سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/11/13 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

(7)توحید اورشرک سوره کافرون کے آ ئینے میں- ذاکر حسین ڈوروی

مقدمہ:
ہر علم کی اہمیت اور قدرو قیمت کا دارو مدار اس کے موضوع پر ہوتاہے اور تمام علوم کے درمیان عقائد کا موضوع سب سے بہتر اور مہم تر ہے کیونکہ انسان کے تمام افکارو افعال کی بنیاد اس کے عقائد پر ہے اگر وہ صحیح و سالم ہوں تو ان کے اعمال وافکار شائستہ ہونگے۔
اور اعتقادی مسائل میں بھی معرفت توحید اور گریز از شرک ایک خاص مقام رکھتے ہیں کیونکہ ایک موحد انسان کے تمام عقائد کی اصل بنیاد اور مرکزی نقطہ ،توحید کی معرفت ہے کیونکہ توحید تمام مذہبی اور دینی معارف کا محور ہے۔اس کی اہمیت دین اسلام میں بالخصوص مکتب اہل بیت علیھم السلام میں بهت نمایاں ہے ، ہم جانتے ہیں کہ تمام انبیاء اور آئمہ طاہرین علیھم السلام کا مقصد اور ہدف لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دینا تھااور تمام انبیاء و مرسلین ا ور آئمہ طاہرین ؑ نے اپنی پوری زندگی توحید کے پرچار کے لئے صرف کی ہیں ۔اس وظیفہ اور کردار کی نقشہ کشی امام صادق علیہ السلام یوں پیش کرتے ہیں کہ اگر لوگ معرفت خدا کی حقیقت سے آگاہ ہوجائیں تو دنیا اوراس کی رنگینوں کی جانب کبھی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتے اور دنیاان کی نگاہ میں پیروں سے روندی ہوئی خاک سے بھی زیادہ کم قیمت ہوگی۔
توحیدو شرک کی لغوی تعریفیں:
التوحیدفی اللغة: الایمان باالله وحدہ لاشریک له والله الواحیدالاحدوالتوحیدو الوحدانیة1
توحید لغت میں: خدائے وحده لا شریک پر ایمان لانا که وه ایک هے یکتا هے .اس کےمقابلے میںشرک لغت میں: ان یکون الشی بین اثنین لاینفرد به احدهما ویقال شارکت فلانافی الشیئ، اذا صرت شریکه واشرکت فلانا اذا جعلته شریکاً لک .
 کوئی چیز دو نفر کیلئے مشترک هوں صرف ایک کیلئے نه هو اگر آپ کسی کے ساتھ کسی چیز میں شریک هو جائے تو کها جاتا هے شارکت فلانافی الشیئ اور اگر دوسرے کو اپنے ساتھ شریک کرے تو کها جاتا هے واشرکت فلانا2
توحید کی اصطلاحی تعریف: عربی زبان میں توحیدکامعنی کسی چیزکی یکتائی ویگانگی کوکہتے ہیں اورعلم کلام کی اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کایکتااوریگانہ ہونے کوتوحیدکہتے ہیں۔3
شرک کی اصطلاحی تعریف:انسان میں دوطرح کا شرک پایاجاتاہے۔
۱۔شرک عظیم۔یعنی اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کو شریک قراردیناجیسے۔کہاجاتاہےاشرک فلاناباالله اوریہی معنیٰ بزرگترین کفر ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشادفرماتاہے”ان الله لایغفران یشرک به”
۲۔شرک صغیر۔یعنی بعض امورمیں خداکوچھوڑکرغیرخداکی طرف رجوع کرنا جیسے۔ریاکاری،منافقت وغیرہ۔اللہ تعالیٰ قرآن مجیدمیںارشادفرمارہاہے”فلمآ اٰتهماصالحا جعلاله شرکاء فیما آتٰهما فتعٰلی الله عمایشرکون”4 توحیداورشرک دومتضادچیزیں ہیں اوران دونوں کاراستہ بالکل جدا ہے اورکوئی شباہت ان دونوں کے درمیان نہیں ہے،توحیدانسان کواللہ تعالیٰ تک پہنچادیتی ہے،جبکہ شرک انسان کواللہ تعالیٰ سے جداکرتی ہے۔
تفسیرِسورہ کافرو ن:
۱۔”قل یاایهاالکافرون”اس سورہ کے آیات میں اللہ تعالیٰ پیغمبراکرمﷺ سے مخاطب ہوکرارشادفرمارہا ہے آپ کہہ دیجئے کہ اے کافرو “لااعبدما تعبدون” میں ان خداؤں کی پرستش نہیں کرسکتاجن کی تم پوجاکرتے ہو “ولاانتم عٰبدون مااعبد” اورنہ تم میرے خداکی عبادت کر نے والے ہو.
