سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/11/16 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها
■ ◊ اداریه
■ ◊ حجت خدااورہماری ذمہ داریاں-از:مرتضی ٰ حسین مطہری
■ ◊ مسئلہ استغاثہ اور اس کی شرعی حیثیت -شیخ الاسلام ذاکرمحمد طاهر القادری
■ ◊ امام حسن مجتبی (ع)-بقلم آیت الله ناصر مکارم الشیرازی -مترجم سید صفدرحسین نجفی
■ ◊ انوار قدسیه-آٹھویں برج امامت ثامن الحجج حضرت امام علی بن موسی الرضا سلام الله علیه -مصطفی علی فخری
■ ◊ توسل قرآن سنت کی نگاہ میں-مولف: آیت اللہ العظمیٰ شیخ جعفرسبحانی-مترجم: جواہرعلی اینگوت
■ ◊ دماغی موت کے حامل افراد کے اعضاء کی پیوند کاری آیت اللہ محمد مہدی آصفی-مترجم : سیدحسنین عباس گردیزی
■ ◊ آپ کے سوالات اور- آیت الله سید عادل علوی کے جوابات-ترجمه : مصطفی علی فخری
■ ◊ صحیفہ سجادیہ کا تعارف-سید توقیر عباس کاظمی
■ ◊ علوم غریبه-آیت الله استاد سید عادل العلوی -مترجم:فداعلی حلیمی
■ ◊ فلسفہ قیام امام حسینؑ-محرر:اشرف حسین - متعلم جامعة آل البیت(ع)
■ ◊ اهل بیت علیهم السلام کى شخصیت آیت مودت کى روشنى میں -فداحسىن عابدى
■ ◊ تحریف القرآن ؟ محمد سجاد شاکری
■ ◊ مقالات کے بارے میں مهم نکات:

◊ تحریف القرآن ؟ محمد سجاد شاکری

دوسرا قسط
دلائل قرآنی :
اس مضمون کے تحت بھی ہم تین دلائل کے ذکر کرنے پر اکتفاء کریں گے اگرچہ عدم تحریف پر دلالت کرنے والی آیات فراوان ہیں ۔
(الف) دلیل آیت ذکر:
’’اِنَّا نَحن نزَّلنا الذِّکر واِنّا لہ لَحافِظون‘‘’’ہم نے ہی اس ذکر(قرآن )کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں‘‘(۱۸)
اس آیت کی صراحت کو ذرا آپ ملاحظہ تو کریں کہ کس قدر صاف و شفاف لہجے میں خداوند عالم اپنے اس نازل کردہ کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری اپنے اوپر لے رہا ہے اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ جس چیز کا خدا ارادہ کر لے تو پھر خدا کے ارادے کا جھوٹ ہونا ناممکن ہے ، پس جو خدا کانٹوں کے درمیان پھول کی نگہداری کر سکتا ہے وہ یقینا ظلوم و جہول انسانوں کے درمیان اپنی امانت کی بھی حفاظت کرنا جانتا ہے ۔(۱۹)بعض لوگوں نے یہاں ذکر سے مراد پیغمبراکرم ؐ ہونے کا احتمال دیا ہے جن سے عرض یہی ہے کہ اگر آیت کے سیاق و سباق پر اگر ایک نگاہ ڈال دیا جائے تو خود بخود سمجھ میں آئے گا کہ یہاں ذکر سے مراد قرآن مجید ہے نہ پیغمبر اسلام ؐکیونکہ اسی آیت سے تین آیات قبل قرآن کے لئے ذکر کا لفظ استعمال کیا ہے :
