سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/9/19 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

(۵)امام حسین (علیه السلام) اور عزت - فداعلی حلیمی

عزت، اخلاق اسلامی کے ثابت اور ناقابل تغییر اصولوں میں سے ایک اصل ہے۔نہایت افسوس کی بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے الفاظ اپنے اصلی معانی اور معارف کھو بیٹھے ہیں جیسے صبر، عشق . توکل وغیرہ، ان میں سے ایک کلمہ عزت بھی ہے.انسان عزت کا بڑا خواہان ہوتا ہے ، اسے جان سے بھی زیادہ پیاری ہوتی ہے . عزت خواهی انسان کی فطری امور میں سے ہے.لیکن بات یه ہے که عزت ہے کیا؟اور عزتمند هونےکا طریقه کیا ہے ؟ اس مختصر سے مقالہ میں امام حسین(علیه السلام) کے نزدیک عزت کے معانی، معیاراور عوامل پر بحث ہو گی۔ امام کی زندگی اور اس کے عظیم قیام میں انسان کی سعادت کا هر اصول مضمر ہے .لیکن هم اس عظیم الهی خزانه سے غافل هیں اور ایک سطحی نگاه سے دیکھتے هیں .انهی پوشیده اصولوں میں سے ایک عزت ہے ۔ کیونکہ امام حسین (علیه السلام) عزت کا امام اور علمبردار ہے ۔امام کاشعار اور نعره هیهات منا الذلة تھا۔
عزت کا معنی:
لفظ "عزت" نفوذ ناپذیری وغلبہ، قوت و شدت کے معنی میں آیا ہے اور عزت مند انسان وہ ہے جو کسی ایسے بلند درجے پر فائز ہو کہ ذلت و خواری وہاں تک نہ پہنچ سکے۔1
راغب اصفہانی لکھتے ہیں کہ عزت انسان کے اندر ایک ایسی حالت ہے جو انسان کو خواری سے محفوظ رکھتی ہے۔2 البته غلبه عزت کا لازمه ہے کیونکه انسان جب عزتمند هو جاتا ہے تو دوسروں پر غالب آجاتا ہے
صاحب تفسیر المیزان علامہ طباطبائی لکھتے ہیں کہ کلمۂ عزت، نایابی کےمعنی میں ہے۔ جب کہا جاتا ہے کہ فلاں چیز عزیز ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس تک آسانی سے رسائی ممکن نہیں ہے۔3
اسلامی افکار میں عزت دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہے:
حقیقی عزت: عزتِ حقیقی الله تعالی کے لیے ہے اور وہ انسان جو عزت کے مقام پر فائز ہوتے ہیں وہ الله کے ساتھ رابطه کے طفیل ہی سے ہوتے ہیں اسی وجہ سے علمائے اسلام نے قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں عزت حقیقی کو خدا وند متعال، رسولﷺ، اور مؤمنین کے لیے مختص، قرار دیا ہے۔ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ۔ عزت تو اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے لیے هی ہے ۔یعنی انسان کا نفس اور روح ،خداشناسی کی وجه سے اتنا مضبوط هو که هر خاص وعام کے آرا و افکار سے متاثر نه هو تاهو .عزت یعنی ذلت کو قبول نه کرنا یعنی غیر الله کے سامنے نرم اور رام نه هونا . عزت یعنی خالق کائنات کےمقابلےمیں کسی کی رای اور نظر کو قبول اور تسلیم نه کرنا .فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعَا۔4 بے شک ساری عزت تو خدا کی ہے وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ5 ـ جب کہ عزت تو اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے لیے ہے.