یہی اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے جوخدا کی توحید اور یہیں سے اسلام اورکفر کے عقیدہ کافرق واضح ہوجاتاہے۔
پیغمبراکرمﷺ صراحت کےساتھ فرمارہے ہیں کہ میں ہرگزبت پرستی نہیں کرسکتاجس طرح تم لوگ اپنی ضداورلجاجت کی وجہ سے اوراپنے آباء واجدادکی اندھی تقلیدکرتے ہوئے کبھی بھی الله کی پرستش نہیں کرسکتے۔ 5
۲۔”لااعبدماتعبدون”اس آیت میں وہ سارےمعبودشامل ہیں جنکی عبادت دنیابھرکے کفاراورمشرکین کرتے رہے ہیں خواہ وہ ملائکہ ،جن ، انسان،انبیاءجیسےہوں یاسورج،ستارے،جانور،درخت،دریا،بت اورخیالی دیویاں اوردیوتا ہوں مشرکین عرب اللہ تعالی کوبھی تومعبودمانتے تھے اوردنیاکے دوسرے مشرکین نے بھی قدیم زمانے سے آج تک اللہ کے معبود ہونے کا انکارنہیں کیا اوراهل کتاب بھی دراصل اللہ تعالی ہی کو معبود تسلیم کرتے ہیں پھر ان سب لوگوں نے تمام معبودوں کے مجموعے میں اللہ تعالی کوایک معبودکی حیثیت سے شامل کرکےمشرک هوگئے اگردوسروں کےساتھ اسکی عبادت کی جائے شرک درعبادت لازم آتاہے تو وہ شخص جو توحید پر ایمان رکھتا ہو لازماً اپنی عبادت میںغیرالله سے اپنی برأت کا اظہار کرے گا ،کیونکہ اس کے نزدیک اللہ تعالی معبودوں کے مجموعے میں ایک معبود نہیں بلکہ وہی تنہا معبود ہے اور اس مجموعے کی عبادت سرے سے اللہ کی عبادت ہی نہیں ہے ۔اگرچہ اس میں اللہ کی عبادت بھی شامل ہو ۔
 قرآن مجید میں صاف کہاگیاہے کہ اللہ کی عبادت صرف وہ ہے جس کے ساتھ کسی دوسرے کی عبادت کا شائبہ تک نہ ہو اور انسان اپنی بندگی کو بالکل اللہ ہی کے لئے خالص کر دے “وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ.“6 وہ انہیں صرف اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ خدا کی عبادت کریں اور اس عبادت کو اسی کے لئے خالص رکھیں اور نماز قائم کریں اور زکات ادا کریں اور یہی سچا اور مستحکم دین ہے ۔7
کہیے اے کافر لوگو! میں ان کی عبادت نہیں کرتا جس کی عبادت تم کرتے ہو اور نہ تم اس کی عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کرتاہوں اور نہ میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی عبادت تم نے کی ہیںاور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میراد ین ہے ۔ اس کی اصل عبارت کے ساتھ کیاربط هے؟
چونکہ اس وقت ان لوگوں کے جنہوں نے یہ پیش کش کی تھی کہ کچھ زمانے تک آپ ہمارے معبودوں کی پرستش کیجئے اور کچھ زمانے تک ہم آپ کے معبود کی عبادت کریں گے،مخاطب پیغمبر اکرمؐ تھے لہٰذا خالق نے جو کہنے کا حکم دیا ہے اس کے مخاطب بھی رسول اکرم ؐ ہیں ۔لیکن اصول بہر حال اصول ہیں اس لئے یہ کہنے پر ہر مسلمان مامورہے جس کے سامنے ایسی پیش کش ہو ۔