’’وقالو ا یاایہا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون‘‘’’اور ان لوگوں نے کہا کہ اے وہ شخص جس پر ذکر (قرآن )نازل کیا گیا ہے تو دیوانہ ہے ۔‘‘(۲۰)
یہاں تو واضح ہے کہ ذکر سے مراد قرآن مجید ہی ہے اور اس کے بعد والی آیت میں بھی ذکر سے مراد قرآن ہونے کے لئے یہی آیت قرینہ ہے اگرچہ اس آیت کے علاوہ دیگر بعض آیات میں پیغمبر کے لئے بھی ذکر کا لفظ استعمال ہوا ہے لیکن اہل سنت اور شیعہ بزرگ مفسرین جیسے علامہ طباطبائی، (۲۱)آیت الله مکارم شیرازی،(۲۲) علامہ فضل اللہ،(۲۳ )امام فخر الدین رازی،(۲۴) ابن عاشور،(۲۵)بیضاوی(۲۶)اور دیگر بہت سارے مفسرین نے اسی آیت میں ذکر سے مراد قرآن مجید لیا ہے ۔
(ب) دلیل آیت جمع :
’’لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ ۔ ان علینا جمعہ و قرآنہ ۔ فاذا قرأناہ فاتبع قرآنہ ۔ ثم ان علینا بیانہ ۔‘‘’’آپ قرآن کی تلاوت میں عجلت کرتے ہوئے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں ۔ یہ ہماری ذمہ دار ی ہے کہ ہم اسے جمع کریں اور پڑھوائیں ۔ پھر جب ہم پڑھوادیں تو آپ اس کی تلاوت کو دہرائیں ۔ پھر اس کے بعد اس کی وضاحت کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ ‘‘(۲۷)
ابن عباس سے مروی ہے کہ خداوند کریم کے اس قول ( ان علینا جمعہ و قرآنہ)سے مراد یہ ہے کہ اس کا جمع کرنا ہم پر لازم ہے اور اس کو پڑھنا تمہارے اوپر لازم ہے ۔ تاکہ یہ محفوظ رہے اور اس کی تلاوت ممکن ہو سکے پس اس سے کسی شئے کے ضائع ہوجانے کا گمان نہ کرو ۔ (۲۸)
جب اس کتاب کی جمع آوری کی ذمہ داری خود خدا وند عالمین نے لی ہے تو پھر اس بات میں کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی کہ یہ کتاب خود رسول گرامی اسلام ہی کے زمانے میں وحی الٰہی کی رہنمائی میں تدوین ہو چکی ہے ۔ ایک اور بات جو اس آیت سے سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ؐ کتاب خدا کی حفاظت کے سلسلے میں بہت زیادہ پریشان رہتے تھے اور اس کتاب کے بھول جانے کے خوف سے اس کی تلاوت کرنے میں جلدی کرتے تھے جیسے ہی آیت نازل ہوتی تھی تو جلدی جلدی سے اس کو تکرار کرتے تھے کہ کہیں بھول نہ جائے ۔ اسی لئے خدا وند عالم نے آپ کی تسلی کی خاطر اس آیت کے ساتھ پیغام بھیجا کہ اس بارے میں فکر زیادہ نہ کریں کہ اس کی جمع آوری کی ذمہ داری ہمارے اوپر ہیں ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے ۔
جو شخص دوران نزول اس قدر اس کتاب کی حفاظت کی فکر کرتا ہو وہ اپنے بعد کے لیے اس کی حفاظت کی فکر کئے بغیر کیسے جا سکتا ہے یقینا آپ نے اپنی زندگی میں ہی اس کی حفاظت زبانی حفظ اور کتابت کے ذریعے کر کے چلے گئے ہیں جیسے کہ اس بارے میں روایات بھی ہم ذکر کریں گے ۔
