سوال جلد ی ارسال کریں
اپ ڈیٹ کریں: 2019/9/17 زندگی نامہ کتابیں مقالات تصویریں دروس تقریر سوالات خبریں ہم سے رابطہ
زبان کا انتخاب
همارے ساتھ رهیں...
فهرست کتاب‌‌ لیست کتاب‌ها

(11) مسئله فلسطین سے آشنائی- سکندر علی بہشتی

فلسطین انبیاء کی سرزمین ہے۔ اور مسلمانوں کا قبلہ اول بیت المقدس بھی یہیں واقع ہے۔ یہ ابتدا سے ہی فرزندان توحید کا مرکز رہا ہے اور صدر اسلام سے مسلمانوں کے پاس تھا۔ درمیان میں عیسائیوں نے ۹۰ سال تک فلسطین پر حکومت کی،دوسری صلیبی جنگ کے آخری مراحل۱۱۴۹ء۔۱۱۴۷ء میں صلاح الدین ایوبی نے جنگ کرکے بیت المقدس کو واپس لے لیا۔ لیکن انیسویں صدی میں یہودیوں اور استعمار کی گٹھ جوڑ سے ایک ناجائز صہیونی حکومت اس منطقے پر قابض ہوگئی جو دیگر ممالک سے ہجرت کر کے آنے والے انتہا پسند یہودیوں پر مشتمل ہے۔ ان غاصبوں نے مقامی باشندوں پرظلم وستم کر کے ان کو ملک بدر کردیا اور ہزاروں افرادکا قتل عام کیا ۔
عظیم اسرائیل کانظریہ: انیسویں صدی کے آواخر سے لیکر پہلی جنگ عظیم تک فلسطین بالواسطہ طور پرفلسطین سے باہر تشکیل پانے والی دوتحریکوں کے زیر اثر تھا ایک عرب قوم پرستی کی تحریک جس نے عثمانی خلافت کی عرب ریاستوں میں جنم لیا تھا اور دوسرے صہیونی تحریک جو اس زمانہ کی استعماری طاقتوں کی حمایت میں کام کر رہی تھی۔۱۸۸۶ء میں ایک یہودی کالم نگار تھیوڈ ہرزل نے ایک یہودی مملکت کے نام پر کتاب شائع کی جس میں ہرزل نے کہا کہ یہودیوں کو مستقل طور پر ایک اپنا وطن اور صہیونی حکومت تشکیل دینا چاہئے،اس کے لئے ہندوستان، ارجنٹائنا،قبرص اور کچھ دوسرے مقامات زیر نظر لایا گیا اور آخر میں فلسطین کو بنی اسرائیل کے قدیم وطن کے طور پر منتخب کیا گیا۔۱۹۸۷ء میں صہیونی تحریک کا سب سے پہلا اجتماع سوئٹزر لینڈ کے شہر بازل میں تشکیل پایا اور اس کانگریس نے اپنے آباواجداد کی سرزمین بظاہرفلسطین کی طرف یہودیوں کی ہجرت کی تحریک کو صادر کیا۔ اس کے ساتھ ہی یہودی ریاست کے قیام کے لئے سیاسی،مالی اور عملی اقدامات کیئے اور بہت سی کانفرنسیں منعقد ہوئیں اور اس ریاست کے قیام کے لئے مذہبی وقومی جذبات کو بھڑکایا گیا۔
برطانیہ کی سازش:برطانیہ اس دور میں عثمانی حکومت کا حامی تھامگر فلسطین میں کچھ ہنگامے ہوئے جس کی بنا پر برطانیہ نے اپنی سیاست بدل کر عثمانی حکومت کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے اور شورش کرنے والوں کی حمایت کی،اس سلسلے میں مکہ کے امیر شریف حسین جو حجاز میں عثمانی حکومت کا نمائندہ اور جاہ طلب انسان تھا کو اکسایا اور اس نے برطانیہ کی حمایت سے عثمانی حکومت سے علٰحیدگی اختیا ر کی اور برطانیہ سے اپنی حکومت کا دائرہ اس سرزمین تک بڑھانےکامطالبه کیا نجس میں فلسطین کا علاقہ بھی شامل تھا،برطانیہ نے دورخی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے اس خواہش پر اقرار وانکار کا ایسا پیرایہ اختیار کیا کہ فلسطین کا مستقبل نامشخص ہو کر رہ گیا اور ۱۹۱۶ء میں برطانیہ وفرانس کے معاہدے میں فلسطین پر بین الاقوامی حکومت کو تسلیم کیا گیا۔
بالفور معاہدہ:۱۹۱۸، میں برطانیہ کی وزارت خارجہ نے آرتھر جیمس کی نگرانی میں بالفور قرارداد جاری کیا جس میں ایک عظیم یہودی حکومت کے قیام میں برطانیہ کی پشت پناہی کا اعلان کیا گیا، اس سلسلہ میں اس وقت برطانوی وزیر خارجہ آرتھر جیمز نے لارڈ را سچلڈ کو ایک خط لکھا ا س اعلان میں کہاگیا۔
