشورا نے دنیا کو حرکت میں لایا اور انسان کو بیدار کیا اور انسانیت کو دوبارہ زندہ کیا۔ اور ایسا لگ رہا تھا کہ رسول خداﷺ ابھی شہید ہوئے ہوں اور لوگوں کے احساسات محزون ہوگئے۔ او ربنی امیہ کے خلاف لوگ جوش میں آگئے اور اموی حکومت کے خلاف یکےبعد دیگر انقلاب شروع ہوگئے اور اس طرح کہ اسلام کے نام پر کفر اور شرک کی ترویج کرتی تھی وہ حکومت گرگئی۔ لوگوں کا جوش وجذبہ بنی امیہ کے خلاف اور اہل بیت عصمت و طہارتؑ کے پاک خون جو زمین پر گر کر نجات اسلام اور بقاء دین محمدی ﷺ سبب بنا ۔
۳۔احیاء آئین خدا اور اسلام کی بدعتوں سے نجات
امام حسینؑ کی نہضت اور امام کے ان تمام مصائب ومشکلات کا برداشت کرنا اور اپنی جان کے ساتھ اپنے یاران اور فرزندان کی جانوں کا دینا اور اہل حرم کا اسیر ہونا یہ سب ایک سادہ مسئلہ نہیں ہو سکتا بلکہ ان کا ایک بڑا ہدف اور مقصد ہے اس کے لیے یہ تمام حوادث اور تلخیاں برداشت کیں ۔ جہاں پر آئین خدا خطرہ میں ہو اور اسلامی معاشرہ پرکفر وشرک اور ظلم کی حکومت ہو اس موقع پر جان ومال کی بازی لگانا اس سے بڑھ کر کوئی اور کیا دے سکتے ہیں ؟ تاریخ بتاتی ہے کہ جب سے بنی امیہ کی حکومت آئی ہے رسول خداﷺ کی تمام زحمات اور مشقت اور صدر اسلام کے مجاہدان کی تلاش وکوشش سب پر پانی پھیر دیے اور اسی طرح خدا کے آئین اور قانون کا احترام چلا گیا اور اسلام کے تمام ارزشیں پاؤں تلے روندھ ڈالی۔ اور فسق وفجور اور ظلم وبدعت کا رواج عام ہوگیا۔اور رسول خدا کے اسم مبارک کو بھی ختم کرنے کی کوشش ہوئیں۔اور اس حکوت کی علامت یہ تھی کہ مؤمنین کے درمیان تبعیض اور ظلم وستم اور بے عدالتی وشکنبجہ کرنا۔
اسلام سے انحرفی کا دور واقعہ سقیفہ سے شروع ہوا اور معاویہ کی حکومت کے دوران یہ شدت اختیار کرگیا۔ لیکن معاویہ کی کوشش تھی کہ ظاہراً  اسلام کالبادہ اوڑھ کر باطناً اسلام کی بنیاد خراب کریں۔ یعنی اپنے مقصد پر کامیاب ہونے کےلیے نفاق سے کام لیا۔ اور جس طرح حکومت  مضبوط ہوگئی اس کی منافقت ظاہر ہوتی چلی گئی ۔ لیکن اس کے ساتھ اور بھی عنوان ہوئے جیسے خال المومنین صحابی رسول  اللہ، کاتب وحی کو اپنے لیے استعمال کرتاتھا یعنی لوگوں کو دھوکہ دیتا تھا تاکہ عام شخص یہ سمجھیں کہ یہ دونوں (امام حسینؑ اورمعاویہ) صحابی رسول ہیں۔ اور ان کے درمیان اختلاف صرف وہی ہے جس طرح قرآن اور حدیث کے قرائت کے درمیان فرق ہے اس طرح لوگوں کو مکر وفریب دیتا تھا ، معاویہ (لعنت اللہ علیہ) اسی وجہ سے معاویہ کی عمر کے آواخر میں امام حسینؑ نے ظاہرا ہی معاویہ سے مبارزہ کا اعلان کیا اپنے اس مشہور خطبہ میں ہے جو آپ نے منیٰ میں دیا ہے ۔ جس میں تابعین اور صحابہ کا ایک جمع غفیر تھا آپ ؑ ایک قیام کے لیے زمینہ فراہم کرتے ہیں باوجود اس کے کہ معاویہ یہ سب جانتا تھا کبھی امام کو دھمکی بھی دیتا تھا تاکہ امام اس قیام پرہیز کریں لیکن عملی طور امام کو گرفتار کرنے سےمعاویہ پرہیز کرتاتھا۔
معاویہ کی مرگ کے بعد شرائط کو تبدیل کیا کیونکہ ایک طرف سے یزید فسق وفجور اور بے دینی میں مشہور تھا۔ علانیہ گناہ کرنے میں کسی کی پرواہ نہیں کرتاتھا۔ دوسری طرف سے اسلام کی نگاہ میں یزید کا کوئی کردار وحیثیت نہیں تھی۔ اس کی جوانی لہو ولعب اور عیاش پرستی میں گزر گئی۔ اسی وجہ سے اپنے صحابہ اور ان کے فرزندان کی نگاہ میں اس کی کوئی مقبولیت اور شخصیت نہیں تھی۔ باوجود اس کے کہ کوفہ کے کچھ گروہ امام ؑ کے ساتھ دینے کا اعلان کررہے تھے امامؑ خود اپنی آنکھوں سے مشاہد ہ کررہے تھے کہ اگر اس فرصت کو ہاتھ سے جانے دیں یعنی بنی امیہ کے خبیث چہرہ کو آشکار اور دین خدا کی مدد میں استفادہ نہ کرتے تو اسلام اور قرآن نامی کوئی چیز باقی نہ رہتی اب امام حسینؑ دین خدا کے احیاء کے ہدف کے ساتھ اپے قیام اور نہضت کا آغاز کیا۔
پہلے مرحلہ میں اسلامی حکومت کرینگے اگر ممکن ہوا تو اگر ایسا نہ ہوا تو اپنے اور اپنے با وفا انصار اور یاران کا خون بھی اس راہ میں بہا دیں گے اور اپنی منزل مقصود تک پہونچیں گے بہر حال ہر حالت میں رسولﷺ کی سنت کو دوبارہ زندہ کرنا   ہے جو فراموش کرچکے ہیں اس کے لیے فرزند رسولؐ کے علاوہ کوئی سزاوار نہیں ہے۔
اب نتیجہ یہ ہوا کہ: قیام امام حسینؑ کے مہم ترین اسباب اور علتوں میں ایک علت یہ ہے کہ خدا کے دین کو زندہ کرنا اور بدعتوں ومفاسد وبنی امیہ کے غلط افکار کا مقابلہ کرناہے۔ اور اسلام کو منافقین اور دشمنان دین خدا کے چنگل سے آزاد کرناے اور ا اس راہ میں آپ ؑ کامیاب بھی ہوئے ۔ ظاہرا آپ اور آپ کے باوفا انصار شہید ہوئے امت اسلام کے افکار میں تبدیلی آئی۔ اور اسلام کو زندہ کیا اور پیغمبرﷺ کے سنتوں کو ختم کرنے سے روکا اور مسلمانوں کو گمراہی سے نجات دی۔
1۔ سورہ الصافات/۹۹۔
2۔ سورہ الانعام/۷۹۔
3۔ سورہ الانعام/۱۶۲۔