(ج) دلیل آیت عدم بطلان :
’’ان الذین کفروا بالذکر لمّا جائہم و انہ لکتٰب عزیز۔ لا یأتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید۔‘‘’’بے شک جن لوگوں نے ذکر(قرآن) کے آنے کے بعد اس کا انکار کیا ان کا انجام برا ہے اور یہ ایک عالی مرتبہ کتاب ہے ۔جس کے سامنے اور پیچھے کسی طرف سے باطل آنہیں سکتا کہ یہ خدائے حکیم و حمید کی نازل کی ہوئی کتاب ہے ۔ ‘‘(۲۹)
صاحب تفسیر نمونہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ایک لحاظ سے سورہ حجر کی آیت ۹ کی دوسری تعبیر ہے (۳۰)کیونکہ سورہ حجر میں خدا نے حفاظت کا وعدہ کیا ہے تو یہاں قرآن کو باطل کی سرایت سے پاک قرار دیا ہے جو خود حفاظت کا دوسر ا نام ہے ۔ یہاں کوئی یہ اشتباہ نہیں کر سکتا کہ قرآن کی محافظت کی ضمانت جو دی ہے وہ وقت نزول کے ساتھ مختص ہے ۔ کیونکہ جملہ’’من بین یدیہ ولا مین خلفہ‘‘اس بات کی دلیل ہے کہ نہ پہلے اس کتاب تک باطل کی رسائی تھی اور نہ اب ہے ۔ جیسے کہ علامہ طباطبائی  ؒ بھی اسی بات کو یوں بیان فرماتے ہیں :
’’ من بین یدیہ ولا مین خلفہ‘‘سے مراد یہ ہے کہ زمان ِ نزول اور نزول کے بعد روز قیامت تک اس کتاب میں تحریف واقع نہیں ہو سکتی ۔(۳۱)
دلائل روائی :
قرآن میں تحریف لفظی کے واقع نہ ہونے پر دلالت کرنے والی راوایا ت کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے لیکن ہم یہاں پر اختصار کی خاطر ان میں سے صرف تین گروہ روایات کی طرف ایک اشارہ کریں گے ۔
(الف) قرآن حق و باطل کا معیار و کسوٹی :
روایات اور احادیث کا ایک بہت بڑا کھیپ اس بات کو بیان کر رہا ہے کہ جب بھی روایات اور احادیث کسی معصوم سے نقل کی جائے تو اس کی صحت و سقم کو پہچاننے کے لئے قرآن کی بھٹی میں ڈال کر دیکھوتو پتہ چلے گا کہ اس میں کیا سونا ہے اور کیا کھوٹا ؟بطور نمونہ چند روایات بیان کئے دیتے ہیں ۔
امام صادق ؑ نے فرمایا :
’’اِنّ علیٰ کُل حقٍ حقیقۃً و علیٰ کل صَوابٍ نوراً فما وافَق کتابَ اللہ فخُذوہ و ما خالَف کتابَ اللہ فدَعُوہ ۔‘‘’’بے شک ہر حق کی ایک حقیقت ہوتی ہے اور ہر سچائی کا نور ہوتا ہے پس جو چیز کتاب خدا کے موافق ہو اسے لے لو اور جو کتاب خدا کے مخالف ہو اسے چھوڑ دو ۔‘‘(۳۲)
امام صادق ؑکا ارشاد ہے:
’’کل شیء مردود الی الکتاب والسنۃ وکل حدیث لا یوافق کتاب اللہ فہو زخرف۔‘‘’’ہر چیز کو کتاب و سنت کی طرف پلٹائی جائے گی اور ہر وہ حدیث جو کتاب خدا کے ساتھ موافق نہ ہو وہ جھوٹ ہے۔ ‘‘(۳۳)