جھوٹی عزت: 
جاہلیت کی ثقافت میں زیادہ قدرت و طاقت، کثرت اولاد خصوصا بیٹوں،کی کثرت ، مال و دولت کی فراوانی، افراد ی قوت کی کثرت وغیرہ کو عزت کا نام دیا جاتا تھا یہاں تک کہ بعض اوقات مردگان کو بھی عزت کا معیار سمجھتے ہوئے قبر وں کو گنا کرتے تھے اور آج بھی طاغوت پرست قوموں کے نزدیک عزت کا معیار کچھ ایسا ہی ہے۔
امام عالی مقام نے ا پنے قیام میں عزت اور ذلت کے معیارات کو بیان کیا ہے یزید جیسے فاسق و فاجر کی بیعت کو ذلت شمار کیا ہے اور اس کے خلاف جہاد کرتے ہوئے مر جانے کو عزت کا نام دیا ہے اور کئی مقامات پر اس بات کا اظہار کیا ہے کہ حسین(علیه السلام) کبھی بھی یزید کی بیعت کر کے ذلت کو قبول نہیں کرے گا؛ اپنے بھائی محمد بن حنفیہ کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "اے میرے بھائی خدا کی قسم! اگر دنیا میں میرے لیے کوئی بھی پناہ گاہ موجود نہ ہو پھر بھی یزید کی بیعت نہیں کروں گا کیونکہ رسول خداﷺکا فرمان ہے " خدایا یزید کو اپنی نظر رحمت سے دور رکھ"6۔
امام حسین (علیه السلام) نے اصحاب و انصار کی کم تعداد کے باوجود اپنے مقصد و ہدف کو جاری رکھا اور ایک پل کے لیے بھی پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہ ہوئے جب عمر بن سعد نے امام حسین(علیه السلام) کو یزید کی بیعت کی دعوت دی تو فرمایا" خدا کی قسم ذلت کے ساتھ کبھی بیعت نہیں کروں گا اور غلاموں کی طرح اس کی خلافت کا اقرار نہیں کروں گا"7۔
اسی طرح اپنی بہن حضرت زینب کو (علیه السلام) صبر وبردباری کا درس دیتے ہوئے فرمایا اے بہن صبر کرو، گریہ نہ کرو اور دشمن کو طنز و طعن کا موقع نہ دو"8۔
امام حسین (علیه السلام) کے فرامین میں غور کرنےسے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عزت کچھ عوامل پر موقوف ہے جن کو کسب کئے بغیر عزت کے مقام کو حاصل نہیں کیا جا سکتا ان میں سے کچھ عوامل یه هیں۔
عزت کےعوامل: 
ارتباط با خدا: 
امام حسین (علیه السلام) کہ جو آغوش وحی کے پروردہ ہیں عزت نفس کو ارتباط با خد ا سے وابستہ سمجھتے ہیں خدا وند سے ارتباط کے بغیر حاصل ہونے والی عزت کو ذلت تصور کرتے ہیں اپنے پروردگار سے خلوت میں راز و نیاز کرتے ہوئے فرماتے ہیں" الہی ! تیری بارگاہ میں میری ذلت و خواری واضح ہے اور میری حالت تم سے مخفی نہیں هے خدا وندا ! میں اپنے آپ کو کیسے عزت مند سمجھوں کہ تیرے سامنے خاضع اور ذلیل ہوں اور کیسے احساس عزت نہ کروں جبکہ تو نے مجھے اپنے ساتھ منسوب کیا ہے ".9
کربلا میں کوفیوں کے لشکر سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں " اگر تم میرے عذر کو قبول نہیں کرتے اور میرے ساتھ انصاف نہیں کرتے تو پھر اپنے ساتھیوں کو جمع کر لو اور مجھ پر حملہ آور ہو جاؤ اور مہلت نہ دو بے شک خدا وند جو کہ قرآن کو نازل کرنے والا ہے میرا ولی اور مدد گار ہے وہی خدا جو کہ نیک لوگوں کا ولی ہے"۔
خود شناسی:
 عزت کے عوامل میں سے مہم ترین عامل اپنے آپ کو پہچاننا ہے معصومین (علیه السلام) کے فرامین سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خود شناس انسان اپنے آپ کو گناہ سے آلودہ نہیں کرتا اور عزت کا احساس کرتا ہے امام حسین ع سے جب والی مدینہ نے یزید کے لیے بیعت طلب کی تو آپ کے جواب سے احساس ہویت چھلکتا ہوا نظر آتا ہے اور معصوم (علیه السلام) اس کو اپنے لیے عزت شمار کر تے ہوئے فرماتے ہیں " اے امیر ! ہم اہل بیت (علیه السلام) نبوت اور رسالت کا خزانہ ہیں اور یزید فاسق، شراب خور، اورپاکیزہ انسانوں کا قاتل ہے لہذا مجھ جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کرے گا"01۔