صیغہ مضارع عربی میں حال اور استقبال میں مشترک ہوتاہے اور اسم فاعل اسی سے بنتاہے اس لئے اس میں بھی دونوں زمانوں کا اشتراک ہے یہاں ان میں سے ہر ایک کو جو دہرایا گیاہے پہلی جگہ اس سے حال مراد ہے اور دوسری جگہ استقبال،یعنی نہ اس وقت ایسا ممکن ہے کہ میں تمہارے معبودوں کی عبادت کروں اور نہ آئندہ کبھی ایسا ہونے کی امید رکھواس طرح ان کی توقع کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا گیاکہ اب ان کے لئے اپنی اس بات پر اصرار کا دروازہ بند ہوجائے اورنہ وہ کسی بھی تبدیلی کے ساتھ آئندہ اس طرح کی کوئی متبادل تجویز پیش کریں ،یہ غلط فہمی نہ رہنا چاہیے کہ مشرکین بتوں کے ساتھ ساتھ اللہ کی عبادت کر لیتے تھے لہٰذا یہ کیوں کہا گیا ہے کہ تم اس کی عبادت نہیں کرتے جس کی میں عبادت کرتاہوں؟ یه اس لئے ہے که وه اگرچه اللہ کی بھی عبادت قبول کرتے تھے لیکن اسلام جس طرح خالص عبادت چاہتا ہے که اس کے ساتھ کسی کومعبود نہ مانا جائے لیکن وہ لوگ اس کے قائل نہیں تھے۔
اب یہ امکان ِرواداری ہے که لفظ دین کو دونوں طرف یکساں طور پر استعمال کر دیا گیا ہے کہ تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرادین حالانکہ حقیقت میں وہ مشرکین ہی کا عمل ہے جو بے دینی کا مصداق ہے جس میں کوئی دین نہیں۔8
مفرادت آیات کی تشریح
۱۔کافرون:کفر کے معنی چھپانے اور ڈھاپنے کے ہیں اور اس کے معنی انکار کرنے کے بھی ہیں ،قرآن مجید میں کفر،متعدد مقامات پر ایمان کے مقابلے میں آیاہے اور کافر مومن کے مقابلے میں ہے اور کافر اسے کہاجائے گا جو ٹھوس سچائیوں کو پس پردہ رکھتاہے ۔اور کافرون کافر کے گروہ کو کہاجاتا ہے یعنی کافر کی جمع کافرون۔9
۲۔عبادۃ:بنیادی مفہوم کے اعتبار سے عبادت کے معنی ایسا کام کرنا ہے جو دل کے شوق اور رغبت سے انجام دیاجاتاہے ،قرآن مجید میں بھی عبادت کے اس مفہوم کو واضح کر دیاہے “وما خلقت الجن و الانس الّا لیعبدون01”اور میں نے جنات اور انسان کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیاہے ۔
لہٰذا عبادت کا معنی یہ ہے کہ انسان اپنی تمام قوتوں اور صلاحیتوں کو سرکش و بے باک رکھنے کے بجائے قوانین خدا وندی کے قالب میں ڈھال کر ایک سدھائے ہوئے گھوڑے کی طرح منشائے خدا وندی کے مطابق صرف کرے جس کا نتیجہ منفعت عامہ ہوگا۔11
۳۔دین:یہ لفظ بہت سے معنوں میں استعمال ہوتاہےمن جملہ،غلبہ،اقتدار،حکومت،مملکت،آئین،قانون،نظم و نسق،فیصلہ،ٹھوس نتیجہ،جزا و سزااور یہ لفظ اطاعت اور فرمانبرداری کے معنوں میں بھی استعمال ہوتاہے ۔
قرآن مجید میں بھی غلبہ،اقتداراور قانون کے مفہوم کو ظاہر کر رہی ہے ،حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں نظام معاشرہ،ضابطہ زندگی اور آئین وحکومت وغیرہ مختلف اصطلاحات آئی ہیں جبکہ قرآن مجید میں ان سب کے لئے ایک لفظ یعنی دین استعمال ہواہے ۔