امام صادق ؑ فرماتے ہیں :
’’مالم یوافق من الحدیث القرآن فہو زخرف ۔‘‘’’جو حدیث قرآن کے موافق نہ ہو وہ جھوٹی ہے۔‘‘(۳۴)
اب سوال یہ ہے کہ اگر قرآن میں تحریف ہونی تھی یا تحریف ہوئی تھی تو پیغمبر اکرم ؐ اور ائمہ معصومین ؑ کس طرح قرآن کو احادیث کی صحت اور بطلان کے لئے معیار قرار دیتے ؟ پیغمبر ؐاوردیگر ائمہ ؑو بزرگان کا قرآن کو احادیث و روایات کی پہچان کی کسوٹی اور معیار قرار دینا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قرآن میںنہ پہلے تحریف لفظی واقع ہو گیا ہے اور نہ ہی آئندہ اس میں تحریف کا امکان ہے بلکہ یہ کتاب آج بھی تحریف سے اسی طرح پاک ہے جس طرح رسول گرامی اسلام پر نازل ہوتے وقت تحریف سے پاک تھی ۔
(ب) حدیث ثقلین :
رسول اللہ نے کئی مرتبہ مختلف مناسبتوں سے فرمایا :
’’ انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ و عترتی اہل بیتی ان تمسکتم بہما لن تضلوا بعدی ابداً‘‘’’بے شک میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں کتاب خدا اور میرے اہل بیتؑ اگر ان دونوں کو تھامے رکھو تومیرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو جاؤگے۔ ‘‘(۳۵)
اس حدیث کی صحت اور قطعی الصدور ہونے پر کوئی شک نہیں کر سکتا کیونکہ یہ حدیث مسلمانوں میں اتنا معروف و مشہور ہے کہ شاید ہی کوئی اس حدیث سے بے خبر ہو اس کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ البرہان میں اس حدیث کو اہل سنت کے سولہ طُرق حدیثی سے علامہ بحرانی نے بیان کیا ہے۔ (۳۶)آیت ا۔۔۔ میلانی اپنی کتاب کی ابتدائی تین جلدوں میں اسے اہل سنت کی کتب حدیثی سے بیان فرماتے ہیں ۔ (۳۷)اور کتاب عبقات الانوار کی ابتدائی دو جلدیں اسی حدیث شریف کے بارے میں علامہ حامد حسین لکھنوی ؒ نے تحریر فرمایا ہے (۳۸)
ان کتا بوں کا مطالعہ انسان کے لئے ثابت کرے گا کہ اس حدیث کے صحیح ہونے میں کسی قسم کا کوئی شک موجود نہیں ہے اور جب حدیث کا صحیح ہونا اور رسول اکرم ؐ کی زبان مبارک سے جاری ہونے کا یقین ہوگیا اور ایک ثقل کتاب خدا ہونے میں تمام راوایات شیعہ و سنی کا اتفاق ہے اگرچہ دوسری ثقل کے بارے میں اختلاف ہے کہ عترت ہے یا سنت ؟لیکن قرآن کے بارے میں سب کا اتفاق ہے کہ یہ ثقل اکبر ہے ۔تو پھر تھوڑی بہت عقل رکھنے والوں کو بھی سوچنا چاہئے کہ اس حدیث میں کیوں مسلمانوں کو قرآن اور عترت یا سنت سے تمسک کرنے کا حکم ہوا ہے ؟ اگر یہ کتاب تحریف شدہ تھی یا تحریف ہونے والی تھی تو پھر کیا رسول اکرم ؐزندگی بھر ان لوگوں کو ضلالت و گمراہی سے نجات دلانے کی کوشش کرنے کے بعد اب جاتے ہوئے مسلمانوں کو ہمیشہ کے لئے کھلی گمراہی میں دھکیلنا چاہتے تھے ؟(نعوذ باللہ)