امام حسین (علیه السلام) اپنی شخصیت کو اس سے کہیں بالا تر پیش کر رہے ہیں کہ یزید جیسے کی بیعت کو قبول کریں اور امام حسین (علیه السلام) کے ساتھی بھی اسی فکر کے حامل تھے لہذا جب شمر ملعون نے جناب عباس (علیه السلام) کو پکار کر کہا کہ میں تمہارے لیے امان نامہ لے کر آیا ہوں تو آپ نے اس کو جواب دینا بھی مناسب نہ سمجھا جب تک کہ امام (علیه السلام) نے حکم نہ دیا ۔اسی طرح حضرت زہیر نے بھی شمر کو وحشی جانور قرار دیتے ہوئے اس سے کلام کرنا بھی گوارا نہ کیا۔11
نسب:
خاندانی شخصیت اور آبا ء و اجداد کا کسی عزیز قبیلے سے تعلق رکھنا بھی عزت کے حصول کے لیے ایک اہم عامل شمار ہوتا ہے امام (علیه السلام) نے بھی مختلف مقامات پر اپنا تعارف رسول خداﷺ، اپنے والد بزرگوار امام علی(علیه السلام) اور والدہ گرامی حضرت صدیقہ طاہرہ(علیه السلام) کے ذریعے کرایا ہے اور خاندان نبوت سے منسلک ہونے کو اپنے لیے عزت و شرف شمار کیا ہے کیونکہ اس خاندان کی طہارت کی گواهی قرآن دے رہاہے۔ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا 21 اللہ کا ارادہ بس یہی ہے ہر طرح کی ناپاکی کو اہل بیت ! آپ سے دور رکھے اور آپ کو ایسے پاکیزہ رکھے جیسے پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔
اسی طرح امام (علیه السلام) نے دشمنوں کی تذلیل کی خاطر ان کے پست انساب کی طرف اشارہ کیا ہے مثلا ابن زیاد کو زنا زادہ، معاویہ اور یزید کو آزاد شدہ غلاموں کی اولاد، مروان کو زرقا ء کے بیٹے کے عنوان سے یاد کیا ہے اما م (علیه السلام) مروان کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں" اے زرقاء ماں کے بیٹے جو بازار ذی المجاز میں مردوں کو اپنی طرف بلاتی تھی اور بازار عکاظ میں اس نے فساد و فحاشی کا جھنڈا لگایا ہوا تھا اے مردود کے بیٹے جسے رسول خداﷺ نے ملعون قرار دیتے ہوئے اپنی بارگاہ اقدس سے نکال دیا تھا خود کو اور اپنے والدین کو پہچانو۔31
تربیت:
وہ جگہ کہ جہاں انسان رشد کرتا ہے خصوصا خاندان، ماں، باپ اور ماحول ،انسان کی شخصیت کی تعمیر اور تباہی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں امام حسین(علیه السلام) اپنی خاندانی پاکیزگی کے ساتھ ساتھ پیغمبر اکرمﷺ کے زیر تربیت رہنے اور حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کی گود میں پلنے، بڑھنے کو بھی اپنی عزت کے عامل کے طور پر پیش کرتے ہیں امام حسین (علیه السلام) یزید کے بارے میں فرماتے ہیں: ألا إن الدعي ابن الدعي قد ركز بين اثنتين بين السلة والذلة، وهيهات ما آخذ الدنية، أبى الله ذلك ورسوله، وجدود طابت، وحجور طهرت، وانوف حمية، ونفوس أبية، لا تؤثر مصارع اللئام على مصارع الكرام.41" آگاہ رہو کہ اس زنا زادہ کے بیٹے زنا زادے نے مجھے ایک ایسے دو راہے پہ لا کھڑا کر دیاہے کہ جن میں سے ایک قتل اور دوسرا ذلت کا راستہ ہے ہم سے کوسوں دور ہے کہ ذلت و رسوائی کو قبول کریں خدا وند متعال، پیغمبر اکرمﷺ اور مؤمنین اس بات پر ناخوش ہیں کہ ہم ذلت کو قبول کریں۔ ماؤں کی پاک آغوش اور آباء و اجداد کے باغیرت اور شریف صلب ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ قتل ہونے کی بجائے گھٹیالوگوں کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں"51۔