شان نزول: روایات میں آیاہے کہ یہ سورہ مشرکین قریش کے بڑے رہبروں کے ایک گروہ کے بارے میں نازل ہواہے جن میں ،ولید بن مغیرہ،عاص بن وائل،حارث بن قیس،امیۃ بن خلف وغیرہ شامل تھے ،انہوں نے کہا:اے محمدؐ آؤ اور ہمارے آئین کی پیروی کرواور ہم آپ کے آئین کی پیروی کریں گے اور تجھے ہمارے ہر قسم کے امتیازات میں شریک بنائیں گے ،اورانہوں نے کہا:کہ آپ ایک سال ہمارے خداؤں کی عبادت کرو اور دوسرے سال ہم آپ کے خدا کی عبادت کریں گے اور اس سے بہرہ مند ہوجائیں گے ،اگر آپ کا آئین بہتر رہے تو ہم بھی آپ کے آئین میں بھی آپ کے شریک ہونگے اور اگر ہمارا آئین و قانون بہتر رہے تو آپ ہمارے ساتھ شریک ہوجائیں اور ہم سے بہرہ مند ہوجائیں ۔
پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا:میں پناہ مانگتاہوں خدا سے کہ کسی چیز کو خدا کا شریک اور برابر ہرگز قرار نہیں دے سکتا۔پھر انہوں نے کہا:اگر آپ ہمارے بعض خداؤں کو بھی لمس کریں اور تبرک کریں تو ہم آپ کی تصدیق کریں گے اور آپ کے خدا کی پرستش کریں گے ۔
پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا:میں فرمان پروردگار کا منتظر ہوں ،اس وقت یہ سورہ “قل یاایها الکافرون”نازل ہوااور رسول اکرمؐ مسجد الحرام میں تشریف لائے جہاں مشرکین قریش کے بڑے بڑے رہبر موجود تھے وہاں بیٹھے ان کے سامنے اس سورہ مبارکہ کی تلاوت کی جب انہیں اس سورہ کے پیغام کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ مکمل طور پر مایوس ہوگئے اور آپ اور آپ کے چاہنے والوں پر ظلم کرنا اور اذیتیں دینا شروع کر دیا۔21
جن تفاسیر میں یہ شان نزول اس سورہ کے لئے بیان کیاہے ان میں سے بعض یہ ہیں،تفسیر البصائر،ج۶۰،ص۱۴،تفسیر مجمع البیان،تفسیر المیزان،تفسیر نور۔ 
اقسام و مراتب توحید:
معرفت توحید اور گریز از شرک دینی معارف میں اور مسائل اعتقادی میں مہم ترین مسئلہ ہے اور تمام مذہبی اور دینی معارف کا محور ہے اور اس کی اہمیت دین اسلام میں اور بالخصوص مکتب اہل بیت ؑ میں سب سے زیادہ نمایاں ہیں ۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ تمام انبیاء علیھم السلام کی بعثت کا ہدف لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دینا تھا اور تمام انبیاء ؑ نے اپنی پوری زندگی دعوت توحید کے پرچار کے لئے صرف کی ہیں سابقہ انبیاء ؑ کے اس وظیفہ اور کردار کی قرآن مجید یوں نقشہ کشی کرتاہے ۔
“وما ارسلنا من قبلک من رسول الّا نوحی الیه انّه لا اله الّا انا فاعبدون”13اورہم نے آپ سے پہلے بھی جو رسول بھیجے ہیں ان کی طرف یہی وحی کی ہے،بتحقیق میرے سوا کوئی معبود نہیں پس تم صرف میری عبادت کرو۔
پس ثابت ہوا کہ تمام ادیان الہٰی میں توحید کا کلیدی کردار تھا لیکن جس طرح مذہب اسلام میں توحید کے بارے میں تاکید کی گئی ہے اس طرح تاکید سابقہ ادیان میں نہیں ملتی ہے ۔توحید کا مطلب اللہ تعالیٰ کی یکتا اور یگانہ ہونا ہے اور اس کی یکتائی کی مختلف قسمیں متصور ہوسکتی ہے ۔