پس آپؐ کا بار بار قرآن سے تمسک کرنے کی تاکید کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس کتاب الٰہی میں تحریف واقع نہیں ہوگی ، یہ کتاب ہر نقص و عیب او رشک و تردید سے پاک رہے گی لہٰذا رسول اکرم ؐ مسلمانوں کو اس کتاب سے تمسک کا حکم دے کر ان کے ایمان اور ہدایت کو بیمہ کرنا چاہتے ہیں ۔
(ج) احادیث جمع:
شہید محراب حضرت آیت ا۔۔۔ سید محمد باقر الحکیم ؒ نے قرآن کریم کے عہد رسول اللہ ؐ میں جمع آوری اور تدوین ہونے پر جو استدلال کیا ہے وہ پانچ عناصر پر مشتمل ہیں ۱۔ اسلامی معاشرہ میں قرآن کی اہمیت۔۲۔ تدوین نہ کرنے کی صورت میں قرآن میں تحریف ہونے کا خطرہ ۔ ۳۔ پیغمبر اکرم ؐ کا اس خطرے کا بھانپ لینا۔ ۴۔ آپ ؐ کا قرآن کی نسبت حریص ہونا۔ ۵۔ اور قرآن کے ساتھ آپؐ کا اخلاص۔
شہیدؒ جمع قرآن کو غیر پیغمبر کی طرف نسبت دینے والی راوایات کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کی دو طرح کی تفسیر ممکن ہے:
’’۱۔ یہ روایا ت جو جمع قرآن کو نبی کریمؐ کے علاوہ دیگر افراد کی طرف نسبت دیتی ہیں ان کا مراد یہ ہے کہ نبی کریم کے دور میں جمع تو ہوا تھا لیکن باقاعدہ ایک کتاب کی شکل نہیں دی گئی تھی جو بعد کے ادوار میں انجام پائی ہے ۔
۲ یہ ساری روایات جو نبی کریم ؐ کے علاوہ دوسروں کی طرف جمع قرآن کی نسبت دیتی ہیں یہ سب اسرائیلیات اور گڑھی ہوئی ہیں ۔
اگرچہ ہم چاہتے تھے کہ پہلے فرضیے کو مان لیا جائے لیکن دوسرے فرضیے کو ماننے میں ہمیں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی اور اس کے علاوہ ہم ایسے نصوص کو بھی کتب احادیث اورتاریخ میں پاتے ہیں جن میں صراحت سے بیان کیا گیا ہے کہ قرآن مجید خود نبی اکرم ؐ ہی کے زمانے میں جمع کیا گیا ہے ۔ ‘‘(۳۹)
ہم یہاں مختلف کتب سے اس موضوع پر چند روایات بطور نمونہ ذکر کریں گے۔
روایت قرظی:
’’محمد بن کعب القُرَظی کی روایت ہے ۔ کہ قرآن خود نبی کریم ؐ کے زمانے میں پانچ افراد کے ذریعے جمع کیا گیا ہے وہ معاذ بن جبل ، عبادہ بن الصامت، ابی بن کعب، ابو ایوب اور ابوالدرداء ہیں ۔۔۔‘‘(۴۰)
روایت عثمان:
’’عثمان بن عفان ، ابن عباس کے ساتھ ایک بحث میں کہتا ہے کہ جب رسول اللہ ؐپر ایک وقت میں کئی سوروں کی آیات نازل ہوتی تھیں تو رسول اکرم ؐجب دوبارہ سے نئی آیت نازل ہوتی تھی تو فرماتے تھے کہ اس آیت کو فلاں سورے میں درج کرو‘‘(۴۱)
روایت شعبی:
’’شعبی کی روایت ہے کہ انصار میں سے چھے افراد نے خود نبی اکرم ؐ کے زمانے میں ہی قرآن کی جمع آوری کی ہیں : ابی بن کعب، زید بن ثابت، معاذ بن جبل، ابوالدردائ، سعید بن عبید اور ابو زید۔‘‘ (۴۲)
 قتادہ کی روایت:
’’قتادہ نے انس بن مالک سے پوچھا کہ پیغمبر کے زمانے میں کس نے قرآن جمع کیا ہے ؟ تو کہا چار افراد نے جو سب کے سب انصار میں سے تھے : ابی بن کعب ، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابو زید ۔‘‘ (۴۳)
ان روایات اور اسی طرح کی دوسری بہت ساری روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قرآن عہد پیغمبر ؐ میں ہی جمع ہوا ہے جیسے کہ مذکورہ آخری روایت کے لہجے سے ہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن پیغمبر ؐ کے زمانے میں جمع ہونا تو یقینی ہے لیکن جمع کرنے والوں اور کاتبین کے بارے میں اختلاف ہے ورنہ خود جمع اور تدوین میں تو کوئی شک نہیں ہے ۔
روایات تحریف کی حقیقت:
اب ہم ایک اجمالی نگاہ ان روایات کی حقیقت کے بارے میں لگائیں گے جن روایات میں صریحاً یا کنایتاً قرآن میں تحریف ہونے کو بیان کیا ہوا ہے ، یہ روایات شیعہ اور سنی دونوں مکاتب فکر کی کتابوں میں موجود ہیں ۔
یہ روایات سند کے اعتبار سے ابتداء میں دو قسموں میں تقسیم ہوتی ہیں :
۱۔ وہ روایات جو ضعیف ، مرسل اور مقطوع السند ہیں ۔
۲۔ وہ روایات جو ثقہ لوگوں سے صحیح اسناد کے ساتھ نقل ہوئی ہیں ۔
اور دوسری قسم خود دو قسموں میں تقسیم ہوتی ہے :
۱۔وہ روایات جن کی معقول توجیہ کرنا ممکن ہے
۲۔ اور وہ روایات جن کی معقول توجیہ کرنا ممکن نہیں ہے ۔ لیکن اس قسم کی روایات کی تعداد بہت کم ہے اور پھر اس قسم کی روایات کا روایات ِعدم تحریف سے تعارض ہوتا ہے تو خود بخود پایہ اعتبار سے ساقط ہوجاتی ہیں ۔(۴۴)
 اس کے علاوہ ان روایات میں سے بہت ساری روایات میں جو لفظ تحریف استعمال کیا ہے وہ تحریف معنوی پر دلالت کرتا ہے اور تحریف معنوی کا تو کوئی انکار نہیں کرتا ۔ اور بہت ساری روایات جن میں کسی آیت کے ساتھ کچھ کلمات اضافہ کے ساتھ راوی نے ذکر کیا ہے تو وہ بعنوان تفسیر ہے نہ کہ قرآن کا حصہ کے طور پر ، کہ جس سے تحریف لازم آجائے۔(۴۵)روایات کی ایک بڑی تعداد اسرائیلیات اورجعلی ہیں ۔ (۴۶)
مزید ان روایات کی حقیقت کے بارے میں کامل آگاہی کے لئے عدم تحریف قرآن کے موضوع سے مربوط کتب کا مطالعہ مفید رہے گا جیسے کہ علامہ معرفت ؒ نے ان روایا ت کی وسیع تقسیم کی ہے اور پھر ہر ایک پر بحث کیا ہے ۔ (۴۷)لہٰذا بزرگان کے ان روایات پر جرح و تعدیل کا ملاحظہ کرنے کے بعد یہ بات روز روشن کی طرح عیان ہو جاتی ہے کہ ان روایات کے ذریعے کبھی بھی قرآن میں تحریف واقع ہونے کے نظریے کو ثابت نہیں کرسکتے ۔