’’ ہزیجٹی کی حکومت یہودی عوام کے لئے فلسطین میں قومی وطن کے قیام کی حامی ہے اس مقصد کے لئے تمام کوششیں بروئے کار لائی جائیں گی‘‘
 بالفور قرارداد کے دوماہ بعد برطانیہ کے جنرل ایلن بی نے عثمانی ترکوں کو شکست دے کر پورے جنوبی فلسطین کو اپنے قبضے میں لے لیاآخر کار عثمانیوں نے جنگ بندی کر کے صلح کا مطالبہ کیا، اور صلح کے نتیجہ میں برطانیہ نے فلسطین اپنے قبضے میں لے لیا۔ 
اسرائیل کا عملی قیام:دوسری عالمی جنگ کے بعد جب صہیونی سیاست دانوں نے امریکہ کی روزبروز بڑھتی ہوئی طاقت کا مشاہدہ کیا تو خود کو ان سے نزدیک کر لیا ،برطانیہ نے بھی اعلان کیا کہ اقوام متحدہ کے حکم کے مطابق فلسطینی سرزمین خالی کر کے ۱۹۴۸ء کو اقوام متحدہ کے حوالے کردے گا،برطانیہ نے فلسطین سے نکلتے وقت فوجی سازوسامان اور جدید اسلحہ یہودیوں کے اختیار میں دے دیا،اس طرح یہودیوں کی طرف سے فلسطینیوں کے قتل عام کا آغاز ہوا اور ایک حملے میں دیر یاسین کے ۲۵۰ باشندوں کے سر تن سے جدا کئے گئے۔اور ہزاروں بے گھر ہوگئے،فلسطینی عوام کو خوفزدہ کرنے اور انہیں فرار پر مجبور کرنے کے لئے دردناک مظالم اور سفاک قدم اٹھائے گئے،اس غیر انسانی برتاؤ کی وجہ سے دس لاکھ سے زیادہ فلسطینی پڑوسی ممالک میں پناہ گزین ہوگئے برطانیہ کے فلسطین سے نکلتے ہی یہودیوں نے ایک مستقل اسرائیلی حکومت کااعلا ن کردیا۔اس کے بعد ۱۹۶۷ء میں شام ،اردن اور مصر کے علاقوں پر بھی قبضہ کیا گیا۔
اسرائیل کے لئے امریکی حمایت:امریکہ اسرائیل کی مسلسل حمایت کررہاتھا امریکی صدر فرینکلین ڈی روز ویلٹ نے اپنے نمائندوں کے ذریعے ظاہر کردیا کہ وہ برطانیہ کے قرطاس ابیض کا مخالف ہے اس سلسلے میں اس کا ایک بیان جاری ہو ا جس میں کہا گیا ’’ہم فلسطین میں یہودیوں کی بلا روک ٹوک نقل مکانی کے لئے دروزے کھلے رکھنے کے حامی ہیں اور ہم آزاد اور جمہوری یہودی دولت مشترکہ قیام کے حامی ہیں۔‘‘
عرب اسرائیل جنگ اور عربوں کی شکست:۵ جون ۱۹۶۷ میں اسرائیل نے عرب ممالک مصر، شام اور اردن کے ہوائی اڈوں پر اچانک حملہ کردیا، اسرائیل نے اردن کے دریا کے مغربی کنارے،شام کی سرحد میں جولان کی پہاڑیوں اور مصر کے صحرائے سینہ پر قبضه کر لیا یہ جنگ اسرائیل اور عربوں کے درمیان چھ روز جاری رہی یہ جنگ عربوں کی شکست پر ختم ہوئی۔
فلسطینیوں کی مزاحمت کا آغاز: انقلاب فلسطین کی تاریخ کا اہم موڑ ،عرب اسرائیل تعلقات کا نقطہ آغاز 1978ء میں کیمپ ڈیوڈ معاہدہ ہے جس میں مصر نے امریکی صدر جیمی کارٹر اور اسرائیلی وزیر اعظم مناخیم بگین کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ کے مقام پر غاصب اسرائیل کی حکومت کو تسلیم کیا اور عربوں کے درمیان شگاف کا باعث بنی۔اگرچہ سا بقہ واقعات اور کیمپ ڈیوڈ کی خیانت سے عربوں اور مسلمانوں میں شدید ردعمل اور ناامیدی کے آثار پائے جاتے تھے لیکن ۱۹۷۹، میں اسلامی نقلاب کی کامیابی اور شاہ کی حکومت کی نابودی کے بعدسے صہیونیوں کے خلاف جہاد میں نئی روح آگئی اور لبنان وفلسطین میں عجیب سی خوشی کی لہر ڈور گئی،خاص طورپر ’’آج ایران کل فلسطین‘‘کا نعرہ اسلامی نقلاب کے نعروں میں سرفہرست تھا۔