۱۔توحید در ذات: 
توحید در ذات سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات کا واحد اور یکتا هونا ہے اوراس کی مانند، نظیر ،شبیہ اور کفو کا ہونا محال اور ناممکن ہے خدا وند متعال قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے "لیس کمثله شئی وهو السمیع البصیر"41 اس کے جیسا کوئی چیز نہیں ہے اور وہ سب کی سننے والا اور ہر چیز کا دیکھنے والا ہے۔
اور اسی طرح سورہ توحید میں ارشاد ہو رہاہے "بسم الله الرحمن الرحیم قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ1اللَّهُ الصَّمَدُ.لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُولَدْ.وَ لَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً أَحَدٌ"51اے رسول کہہ دیجئے!وہ اللہ ایک ہے ،اللہ برحق اور بے نیاز ہے ،اس کی نہ کوئی اولاد ہے اورنہ والد اور نہ کوئی اس کا کفو اور ہمسر ہے ۔
۲۔توحید در خالقیت:
یعنی کائنات کی ہر شئی کا پیدا کرنے والا یا وجود میں لانے والا خدا وند عالم ہے کوئی اور غیر نہیں ہے اور ہر چیز کو وجود کا جامہ پہنایاہے جیسے آسمان اورزمین ،پہاڑ،دریا ،سمندر،معادن،سرسبزدرخت وغیرہ۔۔۔۔یہ سب کے سب مخلوق خدا ہیں ان تمام امور میں اصل وجود اللہ تعالیٰ ہے ،یعنی ان تمام کا در حقیقت فاعل خدا ہی ہے قرآن مجید میں ارشاد ہوتاہے "قل من ربّ السمٰوٰت والارض قل الله"61 اے پیغمبر کہہ دیجئے!بتاؤ کہ زمین اور آسمان کا پروردگار کون ہے ؟ بتا دیجئے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔
دوسری جگہ ارشاد ہورہاہے "الله خالق کل شئی وهو علی کلّ شئی وکیل"71 اللہ ہی ہر شئی کا خالق ہے اور وہی ہر چیز کی نگرانی کرنے والا ہے ۔
ایک اور جگہ ارشاد خدا وندی ہو رہاہے "ذالکم الله،ربکم لااله الّا هوخالق کل شئی فاعبدوہ وهو علیٰ کل شئی وکیل"81وہی اللہ تمہارا پروردگار ہے جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں وه ہر شئی کا خالق ہے اسی کی عبادت کرو وہی ہر شئی پر نگہبان ہے ۔
۳۔توحید در ربوبیت:
اس جہان کی خلقت اور تدبیر میں وہ تنہا ہے یہ کام خدا وند متعال کی ذات کے ساتھ مختص ہے اور غیر خدا کااس کام میں کوئی حصہ نہیں ہے جیسا کہ ارشاد ہوتاہے"إِنَّ ربَّکُمُ اللهُ الّذی خَلَقَ السّمواتِ و الارضَ فی السِّتة ايّامٍ ثمَّ اسْتوی علی العرشِ یدبّر الامر"91بے شک تمہارا پروردگار وہ ہے جس نے زمین و آسمان کو چھ دنوں میں پیدا کیاہے پھر اس کے بعد عرش پر اپنا اقتدار قائم کیاہے وہ تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے ۔