 دشمن کے اہداف:
جب دشمن، دین و مذہب کے ساتھ روبرو مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا اور مایوس ہونے لگتا ہے تو وہ فرصت کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتا بلکہ وہ اپنی روش تبدیل کر لیتا ہے اور ایک ایسی ٹیکنیک کی تلاش میں ہوتا ہے کہ جس کے ذریعے وہ’’مکتب الٰہی ‘‘کے چہرے کو مخدوش کر سکے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں دشمن ’’مکتب الٰہی ‘‘کے نادان پیروکاروں پر اپنا تجربہ شروع کرتا ہے اور ان کے اندر موجود مذہنی عصبیت کے دروازے سے دشمن وارد عمل ہوتا ہے ۔ مسلمانوں کے لئے آئین حیات بنا کر بھیجی گئی ’’کتاب مبین‘‘ کے بارے میں ایجاد کی گئی دسیوں شکوک وشبہات جن میں سے ایک یہی تحریف قرآن کا مسئلہ ہے ، دشمن کی اسی سازش کا ایک حصہ ہے ۔
یہاں آکر امت کے درمیان احساس و شعور ، بصیرت  وآگاہی اور بیداری و ہوشیاری ایجاد کرنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے تاکہ آنکھوں میں دھول جونکنے والی دشمنیوں کو پہچان سکے ۔ دشمن ہمیں اس طرح کے بے جا اور فضول بحثوںمیں مشغول رکھتا ہے تاکہ وہ اپنے مقاصد کو حاصل کرے۔ دشمن اس کام سے کئی فوائد حاصل کر سکتا ہے ۔
 وہ ہمیں آپس میں ذیلی باتوں میں مشغول رکھ کر اصل اور بنیادی مسائل سے غافل کرنا چاہتا ہے، وہ چاہتا ہے کہ ہم اپنے مشترک دشمن سے غافل ہوکر خود ساختہ دشمنوں کی طرف متوجہ ہوجائیں ،دشمن کی خواہش ہے کہ ہم اپنی توانائیاں اس طرح کی بے اہمیت یا کم اہمیت مسائل میں صرف کرتے رہیں تاکہ ہمیشہ ہم اپنے دشمن کے دست نگر بنے رہیں ، میرے اور آپ کے قسم خوردہ دشمن نے یہ قسم کھائی ہے کہ ہمیں اپنے خدا ، نبی ، قرآن ،امام ، ایمان اور دین مبین سے دور کر دیا جائے ۔ اور اس کام کے لئے دشمن نے بہت ہی خطرناک ہتھیار پر ہاتھ رکھا ہے ، اوروہ ہتھیار خوددین کا ہتھیار ہے ۔ آج دشمن دین کا مقابلہ دین ہی کے ذریعے ، اسلام کا مقابلہ اسلام ہی کے ذریعے، ایمان کا مقابلہ ایمان ہی کے ذریعے اور قرآن کا مقابلہ قرآن ہی کے ذریعے کرتا ہے۔ آج پھر سے عمربن عاص کے مکر و فریب اور اسلام دشمنی کی سازشوں نے زمانے کے کوکھ سے جنم لینا شروع کر لیا ہے ، زمانے کے خوارج صفت دیندار، اشعث صفت سازشیوں کے دام میں گرفتار ہونے والے ہیں ۔ آج پھر سے فتنے کی آنکھ پھوڑنے کے لئے ایک دفعہ پھر علی ؑ کی بصیرت عام کرنے کی ضرورت ہے ۔ قرآن کے قسم خوردہ دشمن کا مقابلہ علی ؑکی بصیرت سے ہی کر سکتے ہیں ۔