قناعت:
عزت کے عوامل میں سے ایک او ر عامل قناعت اور دنیاوی نعمتوں سے دل نہ لگانا اور مادیات سے بے نیازی کا احساس ہے امام (علیه السلام) فرماتے ہیں " عزت کا راز لوگوں سے بے نیازی کے احساس میں ہے"61۔
امام (علیه السلام) کی نظر میں دنیا کو خطر ے میں ڈالے بغیراور جا ن ومال کو قربان کیے بغیر عزت حاصل نہیں کی جا سکتی هے وہ لوگ جو اپنے دل کو دنیا کے بدلے گروی رکھ چکے ہیں اور اپنی شخصیت کو شکم پر کرنے کے بدلے فدا کر چکے ہیں اور اپنی عزت کو مال و ثروت کے حصول کا ذریعہ بنا چکےہیں کبھی بھی عزت نہیں پا سکتے امام (علیه السلام) کوفیوں کے، حق کے سامنے صف آراء ہونے اور ذلت کو قبول کرنے کو حرام خوری کا نتیجہ گردانتے ہیں71۔
بلند ہمتی:
انسان کی عزت ،بلند ہمتی کا مرہون منت ہے پست اہداف سے انسان پست ہو جاتا ہے اور اس کے سکوت کا باعث بنتا ہے وہ لوگ جو اپنی شہوت اور خواہشات نفسانی کو اپنا ہدف قرار دیتے ہیں آسمان کی بلندیوں کی خوبصورتی کو درک کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں اور انسانی اقدار کو کھو بیٹھتے ہیں امام حسین(علیه السلام) رسول اسلامﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ" الله تعالی بلند مرتبہ امور کو پسند کرتا ہے اور پست کاموں کو پسند نہیں کرتا"۔81
جب حر ابن یزید ریاحی نے امام حسین(علیه السلام) کو یزید کی بیعت کی دعوت دی اور قبول نہ کرنے کی صورت میں قتل کی دھمکی دی تو امام (علیه السلام) نے فرمایا " موت سے ڈرنا میرے شایان شان نہیں ہے حق کو زندہ کرنے اور عزت کو پانے کی راہ میں موت کس قدر آسان ہے عزت کے حصول میں موت ابدی زندگی کا دوسرا نام ہے اور ذلت کے ساتھ زندہ رہنا موت ہے مجھے موت سے ڈرا رہے ہو تمہارا تیر خطا گیا ہے اور تمہارا گمان بے بنیاد ہے، میں موت سے نہیں ڈرتا، میرا نفس عظیم اور ہمت اس سے کہیں بلند ہے کہ موت سے ڈر جاؤں اور ذلت کو قبول کر لوں آیا قتل کرنے کے علاوہ بھی کسی کام پر قادر ہو؟.
اے الله همیں عزت کے اصولوں کو پهچان کر ان پر عمل کرنے اور اور انهیں معاشرے میں معرفی کرانے کی توفیق عطا فرما.آمین
--------------
1 - لسان العرب ابن منظور، ج5، ص374
2 -مفردات الفاظ القرآن راغب اصفہانی
3 - المیزان ج 17، ص 22، 23
4 - آل عِمرَان 139
5 - المَنافِقون 8
6 -(الامام الحسین (علیه السلام) فی المدینۃ المنورۃ، ص 389
7 - موسوعۃ کلمات الامام الحسین(علیه السلام) ص 335
8 - موسوعۃ کلمات الامام الحسین(علیه السلام) ص391
9 - ثار اللہ موسوعۃ کلمات الامام الحسین (علیه السلام) ص 336 ص55
10 - موسوعۃ کلمات الامام الحسین(علیه السلام) ص 283
11 - لواعج الاشجان فی قتل الحسین(علیه السلام)، ص101
12 -الاحزاب .33
13 - زندگانی امام حسین(علیه السلام) ص 149
14 -البحار: 45 / 8.میزان الحکمه 3/170
15 - مقتل خوارزمی، ج 2 ص 7،8
16 - شخصیت امام حسین(علیه السلام) قبل از عاشورہ ص 201
17 - فرہنگ سخنان امام حسین (علیه السلام) ص 341
18 - حماسہ حسینی ج ۱ ص ۱۴۹