دوسری جگہ ارشادہوتاہے"الله الذی رفع السمٰوٰت بغیر عمد ترونھا ثم استویٰ علیٰ العرش و سخّر الشمس و القمر کل یجری لاجل مسمی،یدبّر الامر"02اللہ ہی وہی ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستون کے بلند کر دیاہے جب کہ تم دیکھ رہے ہو اس کے بعد اس نے عرش پر اقتدار قائم کیاور آفتاب و ماہتاب کو مسخر بنایا کہ سب ایک معین مدت تک چلتے رہیں گے وہی تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے ۔
۴۔توحید در تشریع و قانون گزاری:
قانون گزاری کا حق فقط اور فقط خدا وندعالم کی ذات کو حاصل ہے اور خدا کے ساتھ مختص ہے، انسانی معاشرے کے لئے قانون گزاری کی صلاحیت اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کسی اور کو حاصل نہیں ہے قرآن مجید میں ارشاد ہوتاہے کہ "انِ الْحُکْمُ اِلَّا لِله اَمَرَ اَلاَّ تَعْبُدُوْآ اِلَّاآ اِیَّاہُ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَـِــیّمُ"12
جبکہ حکم کرنے کا حق صرف خدا کو ہے اور اسی نے حکم دیاہے کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کی جائے یہی مستحکم اور سیدھا دین ہے ۔
دوسری جگہ پر ارشاد ہوتاہے"افحکم الجاهلیة یبغون ومن احسن من الله حکماً لقوم یوقنون"22کیا یہ لوگ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں جبکہ صاحبان یقین کے لئے اللہ کے فیصلے سے بہتر کس کا فیصلہ ہوسکتاہے ۔
۵۔توحید در بندگی:
یعنی صرف خدا وند عالم کی اطاعت اور فرمانبرداری واجب ہے اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو ترک کرنے کا حکم دیاہے ان کو چھوڑ دیاجائے اور جن چیزوں کا امر کیاہے ان کوضرور انجام دیاجائے ،اطاعت جز خدا کے کسی اور کی نہیں ہو سکتی مگر خود خدا وند عالم کی طرف سے اذن یا امر ہو اس کے علاوہ کسی کی اطاعت حرام اور موجب شرک ہے ،خداوند عالم ارشاد فرما رہاہے "وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ."32اور انہیں صرف اس بات کا حکم دیاگیاہے کہ خدا کی عبادت کرے اور اس عبادت کو اسی کے لئے خالص رکھے اور نماز قائم کریں ،زکات ادا کریں یہی سچا اور مستحکم دین ہے ۔
اس آیہ شریفہ میں دین ،اطاعت کے معنی میں آیاہے یعنی اطاعت فقط خدا کی واجب ہے نہ غیر خدا کی ،البتہ پیغمبر ؐ کی اطاعت بھی واجب ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ خود خدا وند عالم نے حکم دیاہے قرآن مجید میں ارشاد ہوتاہے"وما ارسلنا من رسول الّا لیطاع باذن اللہ"42اور ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر صرف اس لئے کہ حکم خدا سے اس کی اطاعت کی جائے ۔
۶۔توحید در حاکمیت:
انسانوں کے اوپر حکومت کرنے کا حق خدا وند عالم کے ساتھ مخصوص ہے اور دوسروں کی حکومت خدا وند عالم کی حکومت میں آکر ختم ہوجاتی ہے ،بغیر کسی تردید کے ولایت حقیقی فقط خدا کی ولایت ہے اور مالک حقیقی انسانوں کی خلقت اور تدبیر میں تنہااور یکتاہے ۔اللہ تعالیٰ کی اذن کے بغیر کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ بندگان خداپر حکمرانی کریں،ارشاد باری تعالیٰ ہے"ان الحکم الّا لله یقصّ الحق وهو خیر الفاصلین"52حکم صرف اللہ کے اختیار میں ہے وہی حق کو بیان کرتاہے وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔
دوسری جگہ پر خدا وند عالم ارشادفرماتا ہے "ثم ردوا الیٰ اللہ مولٰھم الحق الا لہ الحکم وھو اسرع الحاسبین"62پھر سب اپنے مولائے برحق پروردگار کی طرف پلٹا دئیے جائیں گے،آگاہ ہوجائے کہ فیصلہ کا حق صرف اسی کو ہے اور وہ بہت جلدی حساب کرنے والا ہے۔
۷۔توحید در عبادت:
عبادت منحصر ہے فقط خدا وند عالم کے ساتھ یعنی عبادت فقط اللہ کی ہونی چاہیے اوریہ مورد بقیہ موارد میں سے اصل اور قابل قبول ہے اور تمام مذاہب اسلامی کا اس میں اتفاق ہے اور فقط اللہ کی عبادت کو قبول کرنے سے انسان واقعی اسلام میں شامل ہوتاہے اور اسے مسلمان کہاجاسکتاہے اسی وجہ سے اگر انسان غیر خدا کی پرستش کرے اور غیر خدا کو عبادت میں شامل کرے تو وہ انسان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتاہے "ایاک نعبد وایاک نستعین"پروردگار ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے مدد چاہتے ہیں ۔
دوسری جگہ ارشاد ہوتاہے" وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللّهَ وَاجْتَنِبُواْ الطَّاغُوتَ"72یقینا ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا ہے کہ تم لوگ اس کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو۔ایک اور جگہ پر آواز قدرت آتی ہے"وَ ما خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ"میں نے جنات اور انسانوں کو میری عبادت کے لئے خلق کیاہے۔82
جاری هے....


--------------
1 ۔ معجم مقائیس اللغۃ ج۳ ص ۱۹۳۰
2 ۔ التعریفات ،مولف جرجانی ص۹۶
3 ۔ معجم مقائیس اللغۃ ج۳ ص ۲۶۵
4 ۔راغب اصفہانی، مفردات الفاظ القرآن، مترجم خسروی حسینی،ص ۱۵۴
5۔آیۃ اللہ ناصرمکارم شیرازی، تفسیرنمونہ ،ج۲۷ ص ۳۸۵
6 ۔ سورہ بینہ ،۵
7 ۔ ابوالاعلی مودودی،تفہیم القرآن ،ج ۶ص ۵۰۴
8 ۔ سیدالعلماء مولاناسیدعلی نقی نقوی، فصل الخطاب،ج۶ ص۷۷۱
9 ۔غلام احمدپرویز،لغات القرآن، ج۳ ص۱۴۳۸
10 ۔سورہ زاریات ،۵۶
11۔لغات القرآن،ج۳ص ۱۱۲۱
12 ۔ لغات القرآن،ج۲ ص۶۸۱
13 ۔ تفسیرنمونہ ،ج۲۷ ص ۳۸۴
14 ۔ سورہ شوریٰ ،۱۱
15 ۔تمام سورہ توحید
16 ۔سورہ رعد،۱۶
17۔سورہ زمر،۶۲
18 ۔ سورہ انعام،۱۰۲
19 ۔ سورہ یونس، ۳
20 ۔سورہ رعد،۲
21 ۔سورہ یوسف،۴۰
22۔مائدہ، ۵
23 ۔سورہ بینہ،۵
24 ۔سورہ نساء،۶۴
25۔سورہ انعام،۵۷
26 ۔ سورہ انعام،۶۲
27 ۔سورہ نحل،۳۶
28۔جعفرسبحانی ،رمزھای توحیدوشرک مترجم مہدی عزیزان،ص۳۱
----------------------