والسلام علی من اتبع الہدیٰ
----------------------------
حوالہ جات
۱۸۔سورہ حجر آیت ۹
۱۹۔سورہ احزاب آیت ۷۲
۲۰۔ سورہ حجر آیت ۶
۲۱۔تفسیر المیزان (فارسی)ج۱۲؍ص۱۵۰،ترجمہ: سید محمد باقر موسوی، بنیاد علمی و فکری علامہ طباطبائی ،طبع دوم ۔
۲۲۔تفسیر نمونہ ج۱۱ ؍ص۱۳، انتشارات دار الکتب الاسلامیہ قم، طبع ہفتم
۲۳ ۔من وحی القرآن ج۱۳؍ص۱۴۵ دارالملاک بیروت طبع دوم ۱۴۱۹ھ
۲۴۔التفسیر الکبیر ج۱۹؍ص۱۶۴، دار الفکر بیروت طبع سوم ۱۴۰۵ھ
۲۵۔تفسیر التحریر والتنویر ج۱۳؍ص۱۷، موئسسہ التاریخ العربی بیروت طبع اول ۱۴۲۰ھ
۲۶۔انوار التنزیل واسرار التاویل ج۱؍ص۵۲۶، دار الکتب العلمیہ بیروت طبع اول ۱۴۰۸ھ
۲۷۔سورہ قیامت آیت ۱۶ تا ۱۹
۲۸۔مجمع البیان فی تفسیر القرآن ج۱۰ ؍ص۶۰۱، شیخ ابی علی بن الحسن الطبرسی ؒ، دار المعرفہ بیروت، طبع اول ۱۴۰۶ھ
۲۹۔ سورہ فصلت آیت ۴۱،۴۲
۳۰۔تفسیر نمونہ ج۲۰؍ص۲۹۸
۳۱۔تفسیر المیزان ج۱۷؍ص۶۳۷
۳۲۔وسائل الشیعہ الی تحصیل مسائل الشریعہ، ج۱۸؍ص۷۸، شیخ محمد بن حسن الحر العاملی،دار احیاء التراث العربی بیروت۔
 البرہان فی تفسیر القرآن ج۱؍ص۲۸، علامہ سید ہاشم الحسینی البحرانی ، موئسسہ مطبوعاتی اسماعیلیان قم
۳۳۔وسائل الشیعہ الی تحصیل مسائل الشریعہ، ج۱۸؍ص۷۹ ۔ البرہان فی تفسیر القرآن ج۱؍ص۲۹
۳۴۔وسائل الشیعہ الی تحصیل مسائل الشریعہ، ج۱۸؍ص۷۸ ۔ البرہان فی تفسیر القرآن ج۱؍ص۲۹
۳۵۔البرہان فی تفسیر القرآن ج۱؍ص۲۶
۳۶۔البرہان فی تفسیر القرآن ج۱؍ص۲۶
۳۷۔نفخات الازہار فی خلاصۃ عبقات الانوار فی الرد علی التحفۃ الثنیٰ عشریۃ ، ج۱،۲،۳، سید علی الحسینی المیلانی ،مرکز تحقیق و ترجمہ و نشر آلاء قم، طبع ۱۴۲۳ھ
۳۸۔عبقات الانوار فی امامۃ الائمۃ الاطہار ؑ،ج۱،۲،  علامہ سیدحامد حسین لکھنوی ؒ، مطبعہ مہر قم ۱۳۹۸ھ
۳۹۔ علوم القرآن ص۱۰۰ تا ۱۰۷، شہید سید محمد باقر الحکیمؒ ، مجمع الفکر الاسلامی قم، طبع سوم ۱۴۱۷ھ
۴۰۔کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال ج۲؍ص۵۷۷؍ح۴۷۶۵، علاء الدین علی المتقی بن حسام الدین الہندی، موئسسہ الرسالہ بیروت، طبع پنجم ۱۴۰۵ھ
۴۱۔کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال ج۲؍ص۵۷۹؍ح۴۷۷۰
۴۲۔کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال ج۲؍ص۵۷۹؍ح۴۷۹۷
۴۳۔علوم القرآن ص۱۰۷ نقل از صحیح بخاری باب القراء من اصحاب النبی ؐ ج۶؍ص ۲۰۲
۴۴۔شیعہ اور تحریف قرآن ص۵۷، آیت الله علی الحسینی المیلانی ،مصباح القرآن ٹرسٹ لاہور، طبع ۱۹۹۷ء
۴۵۔ من وحی القرآن ج ۱۳؍ص۱۴۵
۴۶۔تفسیر المیزان ج۱۲؍ص۱۵۶ اور اس کے بعد
۴۷۔مصونیت قرآن از تحریف ص۲۰۴ تا ۲۳۶