 انتفاضہ:فلسطین کی انقلابی احزاب،انجمن جہاد اسلامی اور حماس(حرکت مقاومت اسلامی) نے فلسطینی عوام کو قیام کی دعوت دی جس کا سلسہ ۱۹۸۷ء سے شروع ہوا اس عوامی قیام کے اچھے اور مفید نتائج بر آمد ہوئے،اس قیام کا اصلی مرکز مسجدیں تھیں اگرچہ عوامی انقلاب اسرائیل نامی ملک بنتے ہی شروع ہوا لیکن اس میں عملی جدوجہد کی روح انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد شروع ہوئی۔
مفاہمت یامزاحمت: اسرائیل کے ساتھ مفاہمت کی بنیاد ۱۹۹۱ء میں میڈرڈ کانفرنس نے رکھی اس کانفرنس کاخیال تھا کہ مشرق وسطی میں پائیدار امن عربوں اور اسرائیل کے درمیان مذکرات سے ہی ممکن ہے اس منصوبہ کے تحت فلسطین اور عرب کی سطح پر اسرائیلی ریاست کو قانونی جواز پیدا کرنا اور آزاد خودمختار ریاست بنا ناتھا،امن کے نام پر مفاہمت کی باتیں دھوکہ اور فریب ہیں بلکہ اس کے پس پردہ میں جارحانہ عزائم چھپے ہوئے ہیں جس کی کوئی حد نہیں اس کا اصل مقصد فلسطین اور عرب دنیا کوختم کر کے اسلام کو نشانہ بنانا ہے ،اور اس مفاهمت کا نتیجہ فلسطینی ریاست کا عربوں سے الگ تھکگ ہونا اور چاروں طرف سے اسرائیلی محاصرہ میں ہونا،اس کی فضائی حدود اور دفاع اسرائیل کی نگرانی میں ہونا ہے۔ 
فلسطین کی آزادی کا واحد راستہ:آزاد اور خودمختار فلسطین کاواحد راستہ مزاحمت اور مقاومت ہے چونکہ ایک ظالم اور جارح کے خلاف قیام ایک شرعی فریضہ بھی ہے کیونکہ مسلمانوں کی سرزمین خاص طور پر مقدس سرزمین کو برباد کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور ان کادفاع تمام مسلمانوں پر واجب ہے ۔ اور سیاسی پہلو سے بھی دیکھاجائے تو اسرائیل کے خلاف انتفاضہ اور لبنان کی مزاحمت کی نمایاں کامیابیوں نے یہ امید روشن کی ہے کہ اللہ پر ایمان،توکل اور منصوبہ بندی کے ساتھ مزاحمت کی جائے تو کامیابی ہماری مقدر ہے۔ کیونکہ مزاحمت کسی معاشرے کے صبر واستقلال کی بنیاد ہے جو اپنی کامیابیوں اور قربانیوں پر فخر کرتا ہے اس طرح مزاحمت مزید مضبوط ہوتی ہے ۔ اور اپنے مقاصد کے حصول کے لئے یہی واحد راستہ اور حل ہے۔اور تمام مسلمانوں کی بھی ذمہ داری ہے ہ اسرائیل کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں۔
امام خمینی ؒ نے جمعۃ الوداع کو یوم القدس قرار دیا ۔آپ نے فرمایا:’’یوم القدس،یوم اسلام ہے۔ یوم القدس ایسا دن ہے که جس دن اسلام کو زندہ کرنا چاہئے ۔یوم القدس ایسا دن ہے کہ تمام بڑی طاقتوں کو آگاہ کر دینا چاہئے کہ اب اسلام تمہارے خبیث آلہ کاروں کی وجہ سے تمہارے تسلط میں نہیں رہے گا۔‘‘
یہ حکومت اسرائیل کے نام سے عالم انسانیت کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے اور خصوصاً مسلمانوں کے لئے ایک ناسور ہے جس کی بنیاد درندگی، بربریت اور ظلم وستم پر رکھی گئی ہے ۔ اس ناجائز ریاست کو جو مسلمانوں کی لاشوں پر قائم کی گئی ہے دنیا سے مٹ جانا چاہئے تھی ،جس طرح امام خمینی ؒ نے فرمایا’’ہم کہتے ہیں کہ اسرائیل کوصفحہ ہستی سے مٹ جانا چاہئے۔ بیت المقدس مسلمانوں کی ملکیت ہے اور مسلمانوں کا قبلہ اول ہے ۔لہٰذا اسرائیل کی نابودی اور مظلوم فلسطینیوں سے اظہار ہمدردی انسانیت کا تقاضا ہے۔‘‘
مدارک: 
۱۔فلسطین امام خمینی کی نظر میں۔ ۲۔حزب اللہ۔
۳۔ دوماہی توحید ۴۔تبلیغ شمارہ۱۴۴۸ھ